تعلیم میں تربیت کی اہمیت

علم وہ لفظ ہے،جس سے ہماری رہ نمائی کی شروعات ہوئی۔غارِ حرا میں گونجنے والی وہ پہلی آواز علم کی بلندی کی آواز تھی۔جس سے انسان کی فلاح و بہبود کی شروعات ہوتی ہے۔فرمایا گیا:

پڑھو اپنے رب کے نام سے،جس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے، اس کی تخلیق کی۔پڑھو کہ تمہارا رب بڑا ہی کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا اور انسان کو وہ علم دیا جسے کہ وہ نہیں جانتا تھا۔(العلق:1,6)

تعلیم روشنی ہے توجہالت اندھیرا ہے۔دنیاوی زندگی و اخروی زندگی ،دونوں ہی کی کام یابی کا دارومدار اس علم پر ہے۔یہ کامیابی تب ہی ممکن ہے جب کہ آدمی علمی میدان میں عملًا آگے ہو۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے:

علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔(ابن ماجہ:224)

جس طرح سے نمازوروزہ اور دوسرے ارکانِ اسلام فرض ہیں اور ان سے کوتاہی آخرت میں پکڑ کا سبب بنے گی۔ بالکل اسی طرح سے علم میں غفلت بھی ہماری پکڑ کا موجب بن سکتی ہے۔اسی لیے علم کو بھی اہمیت دی گئی اور اس کی فضیلت کو عبادت کی فضیلت سے افضل رکھا گیا۔ حدیث نبوی ہے:

جس نے علم کی طلب میں راستہ طے کیا اللہ نے اس کے لیے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ کھول دیا اور فرشتے طالب علم کے راستے میں اپنے پر بچھاتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری چیزیں حتیٰ کہ پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی علم کے حق میں مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔ عالم کی فضیلت عابد پر اسی طرح ہے جس طرح چودھویں کے چاند کی فضیلت ستاروں پر ہے اور علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء کو درہم و دینار کی وراثت نہیں دی گئی ہے، بلکہ علم کی وراثت دی گئی ہے۔ جس نے اس ورثہ کو پا لیا اس نے حصۂ وافر پایا)۔

ایک شاعر علم کی اہمیت کو یوں واضح کرتا ہے :

علم میں قلوب کے لیے اسے زندگی ہے جس طرح بارش سے زمین زندہ ہوتی ہے۔علم اندھیرے کو قلب سے اسے دور کرتا ہے جیسے مہتاب اندھیری کو۔

علم جسے حاصل کرنے کا اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے وہ دنیاوی اور دینی دونوں ہی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں لہذا دورِ حاضر میں ایجوکیشن اسکیمیں دن بدن ترقی کر رہی ہیں۔خواتین اور لڑکیوں کی بھی کافی تعداد اس سے وابستہ ہیں۔اس کے علاوہ موجودہ دور میں کمپیوٹر،الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیامیں ہزاروں ایسے کورسز کی بھر مار ہے جس سے تعلیمی فقدان کو کم کیا جا سکے۔ اس کے خوش آئند رزلٹ بھی آرہے ہیں لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ جتنی تیزی سے تعلیم عام ہو رہی ہے، اخلاقیات کا اتنا ہی فقدان ہورہا ہے۔

ڈاکٹر،انجینئر،وکیل اورمنصف جیسے بڑے بڑے عہد وں پر فائز لوگ تو موجود ہیں لیکن اس کے باوجود قدم قدم پر انسانی کی قدریں پامال ہو رہی ہیں۔ جرائم کی شرح اتنی ہی تیزی سے عروج پر ہے۔اگر خواتین کا حلقہ دیکھیں تو یہاں بھی عجیب عالم ہے۔

یہ بات روزِ اول سے واضح ہے عورت کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔عورت قوم کو بنانے اورسوارنے والی ہوتی ہے۔اس کے عروج و زوال میں خواتین کا بڑا اہم رول ہوتا ہے۔مگر وہی عورت جو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو تی ہے اس کے اپنے گھر ،خاندان یامعاشرے میں اچھے رزلٹ دیکھنے میں نہیں آتے۔نہ صرف خواتین بلکہ مرد دونوں ہی طرف سے وہ بات نظر نہیں آتی جو ہونا چاہیے۔پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی ان مسائل کا ہونا واقعی ہمارے لیے غور و فکر کا مقام ہے۔ایسی تعلیم جس سے مسائل جنم لیتے ہوں اور انتشار پیداہو تو بلا شبہ یہ عروج نہیں بلکہ زوال ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں تعلیم کے صرف مادی فوائد پر نظر رکھی جاتی ہیں۔اسے پروفیشنل نظریہ سے دیکھاجاتا ہے اور تربیت کے پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔آج تعلیم کا بہت شور ہے لیکن تربیت کا کوئی نام نہیں لیتا۔سرسید احمد خا ں کا بڑا مشو ر قول ہے کہ :

’’تعلیم سے آدمی انسان نہیں بنتا بلکہ تربیت سے بنتا ہے‘‘

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جتنی عمدگی کے ساتھ تعلیم حاصل پر زور دیا جاتا ہے اتنی ہی پختگی کے ساتھ تربیت کے پہلو پر بھی غور کیا جائے اورتعلیمی نصاب میں اخلاقی پہلووں کی اہمیت کوشامل کیا جائے تا کہ تعلیم یافتہ لوگ انسانیت اور شرافت کے اعلی مقام پر فائز ہوں اوران لوگوں کے ذریعہ سے ایک صالح معاشرہ وجود میں آئے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شیریں فاطمہ (مدھیہ پردیش)

Leave a Reply