4

سرد موسم اور نوزائیدہ بچے

بچہ زیادہ اور خصوصی دیکھ بھال چاہتا ہے۔ ایک ماں کے لیے یہ بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو تمام ممکنہ بیماریوں سے بچا کر رکھے۔ عموماً ہر موسم میں بچے کو موسمی اثرات اور بیماریوں سے بچانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر سردیوں کا موسم نوزائیدہ بچوں کے لیے کچھ زیادہ پریشان کن ہوتا ہے۔ اکثر مائیں سردیوں میں پریشان ہو جاتی ہیں کیوں کہ اس سرد موسم میں بچے کو نسبتاً زیادہ حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بچے ٹھنڈ سے محفوظ رہیں۔ نوزائیدہ اور چھوٹے بچے آسانی سے سردیوں میں ٹھنڈ کا شکار ہو جاتے ہیں تاہم یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ بہت زیادہ پریشان ہوا جائے۔ بس ذرا درست اقدامات کرلیے جائیں تو مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔ ذیل میں اسی حوالے سے کچھ کار آمد ٹپس دیے جا رہے ہیں، جن کو اپنا کر مائیں اپنے بچوں کو خوش، صحت مند اور موسم کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ چوں کہ بچوں میںبیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت کم ہوتی ہے اس لیے انہیں بہرحال خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

*روزانہ اپنے بچے کی صفائی ستھرائی کریں اور یہ عمل روزانہ کے ساتھ ساتھ ہر موسم میں ہونا چاہیے مگر سردیوں میں بچے کو نیم گرم پانی سے نہلایا جائے۔ اس سے قبل کسی معیاری تیل سے بچے کے جسم کا اچھی طرح مساج ضرور کرلیں۔ ان میں سرسوں کا خالص تیل بہت مفید ہے۔

*غسل دینے کے بعد بچے کو کچھ دیر کے لیے دھوپ میں بٹھا دیں۔

*بچے کو ٹھنڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے گرم کپڑوں کا مسلسل استعمال نہ کریں۔ اس سے پسینہ آتا ہے اور ٹھنڈے پسینہ کی وجہ سے اس کا امکان رہتا ہے کہ بچہ کھانسی اور ٹھنڈ کا شکار ہوجائے۔

*بچے کو وقفہ وقفہ سے نیم گرم پانی دیتی رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔

*صبح اور شام کے وقت بچے کو ساتھ لے کر گھر سے باہر نہ جائیں۔

*ٹھنڈ سے بچانے کے لیے بچے کو تھوڑی مقدار میں شہد دیں۔

*کھڑکیاں بند نہ کریں اور جب بچہ سو رہا ہو تو اس کا منہ نہ ڈھانپیں۔ اس سے بچے کو سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔

*ہروقت ہیٹر آن نہ رکھیں، اس سے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

*اگر آپ بچے کو ڈائپر پہناتی ہیں تو رات میں بچے کو ہمیشہ خشک ڈائپر پہنائیں۔

*ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر بچے کو کوئی بھی دوا نہ دیں۔

سردیاں اور بچے کی جلد کی حفاظت

سرد موسم اگرچہ بڑوں کی جلد کے لیے بھی بہت پریشان کن ہوتا ہے مگر چھوٹے بچوں کے لیے یہ موسم بہت زیادہ ہی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ بچے کی جلد بہت حساس ہوتی ہے اور اگر آپ ایسے خطے میں رہتی ہیں جہاں ٹھنڈ کچھ زیادہ ہی پڑتی ہے تو آپ کو اپنے بچے کی اضافی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ سرد موسم جلد کو خشک کر دیتا ہے جس کی وجہ سے جلد میں خارش ہونے لگتی ہے۔ موئسچرائزر کا ان کی نازک جلد سے غائب ہو جانا حیرت کی بات نہیں۔ سرد موسم میں جلد کو خشک کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قدرتی لچک کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کچھ حفاظتی تدابیر ہیں، جس کو اپنا کر آپ مذکورہ بالا مسائل سے بچ سکتی ہیں۔

غسل اور موئسچرائزنگ

بچے کو نہلانے کے بعد آپ نہیں چاہتی ہے کہ بچے کو گھر سے باہر لے جایا جائے اور ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔ اس سے بچے کی جلد پھٹنے لگتی ہے۔ غسل دینے کے بعد بچے کے پورے جسم پر موئسچرائزر کا استعمال کریں تاکہ بچے کے جسم میں نمی کی کمی نہ ہو۔ سرسوں کے تیل کا مساج اس سلسلے میں بہترین ہے۔ یہ بہترین موئسچرائزر ہے اور یہ آپ کے بچے میں نمی کی کمی نہیں ہونے دے گا۔ سر سے پاؤں تک تیل کا استعمال کریں اور اس دوران خیال رہے کہ یہ بچے کی آنکھ اور منہ میں نہ جانے پائے۔ اگر آپ کے بچے کی جلد پر تیل کے استعمال سے الرجی کے اثرات نظر آتے ہیں تو آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر سکتی ہیں اور جو بھی تیل یا لوشن وہ بتائے اس کا استعمال کریں۔

بچے کے ملبوسات

بلاشبہ سرد موسم میں بچے کو معقول ملبوسات پہنانا اچھی بات ہے۔ اسے گرم کوٹ، ٹوپی اور دستانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ اس قدر گرم نہ ہوں کہ پسینہ آنے لگے۔ بے بی جلد کی مناسب سے نرم گرم ملبوسات بالکل ٹھیک رہتے ہیں کیوں کہ سرد موسم میں بچے کی جلد اور بھی نرم ہو جاتی ہے۔ اگر لڑکی ہے تو اسے پاؤں تک ٹائٹس (Tights) پہنائیں تاکہ اس کی ٹانگیں خشک اور پھٹنے سے محفوظ رہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ابصار احمد

تبصرہ کیجیے