کالم برداشتہ

سعید اختر اعظمی

نام کتاب : کالم برداشتہ مصنف : مجتبیٰ حسین

صفحات : ۳۳۶ ٭قیمت: ۳۰۰ روپئے٭اشاعت:۲۰۰۷ء

ناشر : موڈرن پبلشنگ ہاؤس، ۹؍گولہ مارکیٹ، دریا گنج، نئی دہلی-۲

………………

اردو زبان کا ادیب غالباً اکیلا ایسا ادیب ہے جس کی قسمت میں فقر و فاقہ اور توکل و قناعت کی دولت لکھی ہوتی ہے۔ پتہ نہیں اردو ادب میں یہ جو اتنا سارا اشاعتی کاروبار انجام پاتا ہے، اس سے ہونے والے فائدے سے کون استفادہ کرتا ہے۔ اب ادیب کتاب اس لیے نہیں لکھتا کہ اس کی اشاعت سے علم کی روشنی پھیلے گی بلکہ اس لیے لکھتا ہے کہ ایک دن اس کتاب کی رسم اجراء ہو کسی زمانے میں ادب برائے ادب ہوا کرتا تھا یا ادب برائے زندگی لیکن اب ادب کی صرف ایک ہی قسم باقی رہ گئی ہے اور وہ ہے ادب برائے رسم اجرا۔ مانا کہ اردو کی کتاب کوئی نہیں خریدتا۔ اگر زبردستی خریدتا بھی ہے تو اسے پڑھتا نہیں۔ نتیجے میں آدمی کتاب کو کسی غیر اردو داں ردی فروش کے حوالے کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآہوجاتا ہے۔‘‘ ادب ، ادیب اور تادیب پر مجتبیٰ حسین کے یہ گراں قدر خیالات ایسے نہیں ہیں کہ ان کو ارزاں سمجھ کر درکنار کیا جاسکے۔ کونین کی گولی سے قند کا ذائقہ مہیا کرانا ایک مزاح نگار سے ہی ممکن ہے کیونکہ وہی ایسا بیچارہ ہے جو سماجی مضمرات کو کشید کرکے وِش منتھن کرتے ہوئے قہقہہ لگانے کی جسارت کرتا ہے۔

کالم برداشتہ میں مجتبیٰ حسین کی ان تحریروں کی شمولیت ہے جو روزنامہ سیاست کے سنڈے ایڈیشن کی زینت بن چکی ہیں۔ ان میں احوال واقعی ہے تو حدیث دیگراں بھی نمایا ںہے۔ انھوں نے اپنی شگفتہ مزاجی کے حوالے سے ایک جگہ لکھا ہے۔ ’’پہلے کوئی گھر اجڑتا تھا تو لوگ اظہارِ ہمدردی کے لیے جوق در جوق چلے آتے تھے مگر اب بستیوں کی بستیاں اجڑ جاتی ہیں لیکن کسی کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی گویا جوئیں بھی انسانوں کی طرح بے حس ہوگئی ہیں۔ بے حسی، بے دلی اور بے کسی کے اس گھناؤنے ماحول پر اگر ہم نے اپنے کالم میں تھوڑی سی خوشدلی ، خوش مزاجی اور خوش ذوقی برقرار رکھی تو ذرا سوچئے کہ کس طرح رکھی ہوگی۔‘‘ اسے مجتبیٰ حسین کی عادت کے ساتھ مجبوری بھی کہا جاسکتا ہے جو خلوت و جلوت میں یکساں رہتی ہے۔

مجتبیٰ حسین کے نام پر تبسم زیر لب رکھنے والے اگر ان کا مطالعہ کریں تو قہقہہ لگانا شرط اولین قرار پائے گا۔ بقول مجتبیٰ حسین ’’دنیا تکلیفوں سے مل کر بنی ہے۔ آج کے دور میں کسی کسی تکلیف کو دور نہیں کرسکتا اور سب سے بڑی یہی تکلیف ہے۔‘‘ قارئین کو اس کے حصول کی تکلیف اٹھانے کے لیے اپنی جیب کا وزن کم کرنا ہی پڑے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

Leave a Reply