سلیقہ شعار بنیں!

کسی بھی خاتون کی سلیقہ شعاری بلاشبہ اس کی بڑی خوبیوں میں سے ایک ہے، لیکن سلیقہ مندی سے محض یہ مطلب نہیں کہ وہ بہت اچھا کھانا پکانا، سینا پرونا، او ردیگر کام جانتی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس کی طبیعت میں نفاست اور خواہ وہ معمولی سا کھانا ہی کیوں نہ بنائے لیکن اسے گھر والوں کے سامنے انتہائی سلیقہ کے ساتھی پیش کرے۔ تاکہ کھانے والوں کو دیکھ کر رغبت محسوس ہو۔ اس بارے میں پرانے وقتوں کی ایک کہاوت ہے کہ ’’جو کھانا آنکھوں کو نہ بھائے وہ آنتوں کو کیا بھائے گا۔‘‘ او ریہ صر ف کھانے پر ہی منحصر نہیں بلکہ گھر داری کے ہر معاملے میں آپ کی سلیقہ شعاری ہی کام آتی ہے۔ مثلاً آپ نے گھر کی صفائی ستھرائی تو کرلی لیکن گھر کی چیزوں کو ہی ترتیب سے نہیں رکھا تو بھلا پھیلی ہوئی چیز او ربکھرا ہوا گھر صفائی ستھرائی کا تاثر کیا پیش کرے گا۔

لڑکیوں میں خاص طور پر اپنی چیزیں سنبھال کر رکھنے کی عادت نہیں ہوتی او ر اپنی لاپروائی کے باعث وہ کوئی بھی چیز استعمال کرنے کے بعد ادھر ادھر رکھ کر بھول جاتی ہیں اور پھر ضرورت پڑنے پر اسے ڈھونڈتی پھرتی ہیں۔ یہ عادت آگے چل کر نقصان کا باعث بنتی ہے۔ کیوں کہ شادی کے بعد جب عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے تو یہی لاپرواہی آپ کو کسی بھی مشکل سے دو چار کرسکتی ہے۔ اسی طرح گھر میں موجود رقم، زیورات اور قیمتی کپڑوں کا احتیاط سے رکھنا ضروری ہے نہ کہ اپنے پیسوں کو ادھر ادھر پھینک کر چھوڑ دیں اور پھر کھو جائے پر ان کا غم کرتی رہیں۔یہ عادتیں نہ صرف آپ کے لیے مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں بلکہ سب لوگ بھی آپ سے نالاں رہتے ہیں، جن میں ظاہر ہے کہ آپ کا جیون ساتھی او رسسرال والے پیش پیش ہوں گے۔

عجب نفسا نفسی کا دور ہے کہ ہرشخص بھاگا چلا جارہا ہے او ربے پناہ مصروفیات کی شکایت عام ہے۔ ہر زبان پر آج یہ فقرے ہمہ وقت موجود ہیں کہ وقت ہی نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد ہو یا عورت کسی نے بھی اپنی زندگی میں توازن کو اہمیت ہی نہیں دی۔ بعض خاندانوں میں تو گھریلو جھگڑے صرف اس وجہ سے پروان چڑھتے ہیں کہ خاتون خانہ کے پاس مسائل کو حل کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا بلکہ ہر روز نت نئی پریشانیاں منہ کھولے کھڑی ہوتی ہیں۔

پرانے وقتوں میں بڑی بوڑھیاں او ربزرگ خواتین وقت نہ گزرنے کا گلا کرتی تھیں۔ جن کے پاس آج کی طرح گھر کے سارے کام ہوتے تھے لیکن فارغ وقت کو گزارنے کے لیے کوئی تفریح میسر نہ تھی۔ آج تو مسالہ پیسنے کی مشین، جوسر، بلینڈر، گرائنڈر، واشنگ مشین، چوپر، مائیکرو ویو وون او رگیس کے چولہوں جیسی سہولیات ہیں، لیکن پھر بھی وقت کی کمی کا مسئلہ در پیش رہتا ہے جب کہ ماضی میں یہ سارے کام ہاتھوں سے انجام دیے جاتے تھے اور کوئی شکایت نہ ہوتی تھی۔ تمام گھریلو کام کاج کے بعد سلائی، کڑھائی اوربنائی کے لیے بھی وقت نکل آتا تھالیکن آج چھوٹے موٹے کام بھی وقت کی کمی کے سبب تاخیر کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ دو رحاضر میں خواتین میں سلیقہ مندی کا فقدان ہے جو اپنے کاموں کے حوالے سے پریشانیوں میں مبتلا رہتی ہیں۔ اگر خاتون خانہ سلیقہ مند ہو تو وہ اپنے وقت کا بہترین استعمال کر کے گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔

آئیے ہم آپ کو خوش و خرم زندگی گزارنے کے چند بہترین طریقے بتاتے ہیں۔

٭ صبح سویرے اٹھنے کی عادت ڈالیںاور عبادات سے فارغ ہوکر کچن کا رخ کریں، نہ صرف گھر والوں کے لیے ناشتہ تیار کریں بلکہ خود بھی بھرپور ناشتہ کی عادت ڈالیں۔

٭ ناشتے سے فراغت کے بعد کچن کی صفائی پر توجہ دیں اور ناشتے میں استعمال کیے جانے والے برتن ایک جگہ جمع کردیں۔ سلیب اچھی طرح صاف کرکے چولھے کی صفائی کو بھی نظر انداز نہ کریں۔ برتن دھوکر ریک میں لگا دیں او رکچن کا فرش دھوکر دروازہ بند کردیں۔ اب آپ کے پاس دوپہر کے کھانے کی تیاری تک اتنا وقت ہے کہ اس کو سستانے میں خرچ کریں، اپنے آپ پر توجہ دیں، یا کوئی سلائی کڑھائی کا کام کر ڈالیں او راسی دوران یہ سوچ لیں کہ دوپہر میں کیا پکانا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس دوران گھر کی صفائی بھی ہوسکتی ہے۔

٭ دوپہر کے کھانے کا یوں بھی بہت زیادہ اہتمام نہیں ہوتا لہٰذا اس میں زیادہ وقت تصرف نہیں ہوتا بلکہ عموماً گھومتے پھرتے بھی دال، چاول او رسلاد کی تیاری ممکن ہو جاتی ہے۔ کھانے سے فراغت کے بعد ایک مرتبہ پھر کچن سمیٹ کر باہر نکلیں او راپنے کمرے میں آکر خواہ مطالعہ کریں یا قیلولہ، لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ پہلے کچھ وقت اسکول سے واپس آنے والے بچوں کے ساتھ گزارا جائے۔

٭ نماز عصر کی ادائیگی کے بعد سے لے کر آپ کے پا س نماز مغرب تک اتنا وقت ہوتا ہے کہ کچھ ایسے گھریلو کام نمٹا لئے جائیں جو مناسب وقت کے لیے اٹھا کر رکھ دیے جاتے ہیں او راسی دوران رات کے کھانے کی پلاننگ بھی کرلی جائے۔ اس دوران چاہیں تو اپنے کمرے، الماری، کچن کے کسی خاص حصے یا اسٹور روم کو صاف کرلیں۔

٭ خاتون خانہ کا زیادہ تر وقت کچن میں گزرتا ہے او راگر صرف کچن کے معمولات کو درستگی سے ایڈجسٹ کر لیا جائے تو اس طرح وقت کی بچت ممکن ہوسکتی ہے اور اس کے لیے کسی پلاننگ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

٭ کھانا تیا رکرتے کرتے استعمال شدہ برتنوں کو دھوکر رکھتی جائیں، او رمسالوں کے ڈبے اپنی جگہ پر رکھنے میں کاہلی قطعی نہ کریں۔ اگر کسی ڈبے میں مسالوں کی مقدا رکم ہو تو فوری طو رپر اس میں مسالہ ڈال دیں اور ختم ہوگیا ہو تو منگوانے کا بندوبست کریں تاکہ اگلی بار مشکل پیش نہ آئے۔

٭ روز مرہ کی استعمال میں آنے والی چیزوں مثلاً گھی، تیل، چینی، آٹا، چاول او ردالوں کے اسٹاک پر نظر رکھیں کیوں کہ دن کے اوقات میں مردوں کی عدم موجودگی میں بعض مرتبہ ختم ہوجانے والی اشیاء کے حصول میں بڑی وقت کا سامنا رہتا ہے۔

اگر آپ ان باتوں پر عمل کریں گی تو یقینا سگھڑ اور سلیقہ شعار خاتون کھلائیں گی او رسسرال بھر میں آپ کے سگھڑاپے کے گن بھی گائے جائیں گے۔ کوشش کریں کہ اپنی زندگی منصوبہ بندی سے گزاریں اور اپنے لیے بھی وقت نکالیں۔

شیئر کیجیے
Default image
سائشتہ زرین

Leave a Reply