زکوٰۃ اور اس کی اہمیت

قانونِ زکوٰۃ قرآن پاک کے ان چھ احکام میں سے ایک ہے جن پر اسلام کی معاشی پالیسی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس حیثیت سے مسلم اقوام کی معاشی زندگی کے لیے نظام زکوٰۃ، نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس کا مقصد معاشرہ کے افلاس کو قابو میں لانا اور اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ اسی طرح دولت کو گردش میں رکھنا اور چند افراد کے پاس اس طرح مجتمع ہونے سے روکنا ہے کہ لوگ افلاس کا شکار نہ ہوں۔

زکوٰۃ کا نظام جب منظم و موثر طریقے پر جاری و ساری ہوتا ہے تو معاشرے میں قوم کی دولت کی تقسیم میں مسلسل توازن قائم رہتا ہے اور اس لیے، معاشی نقطۂ نظر سے زکوٰۃ کسی بھی انسانی معاشرے میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے پیدا شدہ طبقاتی منافرت، انتشار اور ابتری کے خلاف بہترین ضمانت ہوسکتا ہے۔ چنانچہ یہ اپنی نوعیت اور مقصد کے لحاظ سے انسانی اخوت کے اسلامی اصول کو ایک زندہ حقیقت بنانے کا انتہائی طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ معاشرہ کو بحیثیت مجموعی سوچنے اور اس کی ضرورت اور اہمیت محسوس کرنے کی طرف راغب کرتا ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ جماعت کی خوشحالی کو خطرہ میں ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ اس اصول کو بھی ثابت کرتا ہے کہ جماعت کے اندر تمام معاشرتی امراض و برائیوں کا علاج و اصلاح، مستقل اور موثر اسی وقت ہوسکتا ہے جب جماعت خود کوشش کرے، بالفاظِ دیگر معاشرتی گروہ ایک جاندار اور عملی عضو کی طرح اپنی فلاح و بہبود کا ذمہ دار خود ہے۔

اسی لیے نظامِ زکوٰۃ حاجتمند کی آبادکاری پر خاص زور دیتا ہے۔ یعنی وہ مفلوک الحالی کو بلا توقف خود کفالت کی حالت تک لوٹا دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ تاکہ آباد کردہ شخص نئے سرے سے معاشرے کا ایک باعزت رکن ہوجائے اور مستعدی سے معاشرہ کی فلاح و بہبودی میں حصہ لے۔

زکوٰۃ اسلام کے اساسی ارکان میں تیسرے درجے پر ہے۔ وہ اسلامی طرز زندگی کا ایک ناقابلِ تقسیم، واجب اور بنیادی حصہ ہے، جس کی عدم ادائیگی ایمان سے انکار کے مترادف قرار دی جاتی ہے۔

اس حقیقت کی ایک عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ملتی ہے۔ جب پیغمبرِ خداﷺ کی رحلت کے تھوڑے ہی عرصے بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں چند عرب قبیلوں نے جن میں بنو حنیفہ اور بنو یربوعہ کے طاقتور قبائل بھی شامل تھے، زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا تو حضرت ابوبکرؓ نے ثابت قدمی سے اپنے موقف پر قائم رہ کر فرمایا: اینقص الدین و انا حی؟ یعنی کیا یہ ممکن ہے دین اسلام میں کمی کی جائے، حالانکہ میں (اس کا دفاع کرنے کے لیے ابھی) زندہ ہوں۔

حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو ایک بہت خطرناک بحران کا سامنا تھا۔ انھوں نے حضرت خالد بن ولید کو ایک فوج کا سردار بناکر، یربوع کے سردار مالک بن نویرہ کے پاس بھیجا۔ یہ مالک بن نویرہ وہ شخص تھا جسے قبولِ اسلام کے بعد رسول کریم ﷺ نے اس کے قبیلے سے حصولِ زکوٰۃ کے لیے متعین کیا تھا۔ جب حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے ادائیگی زکوٰۃ کی نصیحت کی، تو اس نے جواب دیا: انا آتی بالصلوٰۃ دون الزکوٰۃ۔ یعنی ’’میں نماز پڑھوں گا، لیکن زکوٰۃ نہیں دو ںگا۔‘‘ یہ جواب سن کر، حضرت خالد بن ولید نے فرمایا: اما علمت ان الصلوٰۃ والزکوٰۃ معا، لا تقبل واحدۃ دون الاخری؟ یعنی ’’کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ نماز اور زکوٰۃ لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو قبول نہیں کیا جاسکتا؟‘‘

ان منکرین کے اس سخت و سرکش طرزِ عمل کو بدلنے اور ان کو اسلام کی شرائط پر کاربند کرنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف لڑنے میں اور انھیں اسلحہ کی قوت سے مطیعِ اسلام کرنے میں کوئی تامل نہ کیا۔ کیونکہ خدانخواستہ اگر یہ غلط مثال قائم ہوجاتی اور باہمی مصالحت سے معاملہ طے پاجاتا، تو اسلامی معاشی نظام کا ایک اہم ستون اپنی تاریخ کے آغاز ہی میں اس حدتک کھوکھلا ہوجاتا کہ اس کی تلافی بعد میں غالباً ناممکن ہوجاتی ۔

سود کا عمل وہ سنگ دل بنانے والا اور ضرر رساں رواج ہے، جسے قرآن پاک میں ’’ربا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ آسانی سے فائدہ حاصل کرنے کی سطحی کشش کے سبب عرصۂ دراز سے لالچی لوگوں کے لیے تحریص و ترغیب کا باعث بنا ہوا ہے اور صحیح علمِ اقتصادیات کو تباہ کرنے والے عوامل میں سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے جس نے افراد و اقوام دونوں کی فلاح و بہبود اور معاشی استحکام کی جڑیں اندر ہی اندر کھوکھلی کردی ہیں۔ اس کے برعکس زکوٰۃ انسانی ہمدردی کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے اور ہر مسلم کے دل میں اپنے بھائیوں کے لیے، جن کی معاشی خوشحالی خطرے میں ہو، پُرخلوص شفقت اور باہمی اتحاد و یگانگت کا احساس دلاتا ہے۔ قرآن پاک کے الفاظ میں:

’’اور تم نے روپیہ سود بٹے پر لگایا ہے کہ لوگوں کو قرض دیا ہوا مال بڑھتا رہے اور مالی ترقی ہوتی رہے، مگر خدا کے پاس ایسا مال ترقی نہیں کرتا اور جو روپیہ کہ تم خدا کی رضا جوئی کے لیے زکوٰۃ میں دیتے ہو، بے شک وہ بڑھتا رہتا ہے پس یہی لوگ ہیں ایک کے دو پانے والے۔ اپنے مال کو کئی چند کرنے والے۔‘‘ (الروم:۳۹)

اگرچہ ماضی میں بہت سے فقہائے کرام نے قانون زکوٰۃ کی پوری تشریح کی ہے، لیکن موجودہ زمانے میں اس ادارے کی قدر وقیمت او رکارکردگی بڑی حد تک نگاہوں سے اوجھل ہوچکی ہے، حتیٰ کہ موجودہ نسل میں اکثر لوگ زکوٰۃ کے معانی تک سے واقف نہیں ہیں۔ اور اس امر سے غافل ہیں کہ ادائیگ زکوٰۃ کو نظر انداز کرکے معاشرے کو برباد کرنے میں ان کی کتنی زبردست ذمہ داری ہے، ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے جو فرائض ان پر عائد کیے گئے ہیں، ان میں سے زکوٰۃ ایک اہم ترین اور مقدس فرض ہے۔(ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply