بچوں کا نفسیاتی استحصال

خالد کو روزانہ جیب خرچ کے لیے پانچ روپئے ملتے تھے۔ ایک روز اس کے ایک کلاس فیلو نے جو عمر میں اس سے کافی بڑا تھا کہا کہ پانچ روپئے مجھے قرض دے دو کل واپس کردوں گا۔ کل خالد نے جب اس سے پیسے مانگے تو اس نے کہا کہ تم نے مجھ سے پیسے مانگے تو میں تمہارے ابو سے شکایت کردوں گا کہ خالد مجھے گالی دیتا ہے۔ گالی کے تصور سے وہ کانپ اٹھا۔ اس کا کلاس فیلو اس کی کمزوری کو سمجھ گیا اور جب اسے اس سے پیسے لینے ہوتے تو وہ یہی دھمکی دے کر اس سے پیسے لے لیتا اور خالدچار و ناچار اسے اپنا جیب خرچ دے دیا کرتا۔

نہال کو قرآن ناظرہ پڑھانے کے لیے اس کے والد نے گاؤں کی مسجد میں چل رہے مکتب میں داخل کردیا۔ اس کی عمر بہ مشکل پانچ سال رہی ہوگی۔ اؔبؔ تؔ کی تختی اس نے پوری یاد کرلی مگر جب حافظ جی کے پاس وہ سنانے جاتا تو الف کے بعد اگلا حرف اسے یاد نہ آتا۔ کئی ہفتوں یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آخر حافظ جی نے اسے بدھو اور کم عقل قرار دے دیا۔ اپنے ساتھیوں اور گھر والوں کو حالانکہ وہ اؔ سے یؔ تک پوری تختی سنادیتا تھا مگر حافظ جی کے سامنے جاتے ہی الف کے بعد اسے کچھ یاد نہ رہتا۔ بالآخر قرآن پڑھنا سیکھنے کے بجائے وہ بدھو اور کم عقل ہونے کی سند لے کر مکتب سے نکل گیا۔ اور وہ آج تک ناظرہ قرآن پڑھنا نہیں جانتا، حالانکہ اس نے بی اے کرلیا ہے۔

ارشد و افضل دو بھائی ہیں۔ افضل بڑا ہے اور طبیعتاً نیک اور سادہ ہے، جبکہ ارشد چھوٹااور شریر ہے گھر کے لوگوں کا خیال ہے کہ افضل تو اپنے نام کی ضد ہے۔ پھر گھر کے لوگوں کا افضل کے سلسلے میں یہ ذہن بن گیا کہ وہ سست، کاہل اور ناکارہ ہے۔ جب کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو ہمیشہ افضل کے بجائے جو بڑا تھا ارشد کے سپرد کیا جاتا۔ کہیں بھیجنا اور جلد واپس بلانا ہوتا تو ارشد کو یہ کہہ کر بھیجا جاتا کہ افضل کو اگر بھیجا گیا تو وہ دیر سے آئے گا اور ارشد ادھر گیا اورادھر آیا۔ ارشد کو مواقع دیے جاتے اور اسے سراہا جاتا جبکہ افضل کو محروم رکھا جاتا اور اس پر تنقید ہوتی اور پھر ارشد سے اس کا مقابلہ کیا جاتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ارشد زندگی کی دوڑ میں آگے نکل گیا اور لوگوں نے افضل کی سادگی کو ہدف ملامت بناکر اس کی شخصیت کو کچل ڈالا۔ نہ وہ تعلیم میں کوئی مقام حاصل کرسکا اور نہ عملی زندگی میں ابھی تک کامیاب ہوسکا۔

یہ بچوں کے نفسیاتی استحصال کی تین مثالیں ہیں۔ گھر کے باہر، اسکول اور مدرسے میں اور خود گھر کے اندر۔ اسکول، گھر اور باہر کا ماحول تینوں مل کر بچے کی شخصیت سازی کرتے اور زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ ان تینوں میں سے ہم کسی کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔ بچے کو ان سے کاٹ کر رکھ سکتے ہیں۔

