3

انصاف

آج سے سات سو سال پہلے کشمیر پر شہنشاہ سلطان زین العابدین کی حکومت تھی۔ سلطان جب تخت نشین ہوا، تو ملک میں بدامنی کا دور دورہ تھا۔ اس نے تھوڑے ہی عرصے میں شورش فرو کر کے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دیا۔ سلطان نے انصاف عوام کے گھروں کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے نئے قوانین بنائے۔ یہ قوانین تانبے کی تختیوں پر کندہ کر کے ہر قصبے اور گائوں میں نمایاں مقامات پر آویزاں کروا دیے گئے۔

آج بھی کشمیر میں وہ قصے مشہور ہیں جب سلطان نے مبنی بر انصاف فیصلے کیے۔ کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ سلطان نے کئی ایسے پیچ دار مقدموں کا صحیح فیصلہ دیا کہ لوگ دنگ رہ گئے۔ ایک بار سلطان زین العابدین کے انصاف کے ترازو میں عجیب مقدمہ آیا۔آئیے اس مقدمے کا قصہ سنیے:

ایک روز دو عورتوں کو دربار میں لایا گیا۔ دونوں پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک ننھا بچہ قتل کر دیا ہے۔ سلطان کی اجازت سے پہلی عورت نے عرض کیا:

’’عالی جاہ! یہ عورت میری سوکن ہے۔ اس نے مجھے برباد کرنے کی خاطر میرا بچہ قتل کر دیا ہے۔ میں انصاف کی طالب ہوں۔جہاں پناہ! وہ بچہ میرے جگر کا ٹکڑا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ سوکن کے جلاپے میں کتنی آگ ہوتی ہے۔‘‘

’’اے عورت! کیا تو سچ کہتی ہے کہ تمھاری سوکن ہی نے تمھارا بچہ قتل کیا ہے؟‘‘ بادشاہ نے پوچھا!

وہ چیخ چیخ کر کہنے لگی ’’ہاں! اسی ڈائن نے میرا بچہ ہلاک کیا ہے اور میں خون کے بدلے خون چاہتی ہوں۔

سلطان نے دوسری عورت سے پوچھا ’’تم اپنی صفائی میں کیا کہتی ہو؟ ‘‘

’’حضورِ والاخدا آپ کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ میں نے بچے کو قتل نہیں کیا۔ وہ بے شک اس کا بچہ تھا‘ مگر میں بھی اْسے دل و جان سے چاہتی اور پیار کرتی تھی۔ یہ عورت اتنی ظالم ہے کہ مجھے قتل کرانے کے لیے اس نے اپنے بچے کو خود ہی اپنے ہاتھوں سے مار ڈالا۔ اور اب یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔‘‘عورت نے دست بستہ عرض کی۔

یہ سن کر سلطان سوچ میں پڑ گیا۔ یہ بات درست تھی کہ کوئی ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو نہیں مار سکتی۔ دوسری طرف اس کی سوکن جرم سے انکار کرتی تھی اور پھر یہ مسئلہ بھی تھا کہ موقع کا کوئی گواہ موجود نہ تھا۔

سلطان کچھ سوچ کر دربار سے اٹھا اور محل کے ایک کمرے میں چلا گیا۔ وہاں اس نے پہلی عورت کو بلایا اور اس سے کہنے لگا:

’’دیکھو! میں تمھارا بیان ایک شرط پر صحیح مان سکتا ہوں۔‘‘

’’انصاف کی خاطر مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے حضور!‘‘ عورت نے جواب دیا۔

اگر واقعی تم نے اپنے بچے کو قتل نہیں کیا بلکہ مارنے والی تمھاری سوکن ہے، تو تم اپنا دوپٹّہ اْتار کر برہنہ سر درباریوں کے درمیان سے گزر جائو۔ اگر تم ایسا کر توپھر ہم تمھیں بے گناہ مان لیں گے۔‘‘

عورت چند لمحے خاموش رہی پھر بولی ’’اگر میرے برہنہ سر ہونے ہی پر میری سوکن کو قتل کی سزا مل سکتی ہے اور انصاف کا یہی تقاضا ہے‘ تو حضور والا میں تیار ہوں۔‘‘

سلطان نے اسے دربار میں واپس بھیج کر دوسری عورت کو بلایا اور اس سے کہا ’’تم کہتی ہو کہ تم نے اپنی سوکن کا بچہ نہیں مارا۔ لیکن وہ کون سی وجہ ہو سکتی ہے کہ ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو مار دے؟‘‘

’’حضور والا! یہ مجھ سے خواہ مخواہ حسد کرتی ہے۔ جبکہ میں نے کبھی بھی دل میں اس کے خلاف حسد یا بغض نہیں رکھا۔ اس نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنے جگر کے ٹکڑے کو قتل کیا ہے،تاکہ مجھے قتل کرا سکے۔ میں بے گناہ ہوں۔‘‘ عورت نے عاجزی سے وہی جواب دیا جو بھرے دربار میں وہ سب کے سامنے دے چکی تھی۔

سلطان نے کہا ’’اگر تم نے اس کے بچے کو نہیں مارا، تو ہم ایک صورت میں تمھارے بیان کو سچ مان سکتے ہیں کہ تم اپنا دوپٹہ اْتار کر بھرے دربار سے گزر جائو۔اگر تم نے ایسا کیا‘ تو ہم سمجھیںگے کہ تم بے قصور ہو۔

’’جہاں پناہ! گستاخی معاف! آپ مجھے خواہ اسی وقت یہاں قتل کرا دیں، لیکن میں یہ ذلت برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘ اْس عورت نے جواب دیا۔

’’اے عورت! ایک بار پھر سوچ لے‘ ابھی تمہارے پاس وقت ہے۔ تمھاری بے گناہی ثابت ہونے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔‘‘ سلطان نے کہا۔

’’حضور! مجھے قتل ہونا منظور ہے، لیکن بھرے دربار میں اپنی رسوائی اورذلّت منظور نہیں۔‘‘ عورت نے نہایت عاجزی سے کہا۔

’’بہتر!‘‘ سلطان نے تالی بجائی۔ چوب دار کمرے میں داخل ہوا اور عورت کو دربار میں واپس لے گیا۔

کچھ دیر بعد سلطان دربار میں آیا۔ سب درباری ادب سے کھڑے ہو گئے۔ اْن کی نظریں سلطان پر مرکوز تھیں کہ وہ اب کیا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ سلطان نے تخت پر بیٹھتے ہی حکم دیا کہ جلاد کو حاضر کیا جائے۔ جب جلاد حاضر ہوا، تو سلطان نے پہلی عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

’’اس عورت نے اپنے بچے کو قتل کیا ہے۔ اسے ہمارے سامنے اتنا پیٹا جائے کہ یہ اپنا جرم مان لے۔‘‘

اسی وقت عورت کو شکنجوں میں جکڑ دیا گیا۔ ابھی چند کوڑے ہی پڑے تھے کہ وہ چیخ اٹھی: ’’عالم پناہ! رحم! مجھ پر رحم کیجیے۔ میں نے ہی اپنے جگر کے ٹکڑے کو قتل کیا ہے۔‘‘

سلطان نے ہاتھ کے اشارے سے جلاد کو روکا اور پوچھا ’’اے ظالم عورت! تو نے اپنے ہی بچے کی جان لے لی۔ آخر کیوں؟‘‘

’’حضور! میں حسد کی آگ میں اندھی ہو گئی تھی۔ میں اپنی سوکن کو کسی طرح ختم کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیا۔ میری سوکن بے گناہ ہے۔‘‘ عورت نے رو رو کر کہا۔

’’تم جیسی ظالم اور بد فطرت عورت کا وجود انسانوں میںبرداشت نہیںکیا جا سکتا۔ تمھیں موت کی سزا دی جاتی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر سلطان اٹھا اور دربار برخاست ہو گیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
وقار حیدر

One comment

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: