صدقۂ جاریہ

آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔ سوائے تین چیزوں کے۔ ایک صدقۂ جاریہ ، یا وہ علم جس سے فائدہ اُٹھایا جا رہا ہو، یا نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔‘‘ (مسلم)

اس حدیث کے بعد اب ہر مسلمان کو یہ فکر ہوجانی چاہیے کہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی میں ہی کچھ ایسے کام کرجائے جس سے مرنے کے بعد بھی اسکی نیکیوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے اور وہ آخرت میں بلند درجات کو پاسکے۔ احادیث میں کچھ ایسے نیک اعمال کی تفصیل ملتی ہے پر اجر و ثواب کا سلسلہ موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کی اقسام

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن کو وفات کے بعد جو نیک عمل پہنچتے ہیں ان میں یہ بھی ہیں۔

٭ علم ، جسکی اس نے تعلیم دی۔

٭ نیک اولاد جو پیچھے چھوڑی۔

٭ کسی کو قرآن مجیدکے نسخے کا مالک بنادیا۔

٭ مسجد جو اس نے تعمیر کی۔

٭ مسافر خانہ جو اس نے قائم کیا۔

٭ نہر جو اس نے جاری کی۔

٭ وہ صدقہ جو اس نے اپنی زندگی میں صحت کی حالت میں اپنے مال سے نکالا ہو۔

ان سب کا ثواب اسے اپنی موت کے بعد ملتا رہتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

پانی پلانا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے کوئی کنواں کھدوایا پھر جو بھی پیاسا جاندار اس میں سے پانی پئے گا خواہ وہ جن ہو، انسان ہو یا کوئی پرندہ تو قیامت تک اللہ تعالیٰ اس شخص کو اجر دیتا رہے گا۔ ( الترغیب و الترھیب)

حضرت سُراقہ ؓ نے آپﷺ سے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں اپنا حوض بھر کر اپنی سوریوں کے آنے کا انتظار کررہا ہوتا ہوں کہ بکری یا بھیڑ کے بچے وہ پانی پی جاتے ہیں۔ کیا مجھے اسکا اجر ملیگا؟ آپ ؐنے فرمایا : ہاں، ہر جاندار کے ساتھ بھلائی میں اجر ہے۔

پانی ایصالِ ثواب کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

سیدنا سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اللہ کے رسولؐ، میری والدہ فوت ہوگئی ہیں، انکی طرف سے کونسا صدقہ افضل رہے گا؟ آپؐ نے فرمایا : پانی کا۔ چناں چہ انہوں نے کنواں کھدواکر وقف کردیا اور کہا: یہ سعد کی والدہ کی طرف سے ہے۔ (سنن ابی دائود )

مدینہ منورہ میں جب مسلمانوں کو پانی کی قلت ہوئی تو حضرت عثمان ؓ نے رومہ کاکنواں کھدواکر وقف کردیا جس پر رسول اللہﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دی۔(صحیح بخاری)

کنواں کھدوانے کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی پانی کا انتظام کرنا باعثِ ثواب ہے۔ مثلاً نل لگوانا، ہینڈپمپ ، ٹیوب ویل، راہ گیروں کے لئے راستے پر سبیلیں، بورنگ کا انتظام اور الیکٹرک واٹر کولر لگوانا وغیرہ۔

درخت لگانا

رسول اللہﷺ نے فرمایا : جو مسلمان کوئی پودا (یادرخت) لگاتا ہے تو اس سے جو کچھ کھالیا جائے وہ اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے۔ اس سے جو کچھ چوری ہوجائے وہ اس کے لئے صدقہ ہے، درندے اس سے جو کھاجائیں وہ اس کیلئے صدقہ ہے، جو کچھ پرندے چُگ جائیں وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور جوکوئی اسے نقصان پہنچائے (کیڑے ، دیمک ) وہ بھی اسکے لئے صدقہ ہے۔ (صحیح مسلم 1552)

(اس کے علاوہ جو آکسیجن وہ تیار کرتا ہے وہ بھی، اس کا سایہ اور اس کی لکڑی بھی صدقہ ہوگی)۔

درخت لگانے کی اہمیت اس حدیث سے بھی پتہ چلتی ہے کہ۔۔۔

آپﷺ نے فرمایا: اگر قیامت اس حال میں آگئی کہ تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہے، اگر وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے لگاسکتا ہو تو اس کو چاہئے کہ اسے لگادے۔ (احادیث صحیحہ 1228)

مسجد کی تعمیر

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کی رضا کیلئے کوئی مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں گھر تیار کرتا ہے۔ (بخاری، صحیح )

رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کے لئے تیِتَر کے گھونسلے جتنی یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائی تو اللہ اس کے لئے جنت میں گھر تیار کرے گا۔(ابن ماجہ)

(اس سے مراد مسجد کا کچھ حصہ بنوانا ہے، کہیں مسجد بن رہی ہو تو اس میں چنداینٹیں لگوادینا)

وقف

یہ بھی صدقۂ جاریہ کی ایک شکل ہے۔

وقف سے مراد کسی نیک کام کیلئے اپنا مال اسطرح دے دینا کہ بندگانِ خدا کو اس سے فائدہ ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہترین صدقات میں سے اللہ کی راہ میں کسی خیمے کا سایا مہیا کرنا یا اللہ کے راستے میں کوئی خدمتگار وقف کرنا، یا اللہ کی راہ میں کسی نَرجانور پر کسی کو سوار کرنا (سواری مہیاکرنا) ہے۔ (ترمذی)

حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں : نبیﷺ نے فرمایا : دودھ دینے والا جانور بطور عطیہ دینا افضل صدقہ ہے۔ جو ایک پیالہ دودھ صبح کو دے اور ایک پیالہ شام کو دے۔ (صحیح بخاری2629)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جالیس خصلتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے ایک خصلت پر بھی عامل ہو گا ،ثواب کی نیت سے اور اللہ کے وعدے کو سچاسمجھتے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ اسکی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا، ان میں سب سے اعلیٰ وارفع دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ کرنا ہے۔ (صحیح بخاری2631)

حضرت عمر ؓ کو خیبر میں زمین کاایک ٹکڑا ملا تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں مشورہ کے لئے حاضر ہوئے اور اس کے متعلق خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر چاہو تو اسے صدقہ کردو۔ تو حضرت عمر ؓ نے اس کو اسطرح وقف کیا کہ اسکی آمدنی فی سبیل اللہ ،غلاموں کو آزاد کرانے، محتاجوں اور مہمانوں کی خدمت اور مسافروں اور قرابت داروں پر صرف کی جانے لگی۔ (بخاری )

نوٹ: وقف کو فروخت نہیں کیا جاسکتا نہ ھِبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی وراثت میں دیا جاسکتا ہے۔ نہ وقف کرنے والا خود دوبارہ واپس لے سکتا ہے۔

(کسی ہاسپٹل میں وھیل چیئر دے دینا، کسی مدرسے میں فرنیچر یا کوئی اور استعمال کی چیز مثلاً لائٹ، پنکھا وقف کردینا، مدرسوں اور مساجد میں قرآن کے نسخے وقف کرنا)۔

انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے لئے حوض کا انتظام، اونٹوںکے لئے چراگاہیں، تالاب وغیرہ بھی وقفِ عام کی صورتیں ہیں۔

گھر کے صحن یا چھت پر پانی کا پیالہ رکھنا، دانے وغیرہ ڈالنا، بچی ہوئی روٹی یاآٹے کی گولیاں بنا کر ڈالنا یہ پرندوں کیلئے وقف ہے۔

مسافروں پر خرچ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جو مسکین، یتیم اور مسافر کو دیا جائے۔(بخاری)

سیدنا عمر و بن حارث ؓ کہتے ہیں : رسول اللہﷺ نے نہ دینار چھوڑے نہ درہم، نہ غلام نہ باندی سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر آپﷺ سوار ہواکرتے تھے اور آپؐکے ہتھیار اور کچھ زمین جو آپﷺ نے اپنی زندگی میں مسافروں کیلئے وقف کررکھی تھی۔(بخاری)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تین طرح کے لوگ ہوں گے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر بھی نہیں اٹھائے گا۔ نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس کے پاس راستے میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور اس نے کسی مسافر کو اس کے استعمال سے روک دیا۔ (صحیح بخاری2358)

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا

صدقہ جاریہ سے مراد نیکی و بھلائی کے ان کاموں میں مال لگانا ہے جن سے لوگوں کو فائدہ پہنچے اور مال خرچ کرنے والے کو ثواب ملتا رہے۔ مثلاً اسکول، مدرسہ، مسافر خانہ یا ہسپتال کی تعمیر ، کوئی مفید دوا بنانا، ٹوٹی ہوئی سڑک بنانا یا پُل تعمیر کرنا جس سے لوگوں کو آمد و رفت میں سہولت ہو۔ اس کے علاوہ مندرجہ بالا تمام امور (پانی پلانا، درخت لگانا، مسجد کی تعمیر وغیرہ ) میں مال خرچ کرنا۔

آپﷺنے فرمایا : رشک صرف دو باتوں میں جائز ہے ، ایک تو وہ شخص جسے اللہ نے دولت دی اور وہ اُسے نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے۔ دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت سے نوازہ اور وہ اس کے ذریعے فیصلہ کرتا ہو اور لوگوں کو بھی سکھاتا ہو۔(صحیح بخاری)

کچھ دیگر اقسام

٭ غلام آزاد کرنا :

آپ ﷺ نے فرمایا : جوشخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے ،اللہ تعالیٰ اس غلام کے جسم کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے اس شخص کے جسم کے بھی ایک ایک عضو کو دوذخ سے آزاد کرے گا۔ (صحیح بخاری )

یعنی انسان اپنے آپ کو ایک طرح سے آزاد کرتا ہے۔ وہ دنیا کی غلامی اور قید سے آزاد ہوگا اور یہ شخص جہنم سے آزاد ہوگا۔

آج کل غلام تو نہیں ہیں البتہ بے گناہ قیدیوں کو آزاد کرنے میں روپیہ دینا اس سے زیادہ قریب تر معلوم ہوتا ہے۔

٭سنت کو زندہ کرنا : کسی ایسی سنت کو زندہ کرنا جو بھُلائی جا چکی ہو ۔

مثلاً :مسواک کرنا، حجامہ کے بارے میں لوگوں کو بتانا اور خود بھی کروانا، بیٹھ کر پانی پینا، بیٹھ کر کھانا، دائیںکروٹ پر سونا۔

قرآن مجید تحفتاً دینا:قرآن کے ہر حرف پر ۱۰؍ نیکیاں ہیں اس لئے اس کی تلاوت کرنے پر پڑھنے والے کے ساتھ تحفہ دینے والے کوبھی اتنا ہی اجر ملتا جائے گا۔

ان کے علاوہ ایک نیک مشورہ: جس پر عمل کیا جائے وہ بھی انسان کے حق میں صدقہ جاریہ ہو سکتا ہے۔

ہنر سکھانا : اگر وہ کسی کے کسبِ حلال کا ذریعہ بن رہا ہو تو وہ بھی سکھانے والے کیلئے صدقہ جاریہ ہے۔

فائدہ دینے والا علم

زندگی میں ایسا نفع بخش علم سکھاجانا جس سے لوگوں کی دنیا و آخرت سنورے۔

حدیث : جو علم کے راستے پر چل کر آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے۔ (بخاری)

رسول اللہﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ اس کے فرشتے، آسمانوں اور زمین کی ہر چیز یہاں تک کہ چونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے کیلئے دعا کرتی ہیں۔(بخاری)

کسی دینی ادارے کو اسپانسر شپ دینا، اسلامی لٹریچر کی نشرو اشاعت، قرآن و حدیث کی تعلیم دینا، درس و تدریس پر مشتمل کیسیٹس و CDs کی تیاری، فائدہ مند سائنسی ایجاد کرنا، کسی کا تعلیمی خرچ اٹھانا یا کورس کی فیس اداکردینا، لائبریری اور ریسرچ سینٹرز قائم کرنا، اورسب سے ضروری کام نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا بہترین صدقہ جاریہ ہے۔

اس سلسلے میں خاص طور پر غیر مسلموں میں دعوتی کام بہت اہم ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا : علی ؓ ! تمہارے ذریعے اللہ تعالیٰ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو تمہارے لئے 100سرخ اُونٹوں سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری)

آپؐ نے فرمایا : جو ہدایت کی طرف بلائے اس کیلئے اس کے برابر اجر ہے جو اسکی پیروی کرے۔ ان میں سے کسی کے اجر میں کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ ( مسلم)

نیک اولاد

اولاد کی صحیح تربیت کرنے والا قیامت تک اس کی کمائی وصول کرتا رہے گا۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ جنت میں نیک آدمی کا درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ حیرت سے پوچھتا ہے : اے میرے رب ! مجھے یہ مرتبہ کہاں سے ملا؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تیری اولاد کی وجہ سے کہ اس نے تیرے لئے دعائے مغفرت کی۔ (مسند احمد )

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پاکیزہ کھانا جو انسان کھاتا ہے اسکی اپنی کمائی ہے۔ اور اسکی اولاد بھی اسکی بہترین کمائی میں سے ہے۔ (سنن ابی دائود)

اولاد جو نیک کام اپنے معمول (روٹین)میں کرتی ہے، مثلاًنماز تلاوت ، اذکاروغیرہ تو اسکا ثواب بھی والدین کو خود بخود ملتا رہتا ہے۔

روحانی اولاد

٭ حضرت عائشہ ؓ کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی اس لئے انہوں نے بے شمار یتیم بچوں کی پرورش کی تھی۔

٭ شاگرد بھی اساتذہ کیلئے بہترین صدقہ جاریہ ہیں، جبکہ اس نے انہیں صحیح تعلیم دی ہو۔

جس طرح مرنے والے کو اس کے نیک اعمال کا ثواب پہنچتا ہے اسی طرح برے اعمال کا وبال بھی پہنچتا ہے۔ اس لئے خاص طور پر ان گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے، جو موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اچھا طریقہ جاری کیا پھر لوگ اس پر عمل کریں اس کو اتنا ثواب ہوگا جتنا خود عمل کرنے والے کو۔ اور عمل کرنے والے کے اپنے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ اور جس نے براطریقہ ایجاد کیا اور اس پر عمل کیا گیا اسے اسکا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کے گناہ کے برابر (مزید گناہ) ہوگا جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔ (سنن ابنِ ماجہ :203)

اختتامیہ :

ضروری ہے کہ اپنی نیت کو اللہ کے لئے خالص کیا جائے کیوں کہ اللہ تعالیٰ ریا کاری اور دکھاوے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ یہ انسان کی بہت بڑی بدنصیبی ہوگی کہ وہ کام بھی کرے اور اجر بھی نہ حاصل کرسکے۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین (آکولہ)

Leave a Reply