نکاح سنجیدہ معاہدہ

اسلام انسان کا جو ذہن اور مزاج بناتا ہے اور جس طرح اس کی تربیت کرتا ہے اس میں طلاق کی نوبت بہت کم ہی آسکتی ہے۔ یہ خطرہ بس امکانی درجہ میں رہتا ہے۔ اسلام کے نزدیک نکاح کے ذریعہ عورت اور مرد چند دن کی عیش یا تفریح کے لیے نہیں ملتے بلکہ وہ زندگی بھر کی رفاقت کا عہد و پیمان کرتے ہیں۔ اس عہد کو قرآنِ پاک نے میثاق غلیظ سے تعبیر کیا ہے۔ (النساء:۲۱) جو شخص سنجیدگی سے یہ عہد کرے تو وہ آسانی سے توڑنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ یہ مذاق وہی کرسکتا ہے جو اس کی اہمیت کو محسوس نہ کرتا ہو اور بے شعوری کے عالم میں اتنا بڑا عہد کر بیٹھا ہو۔

اسلام نے وقت ضرورت طلاق کی اجازت ضرور دی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی بتادیا ہے کہ انتہائی مجبوری ہی میں یہ اقدام ہونا چاہیے۔ ایک طرف اسلام نے مرد کے ذہن میں یہ بات بٹھائی کہ طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور دوسری طرف عورت کو ہدایت کی کہ وہ بلاوجہ مرد سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے، حضورؐ نے فرمایا کہ ’’ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہوجاتی ہے جو ناحق طلاق کا مطالبہ کرے۔‘‘

اجتماعی زندگی کسی فرد واحد کی مرضی کے تابع نہیں ہوتی، آدمی کو اجتماعی مفاد کے لیے اپنی رائے اور مرضی کو قربان کرنا ہی پڑتا ہے۔ ازدواجی زندگی میں بھی اس طرح کے مواقع آتے رہتے ہیں جبکہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کی رائے اور رجحان سے اختلاف ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی کو کوئی بات پسند نہ آئے تو اس کا یہ حل نہیں کہ فوراً طلاق دے کہ اس پاکیزہ رشتے کو ہی ختم کردیا جائے۔ اس طرح وہ مقاصد ہرگز پورے نہیں ہوں گے جن کے لیے ان کے درمیان نکاح ہوا تھا۔

اسلام نے مرد کو عورت کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے، خوبیوں کو دیکھنے، کمزوریوں اور خامیوں کا ہر ممکن طریقے سے علاج کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ دوسری طرف عورت کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ معمولی سی بات پر طلاق کا مطالبہ لے کر نہ بیٹھ جائے۔ اگر اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے شوہر کے اندر اس سے نفرت اور دوری پیدا ہورہی ہے تو اسے چاہیے کہ ہر ممکن طریقے سے صلح کی کوشش کرے کیونکہ صلح ہر حال میں بہتر ہے۔

اگر عورت نافرمان اور سرکشی پر آمادہ ہے تو بھی اسلام طلاق کا فوراً حکم نہیں دیتا بلکہ اس کے لیے مرد کو خصوصی اختیارات دیتا ہے کہ وہ نرمی و سختی سے اصلاح کی کوشش کرے اور یہ کہ اختلاف گھر کے اندر ہی رہے اور طلاق کی نوبت نہ آئے۔

ایک آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ نافرمانی پر آمادہ عورت کو وعظ و نصیحت سے سمجھایا جائے اسے خدا کا خوف دلایا جائے، ایک دوسرے کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی جائے اور خاندان کے مصالح کا احساس دلایا جائے۔ یہ سب نرمی اور محبت سے ہی ممکن ہے۔ اگر اس پر بھی اصلاح نہ ہو تو اسے خوابگاہ میں اکیلا چھوڑ دو، اس پر بھی نہ مانے تو اس کی اصلاح کے لیے مارو لیکن یہ مار سخت نہ ہو صرف اسے اپنی توہین کا احساس ہوجانا چاہیے۔ ایسی مار نہ ماری جائے جس سے جسم پر کوئی داغ یا عیب پیدا ہوجائے۔ (النساء: ۳۴۱)

بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان میں شدت آجاتی ہے۔ اس طرح میاں بیوی کے درمیان دوری پیدا ہوجاتی ہے۔ ان حالات میں وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ خود صلح کرلیں، ایسے موقعہ پر قرآن نے ہدایت کی کہ جہاں آپس کے اختلاف حل نہ ہوسکیں وہاں دونوں طرف کے ایک ایک ذمہ دار اس اختلاف کو حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ خاندان ناحق بکھرنے سے بچ جائے۔ (النساء: ۳۵۱)

اس سلسلہ میں سب سے اہم اور مفید مشورہ یہی ہے کہ ہر انسان قرآن کا مطالعہ کرے کیونکہ یہ ہدایت کی کتاب ہے اور اس میں ولادت سے لے کر وفات تک پیش آنے والی تمام مشکلات کا حل موجود ہے جو بے حد آسان پاک اور دلکش انداز میں ہیں۔ پس اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن ایک مکمل ہدایت کی کتاب ہے۔ اگر انسان اپنے ہر معاملے میں اس سے ہدایت طلب کرے تو اس کی زندگی میں طلاق جیسی قابل نفریں شئے کا نام بھی نہ آئے۔نکاح ایک سنجیدہ معاہدہ ہے جس کا ایک مقصد ہے۔ اسے خلوص اورمحبت کے ساتھ نبھانے اور خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
زیبائش فردوس ، پٹنہ

Leave a Reply