چبھن

’’توبہ توبہ دیکھا اس لڑکی کو … کتنی تیز ہے، کیسے قینچی کی طرح زبان چلتی ہے، ذرا لحاظ نہیں، بڑی منہ پھٹ ہے، میں تو ایسی لڑکی کو ایک منٹ بھی اپنے گھر میں برداشت نہ کروں، نہ جانے تم کیوں ایسی زبان دراز لڑکیوں کو اپنے گھر بلا لیتی ہو۔‘‘ آبا زاہدہ دونوں کلے پیٹتے ہوئے چھوٹی بہن سے کہہ رہی تھی۔

’’ویسے وہ کچھ اتنا غلط بھی نہیں کہہ رہی تھیں۔‘‘ یہ جوا ب ان کی بھانجی تانیہ کی طرف سے آیا تھا۔ جواب میں انہوں نے بھانجی کو گھورا۔

’’میرے خیال سے آپا، تانیہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔ سمیرا آخر چھوٹی بھابھی اور ان کے بچوں پر کی گئی زیادتیوں کا احساس ہی تودلا رہی تھی۔ ان سے ہمدردی ہی تو کر رہی تھی۔‘‘ چھوٹی بہن تھوڑا اٹکتی ہوئی گویا ہوئی۔

’’بہت خوب … تم بھی بیٹی اور اس لڑکی کی ہم نوا بن گئیں۔ بھئی ماشاء اللہ۔‘‘ بڑی آپا طنزیہ بولیں

’’نن نہیں، میرا مطلب ہے کہ …‘‘

’’بس بس اپنے مطلب اپنے پاس رکھو، غضب خدا کا، جس لڑکی کو چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں، جو منہ میں آئے بے دھڑک بول دے، تم لوگ اس کا ساتھ دے رہے ہو! ہاں بھئی بری بہن کس گنتی میں…! اس بالشت بھر لڑکی کو شہ دی جا رہی ہے، تمہارے بہت سے کام جو کردیتی ہے۔‘‘ آخری جملہ آپا نے کچھ جتاتے ہوئے کہا۔

’’ہوہو آپا، آپ بھی بات کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔ آپ ہمارے لیے سب سے اہم اور قابل احترام ہیں، چھوڑیں سمیرا کو، اصل میں وہ چھوٹی بھابھی کے گھر زیادہ جاتی ہے ناں، اس لیے … اچھا یہ بتائیں آپ کے لیے چائے بنواؤں؟ا و رآپ نے کیک، بینس وغیرہ تو اس وقت ٹھیک سے لیا ہی نہ تھا، اب لے لیں او ریہ سینڈوچ تو بڑے مزے کے ہیں پہلے یہ لیں۔‘‘ چھوٹی بہن، آپاکا موڈ درست کرنے کی کوشش کرنے لگیں او ران کے آگے ٹرالی کھسکا کر میزبانی نبھانے لگیں۔

’’اے بس رہنے دو، جو قسمت میں تھا خدا نے کھلا دیا۔‘‘ وہ روٹھے لہجے میں بولیں۔

’’اب جانے بھی دیں ناں آپا، یہ لیں، اچھا، کیک دوں…‘‘ وہ پلیٹ بناتے ہوئے بولیں۔

’’اب تم اصرار کر رہی ہو تولے لیتی ہوں، ویسے ہی سمیر امجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔‘‘ وہ بہن کے ہاتھ سے پلیٹ لیتے ہوئے بولیں۔ ’’آئندہ جب مجھے بلانا ہو تو یہ لڑکی ہرگز مجھے تمہارے گھر میں نظرنہ آئے۔ وہ کیک کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے بولیں۔

’’جی جی، جیسے آپ کی خوشی۔‘‘ چھوٹی بہن نے جلدی سے سر ہلا ک کرکہا، مبادہ بڑی آپا کو ان کی پھر کوئی بات بری نہ لگ جائے۔

’’اور یہ چیزیں بغیر چائے کے کہاں مزا دیتی ہیں۔ اب چائے توبنواؤ کسی سے کہہ کر۔‘‘ آپا کی تیوری کے بل بھی ختم نہ ہوئے تھے۔

’’ارے تانیہ، ناجیہ کہاں ہو، جلدی سے خالہ کے لیے چائے لے کر آؤ۔‘‘

انہوں نے فوراً بیٹیوں کو آوازیں دیں۔‘‘

…٭٭٭…

او ریہ ایک ہفتے بعد کی بات تھی… تانیہ سمیرا سے ملنے جو اس کی کزن یعنی چچا زاد بہن تھی، اس کے گھر گئی۔ دونو ں ایک دوسرے سے محبت سے ملیں۔ سمیرا تانیہ کی نہ صرف کزن بلکہ سھیلی بھی تھی۔ دونوں میں بڑی دوستی اور پیار تھا۔

’’سمیرا تم ہمارے گھر جو پچھلے ہفتے آئی ہوئی تھیں، تمہارے جانے کے بعد پتا ہے کیا ہواَ‘‘ تانیہ نے سمیرا سے باتوں کے درمیان اچانک یاد آنے پر کہا۔‘‘

’’کیا ہوا؟‘‘ سمیرا جو باتوں کے ساتھ کپڑے بھی استری کر رہی تھی، ہاتھ روک کر پوچھنے لگی۔

’’ارے بس نہ پوچھو۔‘‘

’’تو نہ بتاؤََ سمیرا لاپروائی سے کپڑوں پر استری پھیرتے ہوئے بولی۔ جواب میں تانیہ نے چند لمحے تو خاموشی سے گزارے لیکن پھر اس سے مزید صبر نہ ہوا۔‘‘ وہ جو ہماری بڑی خالہ آئی ہوئی تھیں ناں، جن سے تم نے بڑے بڑھ چڑھ کر چھوٹی بھابھی پر کیے گئے مظالم سنائے تھے، بس نہ پوچھو تمہارے جانے کے بعد ان کا کیا رد عمل تھا۔‘‘

’’کیا مطلب! میں نے کون سا جھوٹ بول دیا۔‘‘

’’یہی تو … تم نے تو سچ بولا، خوب بھڑاس نکالی، لیکن ہماری خالہ کو تو بہت برا لگا، ان سے وہ سچ نہ سہا گیا اور تمہارے جانے کے بعد انہوں نے تمہارے لیے کہا کہ سمیرا تو بڑی منہ پھٹ ہے، بدلحاظ ہے، قینچی کی طرح زبان چلتی ہے اور چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں اور بھی نہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھیں۔ میں نے اور امی نے تمہاری حمایت میں بولنا چاہا تو ہمیں بھی جھاڑ دیا، اف بڑی ناراض ہوئیں وہ تم سے۔‘‘

جواب میں سمیرا خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔

’’تمہیں بر الگاناں! ظاہ رہے برا لگنا بھی چاہیے۔ آخر اتنی باتیں سنا دیں۔‘‘ تانیہ اسے بولنے پر اکسانے لگی۔ لیکن سمیرا اب بھی خاموش تھی۔

’’سمیرا بولو ناں، جواب کیوں نہیں دے رہیں‘‘

’’تانیہ مجھے خالہ کا بولنا بالکل برا نہ لگا۔‘‘

’’اچھا! بھئی بڑا دل گردہ ہے تمہارا۔‘‘

’’ہاں کیوں کہ میں نے تو وہ سنا ہی نہیں جو انہوں نے مجھے کہا، وہ تو بڑی بامروت ہیں کیوں کہ انہوں نے میرے سامنے مجھے کچھ نہ کہا، اصل تکلیف تو مجھے تم نے دی ہے۔‘‘

’’میں نے؟ سمیرا کیا کہہ رہی ہو، میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا۔‘‘

’’کیوں، تم نے اپنی خالہ کے الفاظ میرے سامنے نہیں دوہرائے۔‘‘ اگر تم نہ بتاتیں تو مجھے تو کسی بات کی خبر ہی نہ تھی، لیکن تم نے خاص طور پر مجھے وہ الفاظ اور جملے سنائے، تکلیف تو مجھے آج ہوئی تم نہ بتاتیں تو میں لاعلم ہی رہتی لیکن تم نے مجھے وہ سب سنا کر اذیت دی۔ اب جب تمہاری خالہ کا او رمیرا آمنا سامنا ہوگا تو وہ سارے الفاظ میرے دماغ میں گھومیں گے او رمیرا دل خواہ مخواہ ان سے برا ہوگا۔‘‘ سمیرا سر جھکائے عجیب و غریب باتیں کر رہی تھی۔

’’تم کیسی باتیں کر رہی ہو، سمیرا مجھے بالکل سمجھ میں نہیں آرہی۔‘‘

’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں، لفظوں کے تیر انہوں نے نہیں، تم نے مجھے چبھوئے، کیا ہو جاتا اگرتم مجھے نہ بتاتیں، بات ختم کردیتیں۔ لیکن تم نے…‘‘ سمیرا اتنا کہہ کر پھر خاموشی سے کپڑے استری کرنے لگی۔ اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا، یا اسے ہی محسوس ہوا۔ لیکن یہ سب سن کر تانیہ کی آنکھیں ہی نہیں بلکہ منہ بھی حیرت سے کھلا رہ گیا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فرحی نعیم

Leave a Reply