توازن

حضرت شہر کے مشہوروکیل توصیف اِلٰہی عالم ِ پریشانی وسراسیمگی میںہاتھ ملتے ہوئے اپنی خواب گاہ میں ٹہل رہے تھے ۔ ناگاہ فون کی گھنٹی بج اُٹھی ۔ اپنے خیالوں سے چونکتے ہوئے ریسیور اُٹھا کر دوسری طرف سے بولنے والے کی آواز سننے لگے پھر آہستگی سے ریسیور واپس رکھ دیااور دونوںہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گئے۔

یک بیک اُن کا چہر ہ پھیکا پڑ گیا اور حالت اُس سوداگر کی سی ہو رہی تھی جس کی ساری ملکیت نادانستگی میں لٹ گئی ہو ۔فون پھر بجنے لگا لیکن اُٹھایا نہیں۔ساکن نظروں سے بس گھورتے رہے۔ جب گھنٹی بند ہو گئی توایک آہِ سرد بھرتے ہوئے کھڑکی کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ،پرُ ملال و پشیماںنگاہیں بے کراں آسمان کی وسعتوں میں بھٹکنے لگیں۔

برسوں پہلے ایک ایسی ہی شام تھی جب اُنہیں باپ بننے کی نویدملی تھی ۔ شادی کے بارہ سال بعدیہ مبارک گھڑی اُن کی زندگی میںآئی تھی جس کے لئے ا پنی شریکِ حیات سمیت کہاں کہاں دعائیں نہیں مانگی تھیں !کوئی درگاہ و آستانہ خالی نہیں گیا تھا ۔

شیریں اُن کی زندگی کی متاع قیمتی اور بے شمار دعاؤں کا حاصل تھی ۔ ایک پل بھی اُسے دیکھے بغیررہ پانااُن کے لئے ناممکن تھا ۔ گھر میں وہی ہوتا جو وہ کہہ دیتی۔ نوکر اُس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔ بات اُس کے منہ سے نکلنے کی دیر ہوتی فوراََ تعمیل ہو جاتی۔

اپنی لاڈلی کی ہر ادا پر اُنہیں ناز تھا ۔اُس کی ہر ایک جا و بے جا ضد پوری کرنے میں انوکھا سرورملتاتھا ۔۔۔۔۔۔سب کچھ اُسی کا تو تھا۔ ساری ملکیت کی وہ اکیلی وارث تھی۔ بے انتہا لاڈ پیارو بے جا دلار نے دھیرے دھیرے اُسے ضدی ،خودسرو تنک مزاج بنا دیا۔پدرانہ شفقت ہر بارماں کی فکر ونصیحت کے آ ڑے آ تی رہی۔

آج شیریں کی اکیسویں سالگرہ تھی۔بازار میں ایک نئے ماڈل کی گاڑی آئی تھی جسے پرانی والی کواونے پونے داموں میں بیچ کر خرید لیا گیا ۔ بیٹی سے وعدہ کیاتھا کہ ہر سال ایک نئے ماڈل کی گاڑی تحفے میں دیا کریں گے۔جانتے تھے کہ بیٹی پرایا دھن ہے ایک نہ ایک دن ماں باپ سے جدا ہوکر سسرال چلے جانا ہے۔ لہٰذا اپنی شفقت کے سائے میںگذارہ ہوااُس کا ایک ایک لمحہ بھی یادگار بنانا چاہتے تھے لیکن فہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ گھڑی اتنی جلد آ جائے گی۔

ایک پرانے شناسا رحمان سمیع کے گھر سے اُس کے لئے رشتہ آیا تھا۔ سیکڑوںایکڑ کافی کے باغات کے مالک کااکلوتا و ہونہار بیٹانعمان سمیع جو امریکہ سے ڈگری لے کر آیا تھا ۔ رشتہ ہر لحاظ سے معقول تھا ۔اِنکار کی گنجائش نہیں تھی ۔مجبوراََ دنیا کی ریت نبھانی پڑی ۔

٭٭٭

اگلے سال سرور وشادمانی کا پیغام لے کرایک ننھی سی پری اُن کے گھر آ گئی ،وہ نانا بن گئے تھے ۔گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن شیریںکے مزاج میں ایک پراسرار تبدیلی آ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کھوئی کھوئی سی پریشا ن ودل گرفتہ رہتی۔ استفسار پرچونک کر ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ٹال جاتی۔ سمدھی سے ذکر کیا تو وہ بھی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتا پائے ۔ بس سمجھا بجھا کر بہو کو اپنے ساتھ لے گئے۔

وقتِ رخصت اُس نے بھیگی پلکوں کے سائے تلے حسرت بھری نگاہیں لئے مڑ مڑ کرگھر آنگن اور ماں بابا کو متواتراِس طرح دیکھا کیاجیسے سب کچھ اپنی آنکھوں میں قید کر لینا چاہتی ہو۔اُس کایہ طُرفہ انداز ماں باپ کوبے طرح تڑپا گیا۔ بے تکے اندیشوں اور وسوسوں کے مارے دل مچل اُٹھے۔ انجام کار رہا نہیں گیا۔ اچانک پہنچ کر اُسے حیرت زدہ کر دینے کے خوش کن ِارادے سے تحفوں سے لدے پھندے بغیر اطلاع سمدھیانے کے لئے نکل پڑے ۔

اُفق میں سپیدہء سحر نمودار ہو چکا تھا۔قصباتی حدود ختم ہوتے ہی دورُویہ سڑک کے کافی کے باغات کا سلسلہ شروع ہو گیاتھا۔کالی ناگن کی طرح بل کھاتی پکی کولتار کی سڑک پر مویشیوں کے ریوڑ ہانکتے ہوئے گڈریئے حلق سے بے ہنگم آوازیں نکالتے چلے جا رہے تھے۔

مارچ کا مہینہ ختم ہوکر اپریل کی شروعات تھی ۔دن بے حد چمکیلا صاف و روشن تھااور آسمان پر اکا دکا بادل کے ٹکڑے تیر رہے تھے۔ موسم کی پہلی بارش کے ٹھیک دس دن بعد کافی کے پودوں پر پھول کھل گئے تھے ۔اُن بے شمارسفید پھولوں کے نیچے سبز پتیاںپوری طرح چھپ کر رہ گئی تھیں۔جیسے زمین سے لے کر آسمان تک نگاہوں میں بس پھول ہی پھول کھل اُٹھے ہوں ۔برف رنگ پھولوں پرکچی دھوپ کی نرم کرنوں سے ضیاء پاش ننھی ننھی اوس کی بوندوںکودیکھ کرگماں ہوتاتھا جیسے قدرت نے جگمگاتے ہیرے موتی و نقرئی منکوں سے سجائی سپید مخملی چادر اُڑھا دی ہو۔

پھولوں کی مدہوش کن مہک فضا میںرچی ہوئی تھی۔کافی کے پودوں کے درمیاںڈھلان میں لگائے گئے گھنے سایہ دار پیڑ پھلوں سے لدے پھندے جھوم رہے تھے جن کی ڈالیوں پربے شمار چھوٹے چھوٹے خوش رنگ پرندے اپنی میٹھی بولی بولتے ہوئے پھدک رہے تھے۔کالے بھونرے و اٹھکیلیاں کرتے ہوئے لا تعداد رنگ برنگی تتلیاں پھولوں کا منہ چوم کر خوش آئند موسم کا مژدہ سنا رہے تھے۔ کوئل کی کوک، موروں کی صدا، پرندوں کی چہکار اوربھنوروں کی گنگناہٹ سب نے مل کر فضا میںشیریں موسیقی گھول رکھی تھی ۔

جنت نظارہ پیش کرتی ہوئی یہ بہار اگلے تین دن تک خیمہ زن رہے گی ۔پھر دھیرے دھیرے پھول کمہلا کر جھڑنے لگیں گے اور اُن کی کوکھ سے کافی کے ننھے ننھے پھل پھوٹ نکلیں گے جو پک کر سرخی مائل ہو جائیں گے۔ پھر ایک مقررہ وقفے بعد کے مہارت کے ساتھ توڑ کراِنہیں کھلیان میں لایا جاتا ہے ۔کئی ضروری ومحنت طلب مراحل سے گذارنے کے بعدمشینوں کے ذریعے پیس کر باریک سفوف بنایا جاتا ہے۔ سوندھی خوشبو والے کافی کے سفوف کوپیک کرکے ہندستان کے علاوہ دنیا کے کئی ملکوںمیں پہنچایا جاتا ہے جہاں اِس کی بے حد مانگ ہے ۔

بلا شبہ یہ قدرت کا گراں بہا اور تحفہ خاص ہے جو کرناٹک میں ملناڈ کے علاقے کو ممتاز ترین بناتا ہے۔ آسودہ حال مقامی باشندے فطرتاََ بے حدسیدھے سادے ، خوش خصال اور اِنتہائی مہمان نواز بھی ہوتے ہیں ۔