کیا ہے نفسیاتی استحصال؟

بچوں کے ساتھ ایسا برتاؤ جو ان کے شخصی ارتقا میں رکاوٹ بنے یا نفسیاتی اعتبار سے اس کے لیے درست نہ ہو نفسیاتی استحصال کہلاتا ہے۔ نفسیاتی استحصال جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ خطرناک اور تکلیف دہ ہے۔ اس لیے کہ جسمانی طور پر لگے زخم تو بھر جاتے ہیں مگر نفسیاتی طور پر پہنچی ہوئی چوٹوں کا اثر قائم رہتا ہے اور یہ اس کے ذہن و دماغ اور اس کی قوت فکر وعمل کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

عام سماج میں لڑکیاں کیونکہ زیادہ دبی کچلی ہوتی ہیں اور والدین کی طرف سے زیادہ نظر انداز کی جاتی ہیں اس لیے وہ زیادہ نفسیاتی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔

کونسی چیزیں نفسیاتی استحصال ہیں؟

٭ بچوں کو نظر انداز کیا جانا، بنیادی ضرورتوں کی تکمیل سے محروم رہنا اور ان کی عام نفسیاتی ضرورتوں کو نہ سمجھنا۔

٭ کسی کے سامنے بچے کو ہدف تنقید بنانا، اس کی توہین کرنا یا شرمندہ کرنا۔

٭ بچے کو غیر ضروری طور پر غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا، غلطی تمہاری ہے، اگر ایسا نہ کرتے تو یہ ہوتا، وغیرہ کہنا۔

٭ ہمیشہ بچے کی خامیوں، کمزوریوں اور کوتاہیوں کا تذکرہ اکیلے میں یا دوسروں کے سامنے کرنا۔

٭ دوسرے بچوں سے اس کا مقابلہ کرنا،ان کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر اور ان کی خامیوں کو زیادہ بتانا۔

٭ بچوں سے ہمیشہ غصہ سے اور جھڑک کر بات کرنا، چیخنا چلانا اور ڈرانا دھمکانا۔

٭ بچوں کو بار بار سزا دینا، پیار و محبت میں کمی کرنا اور محبت کا احساس نہ دلانا۔

٭ بار بار بچوں کو بدھو، بے وقوف، ناکارہ وغیرہ کے الفاظ سے نوازنا وغیرہ۔

اس نفسیاتی استحصال کے مجرم گھر کے افراد، خود والدین، اسکول کے اساتذہ یا سماج دیگر افراد اور رشتہ دار بھی ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح اسکول میں ساتھ پڑھنے والے طلبہ و طالبات بھی آپ کے بچوں کے نفسیاتی استحصال کے مجرم ہوسکتے ہیں۔

بچے کی شخصیت پر اس کا اثر

نفسیاتی استحصال کے شکار بچوں میں اس کے اثرات دو طرح سے پڑتے ہیں۔ ایک تو جسمانی اثرات جو صحت کے اعتبار سے اسے کمزور اور مختلف بیماریوں کا شکار بناتے اور اس کے جسمانی ارتقاء کی راہ میں رکاوٹ بن کر تا حیات اسے کئی قسم کے جسمانی امراض میں مبتلا کردیتے ہیں۔ دوسری طرف اس کے نفسیاتی اثرات بھی ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ اس میں چند درج ذیل ہیں:

٭ نفسیاتی استحصال کا شکار بچے اپنے آپ میں گم رہنے والے اور لوگوں سے ملنے جلنے سے کترانے والے ہوتے ہیں۔

٭ ڈرپوک اور تذبذب کا شکار رہتے ہیں اور زندگی کے خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھودیتے ہیں۔

٭ باغی طبیعت بن جاتے ہیں اور حوصلوں و امنگوں سے خالی ہوتے ہیں۔

٭ مایوسی اور ناامیدی کا زیادہ شکار رہتے ہیں اور کبھی کبھی یہ چیز ان کو ذہنی تناؤ اور ڈپریشن تک لے جاتی ہے۔

٭ عدم تحفظ کی نفسیات کا شکار ہوجاتے ہیں اور اکثر محبت کی تلاش میں رہنے کے سبب دھوکے اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں اور گمراہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

٭ بچے کی پوری شخصیت ٹھٹھر کر رہ جاتی ہے اور عملی زندگی میں اپنا مقام بنانے میں وہ ناکام ہوتے ہیں۔

کیا کیا جائے؟

بچوں کا نفسیاتی استحصال خواہ والدین اور گھر کے افراد کی طرف سے ہو یا اسکول اور سماج کے لوگوں کی طرف سے اس کے اثرات نہ صرف بچپن کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بڑے ہونے پر بھی انسان اس کے برے اثرات کی گرفت سے نہیں نکل پاتا۔ اگر گھر اور اسکول دونوں جگہ بچے کو مناسب اور موزوں ماحول ملے تو اس کی شخصیت کے ارتقاء کی رفتار تیز ہوتی ہے۔اور اس کی ذہنی و فکر صلاحیتیں فروغ بھی پاتی ہیں اور نکھار بھی۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ گھر میں ماحول مخالف ہو لیکن اسکول کا مناسب ماحول باہر کے دونوں حصوں، اسکول اور سماج کے دیگر افراد کے ذریعے کیے گئے نفسیاتی استحصال کے اثرات کو زائل ضرور کرسکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بچے کے لیے گھر کے ماحول کو ایسا ساز گار بنایا جائے کہ وہ اس کی شخصیت کی تعمیر میں رکاوٹ بننے کے بجائے مثبت رول ادا کرے۔

بہت سے والدین بچے کے سلسلہ میں اپنے رویہ کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ اس کو بار بار ڈانتے ڈپٹتے اور دوسرے بچوں سے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کی خوبیوں اور اپنے بچے کی کمیوں کا ذکر کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ بچہ اس طرح آگے بڑھنے کا حوصلہ اور غلطیوں کو سدھارنے کا جذبہ پیدا کرے گا۔حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ ایسا کرکے وہ اپنے بچے کی زندگی تباہ کررہے ہوتے ہیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کا بچہ آپ سے ہی دور ہوجائے اور پھر کسی اور راہ پر چل پڑے۔

بچے کو اسکول بھیج کر اور اس کے شوق پورے کرکے والدین بچے کی محبت کا حق پورا ادا نہیں کردیتے، بلکہ اولاد سے محبت کا تقاضا ہے کہ آپ بچوں سے محبت کریں اور اس کا احساس دلائیں کہ ہم تمہارے خیر خواہ اور محبت کرنے والے ہیں۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد سے اس طرح بے تکلف اور محبت کا معاملہ کریں کہ بچہ ان سے اپنی ہر بات بلا خوف اور بلا جھجھک بتادے۔ اس طرح کے برتاؤ سے آپ اپنے بچے کے مکمل حالات سے واقف رہ سکیں گے اور بچہ اپنی گزری ہر بات کو بناکر سکون حاصل کرے گا۔ ایسی صورت میں آپ اس کی مدد کرتے ہوئے اسے استحصال سے نجات دلاسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ جسمانی استحصال کا اکثر سبب اور طویل مدت تک جاری رہنا اسی وجہ سے ممکن ہوتا ہے کہ بچہ اپنے اوپر گزری کیفیت اور مشکل کو اپنے والدین سے بیان کرنے کی جرأت نہیں کرپاتا۔

اس لیے بچے کے دوست بنئے اور ہر ایسی شئے سے بچئے جو اس کے استحصال کا سبب ہو ۔ اور ہر اس چیز سے بچانے کی فکر کیجیے جو اس کی شخصیت کی تعمیر میں رکاوٹ بنے۔

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply