5

بچے کی علامتی اہمیت

بچے کی معصومیت دوسرے بچوں کے علاوہ ہر شخص کو متاثر کرتی ہے، ہر شخص ماں کی مامتا کی طرح بچے کی فطری شرافت کا قائل ہے، لیکن ا س معصومیت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ کوئی بالغ مرد یا عورت، بچوں کی صحبت میں زیادہ وقت نہیں گزار سکتا۔ اس صحبت میں آخر کون سی بات ہے کہ بالغ عمر کے اور بالغ نظر لوگ اسے زیادہ دیر برداشت نہیں کرسکتے؟ بچوں کی اہمیت پر غور و خوض کرنے والے، انہیں اپنے گھر کی رونق او رسرور تصور کرنے والے بچوں سے اتنی جلدی اکتا کیوں جاتے ہیں؟ ہر شخص در اصل بچے کی معصومیت کا معتر ف ہوتے ہوئے اس کی شرارتوں کا بھی معتقد ہوتا ہے۔ وہ جا نتا ہے کہ اس کی ملوکانہ صفات میں تغیر آتے کوئی دیر نہیں لگتی۔ سنا ہے کہ بعض وحشی قبائل میں مرد بچوں کو منہ نہیں لگاتے۔ بچوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ مردانے میں جائیں او رکسی مرد سے بات کریں۔ جب تک وہ سن بلوغ کو نہیں پہنچتے وہ کسی مرد سے کلام نہیں کرسکتے۔

غالباً اس جھجک او راحتراز کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے بچپن کی یادوں کو شعور میں لانے سے گریز کرتا ہے، کیوں کہ ان یادوں میں شامل جنسی احساسات، تخریبی محرکات او راعمال کی یادیں بھی ہوتی ہیں۔ لاشعوری طور پر ہم بالغ افراد، بچے کی معصومیت سے متاثر ہوتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ ابھی اسی معصومیت کی فضا میں کوئی فتنہ اور غبار اٹھے گا۔ ابھی اس پاک دامنی سے وہ جنسی کج روی عیاں ہوگی کہ ہمارا ضمیر اور ہماری نیک تربیت بے چادری کا شکوہ کرنے لگے گی۔

بچے کی معصومیت کا افسانہ بالغوں کے لیے اپنے باطن کے شر او رفساد کو خبط میں لانے اور رکھنے کا ذریعہ ہے۔ بچے کا وجود بار بار ہمارے ذہن میں ایسی لرزشیں پیدا کرتا ہے جو فوراً لاشعور میں جذب ہوجاتی ہیں اور وہاں دبی ہوئی محرکات کو اس طرح اکساتی ہیں کہ انہیں کوئی نہ کوئی ذریعہ اظہار ڈھونڈے ہی بنتا ہے لیکن بسا اوقات اس سے پیشتر کہ وہ کسی اظہا رکے ذریعے کھیل کھیلیں، ہم بلوغت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان پر چند اور پابندیاں عائد کردیتے ہیں۔ اس طرح شعور او رلاشعور میں یہ چشمک او ریہ تصادم جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے ہم بچے کے صحیح خیالات اور صحیح احساسات کو جاننے او رسمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

بچہ خواب سناتا ہے، آپ بے اعتنائی سے اس کے خواب کو ٹال دیتے ہیں۔ بچہ خدا او رقیامت کے متعلق آپ سے تکلیف دہ سوال کرتا ہے، آپ اس کے سوالوں کو بے ہودہ اور لایعنی سمجھ کر نظر انداز کر جاتے ہیں۔ اگر آپ کے ایمان میں منطق کو سمانے کی گنجائش نہیں تو آپ ان سوالوں سے نہ صرف یہ کہ برانگیختہ ہوتے ہیں بلکہ اسے ڈانٹتے او رپیٹتے بھی ہیں۔ بچہ رات کے اندھیرے سے ڈرتا ہے، آپ منطق کے ذریعہ اس کا ڈر دو رکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچہ اپنے حریف یعنی دوسرے بچہ کے وجود سے جلتا ہے، آپ اس فطری حسد کو سمجھنے کی بجائے اس کی فطری خباثت پرمحمول کرتے ہیں۔ بچہ جھوٹ بولتا ہے، آپ اس کے واہمہ کی پرواز کی نوعیت کو نہیں سمجھتے۔ آپ اسے ’’برا‘‘ کہہ کر زد و کوب کرتے ہیں۔ بچہ چوری کرتا ہے آپ اس کی چوری کو محبت کی ہوس نہیں سمجھتے بلکہ اسے چور کہہ کر اس کے ضمیر کو معقول پابندیوں میں الجھا دیتے ہیں۔ بچہ جنس میں صحت مند شغف کا اظہا رکرتا ہے، آپ اسے قبل از وقت خلل دماغ اور بد اخلاقی تصور کرتے ہیں۔ آپ اس طرح کم آگہی کا ثبو ت دیتے ہیں او راس پر ستم ظریفی یہ کہ آپ بچے کو ’’معصوم‘‘ سمجھتے ہیں۔ بچے کے تصور کو معصومیت کے خاصے کے ساتھ وابستہ کر کے آپ اپنے ماضی کو ’’معصوم‘‘ بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر اس دنیا کی گہما گہمی میں آپ کو کبھی گوشہ خلوت میسر ہو تو اپنے ماضی کے حسین او رقبیح دونوں پہلوؤں کو یاد کرنے کی کوشش کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ حسین او رنیک پہلو تو فوراً حافظے میں روشن ہوجاتے ہیں، لیکن قبیح پہلو جوں ہی حافظے میں آنے کی کوشش کرتے ہیں، کوئی نہ کوئی جھجک، کوئی نہ کوئی حجاب انہیں پوری طرح یاد آنے سے روکتا ہے، لیکن اگر ان کی یاد، چاہے وہ ادھوری ہو یا پوری ذہن میں آجائے تو ذہن پر تیرگی کی ایک کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ گویا وہ یادیں نہیں تاریکی کی لہریں ہیں۔ ہم تاریکی کی ان لہروں سے ڈرتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ بچہ رات کے اندھیرے سے کیوں خائف ہے۔

بچے کی شخصیت کے غیر معقول پہلوؤں کی نوعیت اور اسباب پر غو رکرنے کے لیے ہمیں جن پر بچے کی ذہنی، جسمانی او راخلاقی تربیت او ر نشو ونما کی ذمہ اری عائد ہوتی ہے، اپنے ماضی او راپنے بچپن کو متصل اپنے شعور میں منسلک کرنے کی کوشش کرنا ہوگی،اس ضمن میں ایک واقعہ کا ذکر کروں گا۔

لندن کے ایک کلینک میں ایک ماں اپنے دس سال کے ایک بیٹے کو لائی اور ذہنی معالج سے کہنے لگی کہ ’’میرے بیٹے کو بند جگہوں سے بہت خوف آتا ہے۔ کمرے کے کواڑ بند کر دو تو وہ چیخنے لگتا ہے، سیڑھیاں بند ہوں تو یہ ڈرتا ہے، زمین دوز ریل گاڑیوں میں یہ سفر نہیں کرسکتا۔‘‘

معالج نے ماں سے چند ضروری سوالات پوچھے اور ضروری معلومات حاصل کیں۔ پھر اس نے پوچھا: ’’آپ کو بھی بچپن میں کبھی بند جگہوں سے خوف تو نہیں آتا تھا؟‘‘ ماں نے پہلے تو انکار کیا لیکن پھر معالج کے اصرار پر اس نے اپنے حافظے پر زور دیا۔ اسے یکایک یاد آیا کہ وہ جب دس سال کی تھی تو اسے بھی بند جگہوں سے ڈر لگتا تھا۔ ماں جب اس تاریک یاد کو اپنے شعور میں لائی تو بچے کا ڈر بھی دو ر ہوگیا۔

اس واقعہ کو بیان کرنے سے مقصد صرف یہ تھا کہ بچے کی ذہنی صحت کا بہت حد تک انحصار صرف اس بات پر ہے کہ آپ اپنی ماضی کی تاریک یادوں کو کس حد تک شعور میں جگہ دیتے ہیں۔

بچے کے احساسات، توہمات اور خیالا ت کو سمجھنے کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ سمجھنے والا اپنے ماضی کے تاریک اور تیرہ پہلوؤں کو فراموش نہیں کرچکا ہو، وہاں یہ بھی لازمی ہے کہ سمجھنے والے میں خود بہت حد تک بچہ بننے کی بھی صلاحیت ہو، اس سے یہ مرا دنہیں کہ جس شخص میں غیر ارادی طور پر طفلانہ عادات اور خصائل ہوں، وہی بچوں کو خوب سمجھ سکتا ہے۔ کیوں کہ وہ بالغ، جس کی حرکات اور جس کا کردا رطفلانہ ہو، اپنے آپ میں اس قدر الجھا ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے احساسات پر ہمدردی سے نظر نہیں ڈال سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باشعور انسان، جس کی قوتِ ارادی اپنے ماضی کی تیرگی کو چھپانے کے عمل پر استوا رنہیں ہوئی او رجس کی شخصیت کے مختلف عناصر، اس کے شعور میں رچ بس چکے ہیں، وہی انسان ارادتاً وطوعاً بچہ بن سکتا ہے، وہی انسان بچے کے تصور کی علامتی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے۔

شعور کو بچے کے تصور سے آشنا کرنے او راس تصور کو آگہی کی رگ رگ میں بسانے سے، نشو و نما اور تغیر کی صلاحیتیں بروئے کار آتی ہیں، چناں چہ جن تہذیبوں کے قوانین، فنونِ لطیفہ اور علوم میں بچے کا تصور بدرجہ اتم اہم ہے، ان میں پھلنے پھولنے، بڑھنے اور ترقی کرنے کے ان گنت امکانات ہیں، او ران امکانات کو حقیقت کا جامہ پہنانے کی سرگرمیاں نظر آتی ہیں، بچہ ایک نئی زندگی کی علامت ہے، نت نئی حرکات، یعنی تخلیقی اعمال کی علامت ہے، بے پناہ اور اَن تھک تجسس کی علامت ہے، جن تہذیبوں نے بچے کی ا ہمیت یعنی اپنی روحانی زندگی کی اہمیت سے انکار کیا ہے۔ ان میں نہ تو نشو و نما کے امکانات رہتے ہیں او رنہ ان کی نظر انسانی فطرت کے گوناگوں امکانات کا جائزہ لے پاتی ہے، وہ مستقبل کو ماضی اور حال سے مختلف سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے، مستقبل ان کے لیے محض حال کا توارد اور ماضی کا سرقہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں بھی ابھی تک بچے کی علامتی حیثیت کا پورا احساس پیدا نہیں ہوا، چناں چہ ہمارے یہاں بچوں کا ادب بھی بالغ حیثیت میں موجود نہیں ہے، ہمیں اپنے پیغمبر آخر الزماںﷺ کی بلوغت کے بعد کے واقعات تو بہت معلوم ہیں لیکن ان کے بچپن کی زندگی کے بارے میں ہمارا علم خاصا ناقص ہے۔ بچوں کی تعلیم او رتربیت کے متعلق ہمارا فکر خام اور تشنہ ہے۔ بچے کی حفاظت اور اس کے ماحول کو صحت مند بنانے کی کوشش او رکاوش ابھی ہمارے یہاں محض ابتدائی حیثیت رکھتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد اجمل

One comment

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: