کنارے ڈوب جاتے ہیں

خالہ زبیدہ اپنے بھاری بھرکم وجود کو سنبھالتی ہانپتی کانپتی ہوئی آئیں تو میں نے انھیں جلدی سے پکڑ کر صوفے پھر بٹھا دیا۔ میں نے فریج میں سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس ان کی طرف بڑھا دیا۔

’’اے بیٹی! یہ تم نے مجھے کہاں بھیج دیا تھا؟ میری کوئی مت ماری گئی ہے جو میں وہاں اپنے چاند کی شادی کروں گی؟‘‘ کہتے ہوئے خالہ نے غٹا غٹ گلاس چڑھالیا۔ ان کے چاند کہنے پر میری نظروں میں ان کے بیٹے سمیع کی چپٹی ناک اور کالا کلوٹا سراپا گھوم گیا۔ جس کے لیے وہ سورج سی دلہن تلاش کررہی تھیں۔ میرے بتانے پر وہ آج راشدہ کو دیکھ کر آئی تھیں۔

’’کیا ہوا خالہ! کیا پسند نہیں آئی؟‘‘میں نے تفصیل جاننی چاہی۔

خالہ نے میرے ہاتھ سے پان لیا منھ میں رکھا اور چپڑ چپڑ چباتے ہوئے بولیں:

’’ارے پسند کی کیا پوچھتی ہو بی بی بھلا وہ اس قابل ہے کہ میں اسے بہو بناؤں۔ خوب مذاق کیا ہے تم نے میرے ساتھ۔‘‘

’’مگر خالہ دیکھئے نا اتنی قایل ہے، سگھڑ ہے، ایم اے پاس ہے اور کیا چاہیے؟‘‘ میں نے ناگواری سے کہا۔

’’ارے تو اس کی قابلیت اس کی ڈگری لے کر چاٹنی ہے۔ نوج نہ شکل ہے نہ صورت چیاں چیاں سی تو آنکھیں ہیں اس کی۔‘‘

خالہ اپنی آنکھیں پھاڑتے ہوئے بولیں۔

’’خالہ ان آنکھوں سے وہ دیکھ تو سکتی ہے نا۔ ایسی بڑی بڑی آنکھوں سے کیا فائدہ جو اچھے برے کی تمیز ہی نہ کرسکیں۔‘‘

’’اے ناک دیکھی ہے، تم نے اس کی؟ پکوڑا ہے پکوڑا۔‘‘

خالہ نے یوں کہا جیسے میں نے اسے کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔

’’ٹھیک ہے خالہ! اس کی ناک اس کے چہرے کے نقش کے مطابق ٹھیک ہے بلکہ میں تو یوں کہوں گی کہ اگر پتلی ناک ہوتی تو اس کے چہرے کے نقش سے قطعی میل نہ کھاتی۔‘‘ میں نے انھیں سمجھایا۔

’’اے لو تمہیں کوئی خامی ہی نظر نہیں آرہی ہے۔ اے رنگ دیکھا ہے کیسا کالا ہے۔‘‘

وہ ایک کے بعد ایک خامی نکال رہی تھیں۔ ’’معاف کیجیے خالہ رنگ تو آپ کا بھی صاف نہیں۔ اور آپ کے سمیع کا تو آپ سے بھی دبتا ہوا ہے۔‘‘

میں نے ہمت کرکے کہہ دیا کیونکہ مجھے یوں راشدہ میں خامیاں نکالنا قطعی اچھا نہ لگ رہا تھا۔ کیوں کہ وہ مجھے بہت پسند تھی۔

’’بھئی دیکھو مرد تو مرد ہے چاہے جیسا بھی ہو کچھ نہیں جاتا۔ پر عورت کی ناک واک درست نہ ہو تو اچھی نہیں لگتی اور جو چیز اچھی نہ لگے وہ ہر وقت آنکھوں کے سامنے کس طرح دیکھی جاسکتی ہے۔

’’اچھا اور کیا خامی ہے اس میں؟‘‘ میں نے چڑ کر کہا۔

’’اور تو خیر ٹھیک ٹھاک ہے، قد بھی ٹھیک ہے، جسامت بھی مناسب ہے، بال بھی گھٹنوں گھٹنوں ہیں۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے بتاتی رہیں۔

’’ٹھیک ہے خالہ! اگر آپ کو پسند نہیں آئی تو خیر ویسے بھی وہ اتنی اچھی ہے، اس کے لیے اتنا ہی اچھا زندگی کا ہمسفر ملنا چاہیے۔‘‘

’’اے تو کیا سمیع کسی سے کم ہے کیا؟‘‘ وہ تڑخ کر بولیں۔

’’خیر یہ تو آپ ہی جانیں لیکن مجھے واقعی افسوس ہوا ہے۔ میں نے تو سمیع کو اپنا بھائی سمجھ کر آپ کو وہاں بھیجا تھا، کیونکہ اگر میرا اپنا کوئی بھائی ہوتا تو میں راشدہ کو ضرور بھابی بناتی۔‘‘

