رلّی

وہ جمعرات کا دن تھا جب ایک بھکارن نے ہمارے دروازے پر صدا دی۔ میری اہلیہ نے اْسے اندر بلایا اور مالٹے کا رس پیش کیا۔ وہ غریب حیران و ششدر کبھی رس اور کبھی میری اہلیہ کو تکنے لگی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ دھتکارنے کے بجائے اس کی توقیر ہو رہی ہے۔ اس نے بے یقینی کی کیفیت میں گلاس تھام لیا کہ کہیں یہ رس چھین نہ لیا جائے۔

وہ بھکارن بنگلا زبان کے سوا کوئی زبان نہ جانتی تھی جب کہ اہلیہ اس زبان سے نابلد تھیں۔ لیکن دونوں ایک مشترکہ زبان بخوبی جانتی تھیں اور وہ… محبت تھی، خلوص تھا جو مسکراتے ہونٹوں اور ہنستی آنکھوں سے بھی عیاں ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں خواتین جانے کن الفاظ میں محو گفتگو ہو گئیں، یہ آغاز تھا پیار کے رشتے کی استواری کا!

نام تو اس کا زرناز تھا مگر اپنے نام سے وابستہ خصوصیات کے برعکس وہ غربت کی انتہائی پست سطح پر زندگی بسر کر رہی تھی۔ دنیا میں کوئی بھی اس کا ایسا ہمدم نہ تھا جس پر وہ ناز کر سکتی۔

زرناز جمعرات کے علاوہ ایک دو دن بعد آنے لگی۔ پھر آہستہ آہستہ باقاعدگی کے ساتھ روزانہ چکر لگاتی۔ ہم لوگوں کو بھی اس کا انتظار رہنے لگا۔ وہ بہت کم الفاظ میں بہت کچھ کہہ دیا کرتی۔ ہمارے بچوں کے لیے اس کے دل میں نانی دادی جیسی شفقت کا جذبہ موجزن رہتا۔ پہلے پہل تو گھر کے برآمدے میں فرش پر اپنی پوٹلی کا تکیہ بنائے وہ سائے میں لیٹا کرتی۔ بعد میں اہلیہ نے ایک کمرے میں مستقل ٹھکانا وقت گزاری کے لیے فراہم کر دیا۔

وہ صبح کا ناشتا، دوپہر کا کھانا کھانے اور سہ پہر چائے پینے کے بعد اپنی جھونپڑی میں لوٹ جایا کرتی۔ برسوں موسموں کی شدت کی ماری جب کمرے میں قالین پر لیٹے کشن کا سرہانالیے، پنکھے کے نیچے جلد گہری نیند کی آغوش میںپہنچ جاتی اور خراٹے لینے لگتی تو ہم اس کی آسودگی کی کیفیت سے بہت محظوظ ہوتے۔ وہ رضا کارانہ طور پر اہلیہ کے سر کی مالش کرتی اور پائوں وغیرہ دبا دیتی۔ بدلے میں اہلیہ اسے اتنے پیسے دیتی کہ اسے در در بھیک مانگنے کی حاجت نہ رہتی۔ یوں اْس کا احساس گداگری جاتا رہا اور وہ ہمارے کنبے کا ایک فرد ہی بن گئی۔

زرناز کے میلے بدن سے محبت اور خلوص کی خوشبو آیا کرتی۔ گو اس کا دھوپ جلا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ برسوں کی مشقت اور محنت کے باعث ہاتھوں کی رگیں پھول گئی تھیں۔ لیکن پیوند لگے، مرجھائے رنگوں کے لباس فاخرہ میں بھی زرناز ہمیں اخلاص اور شفقت کا مرمریں حسین پیکر لگتی۔

سردیوں کے آغاز پر جب سیلاب کا پانی اتر جاتا تو وہ اپنے وطن لوٹ جاتی تھی۔ الوداعی ملاقات پر وہ بہت آزردہ ہوئی۔ رخصت ہوتے وقت اس نے سر سے چادر سرکائی، آسمان کی طرف نگاہ کیے اپنے دونوں ہاتھ دعا کی صورت اٹھائے اور جانے اپنی زبان میں ہمارے لیے کیا کیا کچھ مانگا۔ ہمیں سمجھ نہ آیا مگر جس سے وہ مْلتجی تھی، وہ اس کی زبان بخوبی سمجھ گیا ہو گا کہ وہ دلوں کے بھید بھی جانتا ہے۔

بہار کی آمد کے ساتھ ہمیں زرناز کا بھی انتظار رہنے لگا۔ وہ بھی بہار بن کر آتی اور خوشیوں کے پھول کھلاتی، خلوص کی خوشبو بکھیرتی۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور وہ آگئی۔ ہمارے بچے کھلکھلا اٹھے۔ ایک دم گھر میں خوشی اور رونق کی لہر دوڑ گئی، جیسے کوئی لڑکی سسرال سے اپنے میکے آئی ہو۔

وہ اپنے ساتھ گٹھڑی میں کچھ سبزیاں تحفتاً لائی۔ سبز دھنیا، ٹماٹر، بینگن، آلو گوبھی وغیرہ۔ یہ سب چیزیں تو بازار سے بھی قیمتاً مل جاتی ہیں مگر جس پیار اور خلوص سے وہ یہ تحفے لائی تھی، وہ تو بازار میں کسی مول نہیں مل سکتا۔ اس نے دیگر تحفوں کے بعد آخر میں سب سے قیمتی تحفہ نکالا جو پلاسٹک کے لفافے میںبند تھا۔ یہ قیمتی خوبصورت تحفہ رنگین دھاگوں سے کاڑھا ہوا، چھوٹے چھوٹے شیشوں سے مزین، جھلملاتا ہوا قمیص کا گلا میری بیٹی کے لیے تھا جو اْس نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔

میں نے زرناز کے ناتواں، ابھرتی رگوں والے ہاتھوںاور اْس کی دھنسی ہوئی آنکھوں پر نظر ڈالی‘پھر کشیدہ کاری کے اعلیٰ شاہکار کو دیکھا۔ اس نے بہت محنت و لگن سے باریک سوزن کاری سے دھاگوں کے ابھرویں نقش و نگار کی حسین تخلیق کی تھی۔ میں نے ان بھدی انگلیوں کا جائزہ لیا جن میں نجانے کتنی مرتبہ اس تخلیقی عمل کے دوران سوئیاں چبھی ہوں گی۔ اب تو چبھن کی تکلیف کے وقت اس کے منہ سے سی بھی نہیں نکلتی ہو گی کہ انگلیاں ایسے گھائو برداشت کرنے کی بچپن ہی سے عادی ہو گئی تھیں۔

میں جذباتی ہو گیا اور فرط احترام و عقیدت سے زرناز کے مرمریں محنت کش ہاتھوں کو چومنا چاہا۔ جیسے ہمارے پیارے رسولؐ نے ایک محنت کش کے ہاتھوں کو چوم لیا تھا مگر میں ایسا نہیں کرسکتا تھا کہ وہ ایک عورت تھی۔ پھر میں نے اس کی خوب تعریف اور اس کے فن کی ستائش کی۔ وہ حیرت زدہ بوکھلاہٹ سے مسکراتی ہوئی تشکرانہ انداز میں مجھے تکنے لگی… شاید زندگی میں پہلی بار کسی نے اس کی تخلیق کو ایسے احترام سے پذیرائی دی تھی۔

زرناز کی آمد کا سلسلہ ہر سال معمول بن گیا۔ وہ ہماری بہت سی محبت سمیٹ کر جاتی اور واپسی پر ہمارے لیے اپنی کوئی نہ کوئی حسین تخلیق لے کر لوٹتی۔ اس بار وہ آئی تو اپنے ساتھ گراں ترین تحفہ… ایک ’’رلّی‘‘ لائی جو نجانے کس طرح، محنت مزدوری سے فارغ ہو کر، راتوں کو چراغ کی مدھم روشنی میں تیار ہوئی تھی۔ اس کے ایک ایک ٹانکے میں ہم لوگوں کے لیے پیار اور خلوص پرویا گیا تھا۔

رلّی کپڑے کی ایک چادر ہے جیسے کھیس! اسے آپ اوڑھ سکتے اور بچھا بھی لیتے ہیں۔ یہ کپڑے کے رنگین اور پھولدار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوںکو سوزن کاری کے ذریعے باہم جوڑ کر کمال مہارت سے علم جیومیٹری کے اصول و قواعد کے مطابق مثلثوں، چوکوروں، مستطیلوں یا مماثل اشکال کی صورت دینے کے بعد دیدہ زیب ڈیزائنوں میں ڈھالی جاتی ہے۔

یہ ایک ماہر ریاضی دان یا ماہر اشکال ہی کا کام ہے۔ یہ ان پڑھ خواتین کیونکر اس ہنر اور علم کی حامل ہوتی ہیں؟ یہ کاریگری، صناعی، یہ محنت مشقت یقینا ان کی جبلت میں شامل ہے۔ یہ تو اس تہذیب کا تسلسل ہے جو ہزاروں برس پر محیط ہے۔

ہم نقل مکانی کر کے شہر آگئے، لیکن ہمارا دل، ہماری زرناز وہیں رہ گئی۔ مگر خلوص و محبت کی رلّی آج بھی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ سنا ہے وہ سادہ دل، پیکر وفا خاتون ہمارے آنے کے بعد، گھر کے دیوار و در سے لپٹ لپٹ کر روتی رہی۔ پیار کا بے لوث رشتہ بھی عجیب ہے… وہ زبان، قومیت اور وطنیت کے بندھنوںسے آزاد ہوتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
قاضی فضل الرحمن

Leave a Reply