لفافہ

حجاب کے نام!

بنتِ حوا کی زبوں حالی

ملت اسلامیہ ہمہ جہت زوال کا شکار ہے۔ کس کس مرض کا علاج کیا جائے، ایک مرض کی تشخیص کرکے جب علاج شروع کیا جاتا ہے تو دوسرا مرض نظروں سے اوجھل ہوکر زہر افشانی کرنے لگتا ہے۔ حجابِ اسلامی کو دیکھ کر سوچا تھا کہ بچیوں کو دینی و سماجی اصلاح کے لیے کافی ہوگا کیونکہ یہ پرچہ ہر ماہ بچیوں کو فکری غذا فراہم کرتا رہتا ہے۔ سال گزشتہ سے تادمِ تحریر اس جذبے کے تحت قریباً پانچ سو پرچے ان تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ حال ہی میں ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بچیاں بھی بنیادی اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں بچے اور بچیاں ابتدا سے ہی مروجہ عصری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حجاب اسلامی کا ادارہ اس کی طرف بھی توجہ دے کر انہیں ایمانیات، فقہ اسلامی، توحید، رسالت وغیرہ کی تعلیمات سے بھی آگاہ کرے تاکہ وہ ذہنی و فکری بلندی کے ساتھ ساتھ اساسِ دین اور ارکانِ اسلام سے بھی آگاہی حاصل کرسکیں۔ راقم نے درجن بھر بچیوں سے حجاب اسلامی کے بارے میں جوتاثرات جمع کیے وہ حوصلہ افزا ضرور تھے لیکن جب ارکانِ اسلام، ایمانیات، نماز وغیرہ کے بارے میں پوچھا تو جوابات حوصلہ شکن تھے۔ یہاں تک کہ چند بچیوں کو تو نہانے اور غسل کرنے کا فرق تک معلوم نہ تھا۔ کچھ لڑکیوں نے کانوں پہ بالیوں کی جگہ بندیوں جیسے اسٹیکر چپکائے ہوئے تھے اور ناک پہ تیلیوں کی جگہ اس قسم کے گول اسٹیکر چسپاں تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وضو بناتے وقت انہیں اتارلیتی ہیں یانہیں تو جواب ملا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب وضو ہی درست نہیں ہوگا تو نماز کیسے ٹھیک ہوگی۔ اس پر یہ کہ’’کیا فرق پڑتا ہے‘‘ ہماری طالبات و خواتین کی بے شعوری کو واضح کرتا ہے۔ امید قوی ہے کہ آپ ان گزارشات پر غور فرما کر حجابِ اسلامی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

ایم ایس توحیدی، لنگیٹ ضلع کپواڑہ، (جموں و کشمیر)

عورت اور مسلم سماج

اس وقت مئی کا شمارہ ہاتھوں میں ہے۔ دیدہ زیب سرورق کے علاوہ اندرون صفحات گراں قدر مضامین پڑھ کر خوشی ہوئی۔

آپ کا رسالہ اکثر کسی نہ کسی اہم موضوع پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ’’جنڈر وار اور اسلام کا موقف‘‘ کے موضوع پر بڑی اہم باتیں قارئین کے سامنے آئی ہیں۔ یہ ایک قابلِ ستائش کوشش ہے۔ دیگر مشمولات بھی قارئین کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرانے میں کامیاب رہے۔

محترم محمود عالم صاحب کی وفات کی خبر پڑھ کر انتہائی افسوس ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔

خواتین سے متعلق اہم ایشوز پر مضامین کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اسی طرح مسلم سماج کی خامیوں اور کوتاہیوں کی طرف بھی متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مسلم سماج اور مسلم خواتین کی صورت حال پر جب بھی ہم لوگ بات کرتے ہیں تو ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ مسلم عورت دوسروں کی بہ نسبت بہت بہتر حالت میں ہے اور مسلم سماج عام سماج سے زیادہ صاف ستھرا ہے۔ اس بات کو جزوی طور پر تسلیم کربھی لیا جائے تو ان مسلم خواتین کے بارے میں ہمارے علماء اور مسلم جماعتیں کیوں نہیں سوچتے جو آئے دن گھریلو تشد دکا شکار ہوتی ہیں۔ جہیز کے لیے دلہنیں جلانے کا سلسلہ صرف غیر مسلم معاشرہ کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ مسلم معاشرہ میں بھی اب یہ سب بلاتفریق نظر آنے لگا ہے۔ بے شمار معاشرتی برائیاں مسلم سماج کو گھن کی طرف چاٹنے میں لگی ہیں لیکن ہم ’’سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے‘‘ کی رٹ میں حقائق سے صرف نظر کرنے میں لگے ہیں۔

امید کی جاتی ہے کہ حجاب اسلامی مسلم معاشرہ کی اصلاح کی خاطر ان مسائل کی طرف بھی لوگوں کو متوجہ کرے گا جن سے مسلم عورت دوچار ہے اور ان معاشرتی برائیوں سے بھی پردہ اٹھائے گا جو مسلم سماج میں در آئی ہیں۔

قمر سلطانہ قریشی، بھوجپور، بہار

رسالہ پسند آیا

مئی کا شمارہ موصول ہوا۔ سرِ ورق دیدئہ زیب ہے لیکن مفہوم سمجھ سے بالاتر ہے۔ تمام مضامین پسند آئے۔ خاص کر اداریہ اور ’’مثالی معلم کی خوبیاں‘‘ اچھا لگا کیونکہ مجھے اسی فیلڈ میں جانا ہے۔ خطوط میں زینب الغزالی صاحبہ نے جو لکھا ہے کہ عالمات اور فاضلات کے کیئریر کی نشاندہی کی جائے۔ میں بھی اس سے متفق ہوں لہٰذا آپ اس بارے میں ضرور رہنمائی فرمائیں۔ ’’محبت کی کنجی‘‘ جو مضمون شروع کیا گیا ہے وہ بہت پسند آرہا ہے۔ ریحانہ محمود کا ’’عورت اور تعلیم‘‘ قابلِ تعریف ہے۔ تربیت میں ’’گھریلو دینی تعلیم کاایک تجربہ‘‘ پڑھنے کے لائق ہے اور پردہ کے موضوع پر جتنا لکھا جائے اتنا کم ہے۔ الغرض تمام مضامین قابلِ ستائش ہیں۔

ہمارے یہاں لڑکیاں حجاب بڑے شوق سے پڑھتی ہیں۔ گھر میں تو جیسے ہی حجاب آتا ہے میں اسے پورا پڑھ کر ہی دم لیتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ حجاب میں ہر ماہ صحابیات کی زندگیوں کے بارے میں لکھا جائے تاکہ لڑکیوں میں دینی شعور بیدار ہو اور وہ صحابیات کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ حجاب میں حالاتِ حاضرہ کا بھی جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ حجاب کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین!

سیدہ حنا، پوسد

افسانہ ’’کفن کی کہانی‘‘ قابلِ تعریف

حجاب اسلامی پابندی سے مل رہا ہے۔ مئی کے رسالہ میں ’’کفن کہانی‘‘ افسانہ بہت پسند آیا۔ یہ عجیب سانحہ ہے کہ ایک ادیب زندگی بھر زبان و ادب کی خدمت کرتا رہتا ہے اور سماج کو روشنی سے ہم کنار کرتا ہے مگر اس کی زندگی کس قدر دشواریوں میں گزرتی ہے اس پر کسی کی بھی نظر نہیں جاتی۔ مذکورہ افسانہ اس حقیقت کو آشکارا کرتا ہے کہ

جلتے ہوئے چراغ جو گھر گھر میں دھر گیا

وہ شخص اپنے گھر کے اندھیرے میں مر گیا

میں حجاب پابندی سے پڑھتا ہوں اور نئے شمارہ کا انتظار رہتا ہے۔ رسالہ مسلم خواتین اور مسلم سماج میں بیداری، اصلاح اور تربیت و تہذیب کی گراں قدر خدمت انجام دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ترقی دے۔ آمین!

محمد حسین علی انصاری، پرتور (مہاراشٹر)

کیرئیر گائڈنس

حجاب اسلامی ہمارے یہاں کافی لیٹ ملتا ہے۔ ڈاکیے سے کئی مرتبہ شکایت کی مگر وہ کہتا ہے کہ جب ہمارے پاس آتا ہے تبھی تو لا کردیں گے۔ بتائیے کیا کریں؟

رسالہ معیاری ہے اور مسلسل بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جون کے شمارے میں ’’اوپن اور فاصلاتی طریقِ تعلیم‘‘ پر جو مضمون آپ نے شائع کیا ہے وہ وقت کی ضرورت اور اچھا قدم ہے۔‘‘ گود سے گور تک علم حاصل کرتے ہو‘‘ والی حدیث کی عملی صورت پیدا کرنے میں یہ طریق تعلیم بڑا کارگر ہے۔

مسلم سماج میں خواتین تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اس میں کہیں تو مجبوریاں ہوسکتی ہیں مگر اکثر صورتوں میں تعلیم کی اہمیت و ضرورت سے ناواقفیت کار فرمارہتی ہے۔ غربت بھی ایک سبب ہوسکتی ہے مگر ہمارے اپنے سماج میں بے شمار مثالیں ایسی مل جائیں گی جہاں غریب والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر اور بھوکے رہ کر اولاد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کی۔ حال ہی میں سول سروسز کے رزلٹ میں پٹنہ کے ایک رکشا چلانے والے کا بیٹا IASبنا۔ اس کا راز کیا ہے۔ یہ قابلِ غور ہے۔ ذرا باہرکی دنیا پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ لوگ فاقہ کرکے بھی اولاد کی تعلیم کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ اولاد کی تعلیم پر محنت اورصرفہ کرنا ذمہ داری بھی ہے اور ایک ’’انوسٹمنٹ‘‘ بھی۔ اچھی تعلیم سے یہ توقع ضرور کی جاسکتی ہے کہ وہ مستقبل میں خوشحالی کا ذریعہ بھی ثابت ہوگی۔ عملی زندگی یہ ثابت بھی کرتی ہے۔

آپ نے کیریئر گائڈنس کا جوسلسلہ شروع کیا ہے اسے جاری رکھئے اور ایسے مضامین شائع کیجیے جو مسلم طلبہ و طالبات کی ضرورت کی تکمیل کرتے ہوں، انہیں حوصلہ دیتے ہوں اور والدین کو بھی متوجہ کرتے ہوں۔ آئندہ شماروں میں اسکالرشپ کے مواقع پر بھی کچھ لکھئے تو مفید ہوگا۔

ڈاکٹر نکہت افروز، سندرپور (یوپی)

[نکہت صاحبہ! رسالہ ہر ماہ کی ۲۰، ۲۱ تاریخ کو پوسٹ کردیا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ میں آپ کو مل جانا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آپ اپنے پوسٹ آفس میں تحریری شکایت کیجیے۔ تحریر کی دو کاپیاں لے جائیے۔ ایک کاپی پر پوسٹ آفس کی وصولیابی کی مہر لگواکر ہمیں ارسال کیجیے۔ ہم یہاں کارروائی کریں گے۔ ایڈیٹر]

حجاب چوتھی پیڑھی تک پہنچا

میری والدہ حجاب پڑھا کرتی تھیں اور اس کے قصہ کہانیاں اور مضامین ہمیں سناتی تھیں۔ پھر میں نے حجاب پڑھنا شروع کیا اور اپنی ماں کی روایت کو اسی طرح قائم رکھے رہی۔ بیچ میں حجاب بند ہوا تو مجھے بڑا افسوس ہوا۔ حیدرآباد کے اجتماع میں حجاب کی خریدار بنی اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

اب حجاب کا یہ سلسلہ میری چوتھی نسل میں جاری ہوچکا ہے اور میری نواسی جو مشکل سے سات آٹھ سال کی ہے حجاب دیکھ کر خوش ہوجاتی ہے۔ کسی کو اس کا تجربہ ہو یا نہ ہو مجھے اس کا تجربہ ضرور ہے کہ گھر کی تربیت میں حجاب کا کیا کردار ہوسکتا ہے۔ یہ باتیں میں نے اس لیے لکھیں کہ قارئین کو آگاہ کرسکوں۔

مئی کے شمارہ میں طارق صدیقی کا مضمون ’’جنڈر وار…‘‘ پسند آیا۔ مگر ز بان و بیان کے انداز سے یہ مضمون مختلف تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کے اہم موضوعات پر آپ سادہ اسلوب اور عام زبان میں لکھیں۔ ہوسکتا ہے کہ دشواری صرف ہم جیسے کم اردو جاننے والوں کی ہی ہو مگر اس کا لحاظ تو ہونا ہی چاہیے۔

جون کے شمارہ میں تعلیم و کیرئیر اچھا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس طرز پر بھی اپنی بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے پر آمادہ کریں۔ اس طرح مسلم سماج میں تعلیم کو عام کیا جاسکتا ہے۔ میں ایک ٹیچر ہوں۔ میں نے یہ مضمون فوٹو کاپی کرواکر اپنے ساتھی ٹیچر کو دیا اور خواہش کی کہ وہ اسے دیکھ کر لوگوں تک پہنچائیں۔ سبھی لوگوں نے پسند کیا۔

دراصل کبھی کبھی ہم اپنے آس پاس موجود چیزوں سے بھی واقف نہیں ہوتے جس سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔ تعلیم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ یا تو اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم دلوائیں گے یا پھر نہیں دلوائیں گے۔ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس راستہ کو بھی استعمال کرنے کے بارے میں سوچتے ہوں۔ اس سوچ کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ نہ پڑھنے سے پڑھنا بہر حال ضروری اور بہتر ہے خواہ وہ اوپن اسکول اور اوپن یونیورسٹی ہی سے کیوں نہ ہو۔

حجاب پسند کیا جارہا ہے۔ آپ مسلسل بہتری کی طرف بڑھتے رہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا۔

صالحہ، بیلاری، کرناٹک

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply