سرمایہ داری اور جمہوریت

امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات Joseph.E Stiglitz نے تازہ مضمون ‘‘ Democracy in the 21st century’’ میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ اور اْس کے معاشی نمونے کی تقلید کرنے والے ملکوں میں معاشی عدم مساوات کی بڑھتی ہوئی شرح سیاسی عدم مساوات کا سبب بن رہی ہے۔ ایک ایسے نظام میں معاشی ترقی کے مواقع بھی یکساں نہیں ہیں۔ معاشرتی شراکت داری اور سرگرمیاں بھی ماند پڑرہی ہیں… جو سوال ہمیں درپیش ہے وہ یہ نہیں کہ اکیسویں صدی میں سرمائے کا مستقبل کیا ہوگا؟ بلکہ وہ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا؟‘‘جوزف اسٹگلیزکے اس تجزیے کی وجہ فرانسیسی ماہر معاشیات Thomas Piketty کی غیرمعمولی کتاب”Capital in the 21st century اس کتاب نے سرمایہ دار دنیا میں تہلکہ مچادیا ہے۔ تھامس پکیٹی کو جدید کارل مارکس بھی قرار دیا جارہا ہے۔ یہ کتاب اعداد و شمار، چارٹس اور ڈیٹا کی مدد سے یہ ثابت کرتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں بتدریج معاشی عدم مساوات پھیلا رہا ہے، دولت کی تقسیم میں ناانصافی کا سلسلہ یورپ میں صنعتی ’’انقلاب‘‘ سے شروع ہوا اور اب اکیسویں صدی میں عفریت بن چکا ہے۔ سرمایہ داروں کی ذاتی دولت اور قومی خزانوں کا توازن خطرناک حد تک بگڑچکا ہے۔ تھامس پکیٹی نے تھیوری پیش کی ہے کہ معاشی پیداوار کم اور دولت میں اضافے کی رفتار بہت تیز ہے۔ یہ عدم توازن معاشرتی اور سیاسی بگاڑکا سبب بن رہا ہے۔ تھامس پکیٹی کتاب کے آخر میں تجویز دیتا ہے کہ حکومتیں دولت پر عالمی ٹیکس کا اجرا ممکن بنائیں تاکہ معاشی اور سیاسی عدم مساوات کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔ مسٹر پکیٹی کے معاشی حساب کتاب اور تجویز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قومی جمہوریتیں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں ہیں۔ جب تک جمہوریت سرمائے کی قید سے آزاد نہ ہوگی، اس وقت تک غربت کا خاتمہ یا ممکن رہے گا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے کالم نگار B. Thomas Edsall مضمون ‘‘ Capitalism vsDemocracy’’ میں تھامس پکیٹی کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’پروفیسر پکیٹی سرمایہ دارانہ نظام میں کارفرما ایسی قوتوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو جمہوری معاشروں کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘ اقوام متحدہ کی مزدور تنظیم کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2012ء سے 2013ء کے درمیان دنیا بھر میں پچاس لاکھ افراد بے روزگارکیے گئے، جن کی تعداد گزشتہ سال کے آخر تک ایک کروڑ بیس لاکھ تک جاپہنچی، 2018ء تک یہ تعداد دوکروڑ پندرہ لاکھ تک جاپہنچے گی۔ سرمایہ دارانہ نظام کا شکار ہونے والے یہ تمام بیروزگارکسی نہ کسی جمہوریت سے وابستہ ہیں، مگر جمہوریت ان کی فلاح کے لیے کچھ نہیں کرسکتی۔ سرمائے کے ہاتھوں جمہور کے قتل عام کا نوحہ سالوں پہلے عالمی جریدے فارن پالیسی میں Robert Reich B. نے بھی لکھا تھا۔ مضمون تھا”How Capitalism Is killing Democracy … اس نے لکھا کہ آزاد منڈی کی ناانصافیاں جمہوریتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یورپ میں ا?ئے دن ملازمین تنخواہوں میں کمی اور ملازمتوں میں کٹوتی کے خلاف سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں۔ جاپان میں بہت سی کمپنیوں نے زندگی بھرکے لیے روزگار کا سلسلہ بند کردیا۔ جیسے ہی سونی کمپنی کا پہلا غیر جاپانی ہاورڈ اسٹرینگر چیف ایگزیکٹو مقررہوا، دس ہزار جاپانی بہ یک جنبش قلم ملازمت سے فارغ کردیے گئے۔

مقامی جمہوریتوں کی کمزوری کا سبب بین الاقوامی کمپنیاں اور مالی ادارے ہیں، جن کے صارفین اور متاثرین دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے ہیں۔ عالمی بینک، عالمی مانیٹری فنڈ اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے مقامی جمہوریتوں کا معاشی جنازہ جب چاہتے ہیں نکال دیتے ہیں۔

عالمی کارپوریشنیںکسی جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتیں، ان کے اپنے اصول ہوتے ہیں، اور یہ کسی معاشرتی اخلاق اور ذمے داری کی پابند نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اس جال میں جکڑی جمہوریتیں معاشرے کے دکھ دور نہیں کرسکتیں۔ بے چارے رابرٹ رائیک نے مضمون کے آخر میں مومنانہ نصیحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سرمایہ دارانہ جمہوریت کے بچاؤ کے لیے سوچ کو راہِ راست پر لانا ہوگا۔‘‘ مگر رابرٹ رائیک رہنمائی نہ کرسکا کہ سوچ کو راہِ راست پر کیسے لایا جائے؟ سرمایہ دارانہ نظام میں آئین اور قوانین انسانی مفادات اور رجحانات پر ترتیب پاتے ہیں۔ راہِ راست انسانی قوانین کے رستے میں کہیں ممکن ہی نہیں۔ کمیونزم کے بعد سرمایہ دارانہ جمہوریت کا بھی اب کوئی مستقبل نہیں۔

جہاں سرمایہ خدا ہو، سرمایہ دار فیصلہ کن قوت ہوں، سیاست تجارت ہو، انتخابات سرمایہ کاری ہوں، امیدوار سیلزمین ہوں، ووٹر صارفین ہوں… وہاں جمہوری تماشا ہی لگتا ہے، وہاں ناانصافی کی پیداوار ہی ممکن ہے، وہاں جمہوریت کی مقدس گائے اور جمہور کی مقدس رائے ماسوائے دھوکے کے کچھ نہیں۔ وہاں مساوات کی بات اور مطلوبہ معیارِ زندگی تک لوگوں کی رسائی ممکن نہیں۔ انسانی معاشرے کی نمو محبت کی زرخیز مٹی میں ہے، جبکہ سرمایہ سونے کی چٹان ہے۔ سرمائے کی خدائی انسان کی بھلائی پر منتج ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لیے جہاں جہاں سرمایہ دارانہ جمہوریت در آئی ہے، وہاں سیاست میں سودخوروں، بدقماشوں، جواریوں اور جرائم پیشہ افراد کی پذیرائی ہے۔ دنیا بھر میں سرمایہ دار کی سیاست دوگنے چوگنے منافع کی تجارت ہے۔ سیاستدان، جرنیل، بیوروکریٹس، قانون داں اورصحافی سرمائے کی سرپرستی میں تماشا لگاتے ہیں اور پورا معاشرہ تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ تماشا کسی ممکنہ عوامی بغاوت یا ناراضی سے بچنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ درحقیقت حاکمیت سرمائے کی ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور انسانی معاشرے کی فلاح کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں۔

امریکی صدر اربوں ڈالرکی انتخابی مہم اپنی جیب سے نہیں چلاتا، بڑی بڑی کارپوریشنیں سرمایہ لگاتی ہیں۔ یوں سرمایہ دارانہ نظام میں جکڑے جمہوریت کے بڑے بڑے چیمپئن رائے عامہ کو روندکر سرمایہ داروں کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ مغربی جمہوریت کے خلاف یہ کوئی جذباتی تقریر نہیں، یہ ایک ٹھوس زمینی حقیقت ہے۔ مغربی ماہرین معاشیات نے واضح طور پر خبردار کردیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں جمہوریت کا کوئی مستقبل نہیں۔

مولانا مودودیؒ نے کہا تھا ’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچائو کے لیے پریشان ہوگا، سرمایہ دارانہ جمہوریت خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہوگی، مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے مقصد کو نہ پاسکے گی، اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا (سوچ رہے ہوں گے کہ وہ) اتنے بے وقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر کانپ رہے تھے۔‘‘

علامہ محمد اقبالؒ مغربی جمہوریت کی تاریکی کا مشاہدہ بہت پہلے ہی کرچکے تھے، اسی لیے انہوں نے کہا تھا :

تونے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہور ی نظام

چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر

شیئر کیجیے
Default image
ناصر فاروق

Leave a Reply