نبوی ہدایت مستحکم خاندان کی ضمانت

مستحکم اور پرسکون خاندان جس طرح ہر معاشرہ اور سماج کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہر فرد اور ہر مذہب کی بھی اہم ترین ضرورت ہے۔ اسلام تو اسی کا داعی اور مبلغ ہے اور قدم قدم پر اس سلسلہ میں واضح ہدایات دیتا ہے۔ باپ بیٹے کے تعلقات، بھائی بہنوں کے باہمی معاملات، شوہر بیوی کی ازدواجی زندگی، چھوٹے اور بڑے کے درمیان تعلق و معاملات کی نوعیت رشتہ داروں کے حقوق اور سماج میں لوگوں کے باہمی تعلقات پر اسلام نے تاکید کے ساتھ رہنمائی کی ہے۔ بہ حیثیت انسان پڑوسی کے حقوق ملنے جلنے والوں کے حقوق یہاں تک کہ رفیقِ سفر کے حقوق کو بھی واضح طور پر بیان کیا ہے۔ صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کو جنت کے حصول کا ذریعہ اور تقویٰ قرار دیا گیا ہے۔

مستحکم خاندان اور بہترین معاشرہ کی سب سے مضبوط کڑی اور سب سے اہم یونٹ ہے ہمارا اپنا گھر اور اس گھر کے سب سے اہم افراد میں شوہر بیوی جو مل کر خاندان کی اور پھر معاشرہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے باہمی تعلقات اور معاملات کی یہاں خاص اہمیت ہے۔ کیونکہ انہی کی کوششوں اور اثرات سے خواہ جس طرح کے بھی ہوں، سماج و معاشرت آگے بڑھتی ہے۔

موجودہ دور کی یہ بڑی بدنصیبی ہے کہ مادہ پرستی اور خود غرضی کی بیماری نے سب سے زیادہ جس چیز کو نقصان پہنچایا ہے اور پہنچا رہی ہے وہ یہی خاندانی نظام ہے جہاں رشتے ناطے ٹوٹ اور بکھر کر اپنی اہمیت اور افادیت کھوتے جارہے ہیں۔ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، سرپرستی کے سایے سے محروم بچے اور نوعمر مجرمین کی بڑھتی ہوئی تعداد اسی کے کڑوے کسیلے پھل ہیں جو مشرق و مغرب میں ہر جگہ سماج کے سامنے ہیں اور ان سے دور رہنے کی کوئی شکل اس کے سامنے نہیں ہے۔

اسلام نے تشکیل خاندان کا ذریعہ نکاح کو قرار دیا ہے اور یہ وہ عہد ہے جس کے بعد ایک مرد اور ایک عورت رشتۂ ازدواج میں بندھ کر ذمہ دارانہ زندگی ادا کرنے کا عہد کرتے ہیں اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے محبت ڈال دیتا ہے اور یہی محبت اور خیر خواہی اعلیٰ اقدار پر مبنی سماج و معاشرہ کی تشکیل کا ذریعہ بنتی ہے۔ مادہ پرستی اور خود غرضی کی وہ بیماری جو عام سماج کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے دھیرے دھیرے مسلم سماج میں بھی در آنے لگی ہے۔ اور یہاں بھی اسی طرح کے واقعات کی شرح بڑھتی ہوئی نظر آنے لگی ہے جو دوسری جگہ ہے۔ شوہر بیوی کے لڑائی جھگڑے، نزاعات اور بالآخر جدائی ایسی چیزیں ہیں جو اسلام پسند نہیں کرتا، اس لیے کہ اسلام کا مزاج ہے کہ وہ رشتوں کو جوڑنا اور مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اور اس سلسلہ میں وہ جا بہ جا اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ انسانی رشتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتا رہے۔ نکاح کے خطبہ پر اگر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس میں کئی بار ’’اللہ سے ڈرو‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو مسلمانوں کو اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ شوہر بیوی کو ازدواجی زندگی میں حدِ اعتدال میں رکھنے والی اگر کوئی چیز ہوسکتی ہے تو وہ ہے ’’اللہ کا تقویٰ‘‘۔ اور ’’اللہ کے تقوے‘‘ سے جو لوگ عاری ہوں گے وہ ظلم و زیادتی اور حق تلفی کے ارتکاب میں زیادہ جری اور بے باک ہوں گے جس کی واضح دلیل ہمارا وہ سماج خود ہے جس میں ہم رہتے بستے ہیں۔

اس تناظر میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلم معاشرہ رشتہ ازدواج کو مضبوط و مستحکم اور محبت و سرگرمی سے بھر پور بنانے اور اسے بگاڑ اور نزاعات سے بچانے کی طرف پوری توجہ دے کیونکہ آج کے سماج میں ازدواجی رشتے اپنی شناخت کھونے لگے ہیں جس سے موجودہ دور کے سماج کو ایک بحران کی طرف دھکیلنا شروع کردیا ہے۔

ماہنامہ حجاب اسلامی نے اس چیز کو محسوس کرکے شوہر و بیوی کی دینی اور عملی رہنمائی کے لیے اسلامی ہدایات پر مبنی مضامین کا سلسلہ ’’محبت کی کنجیاں‘‘ کے نام سے شروع کیا تھا جو کافی مقبول رہا۔ ہمیں اس کی ضرورت اورشدت کا پورا احساس تھا اور قارئین کے تاثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کی ضرورت کو شدت سے محسوس کررہے ہیں چنانچہ ہم نے یہ ارادہ کیا کہ اس سلسلہ کو فوری طور پر ایک خصوصی ضمیمہ کی صورت میں شائع کردیا جائے تاکہ لوگ بھر پور استفادہ کرسکیں۔

ضمیمہ کی اشاعت میں ایک خاص پہلو یہ بھی پیشِ نظر تھا کہ اس کے اکثر گوشے شادی شدہ مردو خواتین کے لیے یا باشعور لڑکیوں اور طالبات کے لیے ہیں جبکہ حجاب اسلامی ہر عمر کے بچے بچیاں پڑھتی ہیں۔ ضمیمہ کی صورت میں یہ صرف مناسب افراد ہی کے مطالعہ میں آئے گا۔ چنانچہ ہم خریدارانِ حجاب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس ضمیمہ کو سنبھال کر رکھیں اور مناسب افراد کو ہی مطالعہ کے لیے پیش کریں۔

اس خصوصی ضمیمہ میں محترم صلاح الدین سلطان نے جو ایک معروف اخوانی رہنما ہیں اور ازدواجی و معاشرتی معاملات اور ان میں رہنمائی کی مہارت رکھتے ہیں، ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے، تنازعات سے دور رکھنے اور انہیں ختم کرنے نیز ازدواجی زندگی کو نبوی زندگی کی روشنی پر استوار کرنے کی جو کوشش کی ہے اس کی افادیت ہر باشعور اور زندگی کا تجربہ رکھنے والا فرد محسوس کرے گا۔ اس لیے کہ ہماری زندگی کے تمام گوشوں کے لیے خواہ ہو انفرادی ہو یا اجتماعی سیاسی ہو یا دینی حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہی مشعلِ راہ ہوسکتی ہے۔ اس مشعل کی شدید ضرورت خود ہمیں ہے اہلِ اسلام کو اور پھر اس پوری دنیا کو گمراہیوں کے اندھیرے میں بھٹک رہی ہے۔

ضمیمہ کی صورت میں پیش کردہ ان نبوی ہدایات اور معاشرتی رہنمائی کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا خود ہمیں خاندانی انتشار اور بے شمار معاشرتی برائیوں سے محفوظ رکھنے کا ضامن ہوگا اور اگر ہم ان ہدایات کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرنے پر قادر ہوسکے تو آج کے معاشرہ پر جو بے سکونی اور بکھراؤ کا شکار ہے بہت بڑا احسان ہوگا۔

اس ضمیمہ کی اشاعت پر ہم مصنف جناب صلاح الدین سلطان صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس کی اشاعت کے لیے اجازت دی اور تعاون کیا۔ اسی طرح برادر عزیز مولانا محی الدین غازی کے بے حد ممنون ہیں جنھوں نے اس کے ترجمے کی خدمت اللہ کی رضا اور بندوںکی رہنمائی کے لیے انجام دی۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اجر عظیم سے نوازے۔

ہمیں یقین ہے کہ یہ ’’محبت کی کنجیاں‘‘ مستحکم اور مضبوط خاندان کی ضمانت ہیں اور ان کو اختیار کرکے لوگ ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنائیں گے۔ انشاء اللہ۔

محبت کی کنجیاں -وقت کی اہم ضرورت

ایک مسلمان کی اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہوگی کہ تعلیماتِ نبوی پر عمل کرنے کا دعویٰ بھی کرتا ہو اور خوش اخلاقی، خصوصاً اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر معاملہ کرنے میں ناکام بھی ہو۔

گذشتہ کئی سالوں سے اردو اخبارات اور دوسرے ملی رسالے ایسی خبریں دیتے رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں بھی وحشت اور درندگی کے ویسے ہی واقعات پیش آنے لگے ہیں جیسے ایمان سے محروم برادرانِ وطن کے گھروں میںپیش آتے ہیں۔ اہلِ خانہ پر جسمانی و ذہنی تشدد کے ساتھ زندہ جلانے کے چند واقعات کا تذکرہ حجاب کے صفحات میں متعدد بار آچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں میں پھیلتی ہوئی یہ بے عملی اسلامی تعلیمات سے محرومی اور اسوئہ پیغمبر سے عدم واقفیت ہی کا نتیجہ ہے۔ دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ بعض مرد حضرات عورتوں کے مقابلے میں خود کو برتر ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں اختیار کرتے ہیں۔ ڈانٹنا، ڈپٹنا، گفتگو کم کرنا، پیشانی پر ناراضگی بنائے رکھنا، عورتوں کو کسی بات پر حقارت سے جھڑکنا اور باتیں کرنے پر انھیں چپ کرانا وہ اپنی مردانہ شان خیال کرتے ہیں۔

دراصل یہ تصور کہ مرد عورت سے برتر ہے اور اسے برتری بنائے رکھنا چاہیے ورنہ گھر تباہ ہوجائیں گے۔ ایک غیر اسلامی فلسفہ ہے جو ہندو رسم و رواج سے آیا ہے۔ مثلاً تلسی داس یہ کہہ مرے:

ڈھول، گنوار، شودر، پشو، ناری

یہ سب تارن کے ادھیکاری

ہندو مذہب میں عورتوں کے بارے میں جو کچھ آیا ہے اسے یہاں دہرایا نہیں جاسکتا۔ اس کے مقابلے میں دینِ اسلام کا معاملہ قطعاً مختلف ہے۔ عورت شریک زندگی، ہم سفر اور خوشی و غم کی ساتھی ہے۔ ذرا کوئی حضورؐ اور ان کی ازواج مطہرات کے خوش خرم رشتوں پر نگاہ ڈالے۔ کہاں پیغمبرانہ جدوجہد، کفار و مشرکین کی طرف سے سخت قسم کی مخالفت، منافقین کا رویہ، جنگوں اور دوسرے معاملات کا سخت دباؤ ہونے کے باوجود نبی کریمﷺ ان تمام اقسام کے دباؤ کے اثر کو ازدواج مطہرات کو محسوس نہ ہونے دیتے اور انتہائی محبت و نرمی اور خوشگواری کے تاثرات لیے اہلِ خانہ سے ملتے۔

یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بعض اوقات اچھے اچھے دین دار اور سرگرم افراد کے گھروں میں باہر کے معاملوں کا دباؤ اہل خانہ کی زندگی پر صاف نظر آتا ہے۔ بچوں سے غفلت، بیویوں سے ناخوشگوار تعلقات وغیرہ وغیرہ اس کے مظاہر ہیں۔

عصرِ حاضر میں جہاں اسلام کے بہت سے پہلوؤں پر کتابیں لکھی گئیں، وہاں آپ کی زندگی کے اس پہلو کو بھی شدت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے کہ اللہ کے رسول اپنے گھر میں ایک مثالی شوہر اور مثالی باپ تھے۔ آپ فرماتے تھے:

خیرکم خیر لاہلہ وانا خیرکم لاہلی۔

’’سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہے۔ اور میں تم میں سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔‘‘

متعدد خوشگوار واقعات آپ کی خوشگوار زندگی کی دلیل ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام نے خاندانی نظام کی تشکیل کے لیے جو اصول پیش کیے ہیں محبت و رفاقت ان کا لازمی حصہ ہے۔ مثال کے طور پر نکاح کا مقصد ہی یہ بتایا گیا کہ اس سے مودت و محبت، رحمت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ ٹھیک اس کے مخالف وہ اصول ہیں جو نکاح کے رشتے کو بوجھ تصور کرتے ہیں، آوارگی اور لذت پرستی کو وہ آزادی کہتے ہیں اور خود غرضی اور مفاد پرستی ان کے معیار ہیں۔ ایسے افراد کی زندگیوں میںایسی شدید تلخیاں پیدا ہوگئی ہیں جن کے نتیجے میں ان کے معاشرے میں طلاق کی شرح بے حد بڑھ گئی ہے۔ بچوں کی تربیت سے غفلت ، جنسی تشدد اور نو عمر مجرمین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب مغربی ماہرین سماجیات خود اعتراف کررہے ہیں کہ مغرب کے خاندانی اصول سکون اور محبت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

ایک ایسے وقت میں جب مغربی طرز زندگی اور اس کے متعین کردہ اصول ناکام ہورہے ہیں اور اس کے انجام کو ایک زمانہ بھگت رہا ہے، مسلمانانِ عالم کی دینِ اسلام سے دوری اور خاندان کی تشکیل و ترقی میں پیغمبرانہ روایتوں سے انحراف سراسر خسارے کا سودا ہوگا۔

ماہنامہ حجاب اسلامی نے اس چیز کو محسوس کرکے شوہر و بیوی کی دینی اور عملی رہنمائی کے لیے اسلامی ہدایات پر مبنی مضامین کا سلسلہ ’’محبت کی کنجیاں‘‘ کے نام سے شروع کیا تھا جو کافی مقبول رہا۔ ہمیں اس کی ضرورت اورشدت کا پورا احساس تھا اور قارئین کے تاثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کی ضرورت کو شدت سے محسوس کررہے ہیں۔ چنانچہ ہم نے یہ ارادہ کیا کہ اس سلسلہ کو فوری طور پر ایک خصوصی ضمیمہ کی صورت میں شائع کردیا جائے تاکہ لوگ بھر پور استفادہ کرسکیں۔ یہ ضمیمہ بالخصوص شادی شدہ افراد کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے۔ قارئین حجاب اپنے خاندان کے دیگر افراد کو اسے تحفتاً پیش کرکے مزید نیکیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

اس خصوصی ضمیمہ میں محترم صلاح الدین سلطان نے، جو ایک معروف اخوانی رہنما ہیں اور ازدواجی و معاشرتی معاملات اور ان میں رہنمائی کی مہارت رکھتے ہیں، ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے، تنازعات سے دور رکھنے اور انہیں ختم کرنے نیز ازدواجی زندگی کو نبوی زندگی کی روشنی میں استوار کرنے کی جو کوشش اس ضمیمہ میں کی ہے اس کی افادیت ہر باشعور اور زندگی کا تجربہ رکھنے والا فرد محسوس کرے گا۔ اس لیے کہ ہماری زندگی کے تمام گوشوں کے لیے خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، داخلی ہو یا خارجی اور سیاسی ہو یا دینی حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہی مشعلِ راہ ہوسکتی ہے۔ اس مشعل کی شدید ضرورت خود اہلِ اسلام کو ہے اور پھر اس پوری دنیا کو جو گمراہیوں کے اندھیرے میں بھٹک رہی ہے۔

ضمیمہ کی صورت میں پیش کردہ ان نبوی ہدایات اور معاشرتی رہنمائی کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا خود ہمیں خاندانی انتشار اور بے شمار معاشرتی برائیوں سے محفوظ رکھنے کا ضامن ہوگا اور اگر ہم ان ہدایات کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرنے پر قادر ہوسکے تو آج کے معاشرہ پر، جو بے سکونی اور بکھراؤ کا شکار ہے، بہت بڑا احسان ہوگا۔

اس ضمیمہ کی اشاعت پر ہم مصنف جناب صلاح الدین سلطان صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس کی اشاعت کے لیے اجازت دی اور تعاون کیا۔ اسی طرح برادر عزیز مولانا محی الدین غازی کے بے حد ممنون ہیں جنھوں نے اس کے ترجمے کی خدمت اللہ کی رضا اور بندوںکی رہنمائی کے لیے انجام دی۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اجر عظیم سے نوازے۔

ہمیں یقین ہے کہ یہ ’’محبت کی کنجیاں‘‘ مستحکم اور مضبوط خاندان کی ضمانت ہیں اور ان کو اختیار کرکے لوگ ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنائیں گے۔ انشاء اللہ

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply