childrencrime1

بچوں میں جرائم کا بڑھتاتناسب

امریکہ کے ایک شہر میں سولہ سالہ ایرین کیفی(Erin Caffey) نے مارچ2008 میں اپنی پوری فیملی یعنی والدین اور دو چھوٹے بھائیوں کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر صرف اس لیے قتل کر ڈالا کہ انہوں نے اسے بوائے فرینڈ کے ساتھ باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی اسی طرح چودہ سالہ جوشو ااسمتھ(Joshua Smith) نے اپنی ماں کو صرف اس بات پر گولی مار دی کہ وہ اسے دیر رات تک گھر سے باہر رہنے اور گرل فرینڈ کو گھر پر لانے سے منع کرتی تھیں۔جب کہ کینیڈا کی پندرہ سالہ نیہما گریگو (Nehemiah Griego) نے جنوری2013 میں صرف اس لیے اپنے والدین،بھائی اور دو بہنوں کو رائفل سے بھون ڈالا کہ ماں نے اسے روپئے دینے سے منع کر دیا تھا۔

یہ چند نمونے ان ’تہذیب یافتہ ممالک‘ کے ہیں جن کی تقلید کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔اس کے علاوہ یورپ کی صورتِ حال یہ ہے کہU.S Census Bureau کی 2010کی رپورٹ کے مطابق1.3 میلین بچے بچیوں پر کسی نہ کسی جرم کے مرتکب پائے جانے کی وجہ سے مقدمہ چل رہا ہے۔

خود ہمارے ملک ہندوستان میںبھی بچوں کی صورتِ حال کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔یہاں بھی نابالغوں کے ذریعہ عورتوں اورلڑکیوںسے جنسی زیادتی،چھیڑ چھاڑ،تفریحاً کار میں اغوا کر کے لے جانا،موبائل اور دیگر تفریح کے لیے پیسہ چرانا،لوٹ مار کرنا،جیب کاٹنا،عورتوں کے گلوں سے زنجیر چھیننا وغیرہ جیسے جرائم انجام دیے جاتے ہیں۔

نیشنل کرائم برانچ کی2011 کی رپورٹ کے مطابق I.P.C(Indian Penal Code)کے تحت نابالغوں کی طرف سے ہونے والے کیسز کی تعداد25,125تھی۔جب کہ2010میںان کی تعداد22,740تھی۔یعنی اس میں10.5% اضافہ ہوا۔اس میںجنسی زیادتی کے 34%،جہیز کی وجہ سے موت کے63.5% ،اغوا کے 53.5%،چوری کے21.17%،مار پیٹ کر زخمی کرنے کے16.3%،نقب زنی کے10.38%،جعل سازی کے81.8%اورآتش زنی کے57.6% کیسیز ہوئے۔ اسی طرح 2011میں S.L.L(Special Local Laws)کے تحت نابالغوں کی طرف سے ہونے والے کیسز کی تعداد8372 تھی۔ 2010میں ان کی تعداد 2,558تھی۔یعنی اس میں بھی 10.9%کا اضافہ ہوا۔ اسی رپورٹ کے مطابق نابالغوں کی طرف سے جنسی زیادتی جیسے گھناؤنے جرم میں188%،لوٹ مار میں200%اورلڑکیوں کے اغوا میں660% کا اضافہ ہوا ہے۔

نیشنل کرائم برانچ کی 2011کی رپورٹ کے مطابق کل 33,887نابالغ بچے مختلف جرم میں پکڑے گئے۔جن میں 31,909بچے اور1,978 بچیاں تھیں۔ان میں سے 30,766یعنی90.7% I.P.C کرائم کے تحت اور3,121 یعنی3.9% S.L.L کرائم کے تحت گرفتار ہوئے۔ان میں سے 21,657بچوں کی تعداد ایسی تھی جن کی عمریں 16سے 18سال کے درمیان تھیں۔11,019بچوں کی عمر12سے16 سال تھی اور 1,211بچوں کی عمر7سے 12سال تھی۔خود دہلی میں ہی 925بچے مختلف جرم میں گرفتار کیے گئے جن میں سے567 بچے16 سے 18سال کی عمر کے تھے۔

بات اگر ریاستوں کی ہو تو نیشنل کرائم برانچ کی2011 کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹرا6,417(20.9%) ، مدھیہ پردیش 5,495(17.9%)،راجستھان2,445(7.9%)، آندھرا پردیش2,424(7.9%)،چھتیس گڑھ 2,178(7.1%) اور گجرات1,968(6.4%) کیسز کے ساتھ سرفہرست رہے۔ان تمام اعداد و شمار سے ہمیں بال سدھارک گھر اور ریمانڈ گھروں کی ناکامی کا بھی پتا چلتا ہے جہاں نابالغوں کو اصلاح کی غرض سے رکھا جاتا ہے۔

بچوں کا جرائم کی طرف مائل ہونے کے مختلف اسباب ٹوٹے بکھرے ہوئے طلاق زدہ گھر،بے باپ کے گھر،گھریلو تشدد اور بدسلوکی ،جائز ناجائز خواہشات کی تکمیل کی ضد، ٹی وی ، کمپیوٹر،موبائل اور انٹرنیٹ اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دیگر اسباب درج ذیل ہیں:

خاندانی پس منظر

گھر کا ماحول،والدین کی سرگرمیاں،بچوں کے ساتھ ان کا برتاؤ،معاشی حالت،تعلیمی لیاقت اورحلال کمائی کا خیال نہ کرنا وغیرہ بچوں کا مستقبل طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر یہ تمام چیزیں ناموافق ہوں تو زیادہ تربچے جرائم کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔اس لیے ان پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عمر کا مسئلہ

انسان اس وقت تک جرم نہیں کرتا جب تک اسے خوف رہتا ہے کہ اگر اس نے یہ جرم کیا تو اسے یقیناًسزا ملے گی لیکن جیسے ہی خوف ختم ہوجاتا ہے وہ جرم کرنا شروع کردیتا ہے۔ ہمارے یہاں قانون ایسا ہے کہ 18سال سے کم عمر کا آدمی’ بچہ‘ ہے، خواہ وہ کتنا ہی سنگین جرم کیوں نہ کرے ،کیوں کہ قانون کی نظر میں بلوغت کی عمر18 سال ہے۔(حالاں کہ بر صغیر کی آب و ہوا میں عموماً 11 سے 13 سال کی عمر میں بچے اور بچیاں بالغ ہو جاتے ہیں)اس سے کم عمر والے بچے خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا نابالغوں کے زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں،اس لیے ان کو سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ البتہ ان کو اصلاح کے لیے بال سدھارسنٹر اورتنظیموںکے حوالے کر دیا جاتا ہے لیکن اس سے بچوں میں قانون کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ بے خوف ہو کر جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔دسمبر 2012 کے ’دامنی‘ والے کیس میں بھی سب سے فعال لڑکے کی عمر 17 سال 6 مہینہ تھی۔یعنی قانون کی نگاہ میں وہ نابالغ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کم زور قانون اورسست عدالتی نظام کے باعث وارداتیں کرنے والے لڑکے جانتے بوجھتے جرم کرتے ہیں اور اپنی کم عمری کا فائدہ اْٹھاتے ہوئے جلد عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ بچے رہا ہونے کے بعد دوبارہ وارداتیں شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تعلیم

بچوں کو جرائم کی دنیامیں جانے سے روکنے میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن تعلیم سے میری مراد عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی و اخلاقی تعلیم بھی ہے۔موجودہ تعلیمی نظام میں مذہبی و اخلاقی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔یہی وجہ ہے کہ جتنا کرپشن، جرائم، لوٹ کھسوٹ، فراڈ اور بد اعمالیاں پڑھے لکھے افراد کرتے ہیں، ان پڑھ افراد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آج جو لوگ طرح طرح کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں، ان کی اکثریت اسکولوں اور کالجوں سے’ تعلیم یافتہ‘ ہی ہو کر نکلی ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی2011 رپورٹ کے مطابق کل33,887نابالغ مجرم بچوں میں سے6,122(18.1%)بچے ناخواندہ تھے۔12,803(37.8%)بچے ابتدائی تعلیم حاصل کیے ہوئے تھے۔31%بچے ابتدائی تعلیم سے زیادہ مگر ثانوی تعلیم سے کم پڑھے ہوئے تھے۔13.11%بچے ثانوی تعلیم یا اس سے زیادہ تعلیم حاصل کیے ہوئے تھے۔

ان اعداد و شمار سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم سے فرق پڑتا ہے ۔لیکن ضروری ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق و اقدار بھی سکھایا جائے اوران کے اندر رشوت خوری سے نفرت اور حرام و حلال کی تمیز کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ ان کے دلوں میں تدریس کے ذریعے جھوٹ، دھوکے دہی، فریب، خود غرضی، نفس پرستی، چوری، جعل سازی، بدعہدی، خیانت، شراب،سود، قمار بازی، ظلم، ناانصافی اور لوگوں کی حق تلفی سے سخت نفرت پیدا کی جائے تاکہ ان میں صداقت و دیانت، امانت و پاس عہد، عدل و انصاف، حق شناسی ، ہمدردی و اخوت، ایثار و قربانی، فرض شناسی اور پابندی حدود اور سب سے بڑھ کر ظاہر اور باطن ہر حال میں اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔

معاشی کمزوری

معاشی کمزوری،طبقاتی فرق،غربت اور بے روزگاری وغیر ہ بھی بچوں کو جرائم کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔بعض حالات میں یہ پیٹ سے مجبورہو کر چوری،لوٹ مار اور ڈاکہ زنی جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی2011 کی رپورٹ کے مطابق 57%مجرم بچوں کا تعلق ایسے غریب خاندان سے تھا جن کی سالانہ آمدنی 25,000تھی۔27%مجرم بچوں کا تعلق ایسی فیملی سے تھا جن کی سالانہ آمدنی25,000 سے50,000تک تھی۔11%مجرم بچوں کا تعلق ان فیملی سے تھا جن کی سالانہ آمدنی50,000 سے دو لاکھ تک تھی۔ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں معاشی کم زوری کی وجہ سے بھی بچے جرائم کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

ہم عمر ساتھی اور ماحول

گھر کے آس پاس اور محلہ کا ماحول،پڑوسیوں اور ہم عمر دوستوں کا ساتھ بھی بچوں کی سوچ اور ان کی مشغولیات پر اثر انداز ہوتا ہے اور وہ بھی دیکھا دیکھی جرائم کی راہ پر چل پڑتے ہیں ۔اس لیے ان کو جہاں تک ممکن ہو سکے اچھا ماحول مہیا کرایا جائے اور صحیح دوستوں کا انتخاب کرنے کی نصیحت کی جائے۔ اسی طرح عموما وہ بچے یا بچیاںزیادہ مختلف جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں جو نشہ کرتے ہیں ،خواہ وہ شراب کے ذریعہ ہو یا دیگر نشہ والی چیزوں کے ذریعہ ہو۔بسا اوقات ان کے حصول میں ناکامی کی صورت میں بھی وہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔واضح رہے کہ نشہ کئی طرح کا ہوتا ہے۔ ہر مہینہ دو مہینہ پرنت نئے اسمارٹ فون ،ٹیبلیٹ،بائیک اورکار خریدنایا گرل فرینڈ بنانا اور ان کو’ متاثر‘ کرنے کے لیے ان پرخرچ کرنا بھی ایک طرح کا نشہ ہی ہے۔ظاہر ہے ان سب کے لیے زیادہ پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے چناں چہ بچے ’شارٹ کٹ‘ کی راہ اختیار کر کے زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں مختلف جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ ان تمام چیزوں پر والدین کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا

حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ دور میں ٹی وی، موبائل اورانٹرنیٹ نے بچوں میں جرائم کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار نبھایا ہے۔امریکہ میں بچے ایک ہفتہ میں اوسطاً 40گھنٹے ٹی وی کے آگے اپنا وقت گزارتے ہیں۔اس سے بچے بچیوں میں دماغی بیماریاں،آنکھ کی روشنی کا کم ہونا،سر درد،چڑچڑاپن اور تشدد کی راہ اختیار کرنا جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ٹی وی پر تشدد کے حامل پروگرام کے اثرات کی مثال امریکہ میں اوہیو ریاست کی ہے جہاں پانچ سالہ بچے نے ماچس سے بستر کو جلا دیا جس سے اس کی تین سالہ بہن بھی جل کر مر گئی۔اس نے یہ عمل Beavis And Butthewsنامی فلم دیکھنے کے فوراًبعد کیا تھا۔اسی طرح The Three Stoogesدیکھ کر ایک بچے نے اپنے سگے بھائی کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔

انٹرنیٹ نے بھی بچوں کو جرائم کی طرف ڈھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سماجی رابطہ کی ویب سائیٹس میں سے سرفہرست فیس بک ہے جسے بچوں اورنوجوانوں میں بے حد مقبولیت ملی ہے۔ فیس بک استعمال کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بدولت بچوں میں اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے جھوٹ، ڈکیتی،جنسی زیادتی، فراڈ،جعل سازی،سائبر کرائم سمیت دیگر جرائم جنم لے رہے ہیں۔

انٹرنیٹ سے متعلق ’اوپٹی نیٹ‘ کی 2010 کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کا تقریبا% 37 حصہ فحش اور عریاں مواد پر مشتمل ہے اور حالیہ برسوں میں ایسی ویب سائٹوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب بچوں کی ان تک اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے رسائی بہت آسان ہو چکی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک ماہ کے دوران صرف ایک فحش ویب سائٹ کو 112,000 بچوں نے دیکھا جن کی عمریں 12 سے 18 برس کے درمیان تھیں۔ان تمام چیزوں کو دیکھنے سے ان میں اخلاقی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر وہ جرائم کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی طرف توجہ دیں اپنی زندگی کے کاموں میں اس قدر مصروف نہ ہوجائیں کہ آپ کے بچے جرم اور برائی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں۔والدین کی پیار بھری نگاہ اور توجہ ان بچوں کو نہ صرف برائی کے راستوں سے دور لے جاتی ہے بلکہ ان کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے میں کافی معاون ثابت ہوگی۔

٭٭٭

M.b 9911319959

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

Leave a Reply