تبدیلی

جس روز عبداللہ اکبر، عبداللہ اصغر سے ملنے کے لیے گیا تو بڑے طنطنے اور کروفر کے ساتھ گیا تھا۔ اس نے بیش قیمت لباس پہن رکھا تھا۔ مراکشی چمڑے لیکن اٹلی کے بنے ہوئے جوتے پہن رکھے تھے۔ اس کی قمیص کے تمام بٹن سونے کے تھے اور اس نے بائیں ہاتھ کی کلائی پر قیمتی گھڑی باندھ رکھی تھی۔ اس کی چین بھی خالص سونے کی تھی اور وہ شاندار کار میں آیا تھا۔

اکبر: میرا نام عبداللہ اکبر ہے، ایک ضرورت مجھے آپ کے پاس لے آئی ہے۔

اصغر: اتفاق سے میرا نام عبداللہ اصغر ہے۔

اکبر: مجھے اس کا علم نہیں تھا۔

اصغر: چلئے اچھا ہے کہ ایک عبداللہ، دوسرے عبداللہ سے ملنے آیا ہے۔

اکبر: جی نہیں بلکہ ایک رئیس سردار ایک پیش امام سے ملنے آیا ہے۔

اصغر: چلئے یوں ہی سہی، فرمائیے کیسے آنا ہوا؟

اکبر: میرے ہاں بیٹا ہوا ہے۔

اصغر: مبارک ہو، تو کیا یہی کچھ بتانے کے لیے آئے ہیں؟

اکبر: میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں اور بچے کے کان میں اذان کہیں۔

اصغر: کاکا کب ہوا ہے؟

اکبر: پہلی تاریخ کو، آج اٹھارہ ہوگئی ہے۔

اصغر: تو ابھی تک اس کے کان میں اذان نہیں کہی گئی؟

اکبر: جی ہاں۔

اصغر: اذان تو آپ خود بھی کہہ سکتے تھے!

یہ سنتے ہی عبداللہ اکبر تو کچھ بودا او ربے بنیاد ہوگیا، پل بھر کے لیے اس کا چہرہ بجھ سا گیا اور پل بھر میں ہی عبداللہ اصغر سمجھ گیا کہ موصوف کو اذان کہنی نہیں آتی۔ یہ احساس ان کے لیے ایک غبار خاطر تو بنا، تاہم وہ ضبط کرگئے۔

اصغر: بچے کا نام کیا رکھا ہے؟

اکبر: میرا نام عبداللہ تو کچھ پرانے فیشن کا نام ہے اس لیے میں نے بیٹے کا نام ’اکبر جاوید‘ رکھا ہے۔

اصغر: اکبر جاوید!

اکبر: جی ہاں! اکبر جاوید۔

اصغر: اکبر جاوید کی بجائے اصغر جاوید ایک بہتر نام ہے۔ باقی رہا عبداللہ تو وہ کوئی پرانے فیشن کا نام نہیں ہے بلکہ نہایت اعلیٰ، مختصر اور جامع نام ہے۔ اس نام کے حاملین اگر اسم بامسمیٰ بن جائیں تو سبحان اللہ کیا بات ہے۔

اکبر: چھوڑئیے ان باتوں کو، اور چلنے کی تیاری کریں، میری والدہ کا اصرار ہے کہ اکبر جاوید کے کان میں اذان آپ ہی کہیں۔

اصغر: چلیئے اور وہ عقیقہ!

اکبر: عفیفہ ٹھیک ہے، لیکن آپ کو میری بیوی کا نام کس نے بتایا ہے؟

اصغر: اوہو، میں نے عفیفہ نہیں عقیقہ کہا ہے۔

اکبر: اوہ سوری، میں نے عقیقہ کو عفیفہ سنا، وہ عقیقہ تو میں نے کردیا، اکبر جاوید کی ولادت کے تیسرے دن انٹر کان میں شاندار پارٹی دی، اس میں ایک سو سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔

عقیقہ کی بجائے شاندار پارٹی کا ذکر سن کر عبداللہ اصغر نے ایک غبار خاطر محسوس کیا۔ حجرہ نشین عبداللہ اصغر نے محل نشین عبداللہ اکبر کی والدہ کی آرزو پوری کردی، اکبر نے گھر میں بڑی پرتکلف چائے کا انتظام کیا تھا۔

چائے چلتی رہی اور باتیں ہوتی رہیں۔ اصغر عبداللہ کچھ اس قسم کی باتیں کرتے رہے:

’’جب میں پیدا ہوا تھا تو میرے کان میں بھی اذان کہی گئی تھی، لیکن اس کے معنی کہیں برسوں بعد میری سمجھ میں آئے اور جب یہ معنی سمجھ میں آئے تو علم، ایمان، عقل اور وجدان پر بلوغت آئی اور میں بندے کا پتر بنا اور جانا کہ عبداللہ اصغر ہونا، عبداللہ اکبر ہونے سے بدرجہا بہتر ہے، میری دعا ہے کہ رب العزت نومولود کو اذان کے معنی اور ادراک سے جلد سرفراز فرمائے۔‘‘

’’میری دلی دعا ہے کہ رب العالمین، نومولود پر اپنا خاص کرم کرے، اس کو پرہیزگار، نیک اور ہوشیار بنائے، اور آپ کے لیے باعثِ برکت، اور آپ کے آنے والے کل کو آج سے بہتر بنائے۔‘‘

ایسی باتیں سن کر عبداللہ اکبر، بپھر گیا۔

اکبر: آپ کیسی باتیں کررہے ہیں، میری زرعی زمین ایک ہزار ایکڑ ہے۔ اس پر بے شمار پولٹری فارم اور ڈیری فارم ہیں، گندم پیسنے کی ایک مل ہے، سولہ دکانوں اور آٹھ فلیٹوں والا ایک پلازا ہے، کچھ شہری جائیداد اور بھی ہے۔ آپ یوں کہیں کہ میں اس کے لیے باعث ثروت ہوں نہ کہ وہ میرے لیے باعث ثروت ہے، یا ہو۔

اصغر: میں نے تو کچھ اور گزارش کی ہے، آپ نے کچھ اور سمجھا ہے۔ میں نے یہ تو نہیں کہا ہے کہ رب العالمین اس کو آپ کے لیے باعث ثروت بنائے بلکہ یہ گزارش کی ہے کہ رب العالمین اس کو آپ کے لیے باعث خیر بنائے۔

یہ سن کر عبداللہ اکبر تلملا کر خاموش ہوگیا۔

رخصت ہونے سے قبل عبداللہ اکبر کی والدہ نے بے پناہ اصرار کرکے پیش امام عبداللہ اصغر کو خالص شہد کی چھ بوتلیں لینے پر مائل کرلیا۔ عبداللہ اصغر نے چلتے چلتے شہد اور اس کے استعمال پر اتنی باتیں کیں کہ انہیں سن کر عبداللہ اکبر دنگ رہ گیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ شہد اتنی زیادہ کثیر الفوائد چیز ہے تب اس کے جی میں آیا کہ اس کی قیمت میں اضافہ کردے۔

پیش امام کے جانے بعد بیٹے نے ماں سے کہا کہ اسے یہ پیش امام ایک آنکھ نہیں بھایا، بس یوں ہی سا آدمی ہے اور بس۔ اس کے برعکس اس کی والدہ نے کہا کہ اس نے عبداللہ اصغر کو جیسا سنا تھا، ویسا ہی درویش منش پایا۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس کے جتنے بھی دوست آتے ہیں وہ اس کے فرنگی صوفوں، ایرانی قالینوں، چینی فانوسوں اور ساگوانی فرنیچر کو دیکھ کر دم بخود رہ جاتے ہیں اور اسی کے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں کہ واہ واہ کیا بات ہے اس فرنیچر کی، جواب نہیں ہے اس کا، کہاں سے لیا ہے؟ کہاں سے بنوایا ہے؟کتنے میں بنوایا ہے؟ یار! ہمیں بھی بنوادو۔ یہ عبداللہ اصغر شاید پہلا اور آخری بندہ ہے جو اس فرنیچر وغیرہ سے قطعی متاثر نہیں ہوا۔ اور نہ اس کے بارے میں کوئی سوال کیا۔

ماں کے بیان ومشاہدہ نے بیٹے کو کچھ نہ کچھ متاثر ضرور کیا۔

چار سال گزر گئے۔

ایک روز پھر عبداللہ اکبر، عبداللہ اصغر سے ملنے کے لیے آگیا۔

اکبر: آج میں پھر آپ کو لینے کے لیے آیا ہوں۔

اصغر: کیا پھر کہیں اذان کہنی ہے؟

اکبر: جی نہیں، بلکہ رسم اذان جیسی ایک اور رسم کرنی ہے۔

اصغر: کیسی رسم؟

اکبر: اکبر جاوید سوا چار برس کا ہوگیا ہے، اس کی دادی کا اصرار ہے کہ اس کی رسم بسم اللہ آپ کے ہاتھوں ہو۔

اصغر: ماشاء اللہ گویا کاکا مدرسے جانے کی عمر کو پہنچ ہی گیا ہے، رب العزت اس کو صاحب علم اور صاحب فراست کرے۔

عبداللہ اکبر کے گھر، اکبر جاوید کی رسم بسم اللہ بھی عبداللہ اصغر کے ہاتھوں ہوئی۔ اس سے فارغ ہونے پر اکبر اور اصغر باتیں کرنے لگے۔

اصغر: مجھے آپ سے ایک چھوٹی سی شکایت ہے اور اس کا ملال بھی ہے۔

اکبر: کیسا غم، کیسی شکایت!!

اصغر: کوئی یہی چار برس قبل، آپ سے گزارش کی تھی کہ مسجد میں چار چھ پنکھے لگوادیں لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا، یہی شکایت ہے اور یہی ملال ہے۔

اکبر: آپ نے میری بات نہیں مانی میں نے بھی آپ کی بات نہیں مانی، یوں حساب برابر ہوگیا۔ اس لیے شکایت بے جواز ہے۔

اصغر: میں نے آپ کی کون سی بات نہیںمانی؟

اکبر: میں نے کہا تھا کہ اس مسجد کا نام ’’عبداللہ اکبر مسجد‘‘ کردیں تو میں ساری مسجد بنوادیتا ہوں اور آج بھی یہی کہتا ہوں۔

اصغر: یہ بات تو نہ کل ممکن تھی اور نہ ہی آج ممکن ہے۔

اکبر: کیوں ایسا کون سا سیاپا پڑگیا ہے۔

اصغر: بقول آپ کے سیاپاہی تو پڑا ہے۔ بات یہ ہے کہ یا تو مسجد کی پوری تعمیر کا خرچ آپ اپنی جیب سے دیتے تو پھر اس کا جو چاہے آپ نام رکھ لیتے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے ہزار ہا افراد نے قلیل اور کثیر رقمیں دی ہیں، دیتے چلے آرہے ہیں اور دیتے ہی چلے جائیں گے ایسی صورت میں آپ کی خواہش کیسے پوری کی جاسکتی ہے؟

یہ سن کر نرالا آدمی چپ ہوگیا اور اس وقت بھی مسجد کے کسی باقی ماندہ کام کی تکمیل کے لیے ہلا جلا نہیں۔ اور جب عبداللہ اصغر کے جانے کے بعد یہ نرالا آدمی اکیلا رہ گیا تو اس کی والدہ اس کو کچھ کہے بغیر نہ رہ سکی۔

ماں: عبداللہ تو واقعی ایک عجیب اور نرالا ہے، تو نے اس درویش کو گناہ گار بنانے کی کوشش کی ہے اور اس درویش پر آفرین ہے کہ اس نے تجھ کو ایک گناہ سے بچالیا ے، تیرا کیا بگڑتا تھا اگر مسجد میں پنکھے لگوادیتا۔

عبداللہ اکبر، آئیں بائیں شائیں کرکے رہ گیا۔

ماں: مسجد کتنے رقبے پر بنی ہے۔

بیٹا: ایک ایکڑ کے لگ بھگ رقبے پر۔

ماں: اگر اس پر مسجد نہ بنتی تو اس سفیدہ زمین کی کیا قیمت ہوتی؟

بیٹا: کئی لاکھ روپئے، لاکھوں روپئے۔

ماں: لوگوں نے بلکہ تیرے جیسے لوگوں نے اس زمین کو لاکھوں کے عوض خریدنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، لیکن اس درویش نے اس کو نہیں بیچا۔

