لفافہ

حجاب کے نام!

محبت کی کنجیاں

حجاب پابندی سے مل رہا ہے۔ بیٹی اور اہلیہ کے مطالعہ میں رہتا ہے۔ بشرطِ فرصت میں بھی چند مضامین تفصیلی اور کل پرچہ سرسری دیکھ لیتا ہوں۔ مگر جولائی کا شمارہ ملا اور ’’محبت کی کنجیاں‘‘ نے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ دو بلکہ تین باتوں کے لیے خاص طور سے شکریہ۔ ایک تو اتنا اچھا موضوع منتخب کرنے اور شائع کرنے کے لیے۔ دوم یہ کہ اسے آپ نے حجاب سے علیحدہ شائع کیا۔ ’’حجاب‘‘ بڑی تعداد میں ایسی لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں جن کے لیے یہ معلومات قبل از وقت ہوںگی۔ سوم یہ کہ اسلامی خاندان کی تشکیل کے لیے ’’محبت کی کنجیاں‘‘ معاون ہوگی و تذکیر (یاددہانی) کا کام کرے گی۔ آپ اور محی الدین غازی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ خود میں نے اسے کافی مفید پایا۔

صرف پاؤ پارہ قرآن غیر مانوس تلفظ میں سننا گوارا نہیں اور ’’میں نے تو برابرپڑھا، تم کو برابر سننا نہیں آیا ہوگا۔‘‘ کب تک سنیں؟ ’’مجھے آگے تک جانا ہے‘‘ کاش ہر صاحبِ ایمان اس بات کو اپنے پیش نظررکھے۔ ’’آگے تک‘‘ جہاں نہ کوئی گارڈ ہوگا نہ معاون۔ قاضی جاوید کی پیشکش ’’سوچ کو نئی جہتیں دیجیے‘‘ پسند آیا۔ پچپن برس بعد سہی انتظار نعیم صاحب نے اپنی دلی کیفیات کو ’’اہتمام‘‘ سے پیش کیا وہ ہم جیسے بہتوں کی دلی کیفیات ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ قدرت اللہ شہاب کا مضمون ’’ماں جی‘‘ شائع کریں۔ مسعود اختر صاحب نے لالہ ہربنس لعل کے ذریعہ خلق الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ اسفل سافلین کی تفسیر پیش کرکے اپنے افسانہ اور ہماری مبارکباد کو کیش کرلیا۔ اللہ رب العزت مسلم معاشرہ کو لالہ ہربنس لعل جیسے لوگوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!

ابواللیث جاوید نے بتایا شاطر لوگ کیسے جال بچھاتے ہیں۔ کس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ دائرے کا ’بھولا‘ اور شمشاد احمد کے ’’عجیب آدمی‘‘ کا قلی۔ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

اور یہ تو ہوا باہر کا حال اور جب گھر میں ہی امِ صہیب کی کہانی ’’سعیٔ لاحاصل‘‘ کی ’’چچی جان‘‘ موجود ہوں تو؟ اس پر غضب یہ کہ رشتہ ناتوں کے لیے لوگ اسلام کے مطلوب کردار کے بجائے ’’ہڈی کی تلاش‘‘ کرتے ہیں۔ اور یہاں ’’زمانے کے تغیر‘‘ میں اقبال انجم صاحب نے ایسے شخص کو پیش کیا جو صبح نو کا انتظار کررہا ہے۔ رفیدہ میں نعیم صدیقی نے بتایا کہ صبر و استقامت کے مظاہرہ کے بعد ہی دعائیں شرف قبولیت پاتی ہیں۔ ویسے ایک بات بتاؤں بزم حجاب کی پہلی تحریر ’’نکاح سنجیدہ معاہدہ‘‘ زیبائش فردوس پٹنہ کی تحریر نہیں لگتی۔ عبدالمجید اصلاحی کی پیشکش ’’مسلم خواتین کی غیرت کا ایک واقعہ‘‘ چودہ سو سال بعد آج بھی نصیحت کے لیے عمدہ نمونہ ہے۔ رئیس احمد جعفری کے ترجمے نے درس کی تیاری اور اس کی اہمیت کو اچھے انداز میں اجاگر کیا۔ سشما ورما کا مضمون ’’صدر جمہوریہ کے عہدے پر خواتین کی دعویداری‘‘ اتنا ہی بیکار اور غیر ضروری لگا جتنا امیتابھ بچن فیملی کی شادی کے بارے میں ماہ گذشتہ کا مضمون۔ آخر میں نیک خواہشات کے ساتھ خاندان حجاب کی دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے دعاؤں کے ساتھ۔

