رمضان میں کیجیے کچھ خاص!

ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے۔ نیکیوں کا موسمِ بہار اور نزول قرآن کا مہینہ امت مسلمہ کے لیے روحانی زندگی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اللہ کے رسول اس مہینے کی آمد کا انتظار کرتے اور صحابہ کرام کو تلقین کرتے کہ وہ اس مہینہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے، نیکیاں کمانے اور اپنی ایمانی بیٹری کو ’’چارج‘‘ کے لیے تیار ہوجائیں۔

ایک مرتبہ شعبان کی آخری تاریخ کو آپ نے صحابہ کرام کو خطاب فرمایا اور اس مہینہ کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’اے لوگو! ایک بڑی عظمت وبرکت والا مہینہ آگیا ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہترہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں روزہ رکھنا فرض کردیا ہے۔ اور اس مہینے کی راتوں میں تراویح پڑھنا نفل ہے، جس شخص نے اس مہینے میں اللہ سے قربت حاصل کرنے والا کوئی کام کیا تو وہ ایسا ہے، جیسے عام دنوں میں ایک فرض ادا کیا۔ اور جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے عام دنوں میں ستر فرض ادا کیے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے اور یہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا مہینہ ہے۔‘‘

ایک اور جگہ آپ نے فرمایا:

’’جس نے (مکمل) ایمان اور (اپنی زندگی کا) احتساب کرتے ہوئے روزے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے گئے۔ اور جو رمضان میں ایمان و احتساب کے ساتھ (عبادت میں) کھڑا ہوا، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے گئے۔‘‘

ایک اور مرتبہ آپ نے لوگوں کو توجہ دلائی:

’’اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔‘‘

رمضان المبارک کی آمد امت مسلمہ کو انفرادی اور اجتماعی اور معاشرتی و سماجی ہر سطح پر اپنے احتساب و جائزہ کا سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔ انفرادی زندگی کا تزکیہ و تطہیر اجتماعی زندگی میں معاشرہ اور اس کے افراد پرنظر ڈال کر خیروفلاح کے کاموں کے فروغ کا جذبہ پیدا کرنا اور دبلے کچلے اور محتاج انسانوں کی حاجت روائی کرنا اس مہینے کی خاص سرگرمیاں ہونی چاہئیں۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف اللہ کے رسول نے من صام رمضان ایمانا و احتساباً کہہ کر توجہ دلائی ہے۔ اور اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اہل ایمان ہوشمندی، تقویٰ اور معاشرے کے افراد کی خبر گیری کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ ایک ایسے مومن کی زندگی جس کا کوئی لمحہ اور کوئی بھی دن اللہ کے خوف اور اس کی رضا سے ہٹ نہ گزرے اور جس کو اپنے پاس پڑوس اور معاشرہ کے افراد کی حاجت و ضرورت کا علم نہ ہو۔ بھلا وہ شخص مومن کیسے ہوسکتا ہے، جو خود تو پیٹ بھر کھاکر سوجائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ یہ کیفیت ایمانی پیداکرنے کے لیے رمضان تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے اسے ہمدردی اور مواساۃ کا مہینہ قرار دیا۔

رمضان کی آمد کثرت عبادت، ایمانی کیفیت میں ابال اور اپنی زندگی کے کڑے احتساب سے عبارت ہے۔ جو لوگ رمضان کے اس مبارک مہینے کو روایتی اور عام شیڈول کی زندگی گزارتے ہوئے صرف کردیتے ہیں، وہ اس کی اس اہمیت کے ادراک سے قاصر ہیں، جو حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کے اندر جاگزیں کی تھی۔

رمضان کا خاص مہینہ خاص عبادات اور خاص اعمال کا مطالبہ لے کر آتا ہے۔ اور جو لوگ اس خاص مہینے میں خاص عبادات سے قاصر رہیں ان کی محرومی کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا تھا کہ ’’اس سے بڑا بدنصیب کون ہوگا جس کو رمضان کا مہینہ حاصل ہو اور وہ جنت میں داخلہ کا سامان نہ کرسکے۔‘‘

یہ بات فرد کی اپنی استعداد اور جذبۂ ایمانی پر منحصر ہے کہ وہ اس مہینے سے کس قدر فائدہ اٹھاتا ہے۔ مگر یہ بات تو واضح ہے کہ حضور ﷺ نے ہر فرد سے اس مہینے کو کارآمد طریقے سے گزارنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ہمارے اپنے جذبے اور لگن کی بات ہے کہ اس مبارک مہینے میں ہم اپنے لیے کیا خاص منصوبہ بناتے اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کی کیا کوشش کرتے ہیں۔

مریم جمال

شیئر کیجیے
Default image
ایڈیٹر

Leave a Reply