وادیِ مکہ کے لیل و نہار

دن رات تو دنیا کے ہر خطے میں ہوتے ہیں…سورج کا طلوع اور غروب ہر جگہ… ہوتا ہے مگر حرمین شریفین میں مجھے ان کے طلوع و غروب کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔

سرِ شام ہم ممبئی کے سہارا ائیر پورٹ سے جدّہ کے لئے اڑنے سے پہلے یہ دعا، جس خدائے بزرگ وبرتر نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ۔ انسان اسی ذو الجلال اکرام کو اپنا خلیفہ بناکر سفر پر روانہ ہوتا ہے ۔ میں نے بھی بصد خلوص یہ دعا مسنونہ ماثورہ پڑھی۔

اَللّٰھُمَّ اَنتَ الصَّاحِبُ فی السَّفر و الخلیفَۃُ اَلاھلِ والمالِ ……………… الیٰ الاٰخر۔

اے اللہ تو اس سفر میں میرا ساتھی اور میرے بعد میرے گھر بار اور اہل وعیال کا خلیفہ ہے ۔‘‘ کسی قدر معنی خیز بنا دیتی ہے۔ چند گھنٹوں بعد میقات سے احرام باندھ کر ہم پھر مکّہ مکرّمہ بلد امین کی طرف گامزن ہوگئے ۔

ہوٹل میں سامان پٹخ کر وضو کر کے ہم حرم کی جانب دوڑ پڑے۔ وفور شوق اور شوخئی جذبات سے میرے پائوں زمین پر ناپڑتے تھے۔ چند منٹوں کا راستہ صدیوں پر محیط ہوگیا۔ دل ہی دل میں دعائوں اور التجائوں کا ذخیرہ کرتی جاتی تھی جو مجھے بیت اللہ کو دیکھتے ہی مانگنا تھیں۔ سن رکھاتھا کہ آنکھیں بند کر کے کھڑا ہونا چاہیئے اور پھر آنکھ کھولتے ہی بیت اللہ کو دیکھکر جو دعا مانگو وہ قبول ہوتی ہے …مگر… میں تو آنکھیں جھپکانا ہی بھول گئی۔ حرم شریف میں قدم رکھتے ہی حواس باختہ ہوگئی۔ اللہ کے گھر پر نظر پڑی تو مبہوت کھڑی رہ گئی ۔ کسی قسم کی کوئی دعا یا د نہیں آئی ۔ اتنا ۔ ا۔ا ۔ آ۔ عظیم الشان ، اتنا ۔ا۔ا۔آ۔ پر ہیبت بس میرے منھ سے ازخود نکلا ۔ پھر اے رب جلیل تو کس قد ر عظیم الشان ہوگا ۔ نگاہیں اس چہار رنگ ونور کے مرقع اس مرکزِ توحید پر سے ہٹتی تھیں، نادعا استغفار اور مناجات یا دآتی تھیں ۔ مجھے اپنے قریب سے کسی کی ہچکیاں سنائی دیں تو گویا میں ہوش میں آئی تب میری زبان سے نکلا، اَللّٰھُمَّ الفتَح لِیْ اَبوابَ رَحمَتِکَ۔

اے ربّ غفور میری خطائیں یقینا بہت ہیں مگر تیری رحمت اس سے زیادہ وسیع ہے جو کہ مجھ جیسے گناہ گار کو اپنے درپر لے آئی ہے ۔ میں نے دیکھا میں بیت عتیق سے کم وبیش پچاس گز کی دور ی پر بنی نفیس سیڑھیوں میں سے ایک پر کھڑی ہوں ۔ نیچے صحن کعبہ میں فرشتے طواف کررہے ہیں۔ غور سے دیکھنے میں معلوم ہوا کہ وہ انسان ہی ہیں، سفید براق سے لباس ہر غرض، ہر سفلی جبلّت سے اور صرف اپنے رب کے حکم پر دوڑ رہے ہیں سر جھکے ہیں دل وفور محبت جذبہ عبدیت سے معمو ر اور زبان حمد وثناء سے تر آنکھیں چھلک چھلک پڑرہی ہیں ۔

شاہ وگدا ، امیر غریب ، اعلی اسفل، گورے کالے، عورت مرد۔ غلاف کعبہ کو چمٹے پھبک پھبک کر رورہے تھے ۔ گڑ گڑا رہے تھے۔ غفور ورحیم کو پکاررہے تھے ۔ لمبے چوڑے سیاہ فاموں کو دیکھکر مجھے بلال حبشی کی یاد آگئی۔ گورے چٹے سرخ سفید لوگوں سے عمر فاروقؓ، امیر حمزہؓ تصور میں آگئے۔ میں بھی دوڑ پڑی دیوانہ وار اور طواف کرنے والے ہجوم میں داخل ہوگئی اس خیال سے کہ جہاں اتنے سارے نیک بندوں کو اللہ بخشے گا تو ساتھ میں میری مغفرت ہوجائے گی ۔

سات چکر مکمل ہوگئے۔ مقام ابراہیمؓ کو بھی دیکھا۔ جھانک کر مبارک قدموں کے مبارک نشانیوں کو بھی دیکھا۔ دل وفور جذبات سے بھر بھر آتاتھا۔ میںنے مقام ابراہیمؓ کے پاس دورکعت نماز پڑھی۔ پھر کوہ صفا۔ مروہ کی طرف چل پڑی ۔ تصورمیں بہت دور بہت دور نکل گئی، جیسے سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہورہاہے۔ ننھا اسماعیلؓ مقام ابراہیم سے کچھ پرے پیاس سے ایڑیاں رگڑ رہاہے ۔ بی بی ہاجرہ دوڑ رہی ہیں ، پریشان کبھی اس پہاڑ پر چلتی ہیں کبھی اُس پہاڑ پر۔۔۔میں صفاء پر خوب اوپر چڑھ گئی۔ ستونوں کے بیچ سے مجھے تھوڑا ساکعبہ کا حصہ دکھ رہاتھا۔ دل کی آنکھوں سے سب کچھ اتنا واضح اور صاف نظر آرہا تھا کہ بتانہیں سکتی۔ اپنے آس پاس سے بے خبر رب ذو الجلال سے راز ونیاز میں مصروف تھے۔ کوئی کوئی تو زار وقطار رورہاتھا۔ گھٹی ہچکیاں اللھم اللھم کی ، لا الہ الاللہکی۔

میں سعی کے لئے نیچے اتری۔ عورت مرد بچے بوڑھے دوڑ رہے تھے ۔ اتنا روح پر ور منظر میں نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ چھوٹے چھوٹے معصومو ں کو انکے ماں باپ نے احرام باندھ دیاتھا۔ وہ بھی مسحور اور مسرور سے کشاں کشاں سعی کررہے تھے۔ کسی کسی بچے بچی کو اسکے باپ نے بسبب طفولیت اپنے کندھے پر بٹھالیا تھا۔ جب دوڑ نے کے مقام پر لوگ دوڑتے تو بچے کھلکھلاکر ہنس پڑتے ۔ مسحور کن روحانی ماحول پر خوشگور سماں سابندھ جاتا۔ عمرہ سے فارغ ہو کر ہم اپنے کمرے میں گئے ۔ ہم بیس دن وہاں رہے دو عمرہ کئے ۔ کئی بار طواف کعبہ کیا ۔ ایک مرتبہ حجر اسود کو چوما۔ یقین نہیں آتا تھا کہ میری گناہ گار آنکھیں حجر اسود کو دیکھ رہی ہیں ۔ میرے لب اس کو چوم رہے ہیں

جس کو پیغمبروں نے چوما ہے۔ اژدہام بہت تھا پھر بھی بخیر وعافیت نکل آئی۔ ایک دوبار اور کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکی۔ بیس دن کیسے گذرے نور میں ڈوبے ہوئے ایام صرف ایک روشن لکیر کی طرح دل میں جاگزیں ہیں۔ اف صفائی ستھرائی اور پاکی کا کیا عالم بیان سے باہر ہے۔ ہر چیز روزانہ اس طرح چمکائی جاتی گویا آج ہی صاف کی جارہی ہے ۔ ہمہ وقت لاکھوں کا مجمع ، مگر کسی قسم کی گندگی اور بو کا شائبہ بھی نہیں ۔

اور کعبۃ اللہ سے تو نگاہیں پلٹناہی بھول جاتی۔ ہر چیز صاف شفاف، قالینوں سے لیکر جوتے رکھنے کی ریکس تک چمچماتی رہتیں۔ صفائی کرنے والے ہر وقت متحرک رہتے۔ نظافت اور ضیافت وہاں کا طرّہ امتیاز تھی۔ محبت اور الفت وہاں کا خاصہ تھی ۔ وحد ت و اخوت وہاں کی پہچان تھی ۔

ایک روز جب با ب النساء سے اندر داخل ہوئی تو حلیم شریف متواضع سر سے پائوں تک پرد ہ پوش خاتون نے اٹھ کر جیسا میرا استقبال کیا ہو ، اس انداز سے آگے بڑھی اور میرے پرس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں چیک کرنے کے لئے پرس کو ان کے ہاتھ میں دے دیا ۔ خود چین کھولی، بڑی خفیف سی تلاشی کے بعد چین بند کرکے میرے ہاتھ میں بصد احترام واپس کردیا ۔

میں عورتوں کے ہال میں بیٹھی قرآن کی تلاوت کررہی تھی ۔ ایک سیاہ فام لمبی عورت میری طرف آئی اور قرآن کی ایک آیت پر انگلی رکھ کر اپنی زبان میں بولی۔ اس کو کیسے پڑھیں گے۔ میں نے بتادیا۔ جب کہ اسی عورت نے مجھ سے وقت دریافت کیا تو یہ جاننے میں بھی مجھے وقت لگ گیا کہ وہ وقت معلوم کرنا چاہتی تھی۔ مگر قرآن کے وسیلے سے وہ میرے پاس آئی تو ہم دونوں کی زبان اور مقصد، معنی، مطلب سب ایک تھا ۔ لہٰذا سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی۔

بیس روز مکہ میں گزارنے کے بعد ہم آرام دہ AC بس میں بیٹھے مدینہ کی جانب چل دیے۔ سڑک کے دونوں جانب ریتیلے پہاڑ اور ریگستان تھے۔

میں نے آنکھیں موند لیں اور تصور میں ۱۴۰۰ سال پہلے عین موقع ہجرت پر پہنچ گئی۔ بڑا اوبڑ کھابڑ ریگستانی علاقہ ہے ۔ اوپر آگ برساتا آسمان تو نیچے تپتی زمیں ، چلچلاتی دھوپ دو اونٹ اپنے اوپر دو نفیس متبرک روحوں کو اٹھائے بھاگے جارہے ہیں ۔

حبیب خدا ۔ رسول مکرم ، اشرف المرسلین اپنے پیارے ساتھی یار غار حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ مدینہ میں داخل ہورہے ہیں۔ بچیاں دف بجا بجا کر گارہی ہیں۔ طلع البدرو وعلینا۔ من تئنات الوداع و حب الشکر علینا…مگر یہ کیا میری آنکھ کھل گئی ۔ اب وہ بے سروسامانی اور مظلومی کہاں ۔ اب تو سامنے گنبد خضرا ء نظر آرہاہے ۔ پہلے یہ گنبد اور مینارے نظر آرہے تھے ۔ حضور پر نور سرکار دو عالم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے جانثار صحابہ ؓ کے ساتھ مل کر مسجد نبوی کی تعمیر کی تھی ۔ اب سب کچھ کتنا عالیشان ہوگیاہے اور تو اور صفّہ تک کتنے نفیس ماربل اور قیمتی جالی سے مذین ہے ۔ جبکہ اسی صفّہ ( مٹی کا چبوترہ ) پر جو سعید روحیں مشغول حصول علم رہتی تھی ، جن کی بدولت ہم تک سیرت نبیؐ پہونچی وہ اپنی ستر پوشی تک کے لئے ایک دوسرے کی آڑ لیتے تھے ۔ بھوک پیاس سے نڈھال رہتے تھے ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ مارے بھو ک کے غش کھاکر گر پڑتے تھے ۔

عرب لوگ کی شان ہے ، وہ بڑے مہمان نواز اور فیاض ہوتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ مجھے مکہ میں ہوچکاتھا یہاں بھی فراخ دلی کا ویسا ہی حال تھا۔ لوگ بانٹ رہے تھے بس بانٹ رہے تھے۔ کچھ بھی مانگ نہیں رہے تھے۔ ہندوستانی مسجدوں کے باہر نمازی کم اور بھکاری زیادہ ہوتے ہیں مگر مکّہ اور مدینہ میں، حرمین شریفین میں صرف بانٹنے والے ہیں۔ روضہ اقدس دیکھا۔

اللہ کے آخری محبوب وخاتم النبین رحمۃ العالمین کو سلام کیا ، درود بھیجا ۔ سیدنا ابوبکر ؓ وسیدنا عمر فاروق ؓ کو بھی سلام کیا۔ جنت البقیع کی زیارت بھی کی۔ ازواج مطہرا ت وبنات رسول ؐ اور دوسری صحابیات ؓ کو سلام ودعا مغفرت کی ۔

میدان بدر ، جبل احد، سید الشہدا ء امیر حمزہ ؓکی مبارک قبر باقی صحابہ کی قبریں ، جو اب صرف ایک میدان ٹائپ ہے ۔ خوب خوب زیارت کی ۔ ہر ہر جگہ جانی پہچانی لگی جب کہ میں وہاں پہلی مرتبہ گئی تھی ۔ مگر کسی قدر تاریخ اسلام سے لگائو اور سیرت بنی ؐ کے بار بار کے مطالعہ نے مجھے شرف معرفت و اپنایت بخشا۔ یادیں تازہ ہوگئیں۔

گنبد خضرا کی ٹھنڈک چھائوں میں چند دن گزارنے کے بعد پھر مکہ واپس آگئی ۔ پھر انہیں وادیوں میں گھومی جہا ں رسول اللہ ؐ کا بچپن گذرا تھا ، پھر ان گھاٹیوں کو دیکھا جہاں آپ نے بکریاں چرائیں تھیں، جہاں پہلے پہل لاالہ الااللہ کی صدا گونجی۔ جہاں ابوبکر صدیقؓ نے دوستی کو بام عروج پر پہنچایا، جہاں عمر ؓ نے کفر واسلام میں فرق کیا اور عثمان ؓ نے اپنا مال لٹادیا، جہاں سارا قریش آپ کا دشمن تھا، جہاں ابوجہل نے جہالت کے نئے ریکارڈ قائم کئے ، جہاں امیہ نے ڈھٹائی ظلم اور ابولہب نے عداوت کی حدیں پار کیں، جہاں سمیہ ؓ شہید ہوئیں، جہاں بلال ؓ بڑے بڑے پتھروں کے نیچے دبائے گئے۔ سب کچھ کتنا واضح تھا۔ پھر ملتزم سے چمٹ گئی ، پھر حطیم میں نماز پڑھی ، پھر شعائر پر چڑھنے اور سعی کرنے کا موقع ملا۔ اسی اثنا میں کہ صفا سے اتر رہی تھی ایک عورت کے ہاتھ میں دعائوں کی کتاب پر نظری پڑی ۔ اس صفحہ پر لکھاتھا ۔

اکیلے اس نے سب جتھوں کو شکست دی۔ میں پکار اٹھی یقینا یقینا اللہ وحدہ لاشریک نے سب گروہوں کو ہرایا جو اسکے رسول اور اسکے گھر پر چاروں طرف سے امڑ امڑ آتے تھے۔ اور دین اسلام کو مٹاناچاہتے تھے مگر اللہ نے اپنا کلمہ بلند کیا اور اپنا دین غالب کیا۔l

شیئر کیجیے
Default image
عارفہ محسنہ

Leave a Reply