محمد شکیل احمد، ملاڈ، ممبئی

[شکیل صاحب آپ کے تفصیلی خط کے لیے شکریہ! ’’ہو بہ ہو‘‘ ہمارا انتخاب ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر آدمی اسے پسند کر ہی لے۔ آئندہ ہم بہتر انتخاب کی کوشش کریں گے۔ ’’نکاح ایک سنجیدہ معاہدہ‘‘ خود زیبائش فردوس نے ہمیں بھیجا ہے۔ایڈیٹر]

ایک تاثر

جولائی کا حجاب اسلامی موصول ہوا، پڑھ کر کافی خوشی و مسرت ہوئی۔ جس میں خصوصی ضمیمہ بھی شامل تھا۔’’مسلم خاتون اور اس کی شخصیت کا ارتقاء‘‘ کے بعد ’’محبت کی کنجیاں‘‘ سونے پر سہاگہ، یا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جسے آپ نے پورا کیا ہے۔

چند اہم نکات کی جانب آپ کی نظریں مبذول کرانا چاہتی ہوں:

٭ گذشتہ دو ماہ سے وقت و حالات اور ان کے تقاضوں سے بے رخی برتی جارہی ہے۔ مثلاً سلمان رشدی کو ’’سر‘‘ کا خطاب پرتیبھا پاٹل کا اسٹیٹمنٹ ’’پردہ‘‘ ، حماس کی حکومت، نئے تعلیمی سال کے آغاز پر کالجس میں ریگنگ وغیرہ پر مضامین دیکھنے کو نہیں ملے۔

٭ محترم سید سعادت اللہ حسینی صاحب کی ’’کیمپس گائیڈ‘‘ کے مختلف عناوین کو حجاب اسلامی کے صفحات میں جگہ دے کر کالجس میں دعوت کا کام کررہی طلبا و طالبات کو بہترین انداز میں گائیڈ کیا جاسکتا ہے۔

٭ مضمون نگاروں کے نام کے ساتھ ساتھ E-mail I.D.یا فون نمبر درج کیے جائیں تو مضمون کے متعلق اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

٭ اعلان گم شدہ: سلمیٰ نسرین صاحبہ کہاں ہیں؟ سلمیٰ نسرین صاحبہ اکولہ اور دیگر مضمون نگاروں کے سلسلے میں ایک اعلان گمشدہ جاری کیا جائے تو شاید اگلے شمارے میں وہ بھی نظر آئیں گے۔

والسلام زرین کوثر مومناتی، حاجی نگر، اکوٹ فیل، اکولہ

[زریں کوثر صاحبہ! آپ کے پہلے نکتے سے ہمیں مکمل اتفاق ہے اور آئندہ اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش ہوگی۔ البتہ کیمپس گائیڈ کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں کہ وہ طالبات کے لیے بھی مفید ہوگا، یا نہیں کیونکہ وہ طلبہ کو پیشِ نظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

اعلان گم شدہ کے سلسلے میں اطلاعاً عرض ہے کہ وہ وہیں کہیں آپ کے پاس پڑوس میں ہیں۔ اگر چاہیں تو ہم سے فون نمبر طلب کرلیں۔ایڈیٹر]

حجاب کیوں خریدیں

بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ خط لکھوں لیکن پھر ارادہ بدل دیتا، کیونکہ اگر مشوروں کو عمل میں لایا جائے تو مشورے دینے اور تنقید کا فائدہ بھی ہو۔ اب جبکہ جون کا شمارہ زیرِ مطالعہ ہے تو آپ کا نوٹ بھی پڑھا۔ جس میں آپ نے تنقید اور مفید مشورے مانگے ہیں۔ تو پھر میں نے قلم اٹھا ہی لیا۔ لیجیے تنقید حاضر ہے (تنقید برائے اصلاح) ۔

محترم آپ مجھے یہ بتائیے کہ ہم ’’حجاب‘‘ کیوں خریدیں آخر کیا وجہ ہے کہ رسالوں کے انبار میں ہم ایک مزید رسالہ کا اضافہ کرلیں۔ چلیے اگر رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ ندائے خلافت (لاہور) کی طرح ہوتا تو کچھ بات تھی۔ ۱۵؍روپئے نہیں ۲۵؍روپئے بھی لے لیجیے، مگر ’’ترجمان القرآن‘ ‘ کی طرح رسالہ فراہم کیجیے۔ جس کا انتظار ناممکنات میں سے ہے۔ (جب کبھی دیر ہوجائے)

اب آئیے حجاب کی جانب، وہی پرانے مضامین، محض مختلف کتابوں سے نکال کر شائع کرنا، نہ حالاتِ حاضرہ کا کالم ہے، نہ ایسے کالم جو وقت کی ضرورت ہوں۔ نہ ایسے قلم کار جنھیں دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔ آخر ہمارے رسالے میں پروفیسر خورشید احمد، شاہ نواز فاروقی، خرم مراد، مونسہ بشریٰ عابدی، عالم نقوی، نعیم صدیقی، پروفیسر رشید کوثر فاروقی، کو جگہ کیوں نہیں ملتی؟ میں تو کہتا ہوں کہ اگر آپ ہر ماہ ’’ترجمان القرآن‘‘ سے بہترین مضامین کا انتخاب کریں، ’’جسارت‘‘ کے کالم نگار شاہ نواز فاروقی جو بہترین لکھتے ہیں (حالاتِ حاضرہ پر) بہت شاندار لکھتے ہیں اور روزانہ لکھتے ہیں، آپ ان کے کالم کو جمع کریں مہینے بھر، پھر حالات کی مناسبت سے ۶-۷ کالم ایک ساتھ (ایک کے نیچے ایک) شائع کردیں کیوںکہ ہندوستان میں سوائے ’’دعوت‘‘ اور روز نامہ اردو ٹائمز کے یہ اور کسی میں شائع نہیں ہوتے ہیں۔

پھر ’’ندائے خلافت‘‘ (لاہور) سے سید قاسم محمود کے سلسلہ وار مضامین خصوصاً تحریکاتِ اسلامی، صلیبی تحریکیں او رکلام اقبال کی تشریح قسط وار شائع کریں۔ (یہ تمام تحریریں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں)۔یہاں ممبئی میں مونسہ بشریٰ عابدی خواتین کے موضوعات پر بہت شاندار لکھتی ہیں۔ ان سے آپ درخواست کیجیے کہ وہ ہر ماہ حجاب کے لیے خصوصی مضمون لکھیں۔ سعادت اللہ حسینی کے سلسلہ وار مضامین شاندار تھے پتہ نہیں کیوں بند ہوگئے۔ نعیم صدیقی کا بہترین کلام جواب تک شائع نہیں ہوا، رشید کوثر فاروقی کا وہ کلام جو شائع نہیں ہوا اسے شائع کریں۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر سید عبدالباری صاحب سے مدد لی جاسکتی ہے۔

بہر حال قارئین کے لیے وہ تمام نایاب چیزیں فراہم کریں جو ہندوستان کے کسی رسالہ میں نہیں ملتیں تو پھر یاد رکھئے عنقریب ’’حجاب‘‘ خریدنا مجبوری نہیں بلکہ ’’ضرورت‘‘ بن جائے گا۔ اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رسالہ خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ لہٰذا تمام خواتین کو ان چیزوں کی ضرورت ہے۔ ورنہ پھر محض اردو اسلامی رسالوں کی گنتی میں اضافہ مت کیجیے۔ اپنے رسالہ کاایک الگ مقام قائم کیجیے تاکہ لوگ اسے خریدیں بھی اور وہ ملت کے لیے فائدہ کا باعث بھی ہو۔ صرف ایک خصوصی نمبر نکال کر اس سلسلہ کو بند نہکریں، بلکہ جلداز جلد اگلے نمبر کا اعلان کریں۔

انتظار احمد، پونہ

[محترم انتظار صاحب! انتہائی پرخلوص خط لکھنے کے لیے شکریہ! آپ نے سوال اٹھایا ہے کہ ’’ہم حجاب کیوں خریدیں؟‘‘ تو اگر آپ کو جواب پسند ہو وہ آپ کے گھر کی کسی ضرورت کو پورا کرتا ہو تو خریدیے، یا پھر یہ بتائیے کہ خواتین اور لڑکیوں کے رسالہ کو آپ کیسا دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

حجاب اسلامی الگ رسالہ ہے اور ترجمان القرآن اور ندائے خلافت الگ الگ مزاج اور مقاصد رکھنے والے رسالے ہیں نہ حجاب اسلامی ترجمان القرآن اور ندائے خلافت کا بدل ہوسکتا ہے اور نہ یہ دونوں رسالے حجاب اسلامی کا بدل ہوسکتے ہیں۔ آپ نے جن قلم کار حضرات کے نام لیے ہیں ایک کو چھوڑ کر سب کی تحریریں انٹرنیٹ پر ہیں، جن کو دوسرے رسالے اس شان سے شائع کرتے ہیں جیسے وہ انہی کے لیے لکھی گئی ہوں۔ ہماری کوشش اول روز سے یہی رہی ہے کہ ہم اپنے قارئین کو تازہ، مفید اور موضوعاتی مواد فراہم کریں۔ اور ہم اس پر سختی سے عمل پیرا بھی ہیں۔ چنانچہ ہم ہمیشہ نئی نئی تحریریں اپنے قارئین کو پیش کرتے ہیں۔ حجاب اسلامی خواتین و طالبات کا رسالہ ہے۔ ہمارے موضوعات، تحریریں اور رسالہ کا مزاج اسی انداز سے بنایا گیا ہے۔ یہ سیاسی، تجزیاتی اور اخباری رسالہ نہیں یہ بات یاد رکھنے کی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ خواتین و طالبات کو فائدہ پہنچانے کے اعتبار سے اسے زیادہ سے زیادہ نکھاریں۔ آپ کے مشورے ہمارے لیے بہ ہرحال مشعلِ راہ ہیں اور انتہائی قابلِ قدر۔ ایڈیٹر]

حجاب اسلامی

ماہنامہ حجاب اسلامی کے تمام ہی مضامین جامع اور پُر مغز ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حجاب اب خواتین کا معیاری رسالہ بن گیا ہے۔

ام صہیب، بیڑ

محبت کی کنجیاں

حجاب اسلامی برابر موصول ہورہا ہے۔ اسے مفید تر اور دلچسپ بنانے کی آپ کی پیہم کوشش نمایاں ہے۔ مختلف کالمس کے تحت کافی اچھے مضامین قارئین کو پیش کررہے ہیں۔ ہر شمارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔جولائی کے شمارہ کے ساتھ ضمیمہ ’’محبت کی کنجیاں‘‘ کافی اہم ہے اور واقعی احباب کو تحفتاً پیش کرنے کے لائق ہے۔ شمارہ میں مضامین تمام ہی بہتر ہیں۔ افسانے اور کہانیاں پسند آئیں۔ ’’وقت کیش کرو‘‘ اچھا افسانہ ہے جسے آپ نے سر افسانہ بناکر اس کا حق دیا ہے۔ نعیم صدیقی کی کہانی ’’رفیدہ‘‘ دل میں اتر جانے والی ہے۔ کالم ’’دیر سے حرم کو‘‘ ایمان کو جلا بخشتا ہے۔ کالم کیریر مفید تر ہے۔ اسے جاری رکھیں۔

نیاز احمد، بسہم ، اعظم گڑھ، یوپی

محبت کی کنجیاں

جولائی کا شمار موصول ہوا، تمام مضامین پسند آئے۔ خاص طور سے ڈاکٹر صلاح الدین سلطان کا محبت کی کنجیاں بہت بہت پسند آیا۔

میری آپ سے ایک چھوٹی سے رائے ہے کہ آپ محبت کی کنجیاں کو مسلسل جاری رکھے۔ کیوں کہ یہ مسلم خاندانوں کی حفاظت کا مشن ہے۔ اس قلعہ کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان محبت ہو۔

ثمینہ اختر، آکولہ

مضامین پسند آئے

اگست کا شمارہ نظر نواز ہوا۔ شمارے کا سرِ ورق جاذب نظر ہے۔ مریم جمال صاحبہ کا مضمون ’’زندگی کا سفر – مثبت اور تعمیری سوچ‘‘ واقعی سیر حاصل ہے اور منفی اندازِ فکر اپنانے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مہمان اداریہ میں عمیر انس صاحب کا آرٹیکل ’’غیر ذمہ دار میڈیا اور مسلمان‘‘ میڈیا کا مسلمانوں کے تئیں متعصب رویہ کی غمازی کرتا ہے نیز مسلم فلاحی تنظیموں، مسلم پرنسل لا بورڈ، اقلیتی کمیشن، مسلم NGOاور اہل علم و ذی فہم حضرات کے لیے لمحۂ فکریہ عطا کرتا ہے کہ وہ میڈیا کے رویہ پر لگام کسنے کے لیے لائحۂ عمل مرتب کریں۔

عبدالصبور خاں، (مدرّس)بارسی ٹاکلی، آکولہ

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply