6

غرض جوتے اٹھواتی ہے

ایک دن اکبر بادشاہ نے بیربل کی غیرموجودگی میں درباریوں سے پوچھا کہ بتاؤ دنیا میں سب سے بری چیز کیا ہے؟

بادشاہ کا سوال سن کر تمام درباری بہت حیران ہوئے۔ کسی نے کچھ جواب دیا اور کسی نے کچھ۔ کسی نے کہا کہ چوری سب سے بُری چیز ہے۔

کسی نے بتایا کہ چغل خوری سب سے بری چیز ہے۔ کسی نے جھوٹ کو سب سے بری چیز بتایا۔ لیکن کسی کے جواب نے بادشاہ کو مطمئن نہیں کیا۔ جب کسی طرح بادشاہ کو اطمینان نہیں ہوا تو انھوں نے بادشاہ سے ایک دن کی مہلت مانگی۔ بادشاہ نے ایک دن کی مہلت عنایت کردی۔ مہلت تو مل گئی اب سب حیران تھے کہ کیا کریں۔ آخر سب ایک جگہ جمع ہوئے اور باہم مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح بادشاہ کے سوال کا جواب تلاش کیا جائے۔ سب نے مل کر کوشش کی کہ سب سے بری چیز کیا ہے، مگر معلوم نہیں کرسکے۔ آخر ایک درباری نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ بیربل سے ہی اس سوال کا جواب معلوم کیا جائے۔ بیربل سے معلوم کرنا تو کوئی بھی نہیں چاہتا تھا مگر اس وقت عزت کی بات تھی، اس لیے ذرا سی جرح کے بعد بیربل کے پاس جانے کے لیے تیار ہوگئے۔

بیربل کے پاس پہنچ کر انھوں نے اپنی مشکل بیان کی۔ بیربل نے پوچھا آخرسوال کیا ہے؟

انھوں نے بتایا کے ظلِّ الٰہی نے یہ پوچھا ہے کہ بتاؤ دنیا میں سب سے بری چیز کیا ہے؟‘‘ بس ہمیں اس کا جواب چاہیے۔ اگر تم ہمیں اس سوال کا جواب بتادو تو بہت مہربان ہوگی۔ بیربل نے کہا کہ تمھارے سوال کا جواب تو میرے پاس ہے۔ مجھے معلوم ہے دنیا میں کون سی چیز سب سے بری ہے۔ لیکن میں اس چیز کا نام صرف ایک شرط بتاؤں گا۔ درباریوں نے وہ شرط پوچھی تو بیربل نے کہا کہ آپ سب حضرات میرے دربار جانے کے لیے ایک پالکی لائیں اور اس کو آپ سب اپنے کاندھوں پر اٹھا کر دربار تک لے چلیں۔ بس وہاں پانچ کر میں آپ کو اس چیز کا نام بتادوں گا۔

شرط سن کر سب لوگ بہت خفا ہوئے اور بیربل سے کہنے لگے کہ ہم معزز آدمی ہیں۔ اگر ہم پالکی اٹھا کر لے جائیں گے تو ہماری بہت بے عزتی ہوگی ہم یہ کام بالکل نہیں کرسکتے۔ اس لیے براہِ کرم کوئی اور شرط بتاؤ جو ہمارے لیے قابل قبول ہو۔ بیربل نے کوئی اور شرط بتانے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ دیکھ لو اگر آپ کو یہ شرط منظور ہو تو میں آپ کے سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔

بہر حال تمام درباری اپنی غرض میں اندھے ہورہے تھے۔ ان کو تو کسی طرح اس سوال کا جواب معلوم کرنا تھا کہ بادشاہ کی نظر میں سرخ رو ہوسکیں۔ آخر تھوڑی دیر کے باہمی مشورے کے بعد انھوں نے بیربل کی شرط منظور کرلی۔ انھوں نے سوچا جب ہم بیربل کی پالکی لے جائیں گے تو لوگ یہی سمجھیں کہ شاید یہ بھی کسی قسم کا مذاق ہورہا ہے۔ اگر بادشاہ سلامت کے سوال کا جواب نہیں دیں گے تو دربار میں بہت بے عزت ہوگی۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ بیربل کی شرط منظور کرلی جائے۔ چنانچہ دوسرے دن تمام درباری بیربل کو پالکی میں بٹھا کر دربار کی طرف چل دئیے۔ اب جو بھی انھیں کہاروں کی جگہ بیربل کی پالکی اٹھائے دیکھتا سخت حیران ہوتا کہ یا الٰہی کیا ماجرا ہے، جو اتنے بڑے بڑے لوگ بیربل کی سواری اٹھا کر لے جارہے ہیں۔ کیا اکبر بادشاہ نے ان کو کوئی سزا دی ہے۔ مگر یہ لوگ نظریں جھکائے پیچ و تاب کھاتے ہوئے بس چلتے ہی رہے۔

بہرحال اس شان سے جب بیربل کی سواری دربار میں پہنچی تو بادشاہ بہت حیران ہوئے۔ بیربل نے پالکی سے نکل کر آداب بجالاتے ہوئے کہا: مہابلی کا اقبال بلند ہو! کل آپ نے درباریوں سے پوچھا تھا کہ دنیا میں سب سے بُری چیز کیا ہے۔ تو حضرت یہ اسی سوال کا جواب ہے۔‘‘

’’مگر یہ ہمارے سوال کا جواب کیسے ہوا؟‘‘ اکبر نے حیران ہوکر پوچھا۔

’’حضور کل جب یہ لوگ میرے پاس اس سوال کا جواب معلوم کرنے آئے تو میں نے یہ شرط رکھی کہ یہ لوگ کہاروں کی بجائے میری پالکی اٹھا کر دربار تک لے جائیں گے۔ کیونکہ یہ سب لوگ اپنی غرض میں اندھے ہورہے تھے۔ اس لیے انھوں نے میری شرط منظور کرلی۔ اور مجھے پالکی میں دربار تک اٹھا کر لے آئے۔ حضور! غرض دنیا کی سب سے بری چیز ہے، جو انسان سے دوسروں کی جوتیاں بھی اٹھوا دیتی ہے۔‘‘ بیربل نے جواب دیا۔

اکبر یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اس نے درباریوں سے بھی کچھ نہیں کہا۔

شیئر کیجیے
Default image
عادل اسیر دہلوی

تبصرہ کیجیے