ممتا

یاسوکی روز روز کی شکایتوں سے تنگ آکر نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے والدین سے علاحدگی کا فیصلہ کرلیا۔ اس کا ذکر میں نے یاسو سے کیا تو وہ کھل اٹھی۔ بالآخر ممتا کے آنگن میں خط کھینچ دیا گیا۔ وقت کی برف تیزی سے پگھلتی رہی۔ یاسو کی ساری شکایتیں خزاں کے پتوں کی صورت جھڑ چکی تھیں اور اب وہ شاداں و فرحاں موسم بہار سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ مجھے بھی ذہنی سکون میسر ہوا۔ ایک دن بازار سے گھر پہنچا تو یاسو کی گہری آنکھوں میں کنول کھلے نظر آئے۔ میں نے دریافت کیا:

’’بہت خوش ہو؟‘‘

’’وجہ ہی ایسی ہے۔‘‘

’’ہمیں بھی اپنی خوشی میں شامل کرو گی…!‘‘

’’مبارک ہو، خوشیاں آنے والی ہیں۔‘‘

’’تمہیں بھی مبارک ہو۔‘‘

اب میں یاسو کا زیادہ خیال رکھنے لگا تھا۔ تقریباً سات مہینے خیریت سے گزرگئے۔ ایک دن اچانک یاسو نے درد کی شکایت کی۔ میں قریب کے ڈاکٹر کے یہاں پہنچا اور ساری کیفیت سے آگاہ کیا اور دوا لے کر گھر واپس آگیا۔

ان دواؤں کا یاسو پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی۔ میں فوراً اسے لے کر شہر کو بھاگا اور ایک اچھے نرسنگ ہوم میں ایڈمٹ کیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ فوری آپریشن کی ضرورت ہے ورنہ بچے کے ساتھ ساتھ ماں کو بھی بچانا مشکل ہوجائے گا۔ میں نے منظوری دے دی۔ کچھ دیر کے بعد لیڈی ڈاکٹر سر جھکائے ہوئے آئی اور مجھ سے مخاطب ہوئی۔ ’’سوری…! بچے کو نہیں بچایا جاسکا البتہ زچہ ٹھیک ہے۔‘‘

یاسو تو ابھی بے ہوش تھی۔ بچے کو زیادہ دیر رکھنا میں نے مناسب نہ سمجھا اور اس کی تدفین کرادی۔ یاسو کو جب ہوش آیا اور اپنا پہلو خالی پایا تو متعجب نگاہوں سے میری جانب دیکھنے لگی۔ میں سرجھکائے بیٹھا تھا۔ اس نے حیرت اور گھبراہٹ کے عالم میں پوچھا:

’’کیا ہوا…؟‘‘

’’کچھ نہیں … سب خیریت ہے۔‘‘

’’بچہ!…؟‘‘

’’افسوس وہ زندہ نہ رہا۔‘‘

یاسو کی آنکھوں میں آنسو تیر گئے۔ ممتا جاگ اٹھی اور وہ روہانسی آواز میں گویا ہوئی۔

’’ہائے میرا بچہ … کہاں ہے؟ ذرا مجھے اس کی صورت تو دکھلا دیجیے…‘‘

’’یاسو اس کی تدفین ہوچکی ہے۔ تم اس وقت آرام کرو۔ ڈاکٹر کا یہی مشورہ ہے۔‘‘

’’کیا…؟‘‘ یاسو کی آواز میں تلخی آگئی۔ ’’آپ نے مجھے دکھائے بغیر میرے بچے کو دفن کردیا۔ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے اچھا نہیں کیا۔‘‘

میں خاموش سرجھکائے بیٹھا رہا۔ یاسو جذباتی ہوچکی تھی۔ آنسو برسنے لگے۔ وہ بولتی گئی۔

’’کاش آپ نے مجھے صرف ایک نظر دکھادیا ہوتا…۔ آپ نے اچھا نہیں کیا…۔ ہائے میرا لخت جگر…‘‘

’’ہاں یاسو، میں نے اچھا نہیں کیا۔ میں نے تمہارے جذبات کو نظر انداز کردیا۔ اس کے لیے میں شرمندہ ہوں۔ ہمیں یہ منحوس دن کیوں دیکھنے کو ملا؟ یاسو! بچے تو جگر گوشے ہوتے ہیں، پھر انھیں کیوں ممتا سے جدا کردیا جاتا ہے؟‘‘

یاسو مجھے حیرت سے دیکھے جارہی تھی۔ اسے تصویر کا دوسرا رخ نظر آگیا تھا۔ اس کے چہرے پر پچھتاوے کے خطوط نمایاں نظر آرہے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
ابنِ تقی

Leave a Reply