یہ جشنِ بہاراںوحسین وادیاں اُن کے لئے اجنبی نہیں تھے لیکن آج بھی اُس کے حسن وسحر سے اپنے آپ کو بچا نہیں پائے ۔ کار کی رفتار دھیمی کرتے ہوئے اُسے کنارے لگا کر دونوں نیچے اُتر آئے۔ایک لمبی سانس کے ذریعے ہلکی تازہ ہوااپنے پھیپھڑوں میں بھرتے ہوئے مبہوت ہوکر قدرت کی کاریگری سے لطف اندوز ہونے لگے۔ایک طمانیت بخش احساس بھی دلوں کو سرور بخش رہا تھا کہ یہ گرانقدرقطعہ زمین اُنکی اپنی لاڈلی کی ملکیت ہے۔

اے آر۔ ایسٹیٹ کا آہنی دروازہ آج خلافِ معمول کھلا ہوا تھا۔ چوکیدار کابھی کہیںپتانہ تھا۔کار کو وہ سیدھا اندر لیتے چلے گئے۔ تقریباََ آدھا کلو میٹرکا فاصلہ طے کر نے کے بعد ایک شاندار گھر کی چھتیں دکھائی دینے لگیںجس کے آگے لوگوں کا جمِ غفیرتھا۔ ہارن کی آواز پر سب نے فوراََ ہٹ کر جگہ دے دی۔اُن کے بیچ کھسر پھسر چل رہی تھی۔ معاََ کسی کو اونچی آواز میں کہتے سنا ۔۔۔۔

’’مرگِ ناگہانی اور وہ بھی نوجوانی میں! ضرور کوئی بات ہے‘‘

نوکر اُن کو دیکھتے ہی دوڑے آئے تھے ۔کاراُن کے حوالے کر کے حیراںو پریشاں دونوں آگے بڑھے۔ اندر سے رونے دھونے اور بین کرنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ وکیل صاحب کی بیگم اندر جاکر اُن میں شامل ہو گئیں ۔ ہال کے بیچوں بیچ چادر سے ڈھکی ہوئی ایک نعش رکھی ہوئی تھی۔

کیا ہو ا ہے ؟۔۔۔۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ سمدھی اُن کے گلے لگ کر رونے لگے۔بھرائی ہوئی آواز اور رِقت آمیزلہجے میں بولے ۔۔۔۔۔۔

’’یہ طبعی موت نہیں ہے توصیف صاحب! ۔۔۔۔ آپ کی بیٹی نے خودکشی کی ہے ‘‘

وکیل صاحب مارے حیرت کے اُچھلتے ہوئے بولے۔

’’ کیا کہہ رہے ہیں آپ ! ۔میری بچی اورخودکشی! کیوں کرے گی بھلا؟ اُسے کیا شکایت تھی ؟آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ‘‘

اپنی ہتھیلیاںملتے ہوئے اُنہوں نے جواب دیا۔۔۔۔۔

’’ اِنہیں ہاتھوں سے لاش کو نیچے اُتارا ہے ! خدا جانے اِس سنگیںاقدام کے پیچھے سبب کیا ہے! پاسپورٹ بنوانے کے سلسلے میں نعمان کے شہرچلے جانے کے بعد کمرے سے بچی کے متواتر رونے کی آواز آنے لگی ۔ اندر جا کر دیکھا تو جیسے میری سانس ہی رک گئی ۔ بہونے چھت سے لٹکتی ہوئی کڑی میں ساڑی پھنسا کراُسکا پھندہ گلے میں ڈال لیا تھا او رہوا میں جھولتی ہوئی تڑپ رہی تھی ۔ فوراََ سہارا دے کر نیچے اُتارا لیکن ڈاکٹر کی آمد سے پہلے قصہ تمام ہو چکا ۔۔۔۔۔۔۔ـ‘‘

وکیل توصیف اِلہٰی کا دماغ ماؤف ہو گیا۔وہ جانتے تھے کہ یہاں شیریں کا بے حد خیال رکھا جاتا تھا ۔ساس سسر اُسے بالکل بیٹی کی طرح پیار کرتے تھے۔

دل پر پتھر رکھ کرآخری رسوم ادا کئے گئے ۔ شام ڈھلے وہ دو نوں ایک عالیشان نیم روشن خوابگاہ کے اندر صوفے پر بیٹھے ہوئے ا نتہائی افسوس اور دکھ کے عالم میں قیاس آرائیاں کئے جا رہے تھے ۔دفعتاََ چھت پر لگا ہوا برقی قمقموں والا قندیل روشن ہو گیا۔کمرے میں آفتابی روشنی پھیل گئی۔

اُن کے داماد نعمان نے ایک لفافہ لاکر اُن کے ہاتھ تھما دیا ۔ اُس کے اندر رکھی ہوئی تصویروںپر نظر پڑتے ہی وکیل صاحب کے ہاتھ کانپنے لگے اورپیشانی عرق آلود ہو گئی۔ تصویروں میں شیریں کسی انجان لڑکے کے گلے میں بانہیں ڈالے کھڑی نظر آئی۔ رائے صاحب نے بھی تصویریں ہاتھ میں لے کر دیکھیں اور متعجب ہو کرپوچھنے لگے۔

’’یہ تمہیں کیسے اور کہاں ملیں ؟ یہ سب کیا ہے !!‘‘

نعمان نے سر جھکائے ہوئے جواب دیا۔’’ آج سے چھ مہینے پہلے شیریںکویہ بذریعہ ڈاک ملی تھیں ۔۔۔۔۔۔کوئی اُسے بلیک میل کر رہا تھا ۔اپنے بابا کا نام لے کر خبردار کرتے ہوئے اُس نے کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا تو اُس بلیک میلر نے ساری تصویریں میرے نام بھجوادیں اور ایک بھاری رقم طلب کرنے لگا ۔ استفسارپر شیریںنے ڈرتے

ڈرتے بتایا کہ وہ ایک پاسنگ افیر تھاجو گذر چکا ۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے میری ناراضی اور خاندان کی بدنامی کا سوچ کر اُس نے یہ قدم اُٹھا لیا ہو ـ‘‘

وکیل صاحب بھونچکے رہ گئے تھے۔ عالم پشیمانی وبیٹی کی دفاع میںبس اِتنا کہہ سکے۔۔۔۔۔

ـ’’ حد سے زیادہ لاڈ پیار اور بے جا آزادی نے میری نادان بچی کے قدم بہکا دیئے تھے ۔ یقین مانئے وہ معصوم بالکل بے قصور ہے ‘‘

اِس حادثے کے بعد نعمان اتنا دل برداشتہ ہوا کہ ہمیشہ کے لئے ملک سے باہر چلا گیا۔ رائے صاحب دل کے مریض تھے ۔پے در پے صدمات برداشت نہ کر پائے اور اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ۔ اُن کی بیگم بھی پیچھے چل دیں ۔

اِن دونوں نے بھی رختِ سفر باندھ لیا ہوتا لیکن ننھی رخسار جوہوبہواپنی ماں کی منہ بولتی تصویر تھی ،بھلا اُسے کس کے سہارے چھوڑ جاتے ،اپنے ساتھ لے آئے۔ اُس کی طفلانہ حرکتوں اور معصوم غمزوں کے دھوکے میں بیٹی کی جدائی کا داغ سہہ گئے۔ اُنہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ رخسارکو اعلی تعلیم دلوائیںگے تاکہ وہ زندگی کے کسی اہم موڑ پر جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی غلط قدم اُٹھانے کے بجائے صحیح اورغلط کے بیچ تمیز کرسکے۔ چناںچہ کھلی ہوا ؤں میں آزادانہ پرواز کرنے کی جتنی چھوٹ شیریںکو دی گئی تھی بطور اقدام ما تقدم اُسی قدر پہرے رخسار پربٹھا دئیے گئے۔ بے جا حد بندیوں سے عاجزوسخت بندشوں سے زچ ہو کر اکثروہ رو پڑتی ۔

رخسار نے اپنی تنہائیوں کا مداوا موٹی موٹی کتابوں میں ڈھونڈ لیا تھا۔ آنکھوں پر چشمہ چڑھائے وکیل صاحب کی لائبریری کے اند ر ہمیشہ مطالعے میں غرق نظر آتی۔ اُسے قانون کے کورس میں داخلہ دلوایاگیا تھا جس میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب اپنے بابا کی ماتحتی میں پریکٹس کر رہی تھی ۔ بھری عدالت میں اُسے جرح کرتے دیکھ وکیل صاحب اور اُن کے ساتھی عش عش کر اُٹھتے۔مد مقابل کو پچھاڑنے کے لئے وہ داؤ پیچ آزماتی کہ دشمن ہکا بکا رہ جاتا۔

تربیت و دیکھ بھال بھی کمالِ فن ہے جس کے ذریعے اولاد کو کامیابی کی بلندی تک پہنچایا جا سکتا ہے لیکن ذرا سی کم و بیشی بھی اُن کے حق میں کانٹے بونے کا سبب بن سکتی ہے ۔بچوں میں کے معاملے میں نہ اِنتہائی چھوٹ مناسب ہوتی ہے اور نہ جابرانہ سخت گیری قرینِ مصلحت ہے۔ وکیل صاحب رخسار کے لئے بے حد حساس اور اُس کی زندگی کے ہر موڑ پر محتاط رہے تھے۔ آج کل وہ اُس کے رشتے کے لئے فکر مند تھے۔کئی اچھے گھرانوں سے معقول رشتے آنے کے باوجود اُنہیں ایک نہ بھایا۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتا تھا ایسا کوئی لڑکا بنا ہی نہیں جو اُس کے لائق ہو ! اگلے مہینے اُس کی اٹھائیسویں سالگرہ تھی ۔

خلافِ معمول پچھلے کچھ دنوںسے وہ آفس کو ناغہ کئے جا رہی تھی ۔کئی مقدموں کی پیشی اُس کی وجہ سے ملتوی کرنی پڑی تھی ۔وکیل صاحب دھک سے رہ گئے جب اُن کے سکریٹری نے جھجکتے ہوئے بتایا کہ میڈم اُس جونیر وکیل کے ساتھ کار ڈرائیونگ سیکھنے جانے لگی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے اُن کی ماتحتی میں آیا تھا۔سخت فکر مند ہو اُٹھے کہ بھولی بھالی معصوم بچی کو وہ بدمعاش بہکا نہ دے۔تنبیہ پر وہ بے نیازی کے ساتھ بولی تھی۔

’’بابا ! آپ کی بیٹی اب اتنی کمسن اور نادان بھی نہیں کہ کوئی پھسلا کر لے جائے ‘‘

شام ڈھل چکی تھی لیکن وہ اب تک گھر نہیں لوٹی تھی ۔اچانک اُن کے فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ رخسار فون پر کہہ رہی تھی۔

’’ آپ کوکسی طور منظور نہ ہوتا اگر پہلے بتادیا ہوتا۔۔۔۔۔عارف، آپ کا ہم پلہ تو نہیںلیکن اُس سے ملنے کے بعدمجھے ایسا لگاجیسے زندگی کے صحرا میں آبلہ پا گھومتے اچانک نرم چھاؤں کے سائے تلے آگئی ہوں، زندگی کی پتھریلی راہوںمیںدور تک پھول ہی پھول کھل اُٹھے ہوں!

مجھے بھروسہ ہے کہ اُس کی ہم نشینی زندگی کی و ہ ساری خوشیاں فراہم کرے گی جس سے آج تک صرف آپ کے ایک بے بنیاداندیشے کی وجہ سے محروم رہی ۔ آپ نے ہمیشہ اپنی اولاد کی سوچ ،فکر و خیال کو صرف اپنے زاویئے سے دیکھا ۔ ایک بیٹی کواتنی کھلی چھوٹ دے دی جس کے نتیجے میں اُس کی زندگی ایک ناقابلِ تلافی حادثے سے دوچار ہوگئی۔بعد ازبطور حفظِ ما تقدم میری زندگی اجیرن بنا دی گئی۔ بچپن کی معصوم ترنگوں و رنگینیوں سے دور خشک کتابوں کے ساتھ و قت گذارنے پر مجبور کیاگیا۔۔۔۔۔۔ آپ خود ایک وکیل ہیں۔ فیصلہ کیجئے نا کہ اوروںکی طرح آپ کی اولاد کو بھی اپنی مرضی سے زندگی جینے کا حق ہے کہ نہیں! رجسٹر میرج کے بعد نکاح کی رسم کے لئے ہم دونوں گھر آئینگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

اچانک عارف نے آ کر فون کاٹ دیا اور بڑے پیار سے ہاتھ تھام کراُسے رجسٹرار کی میز کے پاس لے گیا جہاں کل ہونے والی اُن کی شادی کے سلسلے میں قانونی کارروائی پوری کرنی تھی۔ ضروری خانہ پری ختم ہونے کے بعد رخسارنے ایک بارپھر فون ملایا لیکن گھنٹی بجتی رہی ۔۔۔۔۔۔کسی نے نہیں اُٹھایا!lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر شاہدہ شاہین

Leave a Reply