اہل ایمان کے باہمی تعلقات (گزشتہ سے پیوستہ)

دوسرا تقاضہ: اسلامی اخوت کا تقاضہ اپنے بھائی کی ضروریات کا خیال رکھنا ہے۔ یہاں بھی اس سلوک کے تین درجے ہیں۔ سب سے کم ترین درجہ یہ ہے کہ بھائی کی حاجت سوال کرنے پر پوری کی جائے۔ اگر آپ کے بھائی نے مانگنے پر کچھ نہیں دیا تو ایک دفعہ اسے یاد کرادو، مبادا کہ وہ بھول گیا ہو۔ اگر اس کے باوجود اس نے کچھ نہیں دیا تو اللہ اکبر کہہ کر یہ آیت پڑھو۔ اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ وَالْمَوْتٰی یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ’’دعوت پر وہی لوگ لبیک کہتے ہیں جو سننے والے ہیں۔ رہے مردے، انھیں اللہ بس قبروں سے اٹھائے گا۔‘‘

lایک بھائی نے مشکل وقت میں دوسرے بھائی کی مدد کی۔ وہ شخص کچھ تحفہ لے کر حاضر ہوا، لیکن دوسرے بھائی نے لینے سے انکار کردیا اور کہا: اگر کوئی بھائی آپ کی ضرورت پوری نہیں کرتا تو وضو کرکے چار رکعت نماز ادا کرکے تکبیر پڑھو اور اس بھائی کو مردوں میں تصور کرو۔ جعفر ابن محمد نے کہا، میں اپنے دشمنوں کی ضرورت پورا کرنے میں تیزی سے کام لیتا ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ میری امداد کے بغیر اپنا کام چلالیں۔

lایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی وفات پر اس کے بیوی بچوں کی ضروریات چالیس دن تک پوری کرتا رہا اور ہر روز بیوہ سے پوچھتا تھا کہ اس کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں، تاکہ مرحوم کے بیوی بچے باپ کی عدم موجودگی کو بھول جائیں۔

المختصر تمہارے بھائی کی ضرورت تمہاری ضرورت سے زیادہ اہم ہے۔ ہر وقت اس کی ضرورت کا خیال رکھو تاکہ اسے سوال کرنے کی نوبت نہ آئے۔ مزید یہ کہ آپ اس خیرخواہی کا احسان نہ جتائیں۔ الحسن کہتے تھے، ہمارے دینی بھائی ہمیں اپنے بال بچوں سے زیادہ عزیز ہیں۔ اگر ایک شخص اپنے بھائی کا ساتھ زندگی کے آخر تک نبھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے تخت کے نیچے دو فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کو جنت تک پہنچائیں۔ اگر ایک شخص اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے جاتاہے تو فرشتے آواز دیتے ہیں۔ تم نے اچھا کیا، یہ عمل تمھارے لیے جنت میں جانے کا باعث بنے۔

ابن عمر سے روایت ہے، آپؐ نے فرمایا: اگر آپ کسی بھائی سے محبت کرتے ہیں تو اس کا نام، ولدیت اور اس کی رہائش کا تمھیں پتا ہونا چاہیے۔ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کرو۔

تیسرا تقاضہ: اسلامی اخوت کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ اپنی زبان کے استعمال میں نہایت احتیاط سے کام لیں۔ جب خاموشی اختیار کرنے کا موقع ہو تو خاموش رہیں۔ جب بولنے کا موقع ہو تو بولیں۔ اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے عیب اور کمزوریوں کا ذکر نہ کریں۔ جب وہ بات کر رہا ہو تو بات نہ کاٹیں نہ تردید کریں۔ اس کے ساتھ بحث و تمحیص میں نہ پڑیں۔ اس کے معاملات کی ٹوہ نہ لگائیں۔ گلی محلے میں سامنا ہو تو اس سے سوالات نہ کریں۔ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ ہوسکتا ہے وہ گفتگو کے موڈ میں نہ ہو۔ اسی طرح جو باتیں اس نے رازدارانہ انداز میں آپ کو بتائی ہیں، ان کا کسی سے ذکر نہ کریں۔ اگر بھائی سے ناراضی ہوجائے تو پھر بھی ان باتوں کا کسی سے ذکر نہ کریں بلکہ زیادہ اہتمام کریں۔ اگر آپ اس کے متعلق بات کریں گے تو آپ کے کردار کی ناپختگی اور کھوکھلے پن کو ظاہر کرے گی۔ اس کے خاندان کے بارے میں کوئی تنقید نہ کریں۔ لیکن جب اس کی تعریف کا موقع ہو تو زبان روک کر نہ رکھیں۔ وگرنہ یہ بخل ہوگا۔ خاموشی کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ حسد کر رہے ہیں، الاّ یہ کہ کوئی بات امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے متعلق ہو۔

یاد رکھیں اگر آپ کسی ایسے آدمی کی تلاش میں ہیں جو ہر کمزوری سے بالاتر ہو تو یقین رکھیں پوری دنیا میں ایسا انسان نہیں ملے گا۔ البتہ اگر کسی کی اچھائیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہیں تو ایسے افراد آپ کو بکثرت مل جائیں گے۔ ایک شریف انسان دوسروں کی خوبیاں یاد رکھتا ہے۔ ایک کمینہ انسان دوسروں کی کمزوریاں اور برائیاں یاد رکھتا ہے۔ ابن المبارک نے کہا ’’ایک مومن دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ لیکن ایک منافق دوسروں کی برائیاں تلاش کرتا ہے، اعلیٰ ظرفی یہ ہے کہ آپ دوسروں کو معاف کریں۔ والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس۔ ’’جو غصے پر قابو پاتے ہیں اور دوسروں کو معاف کردیتے ہیں‘‘ کہا جاتا ہے، معاف کرنا بہترین انتقام ہے۔

(Forgiveness the Best Revenge)

آپ ﷺ نے فرمایا، ایسے ہمسائے سے اللہ کی پناہ مانگو جو اچھائیوں کا ذکر نہیں کرتا، لیکن برائیوں کا ذکر کرتاہے۔کسی صحابیؓ نے ایک دن کسی دوسرے شخص کی تعریف کی، لیکن دوسرے دن اس کی برائی بیان کی۔ حضور ﷺنے فرمایا: ’’کل تم اس کی تعریف کر رہے تھے، آج اس کی برائی بیان کر رہے ہو۔‘‘ صحابی نے جواب دیا: ’’کل میں نے سچ کہا تھا اور آج بھی میں نے جھوٹ نہیں بھولا۔ کل اس نے مجھے خوش کردیا تھا، آج اس نے مجھے ناراض کردیا۔ اس لیے میں نے ایسا کیا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا، یہ دلائل کی شعبدہ بازی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مناظرہ بازی سے منع فرمایا ہے۔ آپ لوگوں کی برائیاں بیان کرنے سے پرہیز کریں اور بدگمانی سے بچیں۔ اگر برائی دیکھ بھی لیں تو اس کا پرچار نہ کریں۔ یہ برائی پھیلانے کے مترادف ہے۔

مجالس کی گفتگو بھی امانت ہوتی ہے، جسے ظاہر کرنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔ کسی شریف آدمی سے پوچھا گیا: تم کس طرح راز کو راز رکھتے ہو۔ اس نے کہا، میرا سینہ ایک قبر کی طرح ہے۔ میں راز کو سینے میں دفن کردیتا ہوں۔ عربی کی کہاوت ہے، شریفوں کے سینے بھیدوں کی قبریں ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں، دانا کی زبان دل میں ہوتی ہے اور احمق کا دل زبان پر ہوتا ہے۔

ابو سعید ثوری کا کہنا ہے، اگر میں کسی کو اپنا بھائی بنانے لگتا ہوں تو پہلے اس کو غصہ اور اشتعال دلاتا ہوں۔ پھر دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ اس نے میرے بارے میں کن الفاظ میں ذکر کیا۔ اگر اس نے اچھے الفاظ میں ذکر کیا تو میں اس کو اپنا بھائی بناؤں گا جو میری اس طرح پردہ پوشی کرے، جس طرح خدا کرتا ہے۔ جو شخص غصے میں کسی کا راز اگل دے وہ گھٹیا کردار کا حامل ہے۔ ایک بزرگ نے کہا کسی ایسے شخص کو اپنا بھائی نہ بناؤ جو چار حالتوں میں بدل جانے والا ہو۔ غصہ میں، مال داری میں ،لالچ میں اور خواہش میں۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھگڑے سے کنارہ کش ہوجاتا ہے، حالانکہ وہ حق پر ہوتاہے تو اس کے لیے جنت کے اعلیٰ ترین حصے میں گھر بنایا جائے گا۔ اس کے لیے یہ اہل ِعزیمت کا کام ہے۔

بھائیوں کے درمیان نفرت پیداگ کرنے والی بنیادی چیز مناظرہ بازی ہے۔ اختلاف رائے معمولی بات سے شروع ہوکر بسا اوقات جھگڑے اور فساد کا باعث بن جاتا ہے۔ بحث و تکرار برائی کی جڑ ہے اور تعلقات میں تلخی گھول دیتی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق جب حضور اکرمؐ نے کچھ صحابہؓ کو بحث و تکرار کرتے دیکھا تو آپؐ نے بہت ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا، بند کرو یہ بحث۔ بحث میں کوئی خیر نہیں۔

بظاہر بحث معمولی بات نظر آتی ہے، لیکن بسا اوقات یہ بھائیوں میں دشمنی پیدا کردیتی ہے۔ الغرض بحث و تکرار کا مقصد اپنی علمی برتری کی دھاک بٹھانا ہوتا ہے اور دوسرے کو کم علم ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح آپ بحث تو جیت جائیں گے لیکن ان کے دل نہیں جیت سکتے۔ البتہ خوش خلقی اور اچھے کردار سے لوگوں کا دل جیت سکتے ہیں۔

چوتھا تقاضہ: اسلامی اخوت کا چوتھا تقاضہ یہ ہے کہ آپ اپنی زبان کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتیں۔ جہاں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہو وہاں خاموش رہیں، جہاں بولنا ضروری ہو، ضرور بولیں،کیوں کہ مسلسل خاموش رہنا اہل قبور کا کام ہے۔ اس کے برعکس اپنے بھائی سے محبت کا اظہار کریں۔ کچھ میٹھے بول بولیں۔ اس کے پرسان حال بنیں۔ اگر وہ کسی حادثے کا شکار ہوا ہے تو آپ دلی افسوس کا اظہار کریں۔ اس کی صحت کے لیے دعا مانگیں۔ آپ اپنی زبان اور عمل سے ثابت کریں کہ آپ اس کے حقیقی خیرخواہ اور ہمدرد ہیں۔ غم اور خوشی میں اس کے شریک بنیں۔ اگر آپ بھائی سے اظہار محبت کریں گے تو اس طرح باہمی الفت میں اضافہ ہوگا۔ یہ معمولی باتیں دلوں کو پگھلا دیتی ہیں جس طرح ہلکی سی آنچ موم کو پگھلا دیتی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اپنے بھائی کو اس نام سے پکارو جو اسے پسند ہو۔ اس کی خوبیوں کا ذکر کرو، اس کے خاندان اور بچوں کی بھی تعریف کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے جہاں آپ کے بھائی کے خلاف کوئی بات ہو تو آپ اس کا دفاع کریں۔ یہاںخاموشی مناسب نہیں ہے۔ اپنے بھائی کی عزت کی پامالی پر خاموش رہنا ایسا ہے جیسے ایک شخص دیکھ رہا ہو کہ اس کے بھائی پر ایک خونخوار کتا حملہ آور ہورہا ہے اور وہ خاموش رہے۔

واضح رہے کہ روح کا زخمی ہونا جسم کے زخمی ہونے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اپنے بھائی کا ذکر اس کی عدم موجودگی میں اچھے الفاظ سے کرو۔ جو شخص اخوت میں مخلص نہیں، وہ منافق ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کہ بھائی کی موجودگی اور عدم موجودگی کو برابر سمجھا جائے۔ زبان دل کی رفیق ہو۔ نجی اور عوامی زندگی ایک جیسی ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ایک شخص کا تنہائی میں اچھا ہونا زیادہ ضروری ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کرو تو تم ایک اچھے مسلمان ہوگے، اپنے بھائی کے ساتھ اچھے بھائی بنو تو تم ایک اچھے مومن ہوگے۔ اس سے پتا چلا کہ آپؐ اچھی ہمسائیگی کو اچھے اسلام سے اور اچھے بھائی چارے کو ایمان سے تشبیہ دی ہے۔

اچھے بھائی چارے میں زیادہ تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں، جب کہ ہمسائیگی میں نسبتاً کم فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں۔ زبان کے اچھے استعمال میں ہدایت اور نصیحت کرنا بھی شامل ہے۔ اس لیے کہ آپ کے بھائی کو مالی امداد سے زیادہ اخلاقی، روحانی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم میں برتری عطا کی ہے تو اپنے بھائی کو اس کا حصہ دار بنائیں اور اس کو پندو نصیحت کریں جو اس کے لیے دینی اور دنیوی لحاظ سے مفید ہو اور غلط راہ کے نقصانات سمجھائیں اور یہ سب کچھ تنہائی میں رازداری کے ساتھ کریں۔

اگر کوئی شخص آپ کے کسی غیر اخلاقی رویہ کی نشان دہی کرتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے وہ آپ کے کپڑوں میں کسی سانپ یا بچھو کو دیکھ کر آپ کو آگاہ کر رہا ہو تاکہ آپ اس موذی جانور کی اذیت سے بچ سکیں۔ اگر آپ ایک بھائی کو ہر طرح سے سمجھا چکے ہیں، وہ پھر بھی اپنی حرکات سے باز نہیں آتا تو آپ اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ اگر کوئی آپ کی حق تلفی کر رہا ہو تو آپ عفو و درگزر سے کام لیں۔

ایک صاحب نے بتایا اس کے دل میں دوسرے بھائی کے لیے کدورت تھی۔ اس نے اس بھائی کو اپنے گھر بلایا اور کہا آپ اپنا پاؤں میرے چہرے پر رکھیں۔ اس نے تامل کیا۔ لیکن اس کے پرزور اصرار پر اس نے بات مان لی۔ اس کے بعد اس کے دل سے کدورت ختم ہوگئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مختار ہالینڈ

Leave a Reply