قرآن اور جدید دور کے انکشافات (۲)

دماغ کے بارے میں

قرآن کہتا ہے: ’’ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے کھینچیں گے۔ اس پیشانی کو جو جھوٹی اور خطا کار ہے۔‘‘ (96:15-16)

قرآن سر کے سامنے والے حصے کو جھوٹا اور خطا کار (ناصیہ) کیوں کہتا ہے۔ یہ کیوں نہیں کہتا کہ انسان جھوٹا اور خطا کار ہے۔ جھوٹ اور خطا کاری کا دماغ کے سامنے والے حصے سے کیا تعلق ہے۔

دماغ کے سامنے والے حصے کو Prefrontal areaکہتے ہیں۔ اس کے بارے میں علم افعال الاعضا کی ایک کتاب Essentials Anatomy and Physiology کہتی ہے۔ کسی کام یا پلان کے بارے میں ارادہ اور جذبہ دماغ کے سامنے والے حصے میں پیدا ہوتا ہے اور اس کو رو بہ عمل لانے کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا ہے، خواہ وہ کام نیک ہو یا بد، جھوٹ ہو یا سچ۔ اسی لیے قرآن دماغ کے پیشانی والے حصے کو جھوٹا اور خطا کار کہتا ہے۔ سائنس دانوں نے دماغ کے اس حصے کی کارگزاری پچھلے ساٹھ سالوں میں دریافت کی ہے؛

سمندروں اور دریایوں کے بارے میں

جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ جہاں دو مختلف سمندر ملتے ہیں وہاں ان کے درمیان ایک دیوار سی بن جاتی ہے، جو دونوں دریاؤں کے پانی کو علیحدہ علیحدہ رکھتی ہے۔ ان کا درجہ حرارچ، کثافت، کھارا پن (نمکینی) الگ الگ رہتا ہے۔ مثلاً بحیرہ روم کا پانی نیم گرم، نمکین اور کم کثیف ہوتا ہے، بہ نسبت بحر اوقیانوس کے پانی کے۔ جبر الٹر کے مقام پر دونوں سمندر ملتے ہیں تو بحیرہ روم کا پانی بحر اوقیانوس کے پانی میں کئی سو کلو میٹر کی گہرائی میں بہتا چلا جاتا ہے اور اپنی طبعی خصوصیات، حرارت، کثافت، نمکینی کو بحال رکھتا ہے۔ نیز ہواؤں اور لہروں کے باوجود دونوں پانی آپس میں گڈمڈ نہیں ہوتے۔

قرآن کہتا ہے: دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔‘‘ (55:15-20)

قرآن تازہ پانی اور نمکین پانی کے درمیان ایک پردے کا ذکر کرتا ہے، جو دونوں کو آپس میں ملنے نہیں دیتا۔ ’’اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو چلا رکھا ہے۔ ایک لذیذ و شیریں دوسرا تلخ و شور۔ اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، ایک رکاوٹ ہے، جو انہیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔‘‘ (25:53)

سمندر میں مختلف مقامات پر آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے پائے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتدا میں وہ بھی خلیج فارس کے انہی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی۔ بعد میں کنوئیں کھودے گئے اور ان سے پانی لیا گیا۔

جدید سائنس نے انکشاف کیا ہے کہ جہاں تلخ، شیریں پانی ملتے ہیں ان کے درمیان ایک خطہ سا بن جاتا ہے۔ دونوں پانیوں کا درجہ حرارت، کثافت، نمکینی اور آکسیجن کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ یہ باتیں جدید ترین آلات کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ انسانی آنکھ ان اختلافات کو نہیں دیکھ سکتی۔

گہرے سمندر اور اندرونی لہریں

قرآن کہتا ہے: ’’اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اس پر ایک اور موج اور اس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے۔ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔‘‘ (20-40)

گہرے سمندر میں تاریکی تقریباً ۲۰۰ میٹر سے زیادہ گہرائی میں پائی جاتی ہے۔ اس گہرائی پر روشنی نہیں پہنچ پاتی۔ ایک ہزار میٹر کی گہرائی میں روشنی بالکل نا پید ہوجاتی ہے۔ تقریبا 3.30 فی صد روشنی سطح سمندر سے واپس منعکس ہوتی ہے۔ روشنی کے چھ رنگ ۲۰۰ میٹر تک ایک ایک کر کے رک جاتے ہیں، سوائے نیلے رنگ کے جو ۲۰۰ میٹر تک چلا جاتا ہے۔ عام طور پر غوطہ خور ۴۰ میٹر تک غوطہ لگاتے ہیں۔ اس سے زیادہ گہرائی کے لیے آکسیجن اور دیگر چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ حالیہ زمانے میں آبدوزوں اور جدید آلات کے ذریعے زیادہ گہرائی تک جاسکتے ہیں۔

قرآن کی آیات میں دو موجوں کا ذکر ہے۔ یہی بات آج سائنس نے ثابت کی ہے کہ گہرے سمندر میں موجوں کے اوپر دوسری موجیں ہوتی ہیں۔ اوپر والی موجوں کی کثافت کم ہوتی ہے اور نیچے والی موجوں کی کثافت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ لہریں انسانی آنکھ سے دیکھی نہیں جاسکتیں، صرف آلات کے ذریعے ان کی کثافت اور نمکینی کے فرق کے ذریعے ان کا پتا چل سکتا ہے۔

بادلوں کے متعلق

سائنس دانوں نے بادلوں کی مختلف اقسام کا جائزہ لیا ہے اور معلوم کیا ہے کہ بارش برسانے والے بادل مخصوص نظام کے تحت بنتے ہیں۔ جن کا تعلق خاص قسم کی ہواؤں اور بادلوں سے ہوتا ہے۔ ان میں ایک قسم کا نام (Cumulonimbus)ہے۔ ماہرین موسمیات نے ان کی ساخت، بناوٹ اور بننے کے عمل کا مطالعہ کیا ہے کہ یہ کس طرح بارش برساتے ہیں، ژالہ باری کرتے ہیں اور کس طرح بجلی پیدا کرتے ہیں۔ بارش برسانے کے عمل درج ذیل امور کا عمل دخل ہوتا ہے۔

۱- بادلوں کو ہوائیں دھکیلتی ہیں اور بادلوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کو ایک جگہ جمع کرتی ہیں۔

۲- بادلوں کی چھوٹی ٹکڑیاں مل کر بڑے بڑے بادل بناتی ہیں۔

۳- ان کے ملنے کے عمل میں مرکز والے بادل اوپر اٹھتے ہیں اور ٹھنڈے علاقے میںپہنچ کر بارش کے قطرے یا اولے بن جاتے ہیں، پھر یہ نیچے گرنا شروع کرتے ہیں۔

قرآن کہتا ہے: ’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ بادلوں کو آہستہ آہستہ دھکیل کر چلاتا ہے پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے۔ پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہوکہ اس کے غول سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں۔‘‘ (24:43)

ماہرین موسمیات نے بارش کے بننے کے عمل کو جدید ترین آلات کے ذریعے آج معلوم کیا ہے۔

دونوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے: ’’اور وہ آسمان، ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے۔ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔‘‘ (24:43)

ماہرین موسمیات نے یہ دریافت کیا ہے کہ بڑے بادل جو اولے برساتے ہیں، ۲۵، ۳۰ ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں۔ (3.7-5.7 میل) ان کی بلندی کی وجہ سے ان کو پہاڑوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔

قرآن کہتا ہے: ’’وہ بادلوں کے پہاڑوں سے اولے برساتا ہے۔‘‘

یہی بادل آسمانی بجلی بنانے کے عمل میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے: ’’اس (بادلوں کی) بجلی کی چمک…

۱- ڈاکٹر ٹی وی این پرساد علم تشریح الاعضا کے پروفیسر ہیں جو بچوں کی صحت اور امراض نسواں کے ماہر ہیں۔ کینیڈا کی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ ۱۶ سال تک ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین رہے ہیں۔ وہ تقریباً ۲۲ کتب کے مصنف ہیں اور ۱۸۱ تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔ ۱۹۹۱ء میں انہیں سائنسی خدمات کے عوض بہت بڑا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ جب ان کو قرآن کے بیانات پر تبصرہ کے لیے کہا گیا، جو سائنسی انکشافات سے متعلق ہیں، تو انہوں نے کہا… ’’ جس طرح مجھے بتایا گیا ہے کہ محمد(ﷺ) ایک عام آدمی تھے جو لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے اور نبی امی کھلاتے تھے اور وہ تقریبا ۱۴ صدیاں پہلے گزرے ہیں، ان کے بیانات آج کے سائنسی حقائق کے عین مطابق ہیں۔ میں ذاتی طور پر نہیں سمجھ سکتا کہ یہ محض کوئی اتفاق ہے۔ ڈاکٹر مور کی طرح میرے ذہن میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ یہ بیانات الہامی ہیں، یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔‘‘

پروفیسر پرساد نے اپنی کتابوں میں قرآن اور حضورﷺ کے اقوال کے حوالے دیے ہیں اور کئی کانفرنسوں میں اس کا اعلان کیا ہے۔

۲- ڈاکٹر جوبی سمپسن ٹکساس (امریکہ) میں پروفیسر ہیں۔ امورِ زچگی کے ماہر ہیں۔ ان کو ۱۹۹۲ء میں بہترین کارکردگی کا ایوارڈ ملا۔ پروفیسر صاحب نے حضورﷺ کی اس حدیث کا بغور جائزہ لیا۔

’’تم میں سے ہر ایک کی تخلیق کے تمام اجزا تمہاری ماں کے رحم میں ۴۰ دن میں جمع ہو جاتے ہیں۔ جب جنین پر ۴۲ دن گزر جاتے ہیں تو اللہ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے۔ جو اس کو شکل و صورت دیتا ہے۔ اس کی سماعت، بصارت، گوشت، ہڈیاں بناتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، ۲۶۴۳، صحیح بخاری ۳۲۰۸)

ڈاکٹر سمپسن اس حدیث کو پڑھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ کتنی Accuracy کے ساتھ یہ باتیں بتائی گئی ہیں۔ چناں چہ ایک کانفرنس کے موقع پر اس نے کہا… ’’ان احادیث میں جنین کی تشکیل کا صحیح ترین ٹائم ٹیبل بتایا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ معلومات وہاں کسی سائنسی تحقیق کے نتیجے میں سامنے نہیں آئیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ مذہب اور جنسیات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مذہب سائنس کی رہ نمائی کرتا ہے۔ قرآن کے بیانات کی تصدیق آج کی سائنسی معلومات کر رہی ہیں۔ لازما وہ الہامی ہی ہو سکتی ہیں۔‘‘

۳- ڈاکٹر ای مارسل جانسن امریکہ کی پنسلونیا یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ وہ ۲۲ سال تک ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین رہے۔ ان کے ۲۰۰ سے زائد سائنسی مقالات چھپ چکے ہیں۔ ۱۹۸۱ء میں سعودی عرب میں ایک کانفرنس کے موقع پر کہا: ’’مجھے یہ ماننے میں کوئی تامل نہیں کہ جتنی باتیں جنین کی تشکیل اور نمو کے بارے میں محمد (ﷺ) نے کی ہیں، وہ الہامی ہیں۔ جو باتیں ہم نے آج دریافت کی ہیں، اس زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘‘

۴- ڈاکٹر ولیم ڈبلیوحے میرین سائنس داں ہیں۔ جیولاجیکل سائنس کے پیروفیسر ہیں۔ وہ میامی (فلوریڈا) میں پڑھاتے ہیں۔ فضائی اور سمندری سائنس کے پروفیسر ہیں۔ ان کو جب قرآن کی آیات پر تبصرہ کے لیے کہا گیا تو کہا: ’’قرآن جیسی قدیم مذہبی کتاب میں یہ معلومات پڑھ کر بہت حیرت ہوئی۔ میرے نزدیک یہ صرف الہامی علم کی بدولت ہوسکتا ہے۔ وگرنہ اس زمانے میں ان باتوں کا علم کس کو تھا۔‘‘

پروفیسر تجاتل تجاسن تھائی لینڈ کی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ریاض (سعودی عرب) میں آٹھویں کانفرنس کے موقعے پر کہا… ’’میں گزشتہ تین سال سے قرآن کا مطالعہ کر رہا ہوں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قرآن کی چودہ سو سال پہلے بیان کردہ باتیں آج سائنسی حقائق کے طور پر سامنے آرہی ہیں۔ پیغمبر اسلام جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، ان کو لازما یہ حقائق الہامی طور پر بتائے گئے تھے۔ میں اس موقع پر کلمہ شہادت پڑھتا ہوں اور اسلام قبول کرتا ہوں۔‘‘

یہ تمام اقوال ویڈیو ٹیپ سے حاصل کیے گئے ہیں جو www.islam-gmail.com ویب سائٹس پر موجود ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر عبد الحق

Leave a Reply