بیٹا: کس درویش نے؟

ماں: درویش عبداللہ اصغر نے۔

بیٹا: وہ زمین اس کی تھی؟

ماں: بالکل اسی کی تھی۔ اور اس نے ایک دمڑی لیے بغیر وہ زمین مسجد کے لیے دے دی۔ تو نام کا اکبر ہے اور وہ کام کا اکبر ہے، وہ نام کا اصغر ہے اور تو کام کا اصغر ہے۔

یہ سن کر عبداللہ اکبر جیسے بھک سے اڑ گیا اور جانا کہ اس کی والدہ نے سچ کہا ہے کہ وہ عبداللہ اکبر نہیں بلکہ عبداللہ اصغر ہے اور عبداللہ اصغر، اصغر ہونے کے باوجود عبداللہ اکبر ہے۔

پھر بیس برس اور گزرگئے۔

یہ اتنی مدت تھی جس میں زمانے کا ایک دور بدل جاتا ہے۔ اشیاء کی ماہیت بدل جاتی ہے، ایک شیر خوار نسل نوجوان ہوجاتی ہے اور جوان متوسط العمر ہوجاتی ہے اور متوسط العمر پود زندگی اور عمرکے آخری دور میں داخل ہوجاتی ہے۔ ان بیس سالوں میں اکبر کو اصغرکے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے، کیسا ہے اور کیا کررہا ہے؟ اور اصغر کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اکبر کہاں ہے، کیسا ہے اور کیا کررہا ہے؟ دونوں کو ایک دوسرے کے لیے بس کچھ موہوم سی یادیں ہی رہ گئے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ اچانک ایک روز تمام تر واقعات کے عین برعکس ایک بار پھر عبداللہ اکبر، عبداللہ اصغر سے ملنے کے لیے آگیا۔

اصغر نے دیکھا کہ اکبر بالکل ویسے کا ویسا ہی تھا، اس کا طنطنہ وہی کا وہی تھا، چال ڈھال وہی کی وہی تھی، لب و لہجہ وہی کا وہی تھا، اس کی اصل قابل رشک چیز اس کی صحت اور تنومندی تھی، وہ معمر ہونے کی بجائے جوان ہوگیا تھا، سر کے بالوں میں شاید کوئی درجن بھر بال کہیں سفید ہوں تو ہوں اس کے جسم سے کہولت کے آثار ابھی بہت دور تھے۔

اکبر: میں پھر آپ کو لینے آیا ہوں۔

اصغر: خوش آمدید، اس مرتبہ تو غالباً بیس برس بعد آئے ہیں۔

اکبر: جی ہاں، میں بلاضرورت کہیں نہیں آتا جاتا۔

اصغر: ماشاء اللہ، آپ کی صحت قابل رشک ہے۔

اکبر: خراب صحت کا سیاپا تو قسمت کے مارے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔

اصغر: جاوید کیسا ہے اب تو وہ بڑا ہوگیا ہوگا؟

اکبر: جاوید ہی کے لیے تو آیا ہوں، اب وہ چھبیس برس کا ہوگیا ہے اور اگلے اتوار کو اس کی شادی ہے، ولیمے میں آپ کی شرکت لازمی ہے۔ میں اس کی شادی کا کارڈ ہی دینے آیا ہوں۔

اصغر: اللہ خوش رکھے، ضرور آؤں گا۔

اکبر: بات صرف ولیمے ہی کی نہیں ہے، جاوید کی ماں کہتی ہے کہ جاوید صورتاً تو مجھ پر اور سیرتاً آپ پر گیا ہے، جمعہ کی شام کو نکاح ہے اور عفیفہ کی آرزو ہے کہ نکاح آپ پڑھائیں۔

پھر شادی کے مراحل بھی بڑی دھوم دھام، شان و شوکت اور خوش اسلوبی کے ساتھ تکمیل تک پہنچے اور شادی کچھ ایسے جاہ و جلال کے ساتھ ہوئی کہ مدتوں چرچا کا موضوع بنی رہی۔ پھر ایک سال ہوا، سوا سوال اور گزرگیا۔

ایک روز پھر خوش و خرم، مست و مسرور اور تنومند عبداللہ اکبر، عبداللہ اصغر سے ملنے آیا۔ اس مرتبہ وہ اکیلا نہیں بلکہ اپنے بیٹے اکبر جاوید کے ہمراہ آیا تھا۔ عبداللہ اصغر نے اس کو پہلی بار ہی دیکھا تھا اور دیکھتے ہی پہچان لیا کہ وہ اکبر جاوید ہے اور اکبر کا نقش ثانی ہے۔

اکبر: یہ میرا بیٹا اکبر جاوید ہے۔

اصغر: اس تعارف کی ضرورت نہیں ہے اس کاچہرہ مہرہ اس بات کی شہادت ہے۔

اکبر: اکبر جاوید، باپ اورمیں دادا ہوگیا ہوں۔

اصغر: جاوید بیٹا! مبارک باد ہو، کب سے!

