ماہِ رمضان کے تقاضے اور ہمارے اعمال

’’رمضان المبارک‘‘ ایک انتہائی متبرک و مقدس مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اللہ رب العزت کی جانب سے انسانوں پر بے شمار رحمتوں و برکتوں کانزول ہوتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ماہِ رمضان کی بڑی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں، جو شخص بھی دینی و شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس ماہ کو گزارے گا، وہ یقینا عظیم اجر کا مستحق قرار پائے گا اوراللہ کی خاص رحمتیں و برکتیں اس پر نازل ہوں گی۔ حضرات صحابہ اور اکابرین امت اس مہینے میں زیادہ عبادت کیا کرتے تھے اور رضائے الٰہی کی جستجو میں لگے رہتے تھے۔ کیوں کہ اس مہینے میں ہر نیک عمل کا ثواب ۷۰ گنا اور بعض روایات کے مطابق ۷۰۰ گنا ملتا ہے۔ ایسے ہی اس مہینے کے روزے رکھ کر انسان اللہ کے بہت زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ روزے دار کو بہت پسند فرماتا ہے اور اس کو اپنے ہاتھ سے اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ذخیرئہ آخرت جمع کرنے کے لیے حضرات اکابر اس مہینے میں راتوں کو جاگتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، قرآن مجید کی شب و روز تلاوت کرتے تھے، اخیر عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھتے تھے اور شب قدر کی تلاش میں لگ جاتے تھے۔

ماہِ رمضان کی اس قدر فضیلت و اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمان اس مہینے کا پورا احترام کریں، ہمہ وقت عبادت، ذکر و اذکار اور تلاوت میں مشغول رہیں، ایک لمحہ بھی لایعنی باتوں میں نہ گزاریں۔ بہت سے مسلمان رمضان کی فضیلت و برکت کے پیشِ نظر اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں، تلاوت قرآن مجید میں مشغول رہیں، ذکر و اذکار کریں، پانچ وقت کی فرض نمازوں کے ساتھ نماز تراویح اور تہجد کا بھی اہتمام کریں۔ اخیر عشرہ میں اعتکاف کریں اور شب قدر کی تلاش میں لگ جائیں۔ اس کے علاوہ ہر طرح کے گنا ہوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔ کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کے ساتھ وعدہ خلافی نہ کریں، کسی کو برا نہ کہیں، گالی گلوچ نہ کریں۔ گویا پورے طور پر تقویٰ اختیار کریں۔ لیکن افسوس بعض ایسے مسلمان بھی معاشرے میں نظر آتے ہیں، جو رمضان جیسے بابرکت اور مقدس مہینے کا احترام نہیں کرتے، عام دنوں کی طرح ان کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آتا۔ افسوس کہ کچھ لوگ برکت و مغفرت والے مہینے میں نماز جیسی اہم عبادت کا اہتمام نہیں کرتے، جب کہ نماز ہر عاقل، بالغ مسلمان پر فرض ہے۔ یہی نہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مکمل روزے بھی نہیں رکھتے۔ بعض دوچار روزے رکھتے ہیں اور بعض وہ بھی نہیں، جب کہ رمضان کے پورے مہینے کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔

بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو رمضان کے روزے بھی رکھتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں، مگر دیگر معاملات میں کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے۔ مثلاً ماہ رمضان میں صبر و شکر کا لحاظ رکھا جانا چاہیے، تقویٰ اختیار کیا جانا چاہیے، لیکن کتنے روزے دار گالی گلوچ کرتے، غیبت کرتے، آپے سے باہر ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی غیر شرعی بات نہ عام دنوں میں جائز ہے اور نہ ماہِ رمضان میں۔

ماہِ رمضان کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس مہینے کو اس انداز پر گزارا جائے کہ بندہ متقی وپرہیز گار بن جائے ، اس کا ہر عمل، اس کا ہر قول اور اس کا ہر کام دین کے مطابق ہو۔ اگر وہ کسی سے بات کرے، تو خوش اخلاقی سے بات کرے، اگر کوئی کام کرے، تو وہ بھی دین کے مطابق کرے، چاہے وہ تجارتی معاملہ ہو یا لین دین کا معاملہ۔

رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی مسلم معاشرہ کو بالکل سادہ اور پاکیزہ نظر آنا چاہیے، یعنی اس طرح کہ ہر فرد پر رضائے الٰہی کے حصول کا جوش طاری ہو، ہر شخص عبادت خداوندی، ذکر و اذکار، تلاوت او رتسبیحات میں لگا ہوا ہو، ہر شخص کی زندگی میں روحانیت و طمانیت ہو، لیکن بہت سے مقامات پر اس کے برعکس نظارہ دکھائی دیتا ہے۔ جہاں چاند دکھائی دیا، شور، گولے، پٹاخے اور طرح طرح کے اعلانات کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں، بازار عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ پُر رونق نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی چہل پہل بڑھ جاتی ہے۔ دوکانیں طرح طرح کی چیزوں سے آراستہ ہوجاتی ہیں۔ خریدو فروخت دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے لگتی ہے۔ گویا یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ رمضان کوئی تہوار ہو۔ جب کہ رمضان تہوار نہیں، یہ تو انتہائی مبارک مہینہ ہے۔

عام طور سے گاوؤں، قصبوں اور شہروں میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال زیادہ ہونے لگتا ہے، بعض جگہ تراویح کی نماز بھی لاؤڈ اسپیکر پر ہوتی ہے۔ تراویح کی نماز کے بعد لوگ بازاروں کی طرف نکل پڑتے ہیں اور خرید و فروخت کرنے لگتے ہیں یا یوں ہی خواہ مخواہ گھومتے اور باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض لوگ سحری کے وقت تک نہیں سوتے، اس لیے نہیں کہ وہ پوری رات عبادت میںمشغول رہے، بلکہ باتوں میں لگے رہے یا خواہ مخواہ وقت گزاری کرتے رہے، کئی مقامات پر بارہ بجے یا ایک بجے کے بعد سے سحری کے لیے اعلان لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ذمہ داری امام صاحب یا موذن صاحب کو دی جاتی ہے کہ وہ ہر دس منٹ کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کریں اور لوگوں کو وقت بتائیں۔ بعض مسجدوں میں تو ۱۲ بجے سے سحری کے وقت (یعنی فجر کی اذان) تک لاؤڈ اسپیکر میں نعت خوانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص آرام کررہا ہے تو اس کا آرام جاتا رہتا ہے، نیند ختم ہوجاتی ہے، بدن میں نیند کی کمی کی وجہ سے کھنچاؤ محسوس ہونے لگتا ہے۔ سر میں درد یا تناؤ کی سی کیفیت ہوجاتی ہے اور اگر کوئی رات کی تنہائی میں اللہ کی عبادت میں مشغول ہے تو اس کا سکون جاتا رہتا ہے اور قلب کی گہرائیوں سے اللہ کو پکارنا اس کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسے حالات میں یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے میں بڑی پریشانی محسوس ہوتی ہے۔

ذرا غور کیجیے کہ کیا ان معمولات کو رمضان کے تقاضوں کے مطابق کہا جاسکتا ہے؟ کیا ماہِ رمضان مسلمانوں سے یہ کہتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ تہوار جیسا سلوک کریں اور خوب اودھم مچائیں۔ اس طرح کے شور سے کتنے ہی لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور خاص طور سے وہ برادرانِ وطن جو مسلمان نہیں ہیں، ان کے آرام میں بھی خلل واقع ہوتا ہے اور بار بار لاؤڈ اسپیکر میں اعلان ان کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ جب کہ اسلام کسی کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اہم بات یہ ہے کہ ماہِ رمضان کا احترام کیا جانا چاہیے اور اس کے تمام تقاضوں کی تکمیل کی جانی چاہیے۔ رمضان میں جو خصوصیات من جانب اللہ رکھی گئی ہیں، ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اس مہینے میں تمام فرائض، واجبات کی ادائیگی کی جانی چاہیے، حتی کہ سنن و نوافل کی ادائیگی کا پورا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ ذخیرۂ آخرت اس مہینے میں جمع کیا جاسکے اور اس مہینے میں تقویٰ اس انداز سے اختیار کرنا چاہیے کہ وہ رمضان کے بعد بھی برقرار رہے ایسا کرنے سے یقینا دنیوی و اخروی دونوں طرح کے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا اسرار الحق قاسمی

Leave a Reply