BOOST

شہید بیٹے، خدا حافظ!

حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ، فرزندِ رسولؐ ابراہیم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اکرم ﷺ تشریف لائے، بچے کو منگوایا گیا، آپؐ نے بیٹے کی میت کو سینے سے لگایا۔ میں نے دیکھا کہ آں حضورؐ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں اور آپؐ نے فرمایا: ’’آنکھیں روتی ہیں، دل غمگین ہے، لیکن ہم اس بات کے علاوہ کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتے کہ جو ہمارے رب عزوجل کو راضی کرتی ہو، واللہ اے ابراہیم! ہم تمہارے فراق پر بہت غم زدہ ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون۔

میرے لخت جگر حسن! مجھے آج تمہارے ساتھ بیتے دو واقعات یاد آرہے ہیں۔ ایک تب کہ جب تو ابھی چھے ماہ کا شیر خوار بچہ تھا۔ ایک رات جب میں بہت دیر سے گھر لوٹا تو دیکھا کہ تم اپنی والدہ کے پہلو میں گہری نیند سوئے ہوئے ہو۔ میں نے تمہیں دیکھا تو محبت کی ایک لہر میرے دل میں اتر گئی، لیکن اگلے ہی لمحے میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک لمبا سانپ کنڈلی مارے تمہارے سر کے پاس بیٹھا ہے۔ اس نے اپنے پھن پورا پھیلایا ہوا ہے اور اس کے اور تمہارے سر کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مجھے لگا میرا دل حلق میں آن اٹکا ہے۔ میں فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا اور اس کی بارگاہ میں استدعا کی کہ دل کو قرار آئے۔ بے اختیار میری زبان پر سانپ کے ڈنک اور اذیت سے محفوظ رہنے کی دعا جاری ہوگئی۔ دعا ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سانپ نے سر جھکایا اور چپکے سے اپنی راہ لی۔ میرے پیارے بیٹے! اللہ نے اپنے اذنِ خاص سے اور تمہارے لیے کیے ہوئے اپنے کسی اہم فیصلے کی خاطر تمہیں بچالیا۔

میرے لختِ جگر! آج مجھے دوسرا منظر وہ یاد آرہا ہے جب تیرا لاشہ میرے سپرد کیا گیا تھا۔ میں نے رات کی تاریکی میں خون میں نہائی تیری میت اٹھائی، تو تیرا جسم گولیوں سے چھلنی تھا اور تیری روح پرواز کرچکی تھی۔ جنگل کا سانپ تو تجھے تکلیف پہنچانے سے ڈر گیا، لیکن صد افسوس کہ انسانی سانپ تیری لاش کو ڈستے رہے۔ اس المناک لمحے میں صرف اللہ وحدہٗ کی قدرت ہی نے ہماری ڈھارس بندھائی، وگرنہ ہم کبھی یہ صدمہ برداشت نہ کرپاتے۔

میری جان! میں نے تمہارے پیارے چہرے سے چادر ہٹائی تو مجھے نور کی کرنیں لپکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ تیرے چہرے پر شہادت کی آسودگی ہی آسودگی تھی۔ تب آنکھیں نم ہوگئیں، دل زخمی اور غمگین تھا، لیکن ہم نے اللہ کو راضی کرنے والے کلمے انا للہ و انا الیہ راجعون کے علاوہ کچھ نہ کہا۔

پیارے بیٹے! پھر میں نے تمہیں غسل دیا، کفن پہنایا اور اکیلے ہی تمہاری نمازِ جنازہ ادا کی۔ پھر میں اس عالم میں تمہارا جنازہ لے کر نکلا کہ گویا میرے نصف جسم نے اپنے ہی نصف وجود کی میت اٹھائی ہوئی ہو۔میں اس کے علاوہ مزید کچھ نہ کہہ سکا وافوض امری الی اللّٰہ ان اللہ بصیر بالعباد۔ (المومن: ۴۴) ’’اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے۔‘‘ بیٹے! مبارک ہو کہ تم تو اپنی وہ مراد پاگئے، جسے پانے کے لیے تم سجدوں میں دعائیں کیا کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آں حضور ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جنت میں داخل ہوجانے والا کوئی انسان دنیا میں واپس جانا پسند نہیں کرے گا، خواہ اسے اس کے بدلے پوری روئے زمین کے خزانے مل رہے ہوں لیکن شہید کو شہادت کے بدلے اتنی تکریم ملے گی کہ وہ خواہش کرے گا کہ اسے دس بار بھی دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو وہ چلا جائے اور بار بار شہادت سے سر فراز ہوکر آئے۔

میرے پروردگار، اپنے بندے حسن کی خوب تکریم فرما، اس کے درجات بلند فرما، جنت کو اس کا مستقر اور ٹھکانا بنا۔ ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ فرما اور اس کے بعد کسی فتنے میں مبتلا نہ فرما۔ ہماری بھی بخشش فرما اور اس کی بھی بخشش فرما۔ اس کی یہ آرزو پوری فرما کہ اسے تیرے حبیب ﷺ کے قربت نصیب ہو:

مع الذین انعم اللّٰہ علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقاً۔ (النساء ۴:۶۹)

’’وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین ۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔‘‘

رہے وہ احباب کہ جنھوں نے میرے بیٹے کو خوب پہچان کر اسے اپنا قائد چنا، تو آپ کے لیے ان کی یاد منانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسی راہ پر اپنا سفر جاری رکھو۔ اس کے نقوش پا کو مٹنے نہ دو۔ اسلام کے آداب و احکام کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اخوت کی رشتوں میں مضبوطی سے جڑے رہو اور اپنے اعمال اور اپنی نیتوں کو اللہ ہی کے لیے خالص رکھو۔

میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم سب میرے شہید بیٹے کی سچی تصویر بن جاؤ، لوگوں سے کسی اجر کی تمنا نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا خوف دل میں نہ بیٹھنے دو اور دل میں یہ خیال تک نہ آنے دو کہ تم کو کسی کو شر یا تکلیف پہنچانی ہے:

ومن احسن قولا ممن دعا الی اللّٰہ۔ (حم السجدہ: ۴۱:۳۳)

’’اور اس شخض کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی، جس نے اللہ کی طرف بلایا۔‘‘

ترمذی میں حضرت ایوب بن موسیٰ نے اپنے والد اور دادا کے حوالے سے رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد روایت کیا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ ’’کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھی تربیت سے بہتر کوئی چیز نہیں عطا کی۔‘‘ شادی کے بعد میری بھی یہ آرزو اور تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے صالح اولاد عطا کرے، میں اس کی بہترین تربیت کروں اور ان کے ذریعے ایک ایسی بہترین نسل چھوڑ جاؤں جو سب کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے اور ابدی خیر و بقا کا ذریعہ ہو۔ پروردگار نے یہ دعا قبول فرمائی۔ میری آرزو پوری ہوئی، مجھے پیارا سا بیٹا عطا ہوا اور میں نے اس کا نام حسن البنا رکھا۔

پروردگار کی رحمت بچپن ہی سے میرے بیٹے پر سایہ فگن رہی۔ باری تعالیٰ نے اسے ہر تکلیف و اذیت سے محفوظ رکھا۔ ہم ’’محمودیہ‘‘ میں رہائش پذیر تھے کہ ہمارے گھر کی چھت گر گئی۔ حسن اپنے بھائی عبدالرحمن کے ساتھ اسی چھت کے نیچے کھیل رہا تھا لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جہاں یہ دونوں کھیل رہے تھے ، وہاں سیڑھیاں تھیں۔ چھت کا ملبہ سیڑھیوں کی محراب پر آکر ٹک گیا لیکن باہر کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ میں نے ملبہ ہٹانا شروع کیا تو دیکھا کہ الحمدللہ، حسن اور اس کا بھائی اللہ کے فضل سے بالکل صحیح و سالم ہیں۔

