ہیٹ ویو- چند احتیاطی تدابیر

گرمی کے موسم میں صحت کی بقا کے لیے صرف غذائیں بھی کافی نہیں ہوتیں بلکہ درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ خوراک اور ملبوسات کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر ہیٹ ویو (لوٗ) کا قہر بیماری میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اس کی علامتوں میں بدن کا سرد ہونا، پسینہ آنا، سردرد، سانس لینے میں تکلیف، بدن کے درجہ حرارت میں حد درجہ اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے چند باتیں پیش کی جارہی ہیں تاکہ اس موسم میں بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکے:

٭ سخت جسمانی محنت کے کاموں سے دھوپ اور دوپہر کے وقت بچیں، ناگزیر صورت میں صبح و شام کے اوقات میں کریں اور آرام پر توجہ دیں۔

٭ دھوپ میں کم نکلیں، جتنا ممکن ہوسکے دوپہر کے وقت گھر سے کم ہی نکلیں۔ سورج کی روشنی والی جگہ سے دور رہیں۔

٭ ہلکے رنگ کے ملبوسات زیب تن کریں۔ کپڑے سوتی ہوں تو بہتر ہے۔ تنگ اور چست کے بجائے ڈھیلے ڈھالے ملبوسات کا انتخاب کریں کیونکہ اس سے جسم میں ٹھنڈک رہتی ہے۔

٭ پانی کثرت سے استعمال کریں۔ اس سے جسم کی حرارت میں کمی آتی ہے۔ پیاس اگر نہ بھی لگی ہو پھر بھی کچھ محلول لیتے رہیں البتہ الکحل اور کیفین سے گریز کریں۔

٭ تھوڑا تھوڑا کھانا قسطوں میں کھائیں۔ ایسا کھانا نہ کھائیں جس میں پروٹین زیادہ ہو۔ اس سے میٹابونک حرارت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

٭ پسینہ آئے تو اسے خشک کرتے رہیں،دھوپ سے بچ کر رہیں۔

٭ اگر دمہ یا سانس کی کوئی بیماری ہو تو دوائیں اپنے ہمراہ ضرور رکھیں۔

٭ اپنے بدن کو معقول نیند اور آرام دیں۔

٭ ہمیشہ سن اسکرین اور دھوپ کا چشمہ لگاکر گھر سے باہر جائیں۔

٭ تیل اور شکر سے بنی چیزوں سے دور رہیں، پھل اور سبزیاں کثرت سے کھائیں۔

گرمیوں کی عمومی بیماریاں

۱-دست، قے ۲- ہیضہ، ۳- اسہال ۴- لو لگنا، ۵- تیز بخار، ۶- یرقان، ۷-جلدی امراض ۸- آنکھوں میں کھجلی۔

گرمی کی مخصوص بیماریاں

۱- جوڑوں کا درد، ۲- سردی، کھانسی، زکام ۳- ملیریا ۴- ڈینگو ۵- دماغی بخار ۶- چکن گنیا ۷-ہڈیوں سے متعلق بیماریاں۔

احتیاطی تدابیر

٭دوپہر ۱۳ بجے تا ۳ بجے دھوپ میں جانے سے بچیں۔ ٭ دھوپ میں ہمیشہ شیاہ شیشے والے چشمے کا استعمال کریں ٭ سوتی کپڑے زیب تن کریں ٭ دھوپ کی زد میں آنے والے جسم کے اعضاء کو گھر سے باہر نکلنے سے نصف گھنٹہ لوشن لگالیں ٭ ٹھنڈے مشروبات، شکنجی، لیموں پانی اور نمک شکر کے محلول کا استعمال کریں ٭ آنکھوں کو ٹھنڈے پانی سے باربار دھوئیں ٭ ٹھنڈے پھل مثلاً پپیتا، تربوز، خربوزہ، آم، لیچی وغیرہ کا استعمال کریں ٭ گھر سے باہر فٹ پاتھ اور ٹھیلوں پر فروخت ہونے والے تراشیدہ پھلوں اور مشروبات کے استعمال سے گریز کریں۔ ٭ کمپیوٹر پر کام کرنے والے ہر ۲۰ منٹ بعد بریک لیں ٭ صبح و شام دوبار غسل کریں۔

صحت مند رہنے کے چند نسخے

عہدِ حاضر کی مصروف ترین زندگی میں جہا ںآلودگی سے نجات ممکن نہیںہے خود کو صحت مندر رکھنا خاصا مشکل ہے۔ پھر بھی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تقویت بخش خوراک کو اپنایا جائے۔کم صرفہ میں بھی جسم کو توانائی سے بھر پور خوراک دی جاسکتی ہے۔

۱- ہری سبزیاں پکانے کے بعد تو ان کا استعمال مفید ہوتا ہی ہے کچا بھی انہیں کھایا جائے تو ضرر رساں نہیں ہوگا۔ پالک، بتھوا، مولی اور چنے کا ساگ بے حد مفید ہے۔ ان میں وٹامین بی اور سی رہتا ہے جو جسم کی توانائی کے لیے لازمی ہے۔

۲- ریشے دار غذا: ہیٹ جسم کو غذا فراہم کرانا ہے اس لیے ضروری ہے کہ معدہ اور آنتیں صحت مند رہیں۔ باریک پسے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء سے پیٹ خراب ہوتا ہے۔ ان میںبیسن اور میدہ سے بنی ہوئی چیزیں آتی ہیں۔ اس کے برخلاف موٹے اورریشے دار غذاؤں کے لیے آنتوں کو اپنی کارکردگی صحیح طور انجام دینے کا موقع ملتا ہے جس سے تندرستی برقرار ہوتی ہے۔

۳- مشروبات: ابلا ہوا صاف پانی بہترین مشروب ہے جو بآسانی فراہم ہوجاتا ہے۔ دن بھر میں آٹھ سے دس گلاس پانی پینا چاہیے جس سے جسم کو معقول مقدار میں پانی ملتا رہے اور کثیر مقدار میں پسینہ خارج ہوتا رہے۔

۴- گھی اور تیل سے گریز: گھی اور تیل جسم کے لیے سب سے زیادہ مضر ہیں۔ دن بھر میں جسم کے اندر صرف ایک چمچہ تیل جائے تو بہتر ہے۔ ان سے بنی ہوئی اشیاء ذائقہ دار ضرور ہوتی ہیں لیکن یہ قلبی امراض کو دعوت دیتی ہیں۔

۵- چائے اور کافی: چائے جلدی بڑھاپا لاتی ہے اس لیے اس کا استعمال کم سے کم ہونا چاہیے۔ دن میں دو یا تین کپ سے زائد چائے یا کافی نہ پئیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق کافی کا استعمال بالکل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ کولیسٹرول میں اضافہ کرتی ہے۔

۶- متوازن غذا: جب بھوک لگے تبھی کھانا کھانا چاہیے۔ بالعموم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ لوگ پارٹیوں اور فنکشن میں زیادہ کھالیتے ہیں۔ ذائقہ لینے کے چکر میں ایسی غلطی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ بدہضمی ہوسکتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کا توازن بھی بگڑسکتا ہے۔

۷- ورزش: روزانہ ایکسرسائز کو اپنی عادت بنالیں تو یہ سونے پر سہاگہ والی بات ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply