مجھے آخرت تک جانا ہے

مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک بار ٹرین سے سفر کررہے تھے۔ ان کو اعظم گڑھ جانا تھا۔ ایک ریلوے گارڈ جو اُن کا معتقد تھا، اسٹیشن پر ان سے ملنے کے لیے آیا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آدمی بھی آگیا۔ اس نے گنے کا ایک گٹھا تحفہ کے طور پر مولانا کو پیش کیا۔ مولانانے قبول کرلیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ ان گنوں کا وزن کراکے ان کو بک کروالو۔ گارڈ نے کہا: بک کروانے کی کیا ضرورت ہے، اس ٹرین سے جو گارڈ جارہا ہے، میں اس سے کہہ دیتا ہوں، وہ خیال رکھے گا۔ مولانا نے کہا کہ مجھے آگے جانا ہے۔ گارڈ نے سمجھا کہ مولانا کو آگے کسی اسٹیشن پر دوسری ٹرین پکڑنی ہے، اس نے کہا: کوئی حرج نہیں، میں گارڈ کو بتادیتا ہوں وہ آگے والے گارڈ سے بھی کہہ دے گا اور آپ کو کوئی زحمت نہ ہوگی۔ مولانا نے کہا: مجھے اس سے بھی آگے جانا ہے۔ گارڈ نے حیرت سے پوچھا: آخر آپ کہاں تک جائیں گے؟ مولانا نے کسی قدر خاموشی کے بعد کہا: ’’مجھے آخرت تک جانا ہے، وہاں تک کون سا گارڈ میرا ساتھ دے گا؟‘‘

یہ معاملہ محض ریل کے سفر کا نہیں بلکہ تمام معاملات کاہے، آدمی کا ہر معاملہ آخرت کا معاملہ ہے۔ دنیا میں کوئی ’’گارڈ‘‘ وقتی طور پر آپ کا ساتھ دے سکتا ہے، مگر آخرت کی منزل پر پہنچ کر کوئی گارڈ ساتھ دینے والا نہیں۔ جس کا ذہن یہ ہوکہ مجھے آخرت تک جانا ہے وہ ہر اس چیز کو بے قیمت سمجھے گا جو آخر ت میں بے قیمت ہوجانے والی ہو، خواہ وہ کتنی ہی قیمتی نظر آئے۔ اسی طرح وہ ہر اس چیز کو وزن دینے پر مجبور ہوگا جو آخرت میں باوزن ثابت ہونے والی ہو، خواہ آج کی دنیا میں وہ کتنی ہی بے وزن دکھائی دے۔

آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے آج خوبصورت الفاظ پالیتا ہے، مگر آخرت میں اس کو معلوم ہوگا کہ وہ اس کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گئے۔ آدمی طاقت کے بل پر بے انصافی کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ مظلوم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا، مگر آخرت میں وہ دیکھے گا کہ اس کی طاقت پیچھے کی دنیا میں رہ گئی ہے، آخرت میں وہ اس کا ساتھ دینے کے لیے موجود نہیں ہے۔ آدمی کے سازو سامان اس کو دھوکا دیتے ہیں اور وہ اپنے گھمنڈ کا مینار کھڑا کرتا ہے، مگر آخرت میں وہ پائے گا کہ اس کے وہ سازوسامان اس سے بہت دور ہوچکے ہیں جن کے اوپر وہ گھمنڈ کیا کرتا تھا۔

مومن اور غیر مومن کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ غیر مومن یہ سمجھ کر زندگی گزارتا ہے کہ اس کو اسی دنیا میں رہنا ہے اور مومن اس نفسیات کے ساتھ جیتا ہے کہ اس کو آخرت تک جانا ہے۔ نفسیات کا یہ فرق دونوں کی زندگیوں میں اتنا زیادہ عملی فرق پیدا کردیتا ہے کہ ایک جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے اور دوسرا جنت کا ۔

شیئر کیجیے
Default image
(بہ حوالہ: نوائے ہادی، کانپور)

Leave a Reply