عیسائی مبلغ سے ایک ملاقات

میں دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں وکیل ہوں۔ یہاں سے قریب پولیس کیمپس میں ایک چھوٹی سی مسجد ہے، جو سڑک سے دکھائی نہیں دیتی ہے۔ دفتر میں کام کرنے والے حضرات اور بیش تر وکیل ظہر کی نماز عام طور سے اسی مسجد میں ادا کرتے ہیں۔ ایک دن کی بات ہے کہ میں ظہر کی نماز ادا کرکے باہر آیا تو مجھے ایک انگریز آتا دکھائی دیا۔ جب وہ میرے قریب آیا تو اس نے مجھ سے پوچھا: یہاں کوئی مسجد ہے؟ میں نے کہا: ہاں ہے، پھر میں نے پوچھا کہ آپ مسجد کیوں تلاش کررہے ہیں؟ باتیں انگریزی میں ہورہی تھیں۔ انگریز نے کہا کہ میں امام صاحب سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اردو یا ہندی بول اور سمجھ لیتے ہیں تو اس نے کہا کہ نہیں۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ اس طرح تو آپ امام صاحب سے بات نہ کرسکیں گے، کیوں کہ آپ ان کی زبان سے ناواقف ہیں اور وہ آپ کی زبان سے۔ اگر آپ مجھ سے باتیں کرنا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔ انگریز نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے، آپ سے ہی بات ہوجائے تو بہتر ہے۔میں اس کو لے کر مسجد آگیا۔ اطمینان سے بیٹھنے کے بعد وہ اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے بولا کہ میں امریکہ کا رہنے والا ہوں۔ وہاں درس و تدریس کے کاموں سے منسلک ہوں۔ ان دنوں وہاں کے تعلیمی ادارے بند ہیں، اس لیے میں ہندوستان آگیا ہوں۔ یہ بات سمجھنے میں مجھے دیر نہیں لگی کہ یہ صاحب اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے ہندوستان آئے ہیں۔ عیسائی دنیا میں ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ عیسائی مذہب کی تبلیغ سے دل چسپی رکھتے ہیں اور چھٹیوں میں اپنا وقت لگانا چاہتے ہیں وہ اپنا نام اپنے ملک کے مرکز ِدعوت و تبلیغ میں درج کروادیتے ہیں۔ان صاحب نے بھی اپنانام ہندوستان کے لیے درج کرارکھا ہوگا، پھر چھٹی ہوتے ہی یہ ممبئی کے لیے روانہ ہوگئے ہوں گے۔ دنیا کے کئی ملکوں سے مذہب کی تبلیغ سے دل چسپی رکھنے والے عیسائی حضرات ممبئی کے مرکزِ دعوت و تبلیغ میں جمع ہوتے ہیں۔ یہاں ان کو ضروری معلومات و ہدایات دینے کے بعد ہندوستان کے مختلف شہروں میں بھیج دیا جاتا ہے، لہٰذا یہ بات صاف ظاہر تھی کہ جن صاحب سے میری گفتگو ہورہی ہے، وہ تبلیغی مشن پر ہیں۔ بہرحال میں نے ان سے کہا کہ یہ بتائیے کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ اسلام اورعیسائی مذہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ میں نے جواب میں برملا کہا کہ نہیں نہیں، یہ بالکل ممکن نہیں ہے۔ اس جواب کے لیے وہ صاحب بالکل تیار نہیں تھے، لہٰذا کچھ دیر خاموشی رہی۔ میں نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا آپ کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ آپ کبھی جوتے پر ’’محمد‘‘ لکھ دیتے ہیں تو کبھی انڈر ویر پر ’’اللہ‘‘ اور کبھی مسلمانوں کے آخری پیغمبر کی خیالی تصویر چھاپ کر دل آزاری کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی دشمنی میں آپ نے سلمان رشدی کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ اسلام دوسروں کے مذہب کی عزت کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور کسی کی دل آزاری کرنے سے منع کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے دنیا میں کہیں بھی کسی بھی مذہب کی توہین نہیں کی ہے۔ میں نے عیسائی مبلغ سے پوچھا کہ کیا آپ کو ایسا کوئی واقعہ معلوم ہے کہ مسلمانوں نے کسی کے مذہب کی یا اس کے مذہبی پیش وا کی توہین کی ہو۔ وہ شخص جواب میں خاموش رہا۔ میں نے کہا کہ ایسا ایک واقعہ بھی پیش نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ ایسا کرنا مسلمانوں کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہے۔ میں نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شروع سے ہی عیسائی حضرات کا مذہبی عقیدہ رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کویہودیوں نے صلیب پر چڑھایا، مگر عیسائی علما نے صدیوں پرانے اس الزام سے یہودیوں کو بری کردیا۔ آخرایسا آپ حضرات نے کیوں کیا؟ آپ نے اسلام دشمنی میں کیا۔ وہ امریکی مبلغ خاموش رہا۔ میں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کرنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری کرنا ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہم آپ سے بہتر کی توقع نہیں رکھتے، کیوں کہ آپ خود اپنے مذہبی پیش وا کی توہین کرنے سے نہیں جھجکتے تو آپ دوسروں کے مذہبی پیش وا کی عزت کہاں سے کریں گے۔ آپ نے The Last Temptationنام کی فلم بنائی، اس میں آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کو جس طرح پیش کیا، وہ انتہائی توہین آمیز تھا۔ اس امریکی نے پوچھا کہ کیا آپ نے وہ فلم دیکھی تھی، میں نے جواب دیا کہ نہیں، البتہ اس پر ریویو پڑھا تھا۔ اس پر وہ خاموش ہوگیا۔

میں نے امریکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ عیسائی مذہب کو ماننے والے اور اسلام کے ماننے والے ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ ہم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا جلیل القدرپیغمبر مانتے ہیں اور ان کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں۔ مریم علیہا السلام کی ہمارے دلوں میں بے حد عزت ہے۔ قرآن میں مریم علیہا السلام کے نام پر ایک الگ chapter (سورت) ہے۔ آپ سے قریب آنے کے لیے ہمارے دلوں میں سچی تڑپ ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ اہلِ کتاب ہیں اور ایک اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم آپ کی اس خواہش کو کہ دونو ںمذاہب کے ماننے والے قریب آئیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، مگر آپ کو اس ضمن میں خلوص اور نیک نیتی کا ثبوت دینا ہوگا۔ وہ میری بات غور سے سنتا رہا، مگر جواب میں خاموش رہا، پھر کچھ مختصر سی باتیں دوسرے دھرم کے بارے میں بھی ہوئیں، پھر میں وہاں سے اٹھا اور اس کو ساتھ لے کر کچہری میں آیا اور وہاں کے کینٹین میں بیٹھ کر چائے سے اس کی تواضع کی۔ وہ مجھ سے کہنے لگا کہ میں آپ کو عیسائی مذہب قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ پہلے کھلے دل و دماغ سے اسلام کا مطالعہ کریں اور پھر عیسائی مذہب کے بارے میں فیصلہ کریں کہ کیا ایک بیٹا رکھنے والا خدا بہترہے یا ایک طاقت ور اللہ جو تنہا اور اکیلا ہے۔ اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر بھی غور کریں کہ جو اللہ بغیر ماں باپ کے آدم علیہ السلام کو پیدا کرسکتا ہے تو کیا وہ بلا باپ کے ایک شخص کو پیدا نہیں کرسکتا؟ پھر ہم لوگ کھڑے ہوگئے۔ ہاتھ ملایا اور ایک دوسرے سے رخصت ہوگئے۔ میں سوچتا رہا کہ باطل اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے کتنا بے چین ہے، آخر ہم اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے بے چین کیوں نہیں۔ اقامتِ عظمت اولیا اللہ، اقامتِ رفع یدین و آمین بالجہر وغیرہ کے لیے بہت سی جماعتیں قائم ہیں مگر اقامتِ دین کے کاموں سے کسی کو دلچسپی نہیں کیونکہ بدقسمتی سے ہم نے اسی کو اقامتِ دین کا کام سمجھ رکھا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شہاب الدین ایم اختر (ایڈوکیٹ)

Leave a Reply