مشورہ حاضر ہے!

املی آلو بخارے کا شربت

موسم گرما میں میری پیاس ختم نہیں ہوتی۔ بازار میں املی آلو بخارے کا شربت ملتا ہے ، وہ صحت کے لیے کیسا ہے؟ اس بارے میں بتائیے۔

بازار میں اکثر جعلی مشروبات ملتے ہیں، یہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ بچوں کو بالکل نہ دیجئے، آپ دس دانہ آلو بخارہ لیں اور اتنی ہی املی۔ دھوکر پانی کے جگ میں بھگو دیں۔ صبح اچھی طرح چھان کر ا س میں ذرا سا نمک او رحسب خواہش چینی ملا دیں۔ خود بھی پئیں اور بچوں کو بھی پلائیں، سکون مل جائے گا اور گرمی ختم ہوگی۔ اس شربت کا فائدہ ہے، نقصان نہیں۔

اسی طرح جو کے ستو لاکر رکھ لیں۔ اس سے بھی گرمی دور ہوتی ہے۔ جو پیتے ہی جسم میں ٹھنڈک پڑ جاتی ہے، مگر آپ ستو بھی گھر میں بنا کر پئیں، بازار کے ستو نہ لیں۔ گھر میں بنائی چھاچھ بھی مزے کا ہوتا ہے۔ آپ دہی او ردودھ کی پتلی لسی بنا کر فریج میں رکھ سکتی ہیں۔ تربوز کا رس مزے کا ہوتا ہے۔ ہلکا سا نمک ڈال کر پئیں۔ رس نہ بنا سکیں تو تربوز کاٹ کر ٹھنڈا کر کے کھائیں، گرمی میں سکون دے گا۔

صندل کا شربت بھی بہت مفید ہے۔ گرمی میں جسم کی حدت ختم کرتا ہے۔ شربت بزوری بھی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ تخم ملنگاں، بھگو کر دودھ میں ملا کر چینی ڈال کر پینے سے ٹھنڈک پڑتی ہے۔ اسکول سے آنے والے بچوں کو اگر تخم ملنگاں او ردودھ پلایا جائے تو گرمی سے افاقہ ہوتا ہے۔اسی طرح تازہ آڑو یا آلو بخارے لے کر گٹھلیاں نکالیے پھر چینی نمک پانی ملا کر گرائینڈر میں شربت بنا لیجئے۔ فالسہ بھی بہت اچھا ھے۔ اس کا شربت بھی بنا سکتی ہیں۔ ایک کلوچینی میں ایک پاؤ پانی ملا کر لیموں پکائیے۔ چینی گھل جائے تو ٹھنڈا کر کے بوتل میں بھر کر رکھ لیں۔ کوئی مہمان آئے تو لیموں کاٹ کر رس نکالیے، بوتل سے چینی کا شیرہ نکال کر لائیے۔ برف میں پانی ڈال کر چٹکی بھر کالی مرچ پسی ہوئی او رنمک ڈالیے۔ آخر میں پودینہ کا پتہ ڈال کر پیش کیجیے۔

نیم کا شہد

ہمارے نیم کے درخت پر شھد کا چھتہ لگا ہے۔ نیم توبہت کڑوا ہوتا ہے، کیا شہد بھی کڑوا ہوگا؟ آپ اس بارے میں ضرور بتائیے۔ کس درخت کا شہد کس کام آتا ہے۔

٭ شہد کی مکھی مختلف درختوں کے پھولوں سے شہد جمع کرتی ہیں۔ نیم کا شہد تو بہت کام کی دوا ہے۔ آنکھوں کے امراض میں کام آتا ہے۔ جلدی بیماریوں میں کھلایا اور لگایا جاتا ہے۔ آپ چھتہ اتروائیے اور شہد نکلوا کر بوتل میں محفوظ کرلیں ۔ جامن کے درخت پر چھتہ لگا ہو تو وہ شہد ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔ اسی طرح بیری کا شہد بیرون ممالک مہنگا ملتا ہے۔ کچھ لوگ نیم کا شہد آنکھ میں سلائی کے ساتھ لگاتے ہیں۔ دھند کے واسطے مفید ہے۔ نیم کا شہد کیل مہاسوں پر لگانے سے فرق پڑتا ہے۔ ارجن درخت پر لگے چھتے کا شہد امراض قلب میں مبتلا مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔ شہد میں شفا بخش اثرات ملتے ہیں۔ پانی یا دودھ میں ملا کر روزانہ پینے سے کمزوری دو رہوتی ہے۔ جو لو گ پابندی سے شہد استعمال کریں ان کی صحت برقرار رہتی ہے۔

بھنڈی

بھنڈی پکاتے ہوئے گھل جاتی ہے تب سالن کھایا نہیں جاتا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ بھنڈی ثابت بھی نظر آئے، یہ کیسے ممکن ہے؟

٭ بھنڈی پر کیڑے مار ادویہ کے اسپرے بہت ہوتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے بھنڈی کو پانی میں بھگوئیے۔ ایک دو گھنٹہ پانی میں رہنے دیں پھر اسے چھلنی میں رکھ کر اچھی طرح پانی سے دھولیں۔ اب اسے پھیلا دیں تاکہ خشک ہوجائے۔ جب بالکل خشک ہوتو اسے کاٹ لیں او رتھوڑے سے تیل یا گھی میں تل لیجئے۔ اسے سرخ نہ کریں۔ رنگ تبدیل ہونے پر اتار لیجیے۔ پھر گوشت بھون کر بھنڈی و ٹماٹر ڈالیے اور تھوڑا سا بھون کر پانی ڈال دیجئے یوں بھنڈی صحیح رہے گی۔

بھنڈی کی بھجیا میں بھی اکثر املی کا پانی ڈالتے ہیں۔ اس سے ذائقہ بہتر ہو جاتا ہے۔ فریج میں رکھ کر دو بارہ گرم کرنے پر بھی بھنڈیاں نرم رہتی ہیں۔ بھنڈی پیاز اور ٹماٹر کے ساتھ بھی پکتی ہے۔

رنگ کے داغ

میں نے ریشمی عباء خریدی۔ جب اسے دھوکر لوہے کی ریلنگ پر رکھا تو اس پر زنگ کے پیلے داغ پڑ گئے۔ یہ کس طرح ختم ہوں گے؟

٭ داغ پر آدھے لیموں کا رس ڈالیں، پھر نمک چھڑک دیں اور دوسرے آدھے لیموں پر ذرا سا نمک لگا کر داغ پر رگڑیں۔ پھر اسے خشک ہونے دیں۔ بعد ازاں دھوکر سرف میں بھگودیں۔ خواتین چاول اُبال کر اس کا پانی نکال کر اس میں داغ والا حصہ بھگو دیتی تھیں۔ دو ڈھائی گھنٹے بعد دھولیتیں تو داغ اتر جاتا۔ اب تو ڈرائی کلین والے بھی دھبے دور کردیتے ہیں۔ ان کے پاس مختلف کیمیکل ہوتے ہیں۔

بڑھاپا کیسے روکوں؟

میری عمر چالیس سال ہے۔ تین بچے ہیں۔ مجھے بڑھاپے سے خوف آتا ہے۔ آپ سب کو مشورہ دیتی ہیں، مجھے بھی بتائیے کہ بڑھاپے کا مقابلہ کیسے کروں؟

٭ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے او رجو پیدا ہوا، اس نے مرنا بھی ضروری ہے۔ یہ اٹل حقیقت ہے۔ آپ مغربی ممالک کی خواتین کا جائزہ لیں، وہ ادھیڑ عمر میں بھی پرکشش نظر آتی ہیں۔ اپنی جوان بیٹیوں، نواسیوں کے ساتھ باہر نکلتی ہیں تو کہیں سے ماں نظر نہیں آتیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ خواتین غذا لیتی اور کام میں مصروف رہتی ہیں۔ جیسے ہی موقع ملے، سیر سپاٹے کرنے نکل جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں خواتین ایسی کوئی تفریح نہیں کرتیں او رپھر آپ کی طرح سوچتی ہیں کہ بڑھاپا آگیا۔

بہرحال آپ تازہ پھل او رسبزیاں استعمال کیجیے۔ چھلکے والی دالیں پکائیے۔ سردیوں میں ہفتے میں دو بار مچھلی کھائیے۔ روزانہ پندرہ منٹ کی سیر کیجیے۔ صبح شام سیر کرنے سے آپ کو خود میں توانائی بھرنے کا احساس ہوگا۔ جب بھی بھوک لگے، کھانا کھائیے۔ پیٹ بھر کر نہیں بلکہ تھوڑی جگہ خالی رکھیے۔ پھل اور سبزی کی سلاد ضرور بنائیے۔ اوڑھنے پہننے کا خیال رکھئے۔ نماز کی پابندی کریں اور اچھی کتابیں پڑھیں۔ کتابیں پڑھنے سے مطالعہ وسیع ہوگا۔

خود کو چاق و چوبند رکھیں، بڑھاپا آپ سے دو ر رہے گا۔ دوسروں کے کام آنے کی کوشش کریں، ان کی مدد کریں، بڑھاپے سے خوف زدہ مت ہوں بلکہ اپنے آپ کو مضبوط بنائیں۔

بچے انگوٹھا چوستے ہیں

میرے دو بچے ہیں۔ دو سال او رتین سال عمر ہے۔ دونوں انگوٹھا چوستے ہیں۔ میں ان کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ ان کی یہ عادت کیسے دور ہوگی؟‘‘

انگوٹھا چوسنا کوئی نئی بات نہیں، بے شمار بچے اس عادت میں مبتلا ہیں۔ جو مائیں اپنا دودھ پلاتی ہیں، ان کے بچے اس عادت کا کم شکار ہوتے ہیں کیوں کہ انہیں ماں کی گود سے تحفظ ملتا ہے۔ بچہ جب بوریت محسوس کرے، تو انگوٹھا منہ میں ڈال لیتا ہے۔ یوں کچھ بچوں کے انگوٹھے پتلے ہو جاتے ہیں۔ ایک لڑکی کو دیکھا، وہ شادی کے وقت تک انگوٹھا چوستی تھی۔ شادی ہوئی تو باہر چلی گئی۔ پتا نہیں اب اس کا کیا حال ہے۔

بہرحال آپ بچوں کو کسی کھلونے سے بہلا سکتی ہیں۔ ان کی توجہ کسی او رطرف کردیجئے، بچوں کے ہاتھ بار بار دھلائیے تاکہ ان کے ننھے منے ہاتھوں میں جراثیم نہ رہیں اور انگوٹھے کے ساتھ منہ میں نہ جائیں۔ پہلے زمانے میں عورتیں کوئی کڑوی چیز انگوٹھے پر لگا دیتی تھیں۔ ایلوا بہت کڑوا ہوتا ہے۔ وہ پانی میں گھول کر انگوٹھے پر لیپ کرنے سے بچے انگوٹھا منہ میں نہیں لیتے۔ عموماً بچے چھ سات سال کی عمر تک انگوٹھا چوستے پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ بچے کا انگوٹھا بار بار منہ سے نکال دیا کریں تاکہ عادت پختہ نہ ہو۔

بریسٹ کینسر

میری بہن کو بریسٹ کینسر ہے۔ کیموتھراپی ہو رہی ہے۔ وہ آپ کا رسالہ بڑے شوق سے پڑھتی ہے۔ اس نے مجھے کہا ہے کہ آپ سے پوچھوں، وہ کیا غذا استعمال کرے، جس سے اس کی بڑھوتری رک جائے۔ اس بارے میں ضرور بتائیے۔

٭ سویا، سبزی کی دکانوں پر دستیاب ہے، بازار میں سویا سے بنی مصنوعات پنیر، دودھ وغیرہ مل جاتی ہیں۔ سویا میں ایسا غذائی جز ہے جو بریسٹ کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔ آپ سویا سے بنی سلاد او رکھانے استعمال کیجیے۔ کالے، جامنی، سرخ انگور بھی بہت مفید ہیں۔ یہ صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ تھوڑے سے انگور روز کھائیے۔ اپنے ڈاکٹر سے آپ غذائی چارٹ بنوا سکتی ہیں۔

کیل مہاسے

میرے چہرے پر مہاسے نکلتے ہیں۔ جو بہت تکلیف دیتے ہیں۔ بعد میں ان کا داغ بھی رہ جاتا ہے۔ یہ کیسے دو رہوں گے؟

٭ چکنی جلد پر مہاسے نکلتے ہیں۔ آپ صبح شام بیسن سے منہ دھوئیے۔ دیسی لہسن چھیل لیں۔ اور ایک دانہ بیچ میں سے کاٹ کر مہاسے پر آہستہ آہستہ رگڑیے۔ صبح شام یہ عمل کریں۔ دانے ٹھیک ہوں گے او ربعد میں ان کا داغ بھی نظر نہیں آئے گا۔ انار کے پھول کلیاں سکھا کر رکھ لیں۔ ان کا سفوف بنا کر دانوں پر چھڑکنے سے فرق پڑتا ہے۔ نیم کے پتوں کا سفوف بھی مہاسوں پر لگا سکتی ہیں۔ ساتھ ساتھ کوئی مصفی خون دوا بھی لیجیے۔

آنکھوں کا مسئلہ

میری بہن کی یہ بری عادت ہے کہ ہر وقت پلکیں جھپکتی رہتی ہے۔ اچھی شکل صورت ہونے کے باوجود اس کا رشتہ نہیں آتا۔ یہ عادت کیسے دو رہوگی؟

آپ ایک درمیانہ آلو لیجیے۔ اسے چھیل کر کدو کش کریں۔ ململ کے چھوٹے دو ٹکرے لے کر اس میں آلو ڈالیں او رپندرہ منٹ فریزر میں رکھ دیں۔ اب اس کی پوٹلی سی بنا کر بہن کی آنکھوں پر رکھئے۔ پندرہ منٹ بعد اتار کر منہ دھولیں اور عرقِ گلاب پپوٹوں پر لگائیے۔ چند دن یہ عمل کیجیے۔ آنکھ پھڑکنے پر کاغذ کا ٹکڑا بھی گیلا کر کے چپکانے سے فرق پڑتا ہے۔

اپنی بہن سے کہئے کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر دیکھے اور آنکھیں آئینے پر مرکوز کرے۔ اس دوران آنکھ نہ جھپکے۔ کھیرے کے گول قتلے کاٹ کر ٹھنڈے کیجیے او رآنکھوں پر دس منٹ کے لیے دوپہر کو رکھے، بہرحال یہ گھریلو ٹوٹکے ہیں۔ آپ ڈاکٹر کو ضرور دکھائیے۔ آنکھوں کا ڈاکٹر بھی آپ کو صحیح مشورہ دے سکتا ہے۔

ہری سبزیاں

ہری سبزیاں قدرت کا عطیہ ہیں۔ میں انہیں پکا کر رکھ لیتی او رپھر نکال کر گرم کرتی ہوں۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟

٭ یہ طریقہ صحیح نہیں۔ ہری سبزیوں کو احتیاط سے رکھنا چاہیے۔ انہیں پکاتے وقت زیادہ پانی نہیں ڈالنا چاہیے او رنہ ہی انہیں منجمد کر کے رکھیے۔ آج کل بازار میں سیم، لوبیا اور مٹر کی پھلیاں دستیاب ہیں۔ آپ ضرورت کے مطابق پکا کر استعمال کیجیے۔ منجمد کرنے کے بعد دوبارہ گرم کریں گی تو ان میں موجود حیاتین فورا ختم ہوجاتے ہیں او رکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کچھ خواتین پکاتے وقت کھانے کا سوڈا شامل کردیتی ہیں، یہ بھی غلط طریقہ ہے۔ سبزیاں ہلکی آنچ پر اور دھوکر پکائیے۔ فریزر میں رکھا کھانا ایک بار ہی گرم کر کے کھائیے۔ دوبارہ کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

گنجا پن

میرے سر میں گنج آنے لگا ہے۔ حالاں کہ باقاعدگی سے تیل لگاتا ہوں۔ کوئی غذائی نسخہ تو بتائیے جس سے نئے بال نکل آئیں؟

٭ کہتے ہیں کہ مولی باقاعدگی سے کھائی جائے او رسر پر اس کا رس لگایا جائے تو بال آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح ہرڑ کا مربا لے کر روزانہ ایک ہرڑ چوسی جائے تو بال جلد سفید نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ ہرا یا خشک دھنیا پیس کر سر پر لگاتے ہیں۔ مختلف قسم کے تیل بھی حکیم حضرات بتاتے ہیں، جن سے بالوں کی نشو و نما بہتر ہوسکتی ہے۔ پیاز کھانے او راس کا رس لگانے سے بھی فرق پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک خاتون کا فون آیا۔ ان کے چا ربچے ہیں مگر ان کے پیدائشی بال نہیں اُگے۔ بہت علاج معالجہ کراچکی۔ مگر ابھی فرق نہیں پڑا۔ قارئین میں سے کسی کو اس خلل کا کوئی نسخہ معلوم ہو تو ضرور بتائیں۔

