عورت کے تئیںنظریہ تبدیل کر نے کی ضرورت

کسی قوم کی حالت کا صحیح اندازہ اس قوم کی عورتوں کی حالت سے لگایا جا سکتا ہے ۔ جس قوم کی عورتیں تعلیم یافتہ ، باشعور اور مہذب ہوتی ہیں وہی قوم صحیح معنوں میں ترقی یافتہ کہلانے کی مستحق ہے۔ پس ماندہ قوم عورتوں کو نفسیاتی طور پر کمزور سمجھ کربے جا نگرانی میں رکھتی ہے۔ انہیں پابند بناتی ہے ، خود مختار نہیں ہونے دیتی۔ان پر شک کرتی ہے ،اعتبار نہیں کرتی۔ فتووں کی زبان میں بات کرتی ہے ،مخلصانہ و مشفقانہ مشورے نہیں دیتی۔ معیاری اور اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھ کر ان کی تربیت کی کوشش کرتی ہے اوران سے تقویٰ اور احسان کا ایسا مطالبہ کرتی ہے جو اس قوم کے مردوںسے ممکن نہیں ہوتا۔حتیّٰ کہ مردوں کی بڑی سے بڑی کجروی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا جاتاہے اور خواتین کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان کھڑے ہو جاتے ہیں ۔مسلم قوم میں عورتوں کو لے کر یہ تمام رویے اپنائے جاتے ہیں۔ ان باتوں کو لیپ پوت کر چھپانے سے بہتر ہے کہ انہیں بے کم و کاست بیان کردیا جائے تا کہ ان کے علاج کی واقعی فکر پیدا ہو ۔

مسلم معاشرہ میں عورتوں کے حقوق پر تقریریں چاہے جتنی ہو جائیں لیکن عملی طور پر متوسط طبقے میں مسلمان خواتین کے ساتھ’ نصف بہتر ‘کے بجائے’ نصف کمتر ‘کا سلوک ہی کیا جاتا ہے۔جب تک اس سلوک کی وجہ کو نظریاتی طور پر سمجھااور عملی طور پر دور نہیں کیا جاتا مسلمان خواتین پس ماندگی کی موجودہ حالت سے نہیں نکل سکتیں۔واضح رہے کہ عورتوں کی پس ماندگی بھی مسلمانوں کے زوال کی ایک بنیادی وجہ ہے جس کا لازمی نتیجہ ہمیں یہ دیکھنا پڑا کہ پوری قوم غیر متوازن ہو کر شکست و ریخت سے دوچار ہو گئی۔

مذہب اور پسماندگی

مسلمان عورتوں کی پس ماندگی تقریباً ہمہ گیر ہے۔متوسط طبقے کی مسلم خواتین دوسروں کی خواتین کے مقابلے میںتقریباً ہر اعتبار سے زیادہ پچھڑی ہوئی اس لیے ہیں کہ انتہاپسندمسلم علما نے اسلام کے نام پر ان پر ایسی پابندیاں لگا رکھی ہیں جو فی الواقع اسلام نے نہیں لگائی ہیں۔ دوسرے مذاہب کی خواتین بڑے اطمینان سے اپنے اپنے مذہبی و تہذیبی رسوم و روایات کو بالائے طاق رکھ کر دنیوی ترقی کی دوڑ میں شامل ہوتی ہیں جبکہ مسلمان عورتیں ، دین حق کی پیرو ہونے کے باوجود اور غالباً اسی کے سبب اپنے بنیادی دینی و مذہبی فرائض و واجبات تک کی ادائیگی کے لائق نہیں چہ جائے کہ وہ معاشرتی دوڑ میں دوسری خواتین سے مسابقت کریں۔

