عورت و مرد کی کشمکش

یورپی عورت ’’مرد سامراج‘‘ کے ’’استحصالی پنجے‘‘ سے نکلنے کے لیے بظاہر مرد کے خلاف محاذ آرا ہوئی۔ لیکن اپنے حقوق، عزت و وقار اور آزادی کی بازیابی کے بجائے اپنی نسوانیت سے ہاتھ دھو بیٹھی، جس مرد کے ظلم و زیادتی سے نجات کا نعرہ اسے دیا گیا تھا، اسی مرد کے انداز و اطوار، تراش و خراش او رحرکات و سکنات اسے ایسی بھا گئیں کہ عورت نے بے سوچے سمجھے اپنی جون بدلنا شروع کردی۔ اپنی نسوانی خاصیتوں کا گلا اپنے ہاتھ سے گھونٹنے لگی۔ اپنی نسوانیت اسے باعث عار نظر آنے لگی او روہ اسی کا روپ دھارنے کی کوشش میں لگ گئی، جس کی زیادتیوں سے بچنے کے لیے آزادی و مساوات کے گیت گا رہی تھی۔

لیکن عورت کا مرد کی جگہ لینا او راس کا بن جانا عورت کے لیے قطعی طور پر ممکن نہیں تھا’’کواّ چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا‘‘کے مصداق عورت مرد کا روپ اختیا رکرنے میں تو ناکام رہی، البتہ وہ اپنی نسوانیت کا گوہر گراں قدر کھو بیٹھی۔ اس کے اندر سے مامتا کی عظمت و تقدیس ختم ہوئی نسوانیت کے جوہر کی بنا پر قدرت نے اسے کشش، محبوبیت اور جذبوں کی جو مرکزیت عطا کر رکھی تھی وہ زائل ہوگئی۔ ازدواجیت اور رفاقتِ حیات کو زندگی کا بار سمجھنے والی عورت کو آوارہ مزاج، عیاش طبع اور فطرت کی اقدا رو حدود سے متنفر مردوں نے دوستی کے نام پر بڑا ہی سستا، گھٹیا اور ہر جگہ اورہر لمحے دستیاب ہوجانے والا کھلونا بنا لیا۔ گویا عورت مرد کی نقالی کر کے مرد تو نہ بن سکی لیکن وہ مرد کی جنسی ہوس کا ایسا سامان بن گئی جس کی قدر مرد کے دل میں اتنی بھی نہ تھی جتنی قدر اس کے دستانوں اور جرابوں کی ہے۔

نجات کی تحریک مساوات کے نعروں او ربزعم خود اپنی کامیابیوں پر خوشی کے گیتوں کا حاصل کیا رہا؟ عورت کی پامالی، نسوانیت کے بلند مقام سے گراوٹ، مرد کے سفلی جذبا ت کے لیے ایک سستا کھلونا بن کر رہنا!!!

عورت جدیدیت کے نشے میں ڈوب کر بھی ان حقائق سے چشم پوشی نہیں کرسکتی کہ اس کا نسوانی جنسی وجود ایک اٹل حقیقت ہے ، وہ کتنی ہی نقالی کرے اور کیسے ہی بہروپ بھرے، مرد نہیں بن سکتی، آزادی او رنجات کے کتنے ہی راگ الاپے مرد سے جدا اور بے نیاز رہنا اس کے لیے ممکن نہیں، حقوقِ نسواں کی کیسی ہی تحریکیں چلائے، عزت و شرف، تحفظ و سکون کی دولت اُسے خاندان کے دائرے ہی میں میسر آسکتی ہے۔ حدود و قیود سے آزاد نسوانی تنظیموں کے ہزار حصار اپنے گرد کھڑے کرے، زندگی کی آخری سانسوں کی بے بسی، مجبوری اور کسمپرسی کی کیفیتوں سے بچنے کا ایک ہی رستہ ہے کہ وہ ماں، بہن، بیوی یا بیٹی میں سے کسی نہ کسی حیثیت کی حامل ہو۔ انسانیت کی بقا، تمدن کے فروغ او رمعاشروں کے استحکام کا دار و مدار اسی بات پر ہے کہ عورت مرد سے نفرت و عداوت کے جذبے پالنے کے بجائے شوہر، باپ، بھائی یا بیٹے کی حیثیت میں مرد کے ساتھ حقیقی، فطری اور عظیم رشتوں کی آبیاری کرے۔ خاندان جیسے فطری، قدیم ترین اور عظیم ادارے کو مستحکم کرنے کا باعث بنے۔

بی ٹی فریڈن عورتوں کی بے راہ رو تنظیموں اور تحریکوں کو اسی حوالے سے نشانۂ تنقید بناتے ہوئے اور انہیں ان کی غلطی پر ٹوکتے ہوئے کہتی ہیں ’’مرد ہمارے محبوب ہیں، ہمارے ہمدرد، ہمارے معاون، دوست ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے بیٹے ہیں۔ ہاں کچھ او رکبھی کبھی ہمارے دشمن ہیں لیکن جو ہمارے ہمدرد و غم گسار شوہر، باپ، بیٹے، بھائی) ہیں ان کے ساتھ مل کر ایک ایسے سماج، ایک ایسے ماحول او رایک ایسے نظام کی صورت گری کرنی ہوگی جو سب کے لیے، ہاں مردوں عورتوں سب کے لیے رحمت ہو۔‘‘

موصوفہ جدید عورت کی نام نہاد تحریکِ آزادی کے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد عورتوں کی سوچ کو اس نتیجے کی طرف لے جانا چاہتی ہیں۔ ’’عورتوں کی نجات کی تحریک کے پہلے مرحلہ کے مطالبات اور ان کے اثرات و نتائج کی روشنی میں یہ حقیقت ہمارے سامنے آئی ہے کہ مردوں اور بچوں کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں۔ اگلے مرحلے میں کچھ اور سوچنا ہوگا۔ تحریک کا ایک نیا مرحلہ شروع کرنا ہوگا جو کیریئر کی کامیابی او رگھریلو زندگی دونوں کی ضروریات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘

یاد رہے کہ بی ٹی فریڈن جدید دو رمیں آزادیِ نسواں کے مطالبے کی ایک مضبوط آواز رہی ہیں۔ ان ہی کی طرح تحریک آزادی نسواں کی ایک اور بڑی حامی بلکہ قائد جرمین گری یر بھی عورتوں کے حقوق کی خاطر طویل جدوجہد کے نتائج کو دیکھ کر اسی نتیجے پر پہنچیں کہ یہ تحریک اپنے اثرات و نتائج کے اعتبا رسے عورت اور پوری معاشرت کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ وہ عورت کو ایک مثبت رائے دیتے ہوئے لکھتی ہیں:

’’عورت اور خاندان ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم عورتوں کی نجات کی تحریک کا تنقیدی نظر سے جائزہ لیں او ردیکھیں کہ ہم نے کیا کچھ کھویا او رکیا پایا ہے۔ ہمیں اپنے وجود کی بنیادی اصلیت کو پہچاننا ہے۔ او رہمارے سامنے جو نئے سوال آرہے ہیں ان کے جواب تلاش کرنا ہیں۔ ان نئے سوالوں اور بنیادی ضرورتوں کا تعلق عورت کی اپنی ذاتی قوت، شناخت اور اس کے وقار اور خاندان کے ساتھ اس کے تعلقات سے ہے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
منیر احمد خلیل

Leave a Reply