ابراہیم سعید (کرناٹک)

کنّڑ زبان میں اسلام پسند حلقے کے معروف مصنف، مترجم اور صحافی جناب ابراہیم سعید کا ۲۷؍ مئی ۲۰۰۷ء کی شب ڈھائی بجے انتقال ہوگیا۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔

مرحوم ابراہیم سعید اسی سال حج سے واپس ہوئے تو ان کے کینسر کی بیماری میں مبتلا ہونے کاپتہ چلا او ربالآخر چند ہی ماہ کے اندر وہ دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔

وہ ایک اچھے خطیب کنڑ زبان کے اچھے مصنف، دو درجن سے زیادہ کتابوں کے مترجم اور کنٹر اخبار’’سن مارگ‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ سیاسی، سماجی اور دینی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے والے ابراہیم سعید صاحب جماعتِ اسلامی کرناٹک و گوا کی امارت سے ابھی حال ہی میں سبک دوش ہوئے تھے۔

عربی زبان و ادب اور اسلامیات کے ماہر ابراہیم سعید صاحب نے ایک طویل صحافتی اور سماجی خدمت گار کی زندگی گزاری اور دعوت و تبلیغ کے مشن میں سرگرم رہے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے انھوں نے کئی ادارے قائم کیے اور آخری وقت تک ان کی سربراہی فرماتے رہے۔

کرناٹک کے منگلور مقام سے تعلق رکھنے والے ابراہیم سعید صاحب ایک فعال کارکن تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تحقیقی و تصنیفی ذوق رکھنے والے اور دھن کے پکے انسان تھے۔ انھوں نے بینک کی نوکری چھوڑ کر تحریک سے وابستگی اختیار کی۔ عربی زبان اپنی کوششوں سے سیکھی اور حدیث کی معروف کتاب ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کی تین ہزار احادیث کا کنڑ زبان میں ترجمہ کیا جو تین جلدوں میں شائع ہوکر کنٹر حلقے میں مقبول ہوا۔

انھوں نے اپنے چار بیٹوں اور چار بیٹیوں کی تعلیم و تربیت ایسے انداز میں کی کہ وہ ان کی فکر کے بھی وارث ہوئے۔

مرحوم ابراہیم سعید کی موت اسلام پسند حلقے کے ساتھ ساتھ کنڑ زبان و ادب اور خاص طور پر تحریکِ اسلامی کا بڑا خسارہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے اعزاء اور ہم سب کو صبر کی توفیق دے۔ ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور جنت میں انہیں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply