BOOST

گرین کارڈ

زیبا سے بات کیے گھنٹے بھر سے زیادہ ہوچکا تھا مگر میں وہیں بیٹھی ہوئی تھی سرتھامے۔ بے رح رو رہی تھی زیبا فون پر۔

’’امی ۔۔۔ امی۔۔۔ مدھو۔۔۔ مدھو۔۔۔‘‘

’’کیا ہوا؟ کیا ہوا مدھو کو؟ رو کیوں رہی ہو؟‘‘

’’امی‘‘ اس کے لیے اپنے آپ پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔‘‘ امی ۔۔۔ مدھو۔۔۔ مدھو۔۔۔ نے لٹکا لیا خود کو پنکھے سے!

’’امی ۔۔۔ مدھو۔۔۔ مدھو نہیں رہی!‘‘

مجھے تو جیسے کاٹھ مار گیا ہو۔ کھڑی کی کھڑی رہ گئی ۔۔۔ رات بھر پریشان رہی تھی۔ مدھو کے لیے۔ سو ہی نہیں سکی تھی۔ فکر کے مارے۔۔۔ دس بجے رات کو مدھو کے ساؤتھ ایکسٹینشن والے گھر سے بینا کا فون آیا تھا۔ پوچھ رہی تھی کہ مدھو ہمارے گھر تو نہیں آئی؟ پتا نہیں کار لے کر کہاں چلی گئی ہے۔‘‘

پچھلے دنوں کی لمبی بیماری سے اٹھنے کے بعد مدھو نے را ت کی ڈرائیونگ بند کردی ہے۔ یہ بات مجھے اچھی طرح معلوم تھی۔ پھر کہاں چلی گئی رات کو۔ کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہوگیا ہو۔ اتنی ریش ڈرائیونگ کرتی ہے! کبھی کبھی تو پاگلوں کی طرح چلاتی ہے گاڑی۔ جلے پاؤں والی بلی کی طرح سارے گھر میں چکر لگا رہی تھی گول گول پھرتی ہوئی۔ گھبراہٹ کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔ برداشت نہیں ہوا تو رات کو ایک بجے دل کڑا کر کے اس کے گھر فون کرلیا تھا۔

ڈیوڈ نے فون اٹھایا تھا اس نے بتایا ’’ہاں آگئی ہے۔ سو رہی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ اتنا بگڑا ہوا تھا کہ آگے پوچھنے کی ہمت ہی نہیں پڑی۔ ڈیوڈ آیا ہوا ہے کویت سے یہ تو مجھے مدھو سے معلوم ہوا تھا اور ان کے تعلقات صحیح نہیں جا رہے ہیں، اس کا بھی مجھے بخوبی پتا تھا۔ میں نے سوچا، ہوگیا ہوگا دونوں کا جھگڑا او رغصے میں کا رلے کر نکل پڑی ہوگی۔ شکر ہے لوٹ آئی! ڈیوڈ سے بات کر کے مجھے تسلی تو ہوئی تھی مگر رات کروٹیں لیتے گزری۔۔۔ صبح زیبا نے کہا کہ وہ کلاسیس لینے کے بعد مدھو کے گھر ہولے ۔۔۔۔ او راب ۔۔۔ یہ خبر!

امی ۔۔۔ امی۔۔۔ سن رہی ہیں آپ؟۔۔۔ میں جا رہی ہوں۔ کالج کے دوسرے لوگوں کے ساتھ۔‘‘

’’مگر زیبا۔۔۔ مدھو ۔۔۔ کیسے لٹکا سکتی ہے خود کو پنکھے سے۔۔۔ اس پگلی کو تو رسی میں گانٹھ باندھنا بھی ٹھیک سے نہیں آتا۔ ہمیشہ دوسروں کی مدد لیتی ہے۔‘‘ میرے گلے میں آواز پھنس پھنس کے نکل رہی تھی۔

’’پتا نہیں امی۔ بینا کا فون آیا تھا۔ کالج میں، خدا حافظ میں جا رہی ہوں۔‘‘

بینا بھی مدھو کی طرح کالج میں پڑھاتی تھی، جہان زیبا لکچرر ہے۔ مدھو اسپورٹس کے شعبے میں تھی۔

بینا نے اپنے شوہر کے معذو رہوجانے کی وجہ سے کالج سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا۔ وہ لوگ مدھو کے ساؤتھ ایکسٹینشن والے گھر کے آس پاس رہتے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کے اطمینان ہوا تھا کہ مدھو کی بینا سے اچھی دوستی ہے۔ نہیں تو جب سے مدھو ہمارے پڑوس سے گئی تھی، مجھے اس کی فکر لگی رہتی تھی۔ ہمارے قریب رہتی تھی مدھو تو کتنی خوش رہتی تھی۔ روز بلا ناغہ زیبا کو اپنی کار میں لے کر ہمارے گھر آجاتی تھی۔ دونوں ساتھ ساتھ گپ شپ کرتے کھانا کھاتے تھے۔ مدھو کو میٹھا بہت پسند تھا۔ میں روز اس کے لیے کچھ نہ کچھ میٹھا بنا کے رکھتی تھی۔ کسی دن کچھ نہ بنا پاتی تو دہی میں چٹنی ڈال کر خوب پھینٹ کر اسے دے دیتی۔ کیا خوش ہوکر کھاتی تھی۔ ’’امی! آپ کے یہاں کے دہی میں جو مزہ ملتا ہے، وہ اچھی سے اچھی مٹھائی میں نہیں ملتا۔ یور آر گریٹ امی۔‘‘

مدھو کا شوہرکویت میں تھا او ربیٹا امریکہ میں زیر تعلیم۔ مدھو خوش ہو ہو کے مجھے ان کی تصویریں دکھاتی۔ ان کی باتیں کرتی۔ زیبا کے کمپیوٹر سے انہیں ای میل کرتی مجھے تو امی، ہی کہتی تھی۔‘‘ میں آپ سے عمر میں بہت چھوٹی نہیں ہوں مگر آپ مجھے بالکل میری ممی جیسی لگتی ہیں ایونوامی! امائی مدر واز اے مہاراشٹرین برہمن اینڈ فادر بنگالی کرسچن! اینڈ آئی میریڈ اے کیرالائٹ! میں ریلیجن کو مانتی ہوں۔ آئی بلیو ان ڈیوائن! آل مائٹی گاڈ! اینڈ یو مائی امی۔ محمڈن!ونڈر فل نا!‘‘

’’ہاں ہاں مدھو، ایکزیکٹلی! رشتے عمر یا ریلیجن سے نہیں دل سے بنتے ہیں۔ آپ میری بیٹی کی کلیگ ہیں تو میری بیٹی ہی ہوئیں نا!‘‘ میں خوش ہوکے کہتی تھی۔ میرا دل آہوں سے پھٹا جا رہا تھا۔ قدم قدم پر بیٹی کا رول نباہنے کی کوشش کرنے میں لگی رہتی تھی۔ میں بیما رہو کے اسپتال میں داخل ہوئی تو رات رات بھر میرے ساتھ رہی۔ زیبا کے آپریشن میں خون دینے کی ضرورت پڑی تو سب سے آگے وہ کھڑی ہوگئی۔ ضد کر کے اپنا خون دیا اور خوب خوش ہوکے بولی ’’ہوگیا، ہمارا بلڈر ریلیشن! ہوگیا۔‘‘

اپنے ابو کے اس دنیا سے جانے کے بعد زیبا نے گھر کا سار ابوجھ اپنے کندھوں پر لے لیا تھا کسی بیٹے کی طرح اور شادی سے مسلسل انکار کیے جا رہی تھی۔ مجھے اس بات کی بہت پریشانی تھی۔ مدھو مجھے دل گرفتہ دیکھ کر مجھے سمجھانے بیٹھ جاتی۔ ’’ڈونٹ واری امی! وہاٹ ڈو یووانٹ؟ ہر ہیپی نس نا! اف شی از ہیپی لٹ اٹ، لٹ اٹ بی!‘‘ میں کہتی ’’ابھی تو ٹھیک ہے مدھو۔ مگر جب میں نہیں رہوں گی تو بالکل اکیلی رہ جائے گی۔ پھر کون رہے گا اس کے ساتھ سب کی اپنی اپنی زندگی ہوتی ہے ! ڈھلتی عمر میں ہی تو سب سے زیادہ کسی ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یوں بھی مرد اور عورے مل کے ہی پورے ہوتے ہیں۔ ’’توکہتی لِٹ ہر ڈیسائڈ اٌ! آئی ڈونٹ تھنک اپنے پرفکشن کے لیے اسے کسی کی ضرورت ہے۔ شی از پر فکٹ! اسے اپنے لیے کسی سہارے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

اس کے ساتھ گزارا ہوا لمحہ لمحہ یاد آکے مجھے تڑپائے جا رہا تھا۔ چار پانچ سال کا اس کے ساتھ گزرا ہوا وقت کتنا خوش گوار تھا! کتنا سہانا! سب ختم ہوگیا؟ اور ایسے؟ دو سال پہلے ٹینو او رڈیوڈ آئے ہوئے تھے۔ ہم ملنے گئے تو مدھو نے بتایا کہ ڈیوڈ ’’پری میچیور ریٹائمنٹ‘‘ لینے کی کہہ رہا ہے۔ ’’ٹینو کی پڑھائی ختم ہوگئی ہے۔اسے بڑا اچھا جاب مل رہا ہے۔ پے بہت اچھی ہے۔ ڈیوڈ کہہ رہا ہے کہ میں ’’پری میچیور ریٹائرمنٹ‘‘ لے لوں۔ روہنی دالی کوٹھی بیچ کر ساؤتھ ایکسٹینشن میں فلیٹ لینے کو کہہ رہا ہے۔ ٹھیک بھی ہے! اس کوٹھی کے مینٹیننس میں کتنا خرچ ہوتا رہتا ہے اور یہاں سے ایئر پورٹ بھی بہت دو رہے۔ اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد چاہوں تو ڈیوڈ کے ساتھی کویت جا کے بھی رہ سکتی ہوں۔‘‘ مجھے سن کے دھکا سا لگا۔ مدھو یہاں سے چلی جائے گی؟ساتھ ہی مدھو کی ریٹائرمنٹ لینے والی بات میرے گلے سے نہیں اتر رہی تھی۔ ریٹائرمنٹ کیوں لینا چاہیے اسے! ڈیوڈ کے سامنے کچھ کہنا ٹھیک نہیں لگا، مگر گھر واپس آکے فون پر اس کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ابھی ریٹائرمنٹ مت لو۔ لمبی چھٹی لے کر کویت جاؤ۔ وہاں رہ کے دیکھو کہ وہاں تمہیں کیسا لگتا ہے پھر فیصلہ کرنا۔‘‘

مگر ڈیوڈ نے پتا نہیں کیسے سنہرے خواب دکھا دیے تھے اسے۔ نہیں مانی۔ اور ریٹائرمنٹ لے کے روہنی والا بنگلہ بیچ دیا۔ او رڈیوڈ نے جھٹ پٹ ساؤتھ ایکسٹینشن میں فلیٹ کا انتظام بھی کرلیا اور وہ روہنی چھوڑ کے چلے گئے۔

’’ہاؤس وارمنگ‘‘ پارٹی میں ہم گئے۔ مدھو خوش تو تھی مگرکچھ الجھی الجھی سی نظر آئی مجھے۔ کچھ تو ایسا تھا جو اس کے چہرے پر اپنا سایا ڈال کے اسے بار بار دھندلانے میں لگا ہوا تھا۔ حالاں کہ اس موقع پر نہ صرف ڈیوڈ بلکہ ٹینو او ربابا بھی موجود تھے۔ اس کا بھائی بابا! نام تو پتا نہیں اس کا کیا ہوگا۔ مدھو اسے بابا کہتی تھی عمر میں مدھو سے دو سال چھوٹا تھا۔ میں نے سوچا شاید بابا کی وجہ سے دل گیر ہو رہی ہے! کچھ دن پہلے اس نے مجھے بتایا تھا کہ بابا کو اس کی بیوی اور بچوں نے گھر سے نکال دیا ہے۔ ’’امی، مائی سسٹر ان لا!۔۔۔ شی اِزنوٹ اے بیڈ وومن!۔ بٹ۔ وہ بھی کیا کرے وہ کتنی پیتا ہے! الکوہلک‘‘ ہوگیا ہے۔ جاب پر جانا بھی چھوڑ دیا۔ بھابی کی پے پر ڈرنگ کرتا رہتا ہے۔ بہت ستایا اس کو۔۔ ۔ کیا کرتی۔ نکال دیا گھر سے! بٹ ہاؤ کین آئی ڈواٹ ٹو ہم؟ آفٹر آل ہی اِز مائی برادر! بھائی ہے میرا۔‘‘

’’ہاں مدھو۔۔۔ یوشدناٹ!‘‘ میں نے کہا تھا۔

’’ایک طرح سے اچھا ہی ہے۔اب اکیلی نہیں رہیں گی آپ، بھائی رہے گا آپ کے ساتھ۔‘‘ کہنے کو میں نے کہہ دیا مگر مجھے خو ب معلوم تھا کہ بابا مدھو کے لیے کتنی بڑی پریشانی ہے۔ پہلے بھی جب آتا تھا پی کے اودھم مچایا تھا۔ پیسوں کے لیے جھگڑا کرتا تھا۔ اس کے پرس سے پیسے بغیر پوچھے نکال لیا کرتا۔ وغیرہ وغیرہ۔ او رمدھو! کہہ رہی ہے ’’آفٹر آل ہی اِز مائی برادر!‘‘ مجھے مدھو بہت ترس آیا تھا اس دن!

’’ہاؤس وارمنگ پارٹی‘‘ کے بعد بہت دن تک میری مدھو سے بات ہوئی نہ ملاقات۔پھر اچانک ان کا فون آیا۔ امی!میں کویت جا رہی ہوں۔ ڈیوڈ کے ساتھ۔‘‘ تو میں نے انہیں الوداعی پارٹی کے طو رپر اپنے گھر مدعو کرلیا۔ ٹینو امریکہ واپس جاچکا تھا۔ مدھو، ڈیوڈ اور بابا آگئے تھے۔ مدھو بہت خوش نظر آرہی تھی۔ میرے دل سے دعا نکلی! ’اللہ انہیں خوش رکھنا۔ اتنے دنوں سے الگ الگ جیتے رہے ہیں دونوں!‘‘ مدھو جانے لگی تو میرے گلے لگ کے بولی ’’اتنی نماز پڑھتی ہو آپ۔ میرے لیے پرے کرنا۔ اسپیشل پریئر۔‘‘

’’بچی! میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رھیں گی۔ خدا حافظ جاؤ!‘‘ او رمیری آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔

مدھو کویت سے چھ مہینے بعد ہی لوٹ آئی۔

ہم سے ملنے آئی تحفے تحائف کا ڈھیر لیے۔ ’’لو بھئی! ہمارے گھر فادر کرسمس نہیں، مدر کرسمس آگئی ہے۔ وہ بھی کرسمس سے پہلے!‘‘ میں نے ہنس کرکہا تھا مگر مجھے وہ مدھو نظر نہیں آرہی تھی جو ہوا کرتی تھی۔ میں نے سوچا مدھو جس زندگی کی عادی ہے وہ کہاں ملی ہوگی اسے وہاں! اس عمر میں نئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا مشکل ہے بھئی۔ مگر اصل وجہ تو اس کے واپس جانے کے بعدمعلوم ہوئی جب زیبا نے بتائی۔ ڈیوڈ کے دوسری عورت سے تعلقات کی بات! پاش پاش ہو کے لوٹی تھی مدھو کویت سے!

’’صر ف یہی نہیں امی! گھر کی خرید سے جو رقم بچی تھی او ر مدھو کی گریجویٹی کے پیسے جو ریٹائر ہونے پر اسے ملے تھے وہ بھی ڈیوڈ نے رکھ لیے! زیبا بتا رہی تھی او رمیں اپنا سر تھام کے بیٹھ گئی۔ ’’ڈیوڈ۔۔۔ ایسا نظر تو نہیں آتا! ایسا کیسے کردیا اس نے؟‘‘

’’بزنس! امی! بزنس!‘‘ زیبا کہہ رہی تھی۔ بزنس میں تو جتنا لگاؤ کم پڑتا ہیـ!‘‘

دوبار ہ مدھو آئی تو خوب پیار کیا اسے میں نے۔

’’میرا بچہ! بڑی ہمت والا ہے!‘‘ وہ بھی دیر تک مجھ سے لگی بیٹھی رہی۔ جانے لگی تو بولی۔ ’’امی۔ آپ زیبا کے لیے دکھی رہتی ہیں۔ مت رہو۔ ڈھلتی عمر میں ساتھ بھی ساتھ رہے۔۔۔ ہمیشہ ایسا ہونا ضروری نہیں۔ خوشی کی گارنٹی نہیں میریج۔۔۔۔‘‘ اپنے آنسو روکتے روکتے اس کی آواز رندھی جا رہی تھی۔ ’’اٹ از آل ڈیپنڈز آن لک! سب نصیب کی با ت ہے۔‘‘

’’نہیں نہیں بچے‘‘ میں نے اسے تسکین دینے کی کوشش کی تھی۔

’’آپ کو دکھ کیوں ہو نا چاہیے۔ سلف ڈیپنڈنٹ ہیں آپ۔ گھر آپ کا ہے۔ پنشن ہے۔ سب سے بڑھ کے ٹینو ہے۔ اتنا لائق بیٹا ہے۔ آپ کا، ایک فون کردیں گی تو اڑ کے چلا آئے گا۔ خاک ڈالیے اس بات پر۔آپ تو آرام سے اپنی زندگی گزاریے۔ انجوائے یور لائف!‘‘ کہنے کو میں ہی سب کہہ رہی تھی مگر اپنے لفظوں کا کھوکھلا پن مجھے شرمندہ کیے جا رہا تھا۔ اس کے جانے کے بعد دیر تک چپ چاپ بیٹھی رہی۔ پہلی بار مجھے لگ رہا تھا کہ زیبا کا شادی کے لیے تیار نہیں ہونا کوئی بہت غلط بات نہیں ہے۔ اتنے برسوں کی شادی کے بعد بھی!۔۔۔ اللہ! بھروسا تو زمانے سے اٹھ گیا ہے جیسے!۔۔۔۔ مدھو یقینا کوئی سگھڑ بیوی نہیں رہی ہوگی اس کا اندازہ مجھے تھا۔ گھر کا کوئی کام اسے ڈھنگ سے کرنا آتا ہی نہیں تھا۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ اس نے ٹینو کو اتنا لائق کیسے بنا دیا۔ ایک دن گھما پھرا کے پوچھ لیا تو ہنسنے لگ گئی۔ ’’میں نے تھوڑا ہی پالا ہے ٹینو کو۔ وہ تو ماجی، مائی مدر ان لا۔۔۔۔ تھیں!شی واز ویری لونگ! بہت پیار کرتی تھیں مجھ سے۔ وہ تھیں تو مجھے کچھ کرنا ہی نہیں پڑتا تھا۔ میک اپ کر کے کالج جانے کے سوا۔ دس سال پہلے ان کی ڈیتھ ہوگئی۔ تبھی سے سب کچھ بدل گیا۔ ڈیوڈ نے سروس چھوڑ کے بزنس جوائن کرلیا۔ ٹینو ایجوکیشن کے لیے امریکہ چلا گیا اپنے انکل کے پاس۔ تبھی سے اکیلی رہ رہی ہوں میں۔ بٹ۔ آئی ڈونٹ کیر۔ ڈیوائن ازوتھ می! آفٹر آل۔ اٹ از مائی لائف! سروس چھوڑ کر ڈیوڈ کے ساتھ کویت نہیں جاسکتی تھی۔ اس کا بزنس تو اب اسٹیبلش ہوا ہے۔ تب اسے اور ٹینو کو فائننشیل سپورٹ چاہیے تھا کہ نہیں!‘‘

زندگی بھر مجھے اپنی نااھلی کا غم ستاتا رہا ہے۔ اندر ہی اندر اپنے آپ سے شرمندہ ہوتی رہتی ہوں کہ ہمیشہ دوسروں کی محنت کی کمائی کھاتی رہی ہوں۔ احساس کمتری کی ماری میں! مگر ۔۔۔ خود کفیل عورتوں کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے؟ یہ دیکھنا بھی لکھا تھا ان آنکھوں کو!

شام ہوتے ہوتے زیبا لوٹ آئی۔ آنکھیں اور چہرہ رو رو کے سوجے ہوئے ۔ میں بے تابی سے اس کا منہ دیکھنے لگی ’’کیا ہوا تھا؟‘‘ بدقت تمام پوچھا ’’کیا پتا۔۔۔ میں پہنچی تو ۔۔۔۔ مدھو کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا جاچکا تھا۔ سوسائیڈ نوٹ نہیں ملا ہے اب تک ۔۔۔ بلینک چیک ڈیوڈ کے نام چھوڑ گئی ہے۔ بینا چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ یہ خود کشی نہیں مرڈر ہے۔ پولیس ڈیوڈ کو حراست میں لے کر چلی گئی ہے۔‘‘

’’اور بابا؟ وہ بھی تو رہتا تھا مدھو کے ساتھ وہ کہاں گیا؟‘‘

’’بابا!‘‘ زیبا نے تلخی سے کہا ’’سوسائیڈ نوٹ کی تلاش میں مدھو کی ادھر ادھر ڈالی جو بھی رقم اس کے ہاتھ آرہی تھی اپنی جیب میں بھر رہا تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو مدھو کی فیورٹ پرفیوم چھڑک رہا تھا اپنے کپڑوں پر ۔۔۔۔ مدھو نے زبردستی اسے ری ہیبلیٹیشن سنٹر بھیج دیا تھا نا! آیا تو کہنے لگا ’’میری بہن تو ہمیشہ سے پاگل تھی۔ کرلیا ہوگا۔ سوسائیڈ!ہاں۔ اب پیسوں کے لیے اسے ڈیوڈ کا منہ دیکھنا پڑے گا۔‘‘

’’او رٹینو؟‘‘

’’ٹینو کو فون کردیا گیا ہے۔ کبھی معاف نہیں کرے گا ٹینو ڈیوڈ کو۔ نہیں چھوڑے گا اسے۔ سب اسی کا کیا دھرا ہے۔ سونے کے لیے مدھو نیند کی گولیاں لیتی ہے یہ کون نہیں جانتا۔ سوتے میں اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کی سانس بند ہوجانے پر پنکھے سے لٹکا دینا کون سی بڑی بات ہے ڈیوڈ کے لیے۔‘‘ زیبا کی سانسوں سے شعلے نکلنے لگے۔ ’’ارے مدھو کو اپنی جان دینی ہی تھی تو پنکھے سے لٹک کے کیوں دیتی۔۔۔ اپنی نیند کی گولیوں کی مقدا ربڑھا کے آرام سے مرجاتی۔ پنکھے سے لٹکنے کا مشکل طریقہ کیوں اختیار کرتی۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ آنے دو ٹینو کو۔ نہیں چھوڑے گا وہ ڈیوڈ کو۔ مدھو نے بتایا تھا کہ دوسری عورت والی بات جاننے کے بعد اس نے اپنے باپ سے بات کرنی بند کردی تھی۔ فون پر اس کی آواز سنتے ہی لائن کاٹ دیتا تھا۔‘‘ میں نے کہا او رہم سو گواری کے عالم میں بیٹھ گئے۔

دوسرے دن بینا کا فون آیا کہ کل مدھو کا جسم مل جائے گا۔ اور اس کی تدفین کا شام تک ہونا طے پایا ہے۔ ٹینو بھی کل تک پہنچ رہا ہے۔

ہم قبرستان پہنچے تو مدھو مٹی تلے دبائی جاچکی تھی۔ بابا نے اتنا غلط سلط پتہ ہی دیا تھا ہمیں! بھٹک بھٹک کے ہم وہاں پہنچے تو ٹینو، بابا، اور ڈیوڈ دوسرے لوگوں کے ساتھ واپس جانے کو کھڑے ملے۔ ٹینو ہمیں دیکھتے ہی ہمارے پاس آگیا۔ میں نے ا سکے سر پر ہاتھ رکھا تو رو پڑا۔ بتانے لگا کہ حادثے کی رات جو امریکہ میں دن تھا۔ فون کیا تھا اسے مدھو نے۔ ’’میں میٹنگ میں بیٹھا تھا۔میں نے کہہ دیا ممی! بعد میں فون کرنا۔ ابھی میں بہت بیزی ہوں!‘‘ کہتے کہتے وہ بری طرح رونے لگا۔ تبھی بابا تیز تیز چلتا ہوا ہمارے پاس آگیا۔ ’’سب ٹھیک ٹھیک ہوگیا۔‘‘ وہ بتا رہا تھا ’’مدھو کا میک اپ۔۔۔ ڈریس۔۔۔ سب پرفکٹ تھا۔‘‘

او رمیں نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا کہ وہ گھبرا کے ہٹ گیا۔ ڈیوڈ کی طرف تو نہ میں نے دیکھا نہ زیبا نے۔ بینا آگئی تھی او رہم ایک دوسرے سے لپٹے ہر طرف سے قبروں کے گھیرے میں پڑی مدھو کی آخری آرام گاہ کے سرہانے لگے ’’کراس‘‘ کو تکتے دیر تک کھڑے رہے ۔۔۔۔ او راس امید کے ساتھ گھر لوٹے کہ اب ٹینو آگیا ہے تو کچھ نہ کچھ کرے گا ہی۔۔۔ چلو مان لیتے ہیں کہ قتل نہیں خود کشی ہے تو بھی اس کی وجہ تو ڈیوڈ ہی ہے نا!

دو تین دن بعد بینا کا فون آیا۔

’’ہاں بینا، کیا ہوا؟ زیبا بے تابی سے پوچھ رہی تھی۔ ’’ٹینو کیا کر رہا ہے؟‘‘

’’ٹینو؟۔۔۔ ٹینو تو چلا گیا۔ دوسرے دن ہی چلا گیا امریکہ!‘‘

’’کیا؟‘‘ زیبا ہق دق کھڑی رہ گئی۔‘‘ ارے ایسے کیسے جاسکتا ہے وہ۔‘‘

’’ہاں زیبا۔ چلا گیا۔ ڈیوڈ کو بھی پولس نے چھوڑ دیا ہے۔‘‘

بابا کی گواہی پر !ٹینونے کہا کہ وہ یہاں کسی کو سزا دلانے یا مجرم ثابت کرنے نہیں، اپنی ماں کے ’’فیونرل‘‘ میں آیا ہے۔ یہ سب کرنے کے لیے اسے یہاں رکنا پڑے گاـ۔ او روہاں امریکہ میں اسے جو ’’گرین کارڈ‘‘ حاصل کرنے کا مسئلہ درپیش ہے وہ اٹک کے رہ جائے گا۔ ’’اور ریسیور زیبا کے ہاتھ سے گر گیا۔

تھوڑی دیر بعد جب میں اپنے حواسوں پر پوری طرح قابو پاچکی تو زیبا کو سمجھا رہی تھی۔ ’’اتنی دل گرفتہ ہو زیبا۔ ٹینو امریکہ میں سٹل ہوجائے، مدھو بھی تو یہی چاہتی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بلقیس ظفیر الحسن

تبصرہ کیجیے