غزل

رہتے ہیں وہی اکثر اب اونچے مکانوں میں

گزری ہیں شبیں جن کی اشجار کے سایوں میں

دیوار اٹھے گھر میں یہ سوچ کے ڈرتا ہوں

کمزور نہ ہوجاؤں دشمن کی نگاہوں میں

کچھ ہاتھ نہ آئے گا پتھر کے سوا ناداں

موتی نہیں ملتے ہیں دریا کے کناروں میں

اے جانِ غزل تو نے جب سے مجھے چھوڑا ہے

دیوانہ سا پھرتا ہوں بے نور فضاؤں میں

الفت کی زباں کیا ہے، ہم خوب سمجھتے ہیں

سیکھا ہے اسے ہم نے اردو کی کتابوں میں

سامانِ سفر میں نے جس روز بھی باندھا ہے

روتے ہوئے دیکھا ہے ماں کو بھی دعاؤں میں

رخ اپنا ضمیرؔ آندھی ہر آن بدلتی ہے

چلنے نہیں دیتی ہے دوگام اجالوں میں

شیئر کیجیے
Default image
ضمیرؔ اعظمی، نئی دہلی

Leave a Reply