جاوید: جی کوئی آٹھ روز ہوئے ہیں۔

اصغر: بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟

جاوید: نور الرحمن۔

اصغر: بہت بامعنی اور مبارک نام ہے۔

اکبر: نور الرحمن کے کان میں اذان خود اس کے باپ نے کہی۔

اصغر: بہت اچھا کیا، بہت ہی اچھا۔ اکبر!آپ اس سے خوش ہیں۔

اکبر: جی ہاں، بہت خوش ہوں۔

جاوید: جی کل نور الرحمن کا عقیقہ کیا ہے۔

کچھ دیر بیٹھنے کے بعد باپ بیٹا، مٹھائی اور گوشت دے کر رخصت ہوگئے۔ عبداللہ اصغر کو اکبر جاوید، عبداللہ اکبر سے معناً، قلباً اور سیرتاً بہت مختلف نظر آیا۔ پھر حسبِ سابق چار چھ مہینے تک عبداللہ اکبر گم ہی رہا۔ ایک روز عبداللہ اصغر ظہر کی نماز پڑھانے آرہے تھے کہ دیکھا کہ ایک ہجوم ایک جنازہ لیے چلا آرہا ہے، مسجد کا موذن ان کے پاس آیا۔

موذن: نماز کے بعد نماز جنازہ بھی ہے۔

اصغر: کون فوت ہوا ہے۔

موذن: جی وہ اکبر جاوید۔

اصغر: کون؟ اکبر جاوید کون!

موذن: جی وہ اکبر جاوید، عبداللہ اکبر کا بیٹا۔

اصغر: انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس کو کیا ہوا۔

موذن: وہ کہتے ہیں کہ اس کو شدید ہیضہ ہوا تھا۔

یہ سب سن کر، جان کر، عبداللہ اصغر دہل کر رہ گئے اور افسردہ اور ملول ہوگئے۔

تجہیز اور تدفین کے مراحل میں انہیں عبداللہ اکبر کہیں بھی نظر نہیں آیا، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ تو ہسپتال میں بے ہوش پڑا ہے اور آئی سی یو میں ہے۔ اس کی حالت سنگین ہے۔ ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔ وہ ہسپتال میں بیٹے کی وفات کی خبر سنتے ہی بھونچکا رہ گیا اور بے ہوش ہوگیا تھا۔ اس کے لیے یہ سنگین صدمہ اتنا اچانک اور خلاف توقع تھا کہ وہ اس کو برداشت نہ کرسکا۔

اکبر جاوید کی بیماری کاخلاصہ یہ تھا کہ صبح دس بجے کے لگ بھگ اس کو ہیضے کی تکلیف شروع ہوئی، بارہ بجے اس کو ہسپتال لے جایا گیا اور شام پانچ بجے کے قریب ایک توانا اور رعنا جوان، قبر کا مستحق بن گیا۔

بیٹے کی اچانک وفات کے بعد آنے والے شب و روز باپ کے لیے دکھ ہی دکھ تھے، غم ہی غم تھے، کرب ہی کرب تھے، بوجھ ہی بوجھ تھے اور عذاب ہی عذاب تھے۔

اس کے اعصاب پر تو ایک ہی حیرت مسلط تھی ، یہ ہوا کیا ہے؟ یہ کیا ہوا ہے؟

اس طلسم کدئہ حیرت سے مغلوب ہوکر وہ بھول ہی گیا تھا کہ زمین کیا ہوتی ہے ا ور ڈیری فارم کیا ہوتا ہے۔ فیکٹری کیا ہوتی ہے اور پلازا کیا ہوتا ہے، بھوک، پیاس اور نیند کیا ہوتی ہے اور سونا چاندی کیا ہوتے ہیں؟ روز بروز زندگی اس کے نصاب سے خارج مضمون ہوتی جارہی ہے۔

وہ فجر دم گھر سے نکلتا اور بیٹے کی قبر پر چلا جاتا، دوپہر کے وقت اس کے ملازم آکر اس کو واپس لے جاتے، اس کے ذہن میں یہ بات جم گئی تھی کہ جیسے اس کا بیٹا اچانک اور خلاف توقع فوت ہوگیا ہے، شاید ایسے ہی خلاف توقع اور اچانک ہی وہ زندہ ہوکر قبر سے نکل آئے۔ قبرستان میں اس کی بکثرت آمد ورفت نے اس کو آس پاس کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنادیا۔ وہ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کہتے۔

’’معلوم ہوتا ہے کہ اس باؤلے کے گھر میں کوئی پہلی بار ہی مرا ہے۔‘‘

’’لگتا ہے کہ اس کا کوئی بہت عزیز مرگیا ہے۔‘‘

’’ اس کی حالت یہی رہی تو جلد ہی یہ بھی مرجائے گا۔‘‘

اپنی موت کا ذکر سن کر عبداللہ کو جھرجھری آجاتی تھی اور وہ محسوس کرتا کہ اس کے اندر دور کہیں جینے کی آرزو موجود ہے۔ مگر وہ جئے تو کس لیے جئے؟ اس کا کوئی خاکہ، کوئی نقشہ اس کے ذہن میں موجود نہیں تھا۔

البتہ جب نور الرحمن کے نقطہ نظر سے اپنے آپ کو دیکھتا تھا تو اس کے بے خاکہ ذہن میں کچھ خاکے ابھرنے لگے، ایسے اوقات میں وہ خود اپنا محتسب بننے لگتا۔

زمانہ گزرتا گیا اور زندہ درگور عبداللہ اکبر کے لیے بھی ایک چارہ گر کی شفقت بنتا گیا۔

عبداللہ اصغر کے لیے بھی عبداللہ اکبر، ایک بھولی بسری اور افسردہ یاد ہی رہ گئی تھی۔ اس کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے، کیسا ہے، اور کیا کررہا ہے۔

گلابی جاڑوں کی ایک رات تھی، عشاء کی نماز پڑھ کر سب اپنے اپنے گھروں میں جاچکے تھے۔ ایسے میں امام عبداللہ اصغر بھی مسجد سے اپنے گھر جارہے تھے۔ اس وقت انھوں نے دیکھا کہ ایک سفید ریش آدمی سجدے کی حالت میں تھا اور اس آیت کریمہ کا ورد کررہا تھا:

لا الہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین

اس کی آواز کا آہنگ اتنا بلند ضرور تھا کہ اس کے قریب سے گزرنے والے اس کو سن لیتے تھے۔ اس کی آواز میں اس کا جذب دروں رچا ہوا تھا جو سننے والے کو متاثر کرتا تھا اور سجدہ گزار کے جذب صادق کا بھی احساس کراتا تھا۔

امام عبداللہ بھی اس سے متاثر ہوکر ہی گزرے اور اس سجدہ گزار کے لیے دعائے خیر ہی کرتے ہوئے اپنے گھر گئے۔ جب وہ کچھ دیر کے بعد اپنے حجرے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے تو محسوس کیا کہ باہر برآمدے میں کوئی آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ چال کمزور اور تھکی ہوئی ہے۔ پھر دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔

’’دروازہ بند نہیں ہے، بھڑا ہوا ہے، تشریف لائیے۔‘‘

دروازہ کھلا تو نووارد وہی سجدہ گزار تھا جسے کچھ دیر قبل انھوں نے مسجد میں دیکھا تھا۔ نووارد معمر ہونے کے ساتھ کمزور بھی تھا۔ اس کے سر اور داڑھی کے بال برف جیسے سفید تھے۔ اس نے سفید رنگ کی شلوار اور قمیص پہنی ہوئی تھی۔ اس کے سوئیٹر کا رنگ بھی سفید تھا، پاؤں میں کوہاٹی چپل پہنی تھی، اس کے کپڑے جوتے ایسے تھے جو ذرا خوش حال لوگ پہنتے ہیں۔ اندر داخل ہوتے وقت اس کا سرجھکا ہوا تھا۔

نووارد: السلام علیکم

اصغر: وعلیکم السلام، تشریف لائیے، بیٹھئے۔

نووارد میں کوئی بات ایسی تھی جو متاثر کرتی تھی اور کوئی بات ایسی تھی جو ایک داستان محسوس ہوتی تھی۔ اصغر نے نووارد کو دیکھا تو محسوس کیا۔ عبداللہ اصغر ایسے خیالات سے چونکے تو نووارد کو چائے کا دوسرا پیالہ پیش کیا۔

اصغر: آپ مسافر ہیں۔

نووارد: جی نہیں۔

اصغر: کھانا کھائیں گے۔

نووارد: شکریہ، میں کھا کر آیا ہوں۔

اصغر: کہیں قریب ہی رہتے ہیں۔

نووارد: جی ہاں، میں اگلے ہفتے عمرے کے لیے جارہا ہوں، اس لیے آپ سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔

اصغر: مبارک ہو، میں نے آپ کو پہچانا نہیں، بڑھاپے سے میری نظر اور حافظہ دونوں کمزور ہوگئے ہیں۔

نووارد: عبداللہ صاحب، میں بھی عبداللہ ہوں۔

اصغر: کون عبداللہ! عبداللہ اکبر؟

عبداللہ: نہیں عبداللہ اکبر نہیں، صرف عبداللہ۔

اس پر عبداللہ نے عبداللہ کو پہچان لیا، پھر دونوں عبداللہ ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور بے اختیار رونے لگے۔ عبداللہ اکبر سال بھر میں اتنا بوڑھا ہوگیا تھا جتنا کہ وہ برسوں میں نہیں ہوا تھا۔ اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ کبھی ایک قوی ہیکل انسان رہا ہوگا۔ اس کا انداز تکلم اتنا سہانا اور شیریں ہوگیا تھا کہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ کبھی اس میں کوئی متکبرانہ خوبو رہی ہوگی۔

عبداللہ نے عبداللہ سے تعزیت کی۔ جاوید کے لیے دعائے مغفرت کی، جاوید کے ذکر سے عبداللہ پھر رونے لگا۔

اصغر: متوفین کو اتنا نہیں روتے اس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔

عبداللہ: میں جاوید کو نہیں رو رہا بلکہ اس متکبرانہ، غافل ، بے خدا اور بے مصرف زندگی کو رو رہا ہوں جو میں نے گزاری ہے۔ جو کام کرنے کے تھے وہ نہیں کیے اور جو کام نہیں کرنے کے تھے، وہ کرتا رہا، اللہ مجھے معاف کرے۔

اصغر: آمین!

عبداللہ: ثم آمین!

اصغر: اب کیا ارادہ ہے؟

عبداللہ: کوئی کار خیر، کوئی کارِ مغفرت، کوئی صدقہ جاریہ، میں نے اپنی آمدنی کو ہر آلودگی سے پاک کردیا ہے۔ لوگوں کے واجبات ادا کردیے ہیں۔ لوگوں کی جو زمین میں نے دھوکے، دھاندلی اور دھونس سے دبائی ہوئی تھی، وہ ان کے اصل مالکان کو لوٹا دی ہے۔

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی جیب سے کچھ کاغذات نکال کر اصغر کو دیتے ہوئے کہا:

’’یہ میری سولہ دکانوں کی رجسٹری کے کاغذات ہیں، یہ دکانیں میں نے اس مسجد کے نام کردی ہیں۔‘‘

عبداللہ اصغر اس کے لیے مسلسل کلمات خیر کہے جارہے تھے۔

اصغر: خاکسار نے جاوید کے لیے دعا کی تھی کہ رب العالمین اس کو آپ کے لیے باعثِ خیر بنائے، یاد ہے؟

عبداللہ: جی ہاں بہت اچھی طرح یاد ہے۔ آپ کی دعا بلاشبہ قبول ہوئی ہے۔ رب العالمین نے مجھ پر ایسا کرم کیا ہے جس کا میں مستحق نہیں تھا۔

اصغر: نور الرحمن کیسا ہے؟

عبداللہ : وہ تو میرے اندر کا نور ہوگیا ہے۔

پھر عبداللہ، عبداللہ سے اجازت لے کر رخصت ہوگیا۔

شیئر کیجیے
Default image
اعجاز احمد فاروقی

Leave a Reply