غزل

مطلوب ہمیں دولت دنیا بھی بہت ہے

جنت کی مگر دل میں تمنا بھی بہت ہے

سر اپنا در غیر پہ جھکتا بھی بہت ہے

توحید پہ ایمان کا دعویٰ بھی بہت ہے

جو شدت خورشید سے گھبرا گئے ان کو

بارش نہ سہی ابر کا سایہ بھی بہت ہے

اجداد کی بخشی ہوئی دولت کو اڑا کر

یاروں نے مرا جشن منایا بھی بہت ہے

پہچان بھی انسان کی دشوار ہے لوگو

ہر چہرہ یہاں یوں تو دمکتا بھی بہت ہے

جو طالب گل ہیں انہیں گل بخش دے مالک

مجھ کو تِرا بخشا ہوا کانٹا بھی بہت ہے

کیوں آپ مری صحرا نوردی پہ ہیں خنداں

کھویا ہے اگر ہم نے تو پایا بھی بہت ہے

یہ صبح مسرت ہے عجب صبح مسرت

سورج بھی منور ہے اندھیرا بھی بہت ہے

کیا غم ہے اگر سارا زمانہ ہے مخالف

ہم کو تو قمرؔ اس پہ بھروسا بھی بہت ہے

قمرؔ رسول

شیئر کیجیے
Default image
پوری

Leave a Reply