قرآن مجید غیر مسلموں کی نظر میں

قرآن کریم ربِ جلیل کی لازوال اور لاثانی کتاب ہے۔ اب تک جتنے بھی صحیفے یا الہامی کتب نازل ہوئیں وہ ایک مخصوص قوم، مخصوص امت اور مخصوص وقت کے لیے تھیں۔ صرف قرآن کریم کو ہی یہ فضیلت حاصل ہے کہ یہ تمام انسان، ادوار اور حالات پر زندہ جاوید کتاب ہے جو تاقیامت گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ تجربہ اور مشاہدہ بھی گواہ ہے کہ یہ کتابِ شاہکار ہر کس و ناکس کی رہنمائی کا ذریعہ ہے جو طلبِ صادق کے ساتھ اس میں غوروفکر کرے۔

یہی وجہ ہے کہ اس مقدس کتاب کا جب بھی تحقیقی مطالعہ کیا گیا تو اس کی حقانیت روشن تر ہوتی چلی گئی۔ چنانچہ جنوبی ہند کے ایک سیاسی رہنما جو لوک سبھا کے ممبر بھی تھے، نے دورانِ گفتگو کہا: ’’مجھے آپ لوگوں کی مسجد اور اس کے اندر کا ماحول بہت ہی متاثر کرتا ہے۔ ایک آدمی جس نے آج ہی اسلام قبول کیا ہو وہ اگر اول وقت مسجد پہنچتا ہے تو پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ خواہ کل تک سماج میں اس کا تعلق کتنی ہی نچلی ذات سے رہا ہو۔ اس کے برعکس کوئی بھی قدیم خاندانی مسلمان خواہ وہ کتنا ہی دولت مند اور سماج میں بڑا آدمی ہو، اگر بعد میں آتا ہے تو اس کے پیچھے کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر جب سب سجدے میں جاتے ہیں تو قدیم خاندانی مسلمان کا سر نو مسلم کے پیروں کے پاس ہوتا ہے۔ انسانی مساوات کا ایسا منظر مجھے کہیں نظر نہیں آتا۔‘‘ یہی تاثر بابا بھوپندر ناتھ کا بھی ہے کہ ’’۱۳۰۰ برس کے بعد بھی قرآن کی تعلیمات کا اثر یہ ہے کہ ایک خاکروب بھی مسلمان ہونے کے بعد بڑے بڑے خاندانی مسلمانوں کی برابری کا دعویٰ کرسکتا ہے۔‘‘

ایک انگریز نومسلم کا تاثر ہے کہ میرا سابقہ عیسائی مذہب تثلیث کا قائل ہے۔ یہ بات میرے حلق سے نہیں اترتی تھی کہ نعوذ باللہ خدا تین ہیں تو اس کا سلسلۂ نسب بھی دراز ہوگا۔ اپنی الجھن کو دور کرنے کے لیے میں نے دیگر مذاہب کا مطالعہ کیا، لیکن کوئی مذہب مجھے ایقان کی منزل تک نہ لے جاسکا۔ پھر میں نے قرآن کا تحقیقی مطالعہ کیا۔ قرآن پڑھ کر شک و شبہ کی تمام دھند چھٹ گئی کہ یہ ہے سچا مذہب کہ جس میں نہ صرف خدائے واحد کی پرستش کا واضح اعلان ہے بلکہ خدا اور بندے کے درمیان کوئی ربط و وسیلہ نہیں۔

مشہور مورخ گبن نے ان الفاظ میں ہدیۂ تبریک پیش کیا ہے۔ ’’نظریۂ توحید کو واضح الفاظ میں بیان کرنے والی اور دلوں میں توحید کا نقش بٹھانے والی عظیم کتاب قرآن مجید ہے۔‘‘

اسلام سے پہلے قومِ عرب وحشی، اجڈ، جنگجو اور جاہل قوم تھی۔ اس تہذیب و تمدن سے عاری قوم میں ایک رسولِ امی معبوث ہوا جس نے اپنے کردار و گفتار نیز قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر ۲۳ سالہ مختصر مدت میں ان کی ایسی کایا پلٹ کردی کہ روئے زمین پر ایسی با اخلاق، متمدن، سراپا جودوکرم اور متقی و پرہیزگار قوم دوسری نہ ابھر سکی۔

قرآن کے پہلے انگریز مترجم مسٹر راڈیل اپنے مقدمے میں قرآن کی ثناء خوانی کرتے ہیں۔ ’’عرب کے جاہل، اَن گھڑ اور نا آشنائے تہذیب قوم کو ایک مختصر سی مدت میں دنیا کی امامت اور حکمرانی کے قابل صرف اس کتاب نے بنایا۔ گویا کسی نے جادو کی چھڑی گھمادی اور ایک عظیم انقلاب عربوں میں آناً فاناً ہوگیا۔

’’حقیقت خود کو منوالیتی ہے مانی نہیں جاتی۔‘‘ کے مصداق نپولین کی صداقت گوئی ملاحظہ کیجیے۔ ’’وہ دن دور نہیں کہ سارے ہی ممالک کے مدبرین مل کر، قرآن کے اصولوں کے مطابق ایک ہی طرز کی حکمرانی کو اختیار کریں گے۔ قرآن کی تعلیمات اور اس کے اصول سچائی پر مبنی ہیں اور نوعِ انسانی کو خوشیوں اور خوشحالی سے مالا مال کرنے والے ہیں لہٰذا میں خدا کے رسول اور آپؐ پر نازل کردہ کتاب قرآن پر فخر کرتا ہوں اور آپؐ کی خدمت میں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘

گاندھی جی جیسے بااصول اور امن پسند شخص بھی قرآن کی حقانیت کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں۔ ’’میں نے قرآنی تعلیمات کا مطالعہ کیا ہے، مجھے قرآن کو الہامی کتاب تسلیم کرنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں ہے۔ مجھے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ نظر آئی کہ یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔‘‘

قرآن ہر تفریق کو مٹاکر مساوات کا علمبردار بن کر آیا ہے۔ مساوات کی کشش کا اظہار بابو چندر پال اس طرح فرماتے ہیں۔ ’’قرآن کی تعلیم میں ہندوؤں کی طرح ذات پات کا امتیاز موجود نہیں ہے اور نہ کسی کو محض خاندانی و مالی عظمت کی بنا پر بڑا سمجھا جاتا ہے۔‘‘ قرآن خود ببانگِ دہل اعلان کرتا ہے۔ ’’بے شک تم میں اللہ کے نزدیک معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔‘‘

بلاشبہ یہ امتیاز صرف قرآن کو ہی حاصل ہے کہ نہ صرف روئے زمین پر بکثرت پڑھی جانے والی کتاب ہے بلکہ مسلمانوں کے سینے میں یہ جتنا محفوظ ہے علومِ دین و دنیا کی کوئی بھی کتاب اس مرتبہ کو نہیں پہنچ سکی۔ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کے مرتب لکھتے ہیں: ’’دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اور حفظ کی جانے والی کتاب قرآن ہے۔ یہ مرتبہ کسی بھی کتاب کو حاصل نہیں ہے اور ’’سورہ فاتحہ حمد باری تعالیٰ کی زبردست مناجات ہے۔ سلیس اتنی کہ مزید تشریح سے بے نیاز، مگر اس پر بھی معنویت سے لبریز۔‘‘

قرآن ہر کس و ناکس کے حقوق کا ضامن ہے۔ یہ انسان کو انسان کاغلام نہیں بناتا بلکہ ایک خدا پرستی کے علاوہ تمام دیگر پرستیاں اس نے حرام کررکھی ہیں۔ اس کا بے لاگ حق و انصاف اہل وطن کے لیے وجۂ کشش ہے۔ یکم جنوری ۱۹۴۵ء کو مسز سروجنی نائیڈو نے مسلم انسٹی ٹیوٹ ہال کلکتہ میں اسے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ’’قرآنِ حکیم ادب و انصاف کا منشور ہے، آزادی کا چارٹر ہے، عملی زندگی میں حق و انصاف کی تعلیم دینے والی قانون کی عظیم کتاب ہے۔ کوئی دوسری مذہبی کتاب قرآن کی طرح زندگی کے سارے ہی مسائل کی عملی تشریح اور حل پیش نہیں کرتی۔ قرآن کریم غیر مسلموں سے بے تعصبی اور رواداری سکھاتا ہے۔ دنیا اس کی پیروی سے خوشحال ہوسکتی ہے۔‘‘

جرمنی کے دانشور گوئٹے نے اعتراف کیا ہے کہ جب بھی قرآن کو دیکھتا ہوں یہ نئے نئے معنی کھولتا چلا جاتا ہے۔ اس کتاب کی کشش اپنے پڑھنے والے کو آہستہ آہستہ کھینچتی ہے اور بالآخر اس کے ذہن و دماغ پر چھا جاتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر سموئیل جانسن اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’اورینٹل ریلیجنس‘‘ میں لکھتے ہیں۔ قرآن نہ نثر ہے نہ نظم، تاہم وہ اپنے اندر نثر کا زور بھی رکھتا ہے اور نظم کا حسن بھی۔ نہ وہ تاریخ ہے نہ سیرت کی کتاب تاہم موعظت و عبرت دلانے میں ان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔

ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور قرآن کی مسلم صداقت کے بڑے مداح ہیں۔ قرآنی تعلیمات کی کشش کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب قرآن کریم اپنی مسلمہ صداقتوں اور روحانی کرشموں سے سب کو اپنے اندر جذب کرلے گا۔ وہ زمانہ بھی دور نہیں جبکہ اسلام ہندومذہب پر غالب آجائے گا اور ہندوستان میں ایک ہی مذہب ہوگا۔‘‘

قرآن انسانوں کو رشتۂ اتحاد میں جس طرح مربوط کرنا چاہتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ باہمی اخوت کا وہ روشن منارہ ہے جس کے معترف اہل وطن بھی نظر آتے ہیں۔ افسانہ نگار ایچ جی ویلز لکھتے ہیں ’’قرآن نے مسلمانوں کو مواخات کے بندھن میں باندھ رکھا ہے جو نسل، رنگ اور زبان کا پابند نہیں۔‘‘

قرآن مقدس کے بارے میں اہلِ وطن کے تاثرات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آپ کے قول و فعل، گفتار و کردار کی مسلمان تقلید کرتے تو اہلِ وطن صرف قرآن کے قولی مداح نہیں ہوتے بلکہ اس کا سحر دل و دماغ کو بھی مسحور کرلیتا۔ راہِ حق کی قبولیت میں مسلمانوں کی بے عملی ہی تو سدِ راہ بنی ہوئی ہے جس کی علامہ پیشین گوئی اقبال کرچکے ہیں:

اے لا الہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتار دلبرانہ، کردار قاہرانہ

شیئر کیجیے
Default image
تسنیم نزہت اعظمی،لکھیم پور

Leave a Reply