اسی طرح مجھے یاد ہے کہ ایک بار حسن کو خوفناک کتوں نے گھیر لیا۔ اس نے خوف زدہ ہوکر قریبی برساتی نالے ’’الرشیدیہ‘‘ میں چھلانگ لگادی۔ اس وقت نالے میں دریاے نیل کی طغیانی کے باعث پانی کا تیز دھارا تھا۔ حسن ڈبکیاں کھانے لگا، لیکن اچانک اذنِ الٰہی سے پانی کی ایک لہر نے اسے کنارے پر لا پھینکا۔ قریب سے گزرنے والی ایک دیہاتی خاتون نے اسے اٹھالیا، اس طرح سراسر اللہ کے فضل و احسان سے اس کی جان بچ گئی۔

حسن بچپن ہی سے غیر معمولی دکھائی دیتا تھا۔ ابھی اس نے ہوش نہیں سنبھالا تھا کہ وہ کائنات کے بارے میں ہم سے سوالات پوچھا کرتا تھا: ’’یہ چاند کیا ہے؟ اسے کس نے اتنا خوبصورت بنایا ہے؟‘‘ میں نے اس کی غیر معمولی زیرکی کے پیش نظر اسے قرآن کریم حفظ کروایا۔ سنت نبوی کی تعلیم دی اور اخلاق عالیہ کا خوگر بنایا۔ پھر جب میں نے اسے دمنہور کے مدرسہ المعلمین میں داخل کروایا تو وہ حیرت ناک طریقے سے سب پر سبقت لے گیا۔ وہ اپنے تمام تعلیمی مراحل میں سب بچوں سے آگے رہا۔ الحمدللہ اس کی پوری تربیت، ذوق عبادت، صالحیت اور زہد کے اعلیٰ معیار پر پوری اتری۔

جامعہ ازہر کے دارالعلوم میں داخلے کے لیے پہلے چار سال کا ایک نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ اسے پڑھنے کے باوجود بہت سے لوگ داخلے کے انٹرویو میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ حسن نے اس چار سالہ تمہیدی پڑھائی کے بغیر ہی انٹرویو دیا اور کامیاب رہا۔ داخلے کے بعد وہ قاہرہ منتقل ہوا تو اتنے بڑے شہر میں اس کا نہ کوئی دوست تھا اور نہ کوئی عزیز۔ اس نے وہاں جاکر اپنا ابتدائی قیام جامعہ ازہر کی مسجد میں کیا۔ دارالعلوم میں تعلیم مکمل ہوئی تو پہلی پوزیشن کا اعزاز پایا۔ وزارت معارف نے شاندار نتیجے پر اسے مزید تعلیم کے لیے یورپ بھیجنے کی پیش کش کی، لیکن اس نے انکار کردیا۔ شاید اللہ تعالیٰ نے اس کا انتخاب کسی کار جلیل کے لیے کیا ہوا تھا۔ دریں اثناء اسماعیلیہ کے اسکول میں بطور مدرس اس کی تعیناتی ہوگئی، وہیں اس نے اپنی فکرکی آبیاری کی اور الاخوان المسلمون کی بنیاد رکھی۔

پھر میرے بیٹے کے افکار کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دی۔ اس کی دعوت عالمِ اسلام کے چہار اطراف میں پھیل گئی۔ اس کے پیغام نے تمام اصحاب فکر و شعور کو متاثر کیا۔ اس کے مکتبِ فکر نے ازہر سمیت تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ایک تنظیم کی لڑی میں پرودیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بیسویں صدی میں تجدیدِ دین کی خدمت لی، اس کی فکر سے روشن چراغوں نے ہر جگہ، ہر گھر میں حق کا نور پھیلادیا۔ اللہ نے اس کے ذریعے اخوت کی شکستہ عمارت کو دوبارہ استوار کیا اور افراد و قبائل کو دوبارہ روحانی محبت سے سرشار کردیا:

لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبہم ولکن اللّٰہ الف بینہم انہ عزیز حکیم۔ (الانفال: ۶۳)

’’تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کرڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔‘‘

(بشکریہ: ترجمان القرآن، لاہور)

شیئر کیجیے
Default image
احمد عبدالرحمن البنا ترجمہ: عبدالغفار عزیز

تبصرہ کیجیے