روایت پسند مرد علما، خواتین کو جس چیز سے منع کرتے ہیں ، وہ خدا اور رسول کا حکم سمجھ کراس سے رک جاتی ہیں اورجس چیز کا حکم دیتے ہیں اسے اختیار کرلیتی ہیں۔مگر عورتوں سے متعلق اسلامی احکام و ہدایات بیان کرتے وقت روایتی علما لاشعوری طور پر مرد انہ نقطہ نظر اختیار کر لیتے ہیں اور مردوں کی قوامیت کے دائرے میں اتنی وسعت پیدا کر دیتے ہیںکہ قوامیت ، الوہیت یعنی خدائی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے لیے وہ اس قسم کی احادیث کا سہارا لیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ خدا کے بعد اگر کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا تو وہ بیوی کو دیا جاتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔ چونکہ خواتین میںاعلیٰ دینی تعلیم کا فقدان ہے ،وہ قرآن و سنت سے خود استفادہ نہیں کر سکتیں ، اس لیے وہ علما کی طرف سے بیان کردہ جملہ احکام و ہدایات کی پیروی ہی کو اصل دین سمجھتی ہیں۔ حیرت ہے کہ عصری علوم تو دور خواتین میںدینی و شرعی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان ابھی تک زور نہیں پکڑسکا۔

تعلیم نسواں: گریزو فرار کے حیلے

تعلیم یافتہ اور شائستہ سمجھے جانے والے مسلم حلقوں میںا عتدال و توازن جیسے الفاظ کا کا فی چرچا رہتا ہے۔ ’امت وسط‘ ہونے کی بات انتہائی زور و شور سے دہرائی جاتی ہے لیکن اس بلند مقام تک پہنچا کیسے جائے اس کا کوئی قابل عمل نسخہ ہمارے پاس نہیں ۔کیا اسے اعتدال و توازن کی عمدہ مثال کہیں گے کہ ملت کے شائستہ سمجھے جانے والے گھرانوں میں زیادہ تر عورتیں محض پابند صوم و صلوٰۃ،امور خانہ داری میں ماہر، آٹھواں پاس یعنی خط و کتابت کے لائق ، ناظرہ قرآن پڑھی ہوں اور ان کے مرد عالم فاضل، دقیقہ سنج اور ہمہ گیر صلاحیت کے مالک ہوں ۔حتیٰ کہ مرد علما خود توبخاری و مسلم، بیضاوی، قدوری کا درس دیتے ہوں اور ان کی بیویاں بہشتی زیور، جنت کی کنجی ، دوزخ کا کھٹکا جیسی کتابوں تک ہی محدود ہوں؟

کیا وجہ ہے کہ بڑے بڑے سند یافتہ حضرات کے یہاں خواتین صرف ہائی اسکول پاس ہوتی ہیں ؟غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض عمل کی کوتاہی نہیں بلکہ یہ صورتحال تعلیم نسواں کے متعلق ایک ایسے نظریے کی عملی تفسیر ہے جس کے تحت عورتوں کواتنا ہی پڑھایا جاتا ہے جتنے کی ’ضرورت‘ ہے۔ اورخواتین کی ضرورت بس ’امور خانہ ‘تک محدود ہے ۔چہار دیواری سے باہر کیا ہو رہا ہے نہ اسے جاننے کی ضرورت ہے نہ اس میں پڑنے کی ۔ دنیا میں کیسے کیسے علمی و معلوماتی اور نظریاتی انقلابات آ رہے ہیں، ان کی سمجھ رکھنا اور ان کا سامنا کرنا صرف اور صرف مرد کا کام ہے۔ ناقابل انکار طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ گھر کو صرف عورت دیکھے گی اور گھر سے باہر صرف مرد ۔ عورت کا دائرہ عمل صرف اور صرف اس کا گھر ہے۔ یہیں پر اس کی ڈولی آئی تھی اور یہیں سے اس کا جنازہ اٹھے گا۔ یہی اس کی جنت ہے اور یہی اس کی معراج۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان عورتوں کے لیے عصری علوم کے دروازے از روئے شریعت بند سمجھ لیے گئے اوراعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کا حصول ان کے لیے آپ سے آپ شجر ممنوعہ قرارپا گیا ،چونکہ عورتوں کا دائرہ کار مردوں سے الگ مان لیا گیا ہے اس لیے ان کی تعلیم و تربیت، اورمطالعے کے موضوعات و مضامین بھی مردوں سے الگ قرار پاتے ہیں ۔ قدامت پرستوں کی طرف سے یہ مشورہ عرصہ ٔدراز سے دیا جا رہا ہے کہ خواتین سماجیات، سیاسیات، نفسیات ،جغرافیہ ، طبیعیات ، حیاتیات وغیرہ مضامین محض جنرل نالج کے لیے پڑھیں اور ہوم سائنس پر خصوصی توجہ دیں۔ الغرض ہر طرح سے کوشش یہی کی جاتی ہے کہ آدھی دنیا کی زندگی باورچی خانے ہی تک محدود ہو۔ دوسرے لفظوں میں خواتین امور خانہ داری کو چھوڑ کر امور مملکت میں ہرگزدخیل نہ ہونے پائیں۔

حالانکہ ایسے لوگ موجود ہیں جو مسلم لڑکیوں کو مختلف اسلامی اداروں میںاعلیٰ دینی تعلیم و تربیت حاصل کرنے دینے میں حرج نہیں سمجھتے۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جو خواتین کوعصری اداروں میںاعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔اور ان کے سامنے بھی یہی مسئلہ ہے کہ آخر اعلیٰ تعلیم کے بعد عورتوں کامشغلہ اورروزمرہ کا معمول کیا ہوگا ؟ اس مسئلے کے حل کے لیے یہ مان لیا گیا ہے کہ خواتین کم سے کم اسکول کالج میں توپڑھا سکتی ہیں ۔اس کے سوا دوسرے باعزت پیشے ہمیں اس لیے نظر نہیں آتے کہ ہم نے خواتین کو لے کرچند ایسے نظریے اورسپنے پال رکھے ہیں جو ہر وقت سر پر سوار رہتے ہیں اور کوئی معقول بات سوچنے نہیں دیتے۔

امورِخانہ داری = امورِ مملکت؟

کچھ سخت گیر عناصر عورتوں کا امور خانہ داری کو چھوڑ کر امور مملکت میںدخل دینا قیامت کی نشانی سمجھتے ہیں۔ عورتوں کا سیاسی و معاشی سرگرمیوں میںبھی حصہ لیناان کے نزدیک کفر سے کم نہیں۔ ان کی نظر میں عورت کا مصرف بس یہی ہے کہ ’’شادی بیاہ ہو،بچے ہوں، نماز قرآن پڑھے، بچوں کی تربیت کرے، کھانا پکائے دسترخوان سجائے ، کپڑے دھوئے یا واشنگ مشین میں ڈال دے، استری کرے ، گل بوٹے بنائے، منہدی کے ڈیزائن سیکھے، ماہنامے واہنامے پڑھے، اس سے آگے مسلم معاشرے میں عورتوں کا آخر کیا رول ہونا چاہیے؟‘‘ ان کی زبان یہ کہتے نہیں تھکتی کہ ’’مغرب نے عورت سے اس کی مامتا چھین لی ہے اور اسے بازار کی شئے بنا دیا ہے۔۔۔ اب عورتوں کو ماں کے رول میں لوٹنا ہوگا تاکہ وہ مربی کی حیثیت سے اپنی اولاد کی تربیت کرے۔‘‘ماں کے رول میں لوٹنا یا نہ لوٹنا مغرب کا مسئلہ ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ خواتین اپنے اوپر عائد ہونے والی فطری ذمے داریوں کو بہ حسن و خوبی انجام دیتے ہوئے کس طرح ہندوستانی معاشرے میں مثالی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایسا کردار جس سے کہ ان کا نسوانی وقار بھی باقی رہے اور وہ گھر سے باہر کی دنیا میں بھی انقلاب لا سکیں۔ ہر صورت میں ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ امورِ خانہ داری اور امورِ مملکت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

دائرہ کارکی بحث یااستحصال کی تکنیک ؟

عورت کو مربی کی حیثیت میں پیش کرنے والے حضرات کے نزدیک مسلم خاتون کی مربیانہ حیثیت کہاں سے شروع ہوکرکس جگہ ختم ہوتی ہے، اس کے متعلق کوئی واضح رہنمائی اب تک موجود نہیں ہے۔ عورت کو مربیانہ حیثیت میں پیش کرنے والے حضرات کے نزدیک مربی کا ایسا بندھا ٹکا فارمولا ہے جس میں ’امور خانہ داری‘ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ سب سے پہلے عورت اور مرد کے دائرہ کار کو اسلام کے ترجمان بن کر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے گھروں میں عورتوں کا استحصال جاری رہ سکے۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عورتوں پر کھانا بنانے اورکپڑے لتے دھونے کو نماز کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اہمیت کے ساتھ فرض کر دیتے ہیں۔ وہ شریک حیات کو ایک دایہ کے جملہ فرائض سونپ کریہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خواتین کو ان کے فطری دائرہ کار میں رکھا ہے اور ان کے لیے باعزت طریقے سے زندگی بسر کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔

خواتین کا دائرہ کار کولہو کے بیل اور آٹا پیسنے کی چکی جتنا نہیں ہو سکتا۔ ملت اسلامیہ ہند کے علما و مفکرین کااس بات کو بہ تکرار کہتے چلے جانا کہ’ اللہ تعالیٰ نے خواتین پر معاشی تگ و دو کا بوجھ نہیں ڈالا اور یہ ذمے داری مردوں پر ہے‘ در اصل ایک ایسا تکنیکی بیان ہے جس سے خواتین عمر بھر مردوں کی دست نگر اور ان کی محتاج بنی رہتی ہیں۔ان کے اندر امور خانہ داری کے سواکوئی دوسری فنی مہارت یا علمی صلاحیت حاصل کرنے کی تمنا نہیں جاگتی۔شوہر اوربال بچوں کے لیے دو وقت کھانا بنانے اوران کے کپڑے لتے دھونے ، پریس کرنے جیسے چھوٹے موٹے کاموں ہی میں ان کا سارا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ انہی چھوٹے موٹے کاموں کو خواتین کی عظیم ترین ذمے داری قرار دے کراسلام کی آڑ میں ان سے خدمت لینے کا جواز پیداکیا جاتا ہے۔ حالانکہ کھانا بنانا اور کپڑے لتے دھونا زوجہ پرفرض نہیں ہے اورنہ کسی طور یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مردوں کو اللہ تعا لیٰ نے امور خانہ داری( یعنی کھانا بنانا،برتن دھونا ، سینا پروناوغیرہ )کی انجام دہی سے رخصت دے دی ہے۔ یہ بھی کوئی شرعی حکم نہیں کہ مردوں کو کھانا نہیں بنانا چاہیے یاخواتین پر معاشی تگ و دو حرام ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کو اللہ تعالیٰ نے مردوں سے زیادہ آسانیاں اورسہولتیں دے رکھی ہیں ۔ باہمی سمجھوتے اور افہام و تفہیم کے ذریعے مرد اور عورت گھریلو کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے دینے کے بجائے خواتین کے روزمرہ کے مروجہ معمول ہی کو من جانب اللہ قرار دینا خواہش نفس کی پیروی کے سوا کچھ نہیں ۔واضح رہے کہ مردوں کا پورا متوسط طبقہ آٹھ گھنٹے آفس کی ڈیوٹی بجا کربقیہ اوقات میں چین کی بنسی بجاتا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ گھر اگر بیوی پر اس آٹھ گھنٹے کی محنت کا رعب بھی جماتا ہے۔جو کسی بھی طرح مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ اس لیے کہ اگر صاحب آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی سے آئے ہیں تو وہ بھی تو بارہ چودہ گھنٹے کام کرتی ہے۔

خواتین اور ورک کلچر

جب ایک بار یہ معلوم ہو گیا کہ عورتیں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں تو پھر اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی ان کا دائرہ کار طے کیا جانا چاہیے۔اور دائرہ کار طے کرنے کا اختیار صرف مردوں ہی کو نہیں ہے۔دین اور شریعت کی آڑ میں مردوں کی قوامیت کا حوالہ دے کر عورتوں کو یہ باور کراناکہ انہیں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ،دراصل انہیں شوہروں پر نامناسب حد تک انحصار کرنے کی ترغیب دینا ہے ۔ یہاں مسئلہ صرف عورتوں کے گذارے اور نان و نفقہ کا نہیں بلکہ ان کے وقار کا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس خاتون کو سینے پرونے اور گل بوٹے بنانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ آتا ہو وہ اپنے شوہر کے مرنے کے بعد یا تو وراثت میں ملنے والا سرمایہ خرچ کرے گی یا بیٹے کے آگے ہاتھ پھیلائے گی۔ بیٹے پر حق ضرور ہوتا ہے مگراپنے ذریعے حاصل کیے گئے سرمایے کی بات کچھ اور ہے۔ کیا اسلام یہی چاہتا ہے کہ خواتین زندگی بھر اِس اُس کے سامنے محض اپنا حق مانگتی پھریں اور مر د ’’اَن داتا ‘‘ بنے دنیا کی زمینوں کے بیشتر حصے پر قابض رہیں، تجارت اور صنعت و حرفت پر انہیں کا غلبہ ہو ؟ بازارِ حصص ان ہی کی مٹھی میں ہو، کل کارخانے ، کھیت کھلیان، موٹر گاڑیاں ،بنگلے وغیرہ صرف مردوں کے نام ہوں اور خواتین کو اس تمام دنیوی مال و متاع میں سے کچھ ملے بھی تو صرف اپنے اقربا کی موت کے بعد؟

پس عورتوں کا امپاورمنٹ انہیں معاشی طورپر طاقتور بنائے بغیر نہیں ہوسکتا۔بار بار یہ دہرانے کی ضرورت ہے کہ متوسط طبقے کی ایک خاتون کی معاشی ضروریات محض حق مہر پالینے اور نان و نفقہ حاصل کر لینے سے پوری نہیں ہو جاتیں۔ اگر شوہر تنگدست نہ بھی ہو اور بیوی کی تمام فرمائشیں پوری کر سکتا ہوتب بھی زوجہ کو معاشی تگ و دو کرنے سے روک کر اسے کاہلی اور بے عملی کی حالت میں مبتلا کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں ۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جس میں شوہر اب بھی مجازی خداسمجھا جاتا ہے جس کی مٹھی میں عورت کی تقدیر ہوتی ہے۔ وہی اس کی پسند و ناپسندکو طے کرتا ہے ۔ وہی طے کرتا ہے کہ عورت کو کب مائکے جانا ہے اور کب نہیں جانا ۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں باہمی افہام و تفہیم سے طے کرنے کی ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ہمارے معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مرد تو اپنی قوامیت کا واسطہ دے کر عورت کو اپنی اطاعت پر آمادہ کر لیتا ہے۔ مگر جب عورت اپنے حقوق پر اصرار کرے تو اس کوسر کشی اوربغاوت کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔ ایسا کرنے پر طلاق کے دو بول ،بول کر اس کی اوقات تک بتائی جا سکتی ہے ۔ان تمام حالات کے مد نظر اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ خواتین معاشی طورپرزیادہ سے زیادہ مضبوط ہوں ۔جب وہ معاشی طور پر استحکام حاصل کر لیں گی تو زوجین کے درمیان کے تنازعات طاقت سے نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے حل ہوں گے اور فریقین کو بات چیت کی میز تک آنے کے لیے تیار ہونا ہی پڑے گا۔ ان امور پرمنصفانہ نقطہ نظرسے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے ساتھ برابری کا سلوک ہو اور وہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں مساویانہ طور پر حصہ لے سکے۔

خواہ کسی بھی زاویے سے سوچا جائے خواتین کے تئیں ہمیں اپنے رویے کو ہی نہیں بلکہ اپنے نظریے کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔آئندہ زمانے کی خواتین کا کردارصرف گھر تک محدود نہیں رہ سکے گا بلکہ وہ سیاست و معیشت پر راست اثر انداز ہوں گی بلکہ ہو رہی ہیں۔میٹرو پالیٹن شہروں کی خواتین میں جو ورک کلچر پیدا ہو ا ہے وہ یقینانسوانیت کے شایان شان نہیں ۔ مگر اس کو بہانہ بنا کر بالذات ورک کلچر کو بر کہنا بھی صحیح نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خواتین کے لیے ایک متبادل ورک کلچر کی تشکیل کی جائے۔ انہیں روزگار سے لگایا جائے ۔

حالانکہ خواتین کے لیے روزگار کی بات کرنا ہمارے متوسط طبقے کی تہذیبی روایات میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ در اصل یہ اسلام نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور ثقافت ہے جس نے آدھی دنیا کو عضو معطل اور بے سرو سامان بنا کر چھوڑ دیا ہے۔اس مائنڈسیٹ کو بدلا جانا چاہیے اور متوسط طبقے کی خواتین کے لیے ان کے شایان شان ذریعۂ معاش اور ورک کلچر پیدا کرنے کی طرف توجہ کی جانی چاہیے۔خواتین میں ورک کلچر نہ ہونے کی وجہ سے ان کے وقت کا جتنا بڑا حصہ بد نظمی کے سبب ضائع ہو جاتا ہے اس سے اگر فائدہ اٹھایا جائے تو انقلابی نوعیت کے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
طارق احمد صدیقی

Leave a Reply