بے خوابی کا علاج متوازن غذا

موجودہ زمانے میں بے خوابی کی شکایت عام ہے اور ہر زمانے کے افراد اس کی شکایت کرتے ہیں۔ متعدد افراد اس حد تک بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں کہ انہیں رات کو سونے کے لیے روزانہ نیند کی ادویات استعمال کرنا پڑتی ہے جو ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین غذائیات کے مطابق بے خوابی کا علاج اچھی خوراک اور اس کے استعمال سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ نیند کا ہمارے نظام دوران خون، نظام تنفس اور نظام انہضام سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور خوراک ہی ان تینوں عوامل کو کنٹرول کرتی ہے۔ ماہرین غذائیات نے کچھ ایسی خوراک تجویز کی ہیں کہ جن کے استعمال سے رات کو پرسکون نیند سویا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کیلا سب سے اہم غذا ہے بلکہ اسے ’’سلپنگ کیپسول‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کیلے میں سب سے زیادہ مقدار میں کرپٹوفین نامی مادہ پایا جاتا ہے۔ ہمارے خون میں شامل ہوکر ایک کرپٹوفین بناتا ہے اور ہم جلدی سوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیلے میں میگنیشیم کی کافی مقدار بھی پائی جاتی ہے، جو انسانی جسم کو پرسکون کرتی ہے اور نیند کے لیے بہت ضروری ہے۔ کیلے کے بعد نیم گرم دودھ کو نیند لانے کے لیے سب سے مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ دودھ میں بھی کرپٹوفین کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ جب کہ اس میں شامل کیلشیم جسم میں میٹا بولزم کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے میٹا بولزم کا کم ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس فہرست میں شہد بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دو چمچ شہد نیم گرم دودھ میں ڈال کر اسے پی لیا جائے تو جسم انتہائی پرسکون ہو جاتا ہے۔

اور رات بھر سکون سے سویا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تمام ایسی غذائیں جن میں کاربوہائیڈریٹس اور فیٹس پائے جاتے ہیں، وہ نہ صرف نیند لانے میں معاون ہوتے ہیں بلکہ ان کی مدد سے پانچ چھ گھنٹے کی پرسکون نیند حاصل ہوتی ہے۔ بعض اوقات رات کے وقت جسم میں کاربوہائیڈریٹ لیول گر جاتا ہے اور یہ بھی بے خوابی کا سبب بنتا ہے۔ ایسے افراد جو رات کو سونے سے چار پانچ گھنٹے قبل کھانا کھاتے ہیں ان میں رات کے آخری اوقات میں شوگر لیول گر سکتا ہے، جس سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح جو افراد فورا کھانا کھاکر سو جاتے ہیں ان میں میٹابولزم کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے اور میٹا بولزم کی زیادہ شرح نیند بھگا دیتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply