ذرا سوچئے!!

’’موت‘‘ یہ تین حرفی لفظ دیکھنے میں جتنا چھوٹا ہے معنی کے اعتبار سے اتنا ہی دقیق اور درد سے پُر ہے۔ کسی کی موت پر دوسرے انسانوں کا غمزدہ ہونا، آنسو بہانا، کسی کے غم میں کھانا پینا ترک کردینا بالکل فطری بات ہے۔ اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کی موت مٹی میں شریک ہونا سماجی و معاشرتی فرض ہے اور ہم مسلمان یہ فرض بہ خوبی ادا کرتے ہیں۔ زندگی کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہو، کسی مسلمان بھائی کے انتقال کی خبر آتے ہی مصروفیات ترک کرکے اور وقت نکال کر میت کے گھر جانا، آخری سفر کی تیاریوں میں شریک ہونا اور اپنے مسلمان بھائی کو قبرستان تک پہنچانے کا فریضہ بخوبی ادا ہوتا ہے۔ بوڑھے کمزور مرد، عورتیں اور بچے سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے اپنوں کے غم میں شریک ہونے چلے آتے ہیں۔ گھنٹوں بھوک، پیاس برداشت کی جاتی ہے اور ایک رشتہ دار دوسرے کے غم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا گیاہے کہ ایک دوسرے کے گھر دو مواقع پر تو جانا لازمی ہے۔ ایک شادی کے موقع پر دوسرے موت کے وقت۔ ہمارا دین بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہم رشتہ داروں اور دیگر اہل ایمان کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوں۔

ایک بارمجھے اتفاقاً ایک قریبی رشتہ دار کے گھر میت میں جانا پڑا۔ بے دلی سے میت کے گھر پہنچی۔ آخری دیدار کیے۔ اہل خانہ کو تسلی کے دو لفظ کہے وہ بھی بے دلی سے۔ میری آنکھوں کے سامنے مرد حضرات سوگوار کھڑے تھے خواتین زار زار رو رہی تھیں مگر میری آنکھیں خشک تھیں۔ موقع بے موقع معمولی بات پر دریا کی طرح بہہ نکلنے والے میرے آنسو آج پتہ نہیں کیوں خشک ہوگئے تھے۔ خواتین کے مجمع میں، میں موجود تھی مگر وہاں ہوکر بھی وہاں نہیں تھی۔ مجھے اپنی اس حالت پر غصہ بھی آرہا تھا مگر میں مجبور تھی۔ میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان تھا۔ اور یہی سوال ذہن میں بار بار گردش کررہا تھا کہ کیا صرف کسی کے انتقال پر ہی ہمیں ایک دوسرے کے قریب ہونا چاہیے؟ کیا ہم صرف موت کے غم بانٹنے کے لیے ہی مسلمان ہیں؟

انسان کی زندگی میں کئی بار ایسا وقت آتا ہے جب وہ کسی کی موت سے زیادہ غمگین ہوتا ہے۔ اس کے سینے میں دکھ درد کا دریا امڈا ہوتا ہے۔ اور ایسے ایسے مخلصوں کی تلاش ہوتی ہے، جن کا دامن تھام کر رولے اور اپنا غم ہلکا کرلے، لیکن ایسے میں بھی میت کے گھر میں موجود ڈھیر سارے رشتہ داروں میں ایک دوسرے سے منہ پھیر کر بیٹھنے والے رشتہ داروں کی کمی نہیں ہوتی۔ ایک ہی محفل میں چاہے خوشی کی ہو یا غم کی، بغیر سلام کیے شریک ہونے والے بھائی بھی کم نہیں ہوتے۔ اپنے ہی گھر میں پرائے بن جانے والے رشتہ دار بھی نظر آتے ہیں۔ آج رشتوں کی مضبوط دیوار بھربھری ریت کی مانند زمین دوز ہوچلی ہے، خاندانی نظام درہم برہم ہوچکا ہے، ایک مسلمان کے گھر بیاہی گئی دوسرے مسلمان کی بیٹیاں اپنی ہی بہنوں کی جڑیں کاٹنے میں مصر وف ہیں اور خاندان کو جوڑ کر رشتوں کو ملانے کے بجائے رشتوں میں دیوار کھڑی کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ حقوق و فرائض کی جنگ میں لوگوں نے صرف حقوق کی حدیث رٹ لی ہے فرائض کا درس بھول گئے ہیں۔ ایک ہی خاندان کے افراد میں آپس میں سرد مہری اور بے حسی کے جراثیم اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی اپنے ہی بھائی کی صورت سے بے زار ہے بوڑھے والدین سہارے کی خاطر اپنے بیٹوں اور بہوؤں کے بے دام کے غلام بن گئے ہیں اور اولا کی تفریق جیسے گناہ عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ کئی خاندانوں میں یتیم نواسے نواسوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے ہر شخص کو دوسرے کے عیوب صاف نظراً جاتے ہیں، کسی کی نظر اپنے عیوب پر نہیں ہے۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ایسا ہے تو کیوں ہے؟؟

رشتہ داروں میں ایک دوسرے کے مسائل میں دلچسپی لینا تو دور ایک خوشحال خاندان کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ اس کا ہی ایک رشتہ دار بھائی یا بہن زندگی میں کن حالات سے گزر رہا ہے اور کن صدموں سے دوچار ہے انھیں کسی سہارے، کسی حوصلے کی ضرورت ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟

عبادات اور حج و زکوٰۃ کے معاملے میں بھی آج ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر جیسے سبقت لے جانے میں مصروف ہے گویا یہ بھی ایک ریس کا میدان ہے کہ لوگ زیادہ سخی اور زیادہ پیسے والے تصور کیے جائیں۔ ایک بار فریضہ حج کی ادائیگی سے لوٹ کر آنے کے بعد مالدار دوسری مرتبہ حج یا عمرہ کو جانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ ا نھیں یہ خبرنہیں ہوتی کہ ہمارا ہی بھائی، ہماری ہی بہن کن خطرناک بیماریوں سے لڑ رہے ہیں۔ اور کن حالات سے دوچار ہیں۔ بڑے بڑے مالدار لوگوں کے انتہائی قریبی رشتہ دار بھوک اور افلاس کا شکار کیوں ہیں۔ کیا ہماری عبادات اور ہمارے حج ہمیں اپنے قریبی رشتہ داروں کی فلاح و خوشحالی کے بارے میں سوچنے کے قابل نہیں بناتے؟ جبکہ اللہ کے رسول نے صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کی بڑی تاکید کی ہے۔ یہاں تک کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں بھی قریبی رشتہ داروں کو ترجیح دی گئی ہے اور ایسے لوگوں کے لیے دوہرے اجر کی بشارت دی گئی ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم صلہ رحمی کے خواہش مند ہوں اور یہ سوچیں کہ ہمارا فلاں رشتہ دار آخر ہمارے گھر برسہا برس سے کیوں نہیں آیا؟ اور ہم ان کے یہاں اتنی طویل مدت گزرجانے کے باوجود کیوں نہ گئے اور ان کے حالات سے واقفیت کیوں نہ رکھی۔ صرف خوشی اور غمی میں ہی رشتہ داروں کے یہاں جانے کی روایت چھوڑ کر صلہ رحمی کے پیشِ نظر ایک مضبوط تعلق رشتہ داروں سے بنانا ہمارے دین کا تقاضا ہے اور سماجی و معاشرتی ضرورت بھی۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو کہیں نہ کہیں اپنی دینداری میں کچے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر حسینی کوثر سلطانہ (اورنگ آباد)

Leave a Reply