درس کی تیاری اور اس کی اہمیت

درس کی تیاری نہایت اہم مسئلہ ہے۔ مدرس کی کامیابی اور ناکامی پر اس کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ مدرسین کو اس بات سے کسی مرحلہ پر بھی غافل نہ ہونا چاہیے۔

ایک اہم بات

مدرس کو چاہیے کہ وہ خود کو ہمیشہ ایک طالب علم سمجھے، جس دن اس حقیقت کو اس نے نظروں سے اوجھل کردیا، اس کی عزت و عظمت کاستون اسی دن گر پڑے گا۔ دراصل معلم کی عظمت کا راز، اپنے کورس کی تیاری اور کثرتِ مطالعہ میں ہے۔ جب تک وہ زندہ رہے علم کی طلب سے باز نہ آئے۔ زندگی بھر علم کی کھوج میں لگا رہے، بحث ومعلومات کے حصول میں کبھی نہ چوکے، ہمیشہ اسی دھن میںلگا رہے، یہ جو کہاوت ہے کہ ’’مدرس مہد سے لے کر لحد تک طالب علم رہتا ہے۔‘‘ بالکل صحیح اور حقیقت پر مبنی ہے۔

ایک مثال

ڈاکٹر آرنلڈ سے ایک دفعہ سوال کیا گیا کہ تعلیم دینے سے پہلے آپ ہر روز اسباق کامطالعہ کیوں کرتے ہیں؟ ڈاکٹر آرنلڈ جو جواب دیا۔ وہ استاد کے لیے یاد رکھنے کے قابل ہے۔ انھوں نے کہا ’’میں چاہتا ہوں، میرے شاگرد ہر روز نئے چشمے کا تازہ پانی پئیں۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ سڑا اور رکا ہوا پانی پئیں۔‘‘ ان الفاظ سے ڈاکٹر آرنلڈ کا مطلب یہ تھا کہ ہر روز سبق کی تیاری سے نئے نئے شگوفے کھلیں، تاکہ درس میں زندگی و نیا پن پیدا ہو۔ بے لذتی اور پرائے پن کی جھلک نہ ہو اور سبق کا زندگی سے رشتہ قائم رہے۔

انسان بھول چوک کا پتلا ہے، جس طرح ایک عام آدمی بھولتا، چوکتا رہتا ہے، اسی طرح ایک مدرس سے بھی بھول چوک ہوسکتیہے، لیکن اگر ہر روز وہ اپنے نصاب کا مطالعہ اور اس کے درس کی تیاری کرتا رہے تو نہ صرف یہ کہ اس سے غلطی کا امکان نہیں رہتا، بلکہ اس کی تعلیم مزید قوت حاصل کرلیتی ہے۔

مدرس کو صرف درس کی تیاری اور مطالعہ ہی پر اکتفا نہیں کرلینا چاہیے بلکہ اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اپنا علم اپنے طلبہ کے سامنے کس انداز اور اسلوب سے پیش کرے کہ ان کے دل میں بات بیٹھ جائے اور وہ پورے طور پر اس کا مفہوم سمجھ لیں۔ مدرس کو اس پر بھی اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ جو کچھ کتاب میں ہے، وہ اس کے ذہن و حافظہ پر نقش ہوجائے اور وہ اپنے طلبہ کے سامنے طوطے کی طرح جاکر سارا سبق رٹ لے گا۔ یہ طریقہ نہ اخلاق پر مبنی ہے اور نہ دیانت و امانت اس سے ظاہر ہوتی ہے۔

علم اور تعلیم

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ علم حاصل کرنے کا زمانہ تعلیمی دور اور نصاب ختم کرلینے کے بعد ہی آتا ہے۔ علم میں اضافہ بحث و تکرار ہی سے ہوتا ہے۔ وہ علم جسے کوئی نہ سنے، جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھائے وہ برابر بھولتا اور کم ہوتا رہتا ہے۔ ایک ماہر تعلیم کا قول ہے، اللہ تعالیٰ عالم کو بابرکت بناتا ہے۔ کیونکہ وہ علم سیکھتا اور اسے قبول کرتا ہے۔ ایک یہودی ماہر تربیت و تعلیم کا بیان ہے کہ ’’میں نے اپنے استادوں سے بہت کچھ سیکھا لیکن اپنے ساتھیوں سے استادوں سے بھی زیادہ سیکھا اور اپنے شاگردوں سے سب سے زیادہ سیکھا۔‘‘ سچ پوچھئے تو اس قول میں ذرا بھی مبالغہ نہیں ہے۔ ایک ذہین طالب علم کبھی کبھی ایسے نکتے تک پہنچ جاتا ہے جہاں تک استاد کی نظر بھی نہیں پہنچتی۔ سرگرم اور شوقین طلبہ اپنے عمل سے استاد میں بھی علمی سرگرمی کا جذبہ پیدا کردیتے ہیں۔ اس طرح وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور استاد کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔

ایک طالب علم درس کی جو تیاری کرتا ہے، مدرس کی تیاری اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ دراصل طالب علم کی تیاری محدود اور سطحی ہوتی ہے۔ وہ صرف اپنے درس کی تیاری کرتا ہے، وہ بھی معمولی طور پر، لیکن مدرس اس طرح نہیں کرسکتا۔ اسے گہری نظر سے مطالعہ کرنا پڑتا ہے اور درس کے حصوں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر گہری نگاہ رکھنی پڑتی ہے تاکہ وہ جو علم پیش کرے، وہ اس سے زیادہ ہو، جو طلبہ نے بطور خود اپنے مطالعہ اور تیاری سے حاصل کرلیا ہے۔

درس کی تیاری کے وقت مدرس کو ان کلمات اور الفاظ کے معنی بھی یاد رکھنے چاہئیں جو سخت ہوں۔ وہ عبارت کے ہر فقرہ اور جملہ کا مفہوم اچھی طرح سمجھتا ہو، اور سمجھا سکتا ہو۔ وہ منطق اور سنجیدہ فکر و ترتیب کی وضاحت کرنے پر قادر ہو، ہر بات کی آسان انداز میں تفسیر کرسکتا ہو۔ وہ ضرورت کے مطابق درس میں حذف و اضافہ سے بھی کام لے سکتا ہو۔

چند باتیں:

درس کی تیاری کے سلسلے میں معلم کودرج ذیل باتوں کا ضرور خیال رکھنا چاہیے:

(۱) مدرس کو صرف آج کے درس ہی پر نظر نہیں رکھنی چاہیے بلکہ کل جو پڑھا چکا ہے، اور کل جو پڑھائے گا، اس پر بھی اس کی نظر ہونی چاہیے۔

(۲) تعلیمی سال کے آغاز ہی میں مدرس کو اپنے سال بھر کا پروگرام اور نصاب نظر کے سامنے رکھ لینا چاہیے اور ہر سبق کاایک اصول متعین کرلینا چاہیے کہ وہ اسے کس طرح پڑھائے گا؟ کن مسائل پر زیادہ زور دے گا؟ کن مسائل پر یونہی سرسری گزرجائے گا؟ پیچیدہ عبارتوں کی توضیح کس طرح کرے گا؟ مشکل الفاظ کے معنی کس طرح بتائے گا اور عبارت و اسلوب میں مطابقت کس طرح پیدا کرے گا؟

(۳) مدرس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ میں سے ہر ایک کی ذہنی و دماغی اہلیت کو بھی پیش نظر رکھے، وہ کند ذہن اور ذہین کو پہچانتا ہو، یہ سمجھتا ہو کہ ایک ہی درس کا یہ حصہ وہ فلاں طالب علم کو کس طرح سمجھائے گا اور فلاں کو کس طرح ذہن نشین کرائے گا۔

(۴) ان وسائل سے بھی مدرس کو مسلح ہونا چاہیے، جن سے کام لے کر وہ آسانی کے ساتھ اپنے طلبہ کو اپنا مفہوم ذہن نشین کراسکتا ہو یا جن سے درس کی وضاحت میں مدد ملتی ہو۔ مثلاً تصویریں، مثالیں،نمونے وغیرہ۔

(۵) سابق طلبہ کی معلومات سے بھی، مدرس کو فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ قدیم و جدید کا ربط قائم رہے۔

(۶) مدرس کو اپنے کورس کے انتخاب میں حسن انتخاب سے کام لینا چاہیے جو اس کے اور طلبہ کے فہم و ذوق سے پوری پوری مطابقت رکھتا ہو۔

(۷) مختلف اسباق کے درمیان مشابہت اور اختلاف کی جو صورتیں پیدا ہوتی ہیں مدرس کی ان کے اسباب پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ اسی توضیح و تشریح پر نقطہ درس کی وضاحت کا انحصار ہوتا ہے۔

(۸) مدرس کو اپنے کور س پر پوری طرح غالب اور متصرف ہوناچاہیے۔

(۹) درس کی تحدید و تعیین بھی مدرس کو پیش نظر رکھنی چاہیے۔

(۱۰) مدرسہ کی لائبریری پر بھی مدرس کی وسیع نظر ہونی چاہیے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے کورس سے متعلق کون سی کتابیں لائبریری میں موجود ہیں تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے طلبہ کو ان کتب کے مطالعہ کی طرف متوجہ اور آمادہ کرسکے اور درس کے بعد وہ ان سے فائدہ اٹھاسکیں۔

(۱۱) اسباب کا زندگی سے اور زندگی کے حالات و مسائل سے پورا رشتہ قائم رہنا چاہیے مثلاً پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران میں مدرس بڑی آسانی سے طلبہ کو وطنیت کا درس بھی دے سکتا ہے اور انتخابی زندگی کے پہلو بھی ان کے سامنے اجاگر کرسکتاہے یا اگر جنگ کا زمانہ ہو تو وہ اپنے طلبہ کو بمو ں سے بچنے اور ذاتی و اجتماعی حفاظت کے گر بھی بتا سکتا ہے۔ اس طرح وہ ان کا جذبہ مدافعتِ وطن بھی مضبوط کرسکتا ہے۔

(۱۲) مدرس کو یہ پہلے سے سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنا درس کس انداز و اسلوب پر شروع کرے گا؟

تیاری کے فوائد

اس تفصیل کے بعد کہ مدرس کے لیے اپنے درس کی تیاری کتنی ضروری اور اہم ہے۔ اب یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس تیاری سے کیسے بہتر اور بیش بہا فائدے حاصل ہوتے ہیں:

(۱) اگر مدرس اپنے نصاب پر حاوی ہے اور درس پوری تیاری کے ساتھ دیتا ہے تو اپنے کلاس کو نظم وضبط کا خوگر بنانے میں اسے ذرا بھی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ طلبہ اگر مدرس کو درس میں کمزور پاتے ہیں تب ہی وہ اسے خیال میں نہیں لاتے اور درجہ کا نظم وضبط درہم برہم کردیتے ہیں۔ اگر مدرس اپنے فن میں کامل ہے اور درس کی پوری تیاری کرکے کلاس میں آتا ہے تو بغیر سختی اور سزا کے طلبہ اس سے ڈریں گے اور اس کے اشارے پر چلیں گے۔ شریر لڑکوں کو شرارت سے روکنے کے لیے اس کی ایک نظر کافی ہوگی۔

(۲) اگر مدرس اپنے طلبہ کی ذہانت اور فہم کی سطح سے واقف ہے اور وہ اپنی تیاری سے فائدہ اٹھاکر انھیں پورا فائدہ پہنچاتا ہے تو وہ طلبہ کے درمیان اس طرح بیٹھے گا جیسے مریدوں کے مجمع میں پیر۔ وہ حوصلہ افزائی بھی کرے گا اور غافل کو ہشیاری کا درس بھی دے گا۔ ضعیف کی مدد کرے گا اور کاہل کو آمادئہ عمل کرے گا۔

(۳) اگر مدرس ہر وقت درس کے لیے تیار ہے اور اس کی تیاری مکمل ہے تو طلبہ اس سے محبت کریں گے اور وہ اخلاص عمل کی ایک بہترین مثال بن جائے گا۔

باگلے کا قول ہے: ’’معلم کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ہر سبق کی مکمل تیاری کرلے تب درجہ میں جائے۔‘‘

یہ قول بالکل واقعیت پر مبنی ہے۔ اس اصول پر عمل کرنے کے بعد کوئی بھی دشواری باقی نہیں رہ جاتی۔

شیئر کیجیے
Default image
عطیہ محمد الابراشی ترجمہ: رئیس احمد جعفری

Leave a Reply