ماں کس طرح بچے کو بناتی یا بگاڑتی ہے

نپولین نے کہا ہے ’’مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔‘‘ ایک او رمثل مشہور ہے ’’جو ہاتھ جھولا جھلاتا ہے وہی دنیا پر حکومت کرتاہے۔‘‘ عورت کو اللہ نے بہت طاقت دی ہے۔ وہ چاہے تو معاشرے کو سنوار دے او رچاہے تو معاشرے کو بگاڑ دے۔ عورت کی ذرا سی غفلت او ربچوں سے بے پروائی نسل نوکو برباد کرسکتی ہے، لہٰذا مسلمان عورت کو ہر وقت اولا دکے سلسلے میں محتاط رہنا چاہیے۔ حضرت عبد القادر جیلانیؒ کا مشہور واقعہ محتاجِ بیان نہیں کہ انہوں نے کس طرح بچپن میں ماں کی ہدایت کے مطابق ڈاکوؤں کے سردا رکے سامنے سچ بولا تو ڈاکوؤں کا سردار اتنا شرمندہ ہوا کہ یہ ننھا بچہ اپنی ماں کا اتنا فرماں بردا رہے او رمیں اتنا بڑا ہوکر اپنے مالک کا نافرمان ہوں۔ اسے اتنی ندامت ہوئی کہ وہ اور اس کا پورا قافلہ سب نے چوری ڈاکے سے توبہ کی او رمخلص مومن بنے۔ گویا ان سب کے راسخ العقیدہ مسلمان بننے کا سارا محرک حضرت عبد القادر جیلانی کی والدہ محترمہ کی پرخلوص نصیحت او راسلامی رنگ میں رنگی ہوئی بچے کی تربیت تھی۔

ماں معاشرے کو کس طرح بگاڑتی ہے۔ جب وہ اپنے بچوں سے غفلت برتے۔ ان کی غلطیوں پر ٹوکنے کے بجائے نظر انداز کرے یا ان کی غلط کاموں پر حوصلہ افزائی کرے تو وہ گویا پورے معاشرے کو برباد کردیتی ہے۔ ایک ڈاکو کو جب پھانسی کے لیے تختہ دار پر لٹکایا جانے لگا تو اس سے آخری خواہش پوچھی گئی ، اس نے کہا میری ماں کو بلایا جائے۔ جب ماں کو بلایا گیا تو بیٹے نے ماں سے کہا اپنا کان میرے قریب کرو۔ ماں نے سمجھا شاید کوئی بات کرنا چاہتا ہے۔ ماں جب اس کے قریب ہوئی تو بیٹے نے کان پر زو رسے کاٹا۔ اس سے پوچھا گیا کہ پھانسی کے پھندے پر تمہیں ماں کو اتنی تکلیف پہنچانے کا خیال آخر کس طرح آیا۔ بولا آج میں جس جرم کی سزا بھگت رہا ہوں میری ماں ا س میں برابرکی مجرم ہے۔ ابتدا میں جب چھوٹی چھوٹی چوریاں کر کے گھر میں چیزیں لاتا تھا تو وہ بہت خوش ہوتی تھی۔ اس کی اسی حوصلہ افزائی نے آج مجھے اس بھیانک انجام تک پہنچایا۔ آخر وہ سزا میں سے اپنا حصہ کیوں نہ وصول کرے؟

اسی طرح بے پروا اور اپنے فرائض سے غافل ماں روزِ قیامت بھی اپنی غفلت کی پوری پوری سزا بھگتے گی او راولاد خود ا س کے خلاف اللہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کر کے اسے سزا دلوائے گی۔lll

(اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ: ثریا بتول علوی سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
مرسلہ: تحسین نواز جونپوری

Leave a Reply