گھر کو دیں نیا منظر

آپ کا گھر اور اس کی آرائش کا انداز آپ کے ذوق اور سلیقہ مندی کو ظاہر کرتا ہے۔ گھر کی آرائش کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھر میں قیمتی سامان آرائش ہو، شوپیس اور خوبصورت نظر آنے والی اشیاء ہوں اور اس پر خطیر رقم صرف کی گئی ہو۔ اس میں کمال یہ ہے کہ گھر کی اشیا کو سلیقہ مندی کے ساتھ اس طرح لگایا گیا ہو کہ جو چیز جہاں ہو نہایت موزوں اور مناسب معلوم ہوتی ہو۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذہن میں کوئی نیا خیال نہ ہونے کے سبب ہم گھر کی آرائش میں ناکام ہوتے ہیں۔

بھاری رقم صرف کرکے اور قیمتی سامان خرید کر گھر کی آرائش کوئی کمال نہیں، بلکہ کمال یہ ہے کہ کم سے کم خرچ میں سادگی کے ساتھ گھر کے موجود سامان کو حسین ترتیب دی جائے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آپ کس طرح اپنے گھر کو خوبصورتی سے سجائیں:

٭ آپ اپنے گھر کے فرنیچر اور موجود دیگر اشیا کی ترتیب میں تبدیلی لاکر گھر کو ایک نیا لُک یا منظر دے سکتی ہیں۔ مثلاً بیڈ روم میں بیڈ اور الماری کی جگہ اور رخ تبدیل کردیں۔ انسان کیونکہ تبدیلی پسند ہے اس لیے مختلف ڈھنگ سے سیٹ کرنا ہی اچھا لگنے کا سبب ہوگا۔ اور آپ کو نئے پن اور تازگی کا احساس ہوگا۔

٭ پورے گھر کو نیا رنگ کرانے میں سرمایہ بھی خرچ ہوتا ہے اور کافی زحمت بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن دونوں چیزوں سے بچتے ہوئے بھی آپ اپنے گھر کے منظر اور لُک کو اور خوبصورت بناسکتی ہیں۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ آپ اپنے گھر کی ’’مرکزی دیوار‘‘ کو جس پر سب سے زیادہ نظر پڑتی ہو اور آتے جاتے اس پر زیادہ دھیان دیا جاتا ہو، کسی مختلف رنگ سے پینٹ کرالیں۔ اسے مرکز نگاہ بنانے کے لیے اس پر کوئی خوبصورت سی پینٹنگ، سینری یا ڈیکوریٹیو چیز فریم کراکر لگادیں۔ اس کے مقابل میں بیٹھنے اٹھنے کا سامان کرسیاں، صوفا یا پلنگ اس طرح ڈالیں کہ نگاہ اسی دیوار پر پڑتی ہو۔ اس طرح وہ خوبصورت دیوار نگاہوں کا مرکز بن جائے گی۔

٭ گھر میں لگے پودوں کو بدل کر دوسرے پودے لگائیں یا پودوں کی جگہ کا تبادلہ کردیں۔ اگر آپ نے گھر میں انڈور پلانٹس نہیں لگا رکھے ہیں تو اب لگالیں۔ اگر پودے نہیں لگا سکتی ہیں تو بازار میں خوبصورت گلدستے ا ور پودے دستیاب ہیں جو بالکل اصلی جیسے لگتے ہیں اور میلے ہونے پر دھوئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح وہ پھر تازہ معلوم ہونے لگتے ہیں۔

٭ گھر میں لگی پینٹنگ اور دوسری سینری وغیرہ کی جگہ تبدیل کردیں۔ اگر ان کا فریم پرانا اور بوسیدہ ہوگیا ہے تو نئے فریم میں فٹ کراکر لگائیں۔ نئے اور پرانے فریم کو دھیان اور غوروفکر کے بعد ایسے انداز میں سیٹ کریں کہ بھدا معلوم نہ ہو۔ اسی طرح گھر کے چھوٹے چھوٹے شوپیس، فلاور یا لیمپ وغیرہ کی جگہ بھی تبدیل کرکے لک کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ میلا ہونے کی صورت میں مناسب انداز سے صفائی بھی گھر کو نیا رنگ دینے میں معاون ہوتی ہے۔

٭ بچوں کے کھلونے اور ان کی گڑیا وغیرہ بھی آپ کے گھر کو تازگی اور حسن دیتی ہیں اس لیے ان کی چیزوں کو بھی ترتیب، سلیقہ اور صفائی سے رکھیے اور ان کے لیے ایسی جگہ منتخب کیجیے جو محفوظ بھی ہو اور خوبصورتی کاذریعہ بھی بنے۔

٭ جس گھر میں چھوٹے بچے ہوتے ہیں وہاں دیواریں ان کابلیک بورڈ بن جاتی ہیں۔ انہیں دیواروں پر ABCDلکھنے اور تصویریں بنانے میں مزہ آتا ہے۔ بچوں کو سمجھائیں کہ دیواروں پر لکھنا اچھی بات نہیں۔ اس کا متبادل بھی پیش کریں۔ اس کے لیے بچوں کے استعمال والے کمرہ میں اس جگہ جہاں بچے سب سے زیادہ وقت گزارتے ہیں ایک بڑا سا تھرماکول کا نوٹس بورڈ بنواکر لگادیں اور بچوں سے کہیں کہ وہ جو بھی پینٹنگ بنائیں اسے رنگ بھرنے کے بعد اس بورڈ پر پن کی مدد سے لگادیں۔ اس طرح ان کی تخلیقی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کی کوششوں کو لوگوں کی ستائش بھی ملے گی اور گھر کو نیا پن بھی میسر آئے گا۔ اس بورڈ پر آپ اخبارات کے تصویری تراشے، تاریخی عمارتیں اور جانوروں اور گاڑیوںکی تصویریں بھی بچوں سے کٹوا کر لگوا سکتی ہیں۔

٭ رنگ برنگے کاغذ اور پلاسٹک سے بنے کرافٹ آئٹم بھی آپ کے گھر کو خوبصورت لک دے سکتے ہیں۔ گولڈن اور سلور کلر کی پلاسٹک سے بنی زنجیریں، گلدستے اور رنگین کاغذ سے تیار شدہ اشیا گھر کی سجاوٹ کا بھی ذریعہ ہوں گی اور بچوں کو تعلیم و تربیت میں معاون بھی۔

گھر کی آرائش میں سب سے اہم چیز تبدیلی اور ’’کچھ نئے ڈھنگ سے سیٹ کرنے کا شوق‘‘ ہے۔ اگر آپ کو تبدیلی لانے کا شوق ہے تو یقینا آپ ہمیشہ اپنے گھر کو تازگی بھرے مناظر دیں گی جو یقینا آپ کی سلیقہ مندی اور آپ کے ذوق جمال کی نمائندگی کرے گا۔

اور ہاں آپ کا گھر آپ کی سلیقہ مندی کی علامت ہی تو ہے اس لیے آئیے مقابلہ کرتے ہیں گھر کو خوبصورت بنانے کا۔

شیئر کیجیے
Default image
عفت صدیقی

Leave a Reply