بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟

آج کے دور میں اگر خوش قسمتی سے فرصت کے کچھ لمحات میسر آجائیں اور اہل خانہ مل جل کر کچھ وقت گزار سکیں تو بلاشبہ یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں کی مائیں اور والدین ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ گھریلو مصروفیات کے سبب مائیں اور معاشی مصروفیات کے سبب باپ اتنے مصروف رہتے ہیں کہ بچوں کو وقت ہی نہیں دے پاتے۔ اگر مائیں بھی معاشی مصروفیت رکھتی ہوں تو بچوں کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا۔ ایسے میں ان کی تربیت بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسے میں ہم والدین کے لیے کچھ عملی تدابیر پیش کرتے ہیں، جن کو اپنا کر وہ روز مرہ کے معاملات میں بچوں کی بہتر تربیت کرسکتے ہیں۔

والدین خود فجر کی نماز کے لیے اٹھیں اور فجر کی نماز کے لیے اٹھنے پر بچے کو انعام دیا جاسکتا ہے۔ ایک بھائی یا بہن کی فجر کے وقت اٹھانے کی ذمہ داری لگائیں اور پھر اس کو تبدیل کرتے رہیں تاکہ سب کو ذمہ داری کا احساس ہو اور ایک دوسرے کے درمیان مروت اور نیکی میں تعاون کا جذبہ پیدا ہو۔

٭سب اہل خانہ ایک ساتھ ناشتہ کریں اور دونوں وقت کا کھانا کھائیں تو باہمی محبت میں اضافہ ہوگا۔ بچوں اور بچیوں کو جس قدر ہوسکے اپنے قریب رکھیں۔ کمپیوٹر ایسی جگہ پر رکھیں جہاں آپ اس پر نظر رکھ سکیں۔ اگر آپ کو کمپیوٹر سے کوئی لگاؤ نہیں تو اس کی تھوڑی بہت مشق آپ کو کرنی چاہیے۔

جب چھوٹے بچوں میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے والدین سے زیادہ کچھ جانتے ہیں تو ایک احساس برتری پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ والدین کو ناواقفیت کا حوالہ دے کر بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کام کر رہے ہیں، حالاں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں وہ غلط اور غیر ضروری ہوتا ہے اور مائیں ان سے غافل ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس دور کے ماں باپ کو سخت امتحان میں مبتلا کر دیا ہے۔

٭فرصت کے لمحات کو محض ٹی وی اور کمپیوٹر کی نذر نہ ہونے دیں۔ بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ان کو متبادل مصروفیات اور مشاغل دیں۔

٭ بچوں کو ان کی عمر اور ذوق کے لحاظ سے کوئی نیا کام سکھانے کی کوشش کیجیے۔ کاغذ کے کھلونے بنانا، کاغذ پہ تصویر بنانا، رنگ بھرنا، سلائی کرنا، کسی ڈیکوریشن پیش کو صاف کرنا، والد لڑکوں کو ساتھ ملا کر گھر کی مرمت طلب اشیاء کو ٹھیک کرسکتے ہیں کہ مل جل کر گھر کے بگڑے کام سنوارنا بھی ایک فن ہے۔

٭گھر میں لان یا کیاری کی جگہ ہو تو بچے کو کوئی پودے اُگانا اور اس کی نگہ داشت کرنا سکھائیے۔

٭ بچوں کے دوستوں کو گھر بلوائیے اور ان کی عزت کیجئے، ان کو توجہ دیجئے تاکہ وہ آپ پر اعتماد کرسکیں اور آپ کو معلوم ہو کہ کون دوست کس طرح کا ہے۔

٭بچوں میں ذوقِ مطالعہ کو پروان چڑھانا، اس کی تسکین کا سامان کرنا ایک اہم فریضہ ہے۔ اچھی اچھی کتب و رسائل پڑھنے کو فراہم کریں۔ بچوں کو کہانی سننا اچھا لگتا ہے۔ کسی اچھی لائبریری کا تعارف کروائیں اور معیاری کتب منتخب کر کے دیں۔ اس طرح اسلامی لٹریچر اور علم کی ایک وسیع دنیا تک ان کی رسائی ہوجائے گی۔

٭ بچوں میں اعلیٰ اخلاقی قدریں پروان چڑھائیں برائیوں مثلاً غیبت، جھوٹ، مبالغہ آرائی وغیرہ پر ٹوک دیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود بھی ان برائیوں سے اجتناب کریں۔ نیز ایثار، دوسروں کی خدمت، مسجد کی صفائی اور رضاکارانہ سماجی کاموں میں حصہ داری کے لیے ابھاریں۔

٭ دین اور دینی امور سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کا جذبہ ابھاریں اور مستقل طور پر کسی خاص دینی و سماجی کام پر لگائیں اور رپورٹ لیتے رہیں۔

ان باتوں پر توجہ دینے سے امید کی جاسکتی ہے کہ بچوں میں بھلائیاں فروغ پائیںگی اور وہ برائیوں سے محفوظ رہ سکیںگے۔ موجودہ دور میں بچوں کو برائیوں اور برے ماحول سے محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ جس کا مقابلہ ہر والدین کے لیے لازمی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منزہ صدف

Leave a Reply