سرخ عنابی بند گوبھی

بازار میں سبز بند گوبھی تو عام دستیاب ہے مگر اب سرخ عنابی گوبھی بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے کیا فائدے ہیں؟

٭ بند گوبھی کے بہت سے فائدے ہیں۔ اسے بطو رسلاد ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ اس میں وائرس ہلاک کرنے کی صلاحیت موجود ہے، یوں یہ جسم میں توانائی پیدا کرتی ہے۔ سرخ بند گوبھی سلاد سجانے میں کام آتی ہے۔ اس کے سرخ رنگ سے لائیکو پین حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں جو لوگ کیلشیم کی کمی کا شکار ہوں، ان کے لیے یہ بہت مفید ہے۔

بند گوبھی کی سلاد اپنی غذا میں ضرور شامل کیجیے۔ آپ اس پر کالی مرچ، سفید زیرہ پیس کر چھڑک سکتی ہیں۔ پکا کرکھائیں، توادرک، گرم مصالحہ ضرور شامل کیجیے تاکہ گیس نہ بنے۔ سرخ بند گوبھی آپ سلاد میں استعمال کریں، اس سے فائدہ ہوتا ہے۔

برو کولی گوبھی کی قسم ہے۔ تیز ہرے رنگ کی برو کولی آپ کو سبزی کی دکان یا کسی اچھے سپر اسٹور سے مل جائے گی۔ یہ آنتوں اور چھاتی کے سرطان میں مفید ہے۔ آپ اسے بطور سلاد استعمال کرسکتی ہیں۔ جس میں پیلے پھول نظر آئیں۔ وہ نہ خریدیں۔

آلو کے چپس

بازار میں آلو کے لمبے (فنگر) چپس ملتے ہیں۔ میرے بچے انہیں شوق سے کھاتے ہیں۔ میں اکٹھے آلو منگوا کر رکھتی ہوں، کیا یہ صحت کے لیے مفید ہیں؟ گھر میں بھی بناتی ہوں۔ ان کے تلنے کا کوئی خاص طریقہ ہے؟

٭آج کل سینڈوچز، برگر وغیرہ کے ساتھ فرنچ فرائیز دیے جاتے ہیں، آلو میں فولاد کے علاوہ کیلشیم، فاسفورس او روٹامن بھی شامل ہیں۔ پہلے زمانے میں چھوٹے آلو لے کر چولہے کی راکھ میں دبا دیتے، بعد میں ہلکا سا نمک ڈال کر چھیلتے او ربچوں کو کھلاتے۔ یہ آلو بڑے مزے کے ہوتے۔ ان کی بھرپو رغذائیت بچے کو صحت مند رکھتی۔ بازا رکے چپس اچھے نہیں ہوتے کیوں کہ دکاندار ایک ہی دفعہ تیل ڈال کر اس میں بناتے رہتے ہیں۔ یہ تیل صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ آپ گھر میں بھی چپس تلیں تو بقایا تیل اگلے دن کھانے میں استعمال کرلیں۔ آلو دھو اور کاٹ کر چھلنی میں رکھ دیں، تاکہ پانی نچڑ جائے۔ اب ان پر ہلکا سا نمک چھڑک دیں اور پھر انہیں تلیں۔

مہمانوں کے لیے آپ آلو کاٹ کر ان پر تھوڑا سا بیسن، نمک، مرچ اور زیرہ لگائیں، پھر تل لیں۔ سب کو پسند آئیں گے۔ آپ آلو کے کٹلس بھی بنا سکتی ہیں۔ آلو مسل کر کوفتے کی طرح گول کیجیے۔ بیسن میں نمک مرچ زیرہ ملا کر گاڑھا آمیزہ بنائیں۔ اس میں گولے ڈالیں او رنکال کر فرائی کرلیں۔

آلو میں کونپل نکل آئے تو اسے دبا کر دیکھیں۔ نرم ہو توپھینک دیں۔ پرانے آلو میں جھریاں سی پڑ جاتی ہیں۔ اسی طرح جو آلو ہرے ہوں، انہیں استعمال نہ کیجیے۔ ابلے آلو کاٹ کر چنوں میں ملا کر مزیدار چاٹ بنا سکتی ہیں۔ اس میں آپ چاٹ مصالحہ او رلیموں، پیاز، ٹماٹر بھی ڈال سکتی ہیں۔ آلو کے پراٹھے بھی بڑے مزے کے بنتے ہیں۔ آلو کی بھاجی پوریوں کے ساتھ مزہ دیتی ہے۔ آپ مختلف طریقوں سے آلو بنا کر بچوں کو دے سکتی ہیں۔

پرہیزی غذا

پرہیزی غذا کیا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اکثر کہتے ہیں کہ پرہیزی غذاکھاؤ۔ اب مثلاً بخار ہوگیا ہے یا دست آرہے ہیں تو اس میں کیا کھانا چاہیے؟

٭ پرہیزی غذا اسے کہتے ہیںجو بیماری کے دوران استعمال کی جائے۔ بیماری میں دوا کے ساتھ ساتھ ایسی ہلکی غذا ضروری ہوتی ہے جیسے دودھ، مونگ کی دال کا پانی، ساگودانہ، پتلی کھچڑی، بکرے یا مرغی کے گوشت کی یخنی، پتلا شوربا، دلیہ، کارن فلیک وغیرہ پرہیزی غذا میں شامل ہیں۔ بخار کے موسم میں اس کا رس بھی دیتے ہیں۔ دست آنے میں پتلی کھچڑی، چاول، دہی، چھاچھ او رکیلا دیا جاتا ہے۔ پرہیزی غذا جلد ہضم ہوجاتی ہے۔ چکنی، تلی ہوئی چیزیں او رمرغن غذا بیماری میں نقصان دیتی ہے۔ اسی طرح مٹھائی، چاکلیٹ بھی صحیح نہیں۔ بلند فشار خون میں نمک چھوڑ دینا چاہیے تربوز، آلو بخارے کا شربت لینے سے بھی فرق پڑتا ہے۔

میرے شوہر مجھے وقت نہیں دیتے

کراچی سے ایک پریشان بہن کا فون آیا ہے۔ ان کی عمر پچاس سال سے کم ہے۔ شوہر پانچ سال بڑے ہیں۔ اپنا کاروبار کرتے تھے۔ دل کی تکلیف ہوئی توچھوڑ کر گھر بیٹھ گئے۔ خاتون شوہر کی ہر بات کا خیال رکھتی ہیں، ان کی پسند او رناپسند کا بھی۔ اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کر کے دیتی ہیں۔ وقت پر دوا دیتی ہیں۔ ایک سال سے میاں گھر پر ہیں، پچھلے دنوں باورچی خانے میں خاتون کا ہاتھ جل گیا، ان کی چیخ سن کر بیٹا، بہو نوکر سب بھاگے آئے۔ ہاتھ پر دوا لگائی، شام کو وہ شوہر کے لیے چائے، بسکٹ لے کر گئیں تو انہوں نے ہاتھ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور نہ حال پوچھا۔

خاتون نے فون پر روتے ہوئے پوچھا، کیا شوہر اتنے سرد مہر ہوتے ہیں؟ میں دل و جان سے ان کی خدمت اپنا فرض سمجھ کر انجام دیتی ہوں مگر وہ کبھی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ کبھی کسی بات کی تعریف نہیں کرتے۔ کبھی اتنا نہیں پوچھتے کہ تمہاری طبیعت کیسی ہے؟

بی بی اس عمر میں عموماً ٹھہراؤ آجاتا ہے۔ آپ کے شوہر بیماری، عمر، صحت اور بے کاری کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔ آپ ان سے گلہ نہ کیجیے۔ جس طرح شوہر کی خدمت کررہی ہیں، کرتی رہیں۔ اس کی جزا تو خد اہی دے گا۔ وہ پریشانی کی وجہ سے اظہار نہیں کرپاتے، لیکن آپ کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔ یہ تو آپ خود بھی اچھی طرح جانتی ہو۔

سفید یا سرخ لوبیا

بازار میں سفیداو رسرخ لوبیا نظر آتا ہے۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ او رہم انہیں کیسے استعمال کرسکتے ہیں؟

٭ دونوں طرح کے لوبیا پکائے جاتے ہیں۔ یہ بڑے مزے کے بنتے ہیں۔ ان کا سالن بھی بنتا ہے۔ قیمے میں پکائے جاتے ہیں۔ بطور سلاد بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق سرخ لوبیا صحت کے لیے مفید ہے۔ خون میں کولیسٹرول کم کرتا ہے اس میں پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم او رریشہ (فائبر) موجود ہے، جس سے قبض نہیں ہوتا او رہاضمہ صحیح رہتا ہے۔ اسے ہم خوراک میں شامل کرلیں تو آنتوں کے سرطان سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ایک پیالی کا تیسرا حصہ بھی آپ غذا میں شامل کرلیں، تو صحت بہتر رہتی ہے۔ سرخ لوبیا اُبال کر رکھ لیں۔ اس میں ٹماٹر، پیاز، ہرا دھنیا، پودینہ، لیموں کا رس، ہلکی سی کالی مرچ اور معمولی نمک ملا کر بطو رسلاد دسترخوان پر رکھئے۔ سب کو پسند آئے گی او روہ شوق سے کھائیں گے۔ سفید لوبیا بھی کھائیے۔ اس کے اپنے فوائد ہیں۔ قدرت نے ان میں بہت سے فائدے رکھے ہیں۔

حسد کی آگ

مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ کوئی غلط بات ہو تو برداشت نہیں کرسکتی۔ اسی طرح حسد بھی ہوتا ہے، ان لوگوں کو دیکھ کر جو ہم سے اونچے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر بات میں جھوٹ بولا جاتا ہے میں کیا کروں؟

٭ آپ حسد اور نفرت کی آگ میں خواہ مخواہ خود کو جلا رہی ہیں آپ چاہے جتنی اچھی دوا او رغذا کھائیں، اگر کچھ دیر کے لیے غصہ او رحسد میں مبتلا ہوجائیں تو سب کچھ بے کار ثابت ہوتا ہے غصہ انسان کے جذبات بھڑکا دیتا ہے۔ دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ بے زاری، سستی کی وجہ سے کام متاثر ہوتا ہے اور آپ کو شاید معلوم نہیں، جلتے کڑھتے رہنے سے نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں اس سے گھر متاثر ہوتا ہے او ردوست احباب بھی کنارہ کرنے لگتے ہیں۔

غصہ سے خون کا دباؤ بڑھتا ہے۔ دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے صحت تباہ ہو جاتی ہے، آپ امیر لوگوں کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے سے نیچے والے لوگوں کو دیکھئے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ اپنی سوچ کا زاویہ بدلیے۔

اونچے لوگوں پر نظر نہ ڈالیے بلکہ ان لوگوں کو دیکھئے جو آپ سے کمتر ہیں۔ اپنی سوچ بدل ڈالیے غصہ، حسد، او رکینہ چھوڑ دیجئے انسان حسد کی آگ میں جل جا تا ہے۔ غصہ آئے تو بیٹھ جائیے۔ پانی کا ایک گلاس پی لیجئے۔ اپنا دھیان کسی او رطرف مرکوز کرلیجیے۔ بچوں کے وستوں کی تصاویر دیکھئے، لاحول ولا قوۃ پڑھیے۔ جو خواتین بری طرح حسد کرتی ہیں، وہ دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ و حالات سے سمجھوتہ کرلیں ان کی زندگی خوش و خرم گزرتی ہے، عمر بھی طویل پاتی ہیں۔

مذہب سے دوری بھی کینہ کا باعث بنتی ہے۔ نماز پڑحیں، قرآن پاک کی تلاوت کریں، درود شریف پڑھیں۔ جب اپنے رب کے حضور سر بہ سجود ہوکر گڑگڑا کر دعا کی جائے تو دل کا بوجھ ختم ہو جاتا ہے۔ دعا کرنے کے بعد انسان ہلکا پھلکا ہوتا ہے۔ آپ آزما کر دیکھ لیں۔ کہتے ہیں ایک شخص دوزخ میں گیا تو وہاں اس نے آ گ، لکڑیاں کچھ نہیں دیکھا۔ اس نے پوچھا، اس میں تو آگ نہیں ہے پھر دوزخ میں کیسے جلیں گے؟ آواز آئی کہ ہر انسان اپنے ساتھ دنیا سے اپنی آگ اپنے ساتھ لے کر آتا ہے او راسی میں جلتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply