جدائی

ہوا! ہمیشہ تمہارا میرا ساتھ رہا ہے۔ تمہارے بنا میری زندگی ممکن نہیں۔

سحر کے وقت تم کتنی فرحت بخش ہوتی ہو۔

صحت بخش ہوتی ہو۔ بادِ صبا کہلاتی ہو۔

موسمِ گرما کی راتوں میں جب میں گھر کی چھت پر سوتا ہوں تو

تمہارے ہولے ہولے اور تیز تیز جھونکوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔

مگر جب تم بادلوں کو لانے کے لیے چلی جاتی ہو، تب کیسی گھٹن اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔

اللہ کی پناہ!

مگر جب واپس لوٹتی ہو تو میری ہی زندگی کے لیے بارش اور پانی کے بادل لاتی ہو۔

برسوں تک تم نے میرا ساتھ دیامگر شاید اب میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔

تم اب بھی پہلے جیسی ہی ہو۔

میرے اطراف ہی ہو مگر میرے اعضاء اب کمزور ہوچکے ہیں۔

سانس لینے میں تکلیف ہورہی ہے۔

اور اب یہ وقت ہے کہ میں تمہارا ساتھ چھوڑ دینے پر مجبور ہوں۔

مگر، مگر یہ کیا؟ تمہاری ہی جیسی کوئی شئے بلکہ تم سے بھی کئی گنا زیادہ اہم اور قیمتی شئے جو میرے اندر موجود ہے۔ ’’جو روح ہے۔‘‘

’’روح‘‘ ۔ جس کی اب تک تحقیق نہ ہوسکی کہ کیسی ہوتی ہے اور کہاں جاتی ہے۔ اس کی تحقیق ضروری بھی نہیں کیونکہ اس سے متعلق جتنا علم دیا گیا ہے وہ کافی ہے۔

اب میں سوچتا ہوں کہ میرے اند موجود جو روح ہے شاید یہ بھی اب پرواز کرجانے والی ہے۔

مگر اُف! یہ تکلیف اور یہ ناقابلِ برداشت درد!!

ہر جسم کو روح سے جدائی کا یہ درد تو سہنا ہی ہے۔

نبیؐ کے روح سے متعلق تمام ارشادات مجھ پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔

اور قرآن کا یہ ارشاد بھی’’ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔‘‘

مگر مجھے فکر ہے اس روح کے انجام کی جو اب نئی زندگی شروع کرنے والی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
الیاس احمد انصاری شادابؔ

Leave a Reply