غزل

حیات لگتا ہے، کہنے کو مرگیا سمجھو

مسئلوں کے سمندر سے ڈر گیا سمجھو

جو قید آنکھ میں ہے وہ سمجھ لو موتی ہے

ہے بے وجود جو نظروں سے گرگیا سمجھو

نہ جانے کتنے شب و روز سے وہ بہتر ہے

وہ ایک لمحہ جو ہنس کر گزرگیا سمجھو

اگر ہو پاسِ وفا، اور خلوصِ دل عذراؔ

تو خالی دل بھی محبت سے بھرگیا سمجھو

شیئر کیجیے
Default image
عذراؔ شاہین

Leave a Reply