غیبت سے بچو!

اگر کوئی شخص ہمارے پاس نہ ہو او رہم اس کی برائیاں کرنے لگیں تو اسے غیبت، یعنی پیٹھ پیچھے برائی کرنا کہا جائے گا اور یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

’’اور تم سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ یاد رکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (الحجرات: ۱۲)

اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ پاک غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے برائیاں بیان کرنے کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ اس نے اسے اتنا بڑا گناہ اور نفرت دلانے والی بات بتایا ہے گویا کوئی اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھا رہا ہو۔

صحیح اسلامی اخلاق تو یہ ہے کہ اگر اپنے کسی بھائی میں کسی قسم کی برائی معلوم ہو تو اسے ایسے طریقے سے سمجھایا جائے کہ وہ شرمندہ نہ ہو اور اس کی برائی کو چھپایا جائے۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے ہو اسلامی اخلاق سے دور ہیں۔

کسی کو اس کی غلطی سے آگاہ کرنے کے سلسلے میں ایک حکایت بیان کی گئی ہے جو اس طرح ہے۔ ایک دن حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما نے، جو ابھی کم عمر بچے تھے، مسجد نبویؐ میں ایک بوڑھے کو غلط طریقے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا اور چونکہ یہ بات ضروری تھی کہ اسے صحیح طریقہ بتایا جائے، اس لیے دونوں بھائی اس کے پاس گئے اور بہت زور سے کہا۔ بابا جی! ہم وضو کرتے ہیں۔ اگر کوئی غلطی کریں تو مہربانی کرکے بتادیجیے گا۔ یہ کہہ کر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے بالکل صحیح طریقے سے وضو کیا اور چونکہ بوڑھا یہ جانتا تھا کہ یہ بچے رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بیٹے ہیں اور دین کی ساری باتیں اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ اس لیے اسے اپنی غلطی کا پتہ چل گیا۔

اگر کوئی بداخلاق آدمی ہوتا تو غلط طریقے سے وضو کرتے ہوئے دیکھ کر ڈانٹتا۔ شرم نہیں آتی، داڑھی سفید ہوگئی اور ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ وضو کس طرح کیا جاتا ہے، وغیرہ۔ بے شک اُس آدمی کی نیت یہ ہوتی کہ بوڑھے کو اپنی غلطی معلوم ہوجائے او روہ وضو کرنے کا ٹھیک طریقہ سیکھ لے، لیکن اس طرح سمجھانے سے بوڑھے کو بہت رنج ہوتا اور یوں سمجھانے والے کی نیکی خاک میں مل جاتی۔

غیبت کرنے کے سلسلے میں بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب ایک آدمی میں یہ خرابی موجود ہے تو اسے بیان کرنے میں کیا حرج ہے۔ اور اس کی اِس برائی کو اس کے سامنے بیان کیا جائے یا پیٹھ پیچھے، اس سے کیا فرق پڑے گا؟ بچوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔

بیان کیا گیا ہے کسی صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے یہی بات کہی۔ یا رسول اللہ! جب کسی شخص کے اندر کوئی برائی موجود ہے تو اسے بیان کرنے میں کیا حرج ہے؟ جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کسی میں کوئی عیب ہے اور تم اس کی غیر موجودگی میں وہ عیب دوسروں کو بتاؤ تو یہی غیبت ہے! اگر وہ عیب اُس میں نہ ہو اور تم اس کے سر تھوپو تو یہ الزام ہوگا۔

قرآن پاک کی آیت اور رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث سے غیبت کے بہت بڑا گناہ ہونے کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔ بچوں کو پکا ارارہ کرلینا چاہیے کہ وہ کسی حالت میں اپنے کسی ساتھی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی نہ کریں گے اور اگر کسی میں کوئی غلطی دیکھیں گے تو اسے اس طرح سمجھائیں گے کہ وہ شرمندہ نہ ہو۔

غیبت کے بہت بڑا گناہ ہونے کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب کسی کی غیبت کی جائے گی تو سننے والوں کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت پیدا ہوگی اور خود اسے اس بات پر غصہ آئے گا کہ فلاں آدمی میری برائیاں بیان کرتا ہے اور یوں آپس میں اچھا خاصا بگاڑ پیدا ہوجائے گا۔ اس گناہ کے نتیجے میں بعض اوقات تو خون خرابے تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور جان مال کا بہت زیادہ نقصان ہوجاتا ہے اس نقصان سے بچنے کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا جائے اور پیٹھ پیچھے کسی کی برائی بیان نہ کی جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
سید نظر زیدی

Leave a Reply