بچے کی غذا میں احتیاط

یہ حقیقت ہے کہ ماں کا دودھ ہر قسم کی مصنوعی غذاؤں کے مقابلے میں اعلیٰ درجے کی غذا ہے۔ اس میں جراثیم کش اجزا ہوتے ہیں جو بچے کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ اپنے اندر مناسب مقدار میں پروٹین یعنی لحمیات رکھتا ہے اور اگر ماں خود صحت بخش غذا کھائے تو اس کے دودھ میں چکنائی کا تناسب معیاری ہوتا ہے۔

بچوں کے لیے غذا تیار کرنے والے ادارے عموماً شکر کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں۔ بچوں کی خصوصی غذاؤں میں شامل شکریلے اجزا پر ذرا نگاہ ڈالیے۔ ان میں ڈیکسٹروز، گلوکوز، فرکٹوز اور اسی قسم کی دیگر شکریں شامل ہیں۔ بچوں کی صحت کا خیال رکھنے والے والدین کی توجہ مبذول کرانے کے لیے غذا ساز ادارے ہلکی چینی اور کم چینی جیسے لیبل استعمال کرنے لگے ہیں۔ اس دھوکے سے بچئے۔

نوخیز بچوں کی ماؤں کو چاہیے کہ وہ انھیں بتدریج دودھ سے ہٹا کر تغذیہ بخش غذا کی طرف لائیں۔ اگر بچہ بھوکا ہو تو اسے مناسب وقفوں سے کھانے کے لیے قابلِ ہضم غذا دیتے رہیں۔ بچے کے بڑھتے وزن پر نہ گھبرائیں، البتہ اگر وہ خاصی مقدار میں میٹھی اور چکنائی والی اشیاء کھاجاتا ہے تو یہ واقعی تشویشناک بات ہے۔ بہترین قسم کے نباتاتی تیل کھانا پکانے میں استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ کم بھوک والے چھوٹے بچوں کو سفید شکر اور حیوانی چکنائیوں سے کہیں زیادہ صحت بخش توانائی فراہم کرتے ہیں۔

اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کا بچہ زیادہ مقدار میں دودھ پیے تو اسے چکنائی والے دودھ کے بجائے بالائی اترا دودھ دیجیے۔ کینیڈا اور امریکہ میں بچوں کو برسوں سے ایسا دودھ دیا جارہا ہے اور اس سے ان کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ دودھ کے گرانقدر تغذیہ بخش اجزا اس کے مائع حصے میں ہوتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ بیشتر حیاتین اور تمام نمکیات اور حیاتین دودھ کے پتلے سیال حصے ہی میں پائے جاتے ہیں۔

ایک بات ذہن میں رہے کہ چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں کو گائے بھینس کا دودھ کبھی نہ دیا جائے خواہ وہ پوری چکنائی والا ہو یا جزوی یا مکمل طور پر بالائی اترا ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گائے بھینس کا دودھ قدرت نے بچھڑوں کے لیے بنایا ہے اور انسانی گردوں کو اس وقت ناگوار صورتِ حال پیش آتی ہے جب خاصی مقدار میں سوڈیم اور حیاتین والا یہ دودھ بچوں کو پلایا جائے۔ اسی لیے ملک پاؤڈر کے ڈبوں پر لیبل چسپاں ہوتا ہے:’’شیر خوار بچوں کے لیے موزوں نہیں۔‘‘ چنانچہ بے بی ملک پاؤڈر والے خاص طریقوں سے اس کے معدنی اور حیاتینی اجزاء اس قدر کم کردیتے ہیں کہ وہ شیر خوار بچوں کے لیے محفوظ بن جاتا ہے۔ محفوظ روش یہ ہی ہے کہ گھر کے دروازے پر ملنے والا دودھ شیر خوار بچوں کو مت دیجیے۔ جب تک ممکن ہو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلائیں اور بتدریج انہیں تغذیہ بخش غذا کی طرف لائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
محسنہ انیس

Leave a Reply