’’اے چلو چھوڑو۔ یہ شوکت کہا ںگیا ہوا ہے؟ دفتر سے تو آگیا ہوگا؟‘‘وہ بات بدل کر بولیں۔

’’ذرا فرخ کی طرف گئے ہیں بلایا تھا اس نے۔‘‘

’’ تو اب میں بھی چلتی ہوں، ذرا حسن بانو کی طرف بھی جانا ہے۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولیں۔

’’کیا کوئی کام ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں ذرا اس کی نند کی لڑکی کو بھی دیکھے لیتی ہوں، اس نے مجھے بتایا تھا۔‘‘

میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور انھیں جاتا دیکھتی رہی۔

اگلے دن خالہ آئیں تو باتوں باتوں کے دوران میں نے پوچھا: ’’دیکھ آئیں خالہ حسن بانو کی نند کی لڑکی کو۔‘‘

’’اے ہاں دیکھ لیا۔‘‘ وہ بیزاری سے بولیں۔

’’پھر کیا ہوا پسند نہیں آئی؟‘‘

’’بھئی بات یہ ہے کہ ویسے تو وہ ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن بھئی میں ایسی لڑکی کو اپنی بہو نہیں بناؤں گی جو لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہو۔‘‘خالہ ناک چڑھاتے ہوئے بولیں۔

’’کہاں پڑھتی ہے؟‘‘

’’اے وہیں پڑھتی ہے، یونی وشٹی (یونیورسٹی) میں اتنے جوان جہان لڑکوں کے ساتھ تو، موئی کا دیدہ تو ہوائی ہوگیا ہوگا۔ جانے کتنوں سے عشق لڑایا ہوگا۔ نہ بی بی نہ مجھے نہیں کرنی وہاں شادی۔‘‘ وہ اگالدان میں تھوک کی پچکاری مارتے ہوئے بولیں۔

’’خالہ لڑکوں کے ساتھ پڑھنے والی ساری لڑکیاں تو بری نہیں ہوتی ہیں۔ میں بھی تو پڑھتی ہوں۔ آخر لڑکوں کے ساتھ۔‘‘مجھے ان کی یہ بات بہت ناگوار گزری تھی۔

خالہ حسب معمول روز آتیں اور روز لڑکیوں کی تفصیل بتاتیں۔ خدا کی بندی کو کوئی لڑکی پسند ہی نہیں آرہی تھی کوئی انھیں بھینس کی طرح موٹی نظر آتی تو کوئی بے تحاشا دبلی چھپکلی کی مانند۔ کوئی چھوٹے قد کی بونی ہوتی تو کوئی بانس کی طرح لمبی۔ کسی کے بال چھوٹے تو کسی کی ناک موٹی۔ کسی کی آنکھیں بھوری۔ تو کہتیں:’’اے بے وفا ہوتی ہیں یہ ایسی دیدے والیاں، کہیں میرے بیٹے کو نہ چھین لے جائے، اگر خوبی قسمت سے کسی میں یہ سب گن پورے ہوئے تو مالی طور پر پسماندگی ہوتی۔ غرض ان کے معیار کی لڑکی ابھی تک نہ ملی تھی۔ ان کا بس نہ چلتا تھا کہ کوہ قاف کی کسی پری کو لے آئیں۔‘‘

پھر انہی دنوں شوکت نے پہاڑ پر جانے کا پروگرام بنالیا کیونکہ انھیں میری صحت کی فکر تھی۔ وہاں ایک ماہ پلک جھپکتے بیت گیا۔ گھر آکر وہی روز کا معمول ہوگیا، البتہ خالہ اب تک نہ آئی تھیں جبکہ ہمیں آئے چار دن ہوگئے تھے۔ خدا جانے کیا بات ہے ورنہ وہ سن کر ضرور آتیں۔ میں نے سوچا۔ مجھے ان کی بیماری کا بھی خیال آیا۔ لہٰذا سوچا خود ہی حال پوچھ لوں جاکر۔ میں جانے کا ارادہ کرہی رہی تھی کہ پڑوس کی چھمیا آگئی۔

’’یہ لیں باجی بھیا کے پاس ہونے کے لڈو۔‘‘

ان کے بھائی نے خیر سے چوتھی جماعت پاس کرلی تھی۔

’’کہیں جارہی ہیں باجی؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’ہاں ذرا خالہ زبیدہ کی طرف جارہی تھی۔‘‘ میں نے کہا۔

’’اچھا! مبارک باد دینے جارہی ہو!‘‘ وہ ہنستے ہوئی بولی۔

’’کیسی مبارک باد؟‘‘

’’ارے سمیع بھائی کی شادی جو ہوگئی ہے۔‘‘

’’اچھا ہوگئی شادی، تو آئی انھیں لڑکی پسند۔ لیکن ایسی بھی کیا جلدی تھی۔ میری غیر حاضری میں ہی شادی کرلی۔‘‘

’’ائے باجی خالہ نے کب شادی کی ہے۔ وہ تو سمیع بھائی خود ہی شادی کرلائے ہیں۔‘‘

’’خود کرلائے؟‘‘ میں حیرانی سے بولی۔

’’ہاں جی ان کے ساتھ ہی تو کام کرتی تھی فیکٹری میں ۔‘‘

چھمیا میری معلومات میں اضافہ کرکے چلی گئی۔ میں حیران حیران سی خالہ کے گھر کی طرف چل پڑی۔

ہاں یہی ہونا تھا۔ آخر کب تک سمیع بھائی انتظار کرتے۔ خالہ کو تو کوئی لڑکی پسند ہی نہ آرہی تھی۔ میں نے سوچا۔

خالہ کے گھر میں داخل ہوئی تو عجیب ویرانی سی محسوس ہوئی۔ برآمدے میں رکھے ہوئے پنجرے میں طوطا خلافِ معمول خاموش تھا۔ ورنہ ہو تو شور مچاتا رہتا تھا۔ سامنے کمرے میں خالہ تخت پر بیٹھی تسبیح گھمارہی تھیں۔ چہرے پر اداسی تھی۔ مجھے دیکھ کر بھی نہ مسکرائیں نہ ہی کچھ بولیں۔ اسی وقت ان کی بیٹی نسیم ایک لڑکی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی دونوں نے مجھے سلام کیا۔ میں نووارد لڑکی کو غور سے دیکھ رہی تھی۔

’’بھابھی سلمہ، سمیع بھائی کی بیوی۔‘‘نسیم نے میری الجھن دور کردی۔ لڑکی چادر اٹھا کر چلی گئی۔ شاید دھونے کے لیے چلی گئی تھی۔ اچھی خاصی قبول صورت لڑکی تھی۔

’’خالہ جو قسمت میں تھا ہوگیا، اب غم کرنے سے کیا فائدہ؟‘‘ میں نے انھیں سمجھایا۔

’’مجھے تو آپ کی بہو پسند آئی ہے۔ ماشاء اللہ سگھڑ بھی لگتی ہے۔ ‘‘

خالہ بدستور چپ تھیں۔ البتہ نسیم جو میرے برابر بیٹھی تھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

’’ارے ارے نسیم! اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ یہ ٹھیک ہے سمیع نے خود شادی کرلی ہے آپ لوگوں کو اس کا دکھ ہوا؟ بھائی، بیٹے کی شادی کا کسے ارمان نہیں ہوتا، لیکن جب وہ بہو اس گھر میں لے ہی آیا ہے تو پھر آپ لوگوں کو بھی سب رنجشیں بھلا کر سمجھوتہ کرلینا چاہیے۔ آپ کی بہو، خالہ سیرت کی بہت اچھی لگتی ہے۔ فرمانبردار بھی ہے خدا کرے ایسی ہی رہے۔‘‘ میں نے تسلی دی۔

’’بھابی! اماں بہت خامیاں نکالتی رہتی تھیں ہر لڑکی میں، کوئی لڑکی انھیں پسند ہی نہیں آتی تھی۔ کبھی انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اللہ نے جیسا جس کو بنادیا ٹھیک ہے۔ اگر اپنے ہاتھ کی بات ہوتی تو آج کوئی لڑکی یوں ٹھکرائی نہ جاتی۔ اماں نے یہ اچھا نہ کیا تھا۔ جانے کس کس کا دل دکھایا تھا۔ لیکن انھیں بھی سزا مل گئی ہے۔‘‘نسیم ہچکیوں کے درمیان بول رہی تھی۔

’’خیر جو ہوگیا سو ہوگیا۔ اب کیوں غم کرتی ہو۔‘‘میں نے اسے سمجھایا۔

’’دیکھو! اب تمام باتیں ختم ہوگئیں نا، بس سب کچھ بھول جاؤ۔‘‘

’’کہاں ختم ہوگئیں بھابی! اب تو باتیں شروع ہوئی ہیں نا آپ کو پتہ نہیں ہے نا کچھ پتہ نہیں آپ کو۔ مجھے … مجھے طلاق بھیج دی ہے ان لوگوں نے … وہ … کہتے ہیں کہ نکاح کے وقت لڑکی ٹھیک تھی۔ اب رنگ بھی سانولا ہوگیا ہے اور چہرے پر مہاسے بھی نکل آئے ہیں جو لڑکے کو پسند نہیں۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
مہناز عرفان

One comment

Leave a Reply