مطالعہ قرآن – کچھ بنیادی باتیں

رمضان کا مہینہ آتے ہی مسلم معاشرہ میں ایک روحانی زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور پورا معاشرہ روزے اور تراویح کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ تراویح اس ماہ کی خاص عبادت ہے جس میں مسلم سماج کو قرآن سے جڑنے کی تلقین پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنِ‘‘ کہہ کر یہ بات واضح کردی ہے کہ اس ماہ کی تمام عظمتیں اسی وجہ سے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب ہدایت اس ماہ میں نازل ہوئی۔ جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور کریں۔‘‘ (الحشر:۲۱)

قرآن کریم کا مطالعہ انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ’’ہُدًی لِلنَّاسِ‘‘ کہہ کر واضح کیا ہے۔ مگر کیا ہدایت صرف بلا سمجھے اور سوچے پڑھنے سے حاصل ہوسکتی ہے؟ جبکہ قرآن جگہ جگہ اسے سمجھنے اور غوروفکر کرنے کی دعوت دیتا ہے:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۔

’’کیا لوگ قرآن پر غوروفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے پڑگئے ہیں۔‘‘

بلا شبہ قرآن مجید کی تلاوت باعث اجر و ثواب ہے اور اس کا اجر کتنا عظیم ہے اس بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس گنا ہوتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔ الف، لام اور میم ہر ایک الگ الگ حرف ہیں۔‘‘

ایک اور جگہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِیْہِ اُلْبِسَ وَالِدَاہُ تَاجاً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

’’ جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ قرآن میں ہے اس پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا۔‘‘

چنانچہ یہ بات ہمارے سامنے بے شمار اقوال رسول اور حیاتصحابہ سے آتی ہے کہ قرآن مجید کی حقیقی قدروقیمت اس بات میں ہے کہ ہم اسے سمجھ کر پڑھیں اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کو تبدیل کریں۔ قرآن پڑھنے کا اس قدر اجر و ثواب بتاکر امت کو قرآن سے جوڑ اگیا ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے ہدایت پائیں اور اپنے تمام اخلاقی و روحانی امراض سے شفا حاصل کریں۔ قرآن کے معنی و مفہوم کو سمجھے بغیر پڑھ کر مطمئن ہوجانا دراصل بہت کم پر قناعت کرلینا ہے۔ اصل مقصود تو اس پر عمل ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک ہم سوچ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش نہ کریں۔

ذیل میں ہم مطالعہ قرآن سے متعلق چند ایسی باتیں پیش کررہے ہیں جو اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی کریں اور قرآن ہماری زندگی میں تبدیلی کا ذریعہ بن جائے۔

(۱) اجر کے ساتھ ہدایت کا حصول

قرآن کریم کتاب ہدایت ہے اور اس لیے نازل کی گئی کہ انسان ہدایت حاصل کرے اور جانے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے۔ کن کاموں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور کن چیزوں سے رکنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ انسانی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا ربانی حل کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کس طرح زندگی گزارے کہ اس کا مالک و خالق اس سے خوش ہوجائے اور اس کی زندگی دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہم کنا رہوسکے۔

اگر قرآن کے مطالعے کے وقت ہماری سوچ یہ ہو تو ہمارا طرز فکر عام انسانوں سے مختلف ہوگا جو محض اجر کی خاطر قرآن پڑھتے ہیں۔ رہی اجر کی بات تو اجر ملنا تو طے ہے اور وہ بھی اسی کے مطابق جس طرح اللہ کے رسول نے وضاحت فرمائی کہ ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور ہر نیکی کا اجر دس گنا ہوگا۔

(۲) زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کریں

قرآن کریم انسانی زندگی کے مختلف مراحل اور گوشوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے چنانچہ ضروری ہے کہ ہم اپنے مسائل کے وقت قرآن سے رجوع کریں۔ اسی طرح قرآن پڑھتے وقت جو احکامات ہمارے سامنے آئیں، انہیں ہم پہلے دل کے صفحات پر نوٹ کریں اس کے بعد کسی نوٹ بک میں لکھ لیں۔ مثال کے طور پر بچے کو دودھ پلانے اور اس سے متعلق مسائل میں قرآن کیا کہتا ہے۔ جائداد اور میراث کی تقسیم میں قرآن کا کیا حکم ہے۔ نکاح و طلاق کے متعلق قرآن کیا کہتا ہے۔ ہمارے باہمی معاملات، تعلقات اور روز مرہ کی زندگی میں قرآن کی رہنمائی کیا ہے۔ اسی طرح پاکی، صفائی اور طہارت سے متعلق نیز خواتین کے دیگر مسائل سے متعلق قرآن کی رہنمائی کیا ہے۔

مختلف امور میں قرآن کی رہنمائی مل جانے کے بعد اس پر عمل کا عزم کرتے ہوئے قرآن کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ اس طرح یہ ہمارے لیے باعث اجر و ثواب بھی ہوگا اور ہماری زندگی میں انقلاب، تبدیلی اور اسے خدائی رہنمائی کے مطابق گزارنے میں بھی مدد دے گا۔

(۳) ترجمہ و تفسیر کا انتخاب

قرآن کریم عربی زبان میں ہے اور عربی زبان ہم نہیں جانتے۔ اس طرح قرآن کے مفہوم کو سمجھنے میں ہمارے سامنے عربی زبان نہ جاننے کی رکاوٹ حائل ہے۔ مگر اللہ کے فضل سے ہمارے علما اور اہل علم نے اس رکاوٹ کو بڑی حد تک دور کردیا ہے۔ آج دنیا کی تقریباً ہر ایک زبان میں قرآن کریم کے ترجمے اور تفسیریں دستیاب ہیں۔ اردو زبان میں کئی مشہور ترجمے اور تفسیریں اب بازار میں مل جاتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن، مولانا عثمانی کی بیان القرآن، مولانا امین احسن اصلاحی کی تدبر قرآن، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن اور کئی دیگر معتبر اور معروف علماء کی تفسیریں موجود ہیں۔ اسی طرح کئی بزرگ علماء نے قرآن مجید کے عام فہم ترجمے بھی کیے ہیں جو بہ آسانی دستیاب ہیں۔

اردو کے علاوہ انگریزی، ہندی اور ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں بھی قرآن مجید کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ اپنی پسند کے مطابق مذکورہ تفاسیر میں سے کوئی ایک یا کوئی ترجمہ قرآن حاصل کرلیں اور اس کا مطالعہ اس طرح کریں کہ عربی عبارت کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ اور مفہوم یا تفسیر پڑھتی جائیں۔ اس طرح آپ کو معلوم ہوسکے گا کہ قرآن کی کس آیت کا کیا مطلب ہے اور ہم اسے اپنی عملی زندگی میں کیسے لاسکتے ہیں۔

(۴) زیادہ پڑھنے کے بجائے…

تلاوت قرآن میں ہمارا زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم روزانہ زیادہ سے زیادہ آیتیں اور سورتیں تلاوت کریں۔ یہ شوق و ذوق اپنی جگہ قابل تحسین ہے ،لیکن قرآن کے مطالعہ کا مقصود اس سے ہدایت و رہنمائی حاصل کرنا اور اس کی آیات پر غوروفکر کرنا ہے، جو انسان کے دل کو نورِ الٰہی سے منور کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’اور اسی طرح اے نبی ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ مگر اس روح کو ہم نے روشنی بنادیا ہے جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔‘‘ (الشوری: ۵۲)

صحابہ نے حضورﷺ سے پوچھا: اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہُ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِنْ رَّبِہٖ۔ (الزمر:۲۲)میں شرح صدر سے کیا مرا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا:

جب نور دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کِھل اور کھُل جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا اللہ کے رسول اس کی علامت کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: دائمی گھر کی طرف رغبت اور رجوع اور دنیا سے بے رخی اور بے توجہی اور موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری۔‘‘

صحابہ کرامؓ کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک ایک آیت کو گھنٹوں پڑھتے رہتے تھے اور اس کے مفہوم کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کرتے تھے۔ جنت کے تذکرے سے دل خوش ہوجاتے اور جہنم و عذاب کے تذکرے سے وہ رو پڑتے تھے۔ صحابہ کی زندگی بتاتی ہے کہ وہ مقدار سے زیادہ اس کے معنی و مفاہیم سمجھنے پر قوت اور وقت صرف کرتے تھے۔

(۵) مطالعہ قرآن کے حلقے

قرآن سے زندگی حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس کا مطالعہ کریں اور غوروفکر میں ایک سے زیادہ لوگوں کو شریک کریں۔ اس طرح ہم قرآن کے معانی و مفہوم کی گہرائیوں میں زیادہ اتر سکیں گے۔

اس کی ایک ترکیب تو یہ ہے کہ ترجمہ و تفسیر لے کر گھر کے تمام افراد ایک جگہ بیٹھ جائیں اور ایک آیت پڑھ کر اس کا ترجمہ کریں اور لوگ اپنی فہم کے مطابق اظہار خیال کریں اور ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی صاحب علم اور عالم و فاضل خاتون کو دعوت دی جائے اور ان کی موجودگی میں ترجمہ و تفسیر پڑھا جائے اور پھر اس کے معنی و مفہوم پر باہمی گفتگو ہو اس طرح ہم زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

رمضان المبارک کا مہینہ اس پہلو سے زیادہ موزوں اور مناسب لگتا ہے کہ خواتینکو درسِ قرآن کے حلقے قائم کرکے قرآن سمجھنے کی کوشش کریں، ان حلقوں میں ہم قرآن کو ایک طرف سے بھی شروع کرسکتے ہیں اور کچھ صورتیں بھی منتخب کرسکتے ہیں۔ اگر یہ بھی ممکن ہو تو کم از کم ان آیات کو ضرور منتخب کرلیں جن میں خواتین سے متعلق احکامات قرآن مجید میں دیے گئے ہیں۔

اگر ہم مطالعہ قرآن کے وقت ان باتوں کو پیشِ نظر رکھیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ قرآن مجید ہمارے لیے باعث رشد و ہدایت بن جائے گا اور ہم بے شمار اجر کے مستحق ہوکر اپنی زندگی کو قرآنی رہنمائی کے مطابق بنا اور سنوار سکیں گے۔

اور اگر ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو اجر و ثواب کے مستحق تو قرار پاسکتے ہیں مگر اپنی زندگی کو قرآنی نور سے منور کرنا ہمارے لیے ممکن نہ ہوسکے گا۔ تو کیا ہم واقعی اپنی زندگی کو نور قرآن سے منور

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply